زبان! 32 دشمنوں میں بھی آزاد

قدرت نے انسان کو کیا کیا نہیں دیا جس کے ذریعے وہ کمال و جمال کی انتہا کو چھو سکے لیکن جو نہیں دیا اس کا شکوہ کرنے کا ذریعہ بھی دے دیا جسے اہل علم و قلم زبان کہتے ہیں۔ قدرت کی پیداکردہ ہر ہر شے کے پیچھے مقاصد ہیں اور انہی مقاصد کو پہچاننے کیلئے انسان کو عقل بھی بخشی گئی۔ کیا عجب بات ہے زبان جیسی نازک شے کو بھی بتیس دانتوں کے بیچ رکھا۔ اس کے مقام کا بغور جائزہ لیں تو پتہ چلتا ہے کہ نزاکت تو صرف دیکھنے میں ہے درحقیقت اس کا استعمال آپ کے سر کو جہاں تاج سے نواز سکتا ہے وہیں بالوں جیسی نعمت سے محروم بھی کر سکتا ہے۔ شائد یہی وجہ ہے کہ تیر و خنجر کی نوک کو بھی زبان کہا جاتا ہے۔ زبان کے استعمال کا طریقہ واردات آپ کے اختیار میں ہے بشرطیکہ آپ اس کو عقل کی زنجیر سے باندھ کر دانتوں کے درمیان سنبھال کر استعمال کریں۔

insurance

دنیا بھر میں کم و بیش پانچ ہزار زبانوں کا راج ہے اور زبان رکھنے والوں کی تعداد چھ کھرب کے قریب پہنچ چکی ہے۔ اتنی تعداد کے باوجود جس چیز کو ذی شعور افراد مقدم سمجھتے ہیں وہ ہے خاموشی۔ اسی بنا پر زبان کی تاریخ پر ماہرین میں جہاں اختلاف پایا جاتا ہے وہیں کئی ماہرین تو زبان کی ابتدا کب؟ کہاں؟ کیسے ہوئی؟ اس موضوع پر بات کرنے کو ہی ممنوع قرار دیتے ہیں جس کی وجہ ناکافی شواہد ہیں۔ التبہ خاموشی کی ابتدا کے بارے میں سب متفق ہیں کہ یہ انسان سے قبل بھی موجود تھی اور انسان کے جانے کے بعد بھی موجود رہے گی۔ کمال یہ ہے کہ زبان کا استعمال سیکھنے میں پوری زندگی گزر جاتی ہے لیکن خاموشی سیکھنی نہیں پڑتی۔ ہر شخص تلوار رکھ سکتا ہے لیکن استعمال چند کو ہی آتا ہے۔ زبان تو قدرت نے دے ہی دی پر اب اس کی نوک کی سمت کا تعین آپ کے کرئیر اور آخرت کی پیشگوئی کر سکتا ہے۔

ہر ہر زبان کا تعلق دوسری زبان سے ہے جیسے ہر ہر انسان کا رشتہ دوسرے سے کسی نہ کسی طرح ہوتا ہے۔ پر زبان نے دوسری زبانوں سے تعصب نہیں رکھا۔ زبان اپنے اندر دوسری زبانوں کو سمیٹتی گئی جس سے اسے طوالت اور دائمی زندگی ملتی گئی۔ یہی وجہ ہے کہ کئی قدیم زبانیں آج بھی موجود ہیں لیکن انسانی منہ میں موجود زبان نے تعصب کے اظہار کی وجہ سے خود پر کالک مل لی۔ یقین نہ آئے تو کسی بھی جھوٹے کا منہ کھلوائیں اور زبان کا رنگ دیکھیں جو کالا یا سرمئی نکلے گا۔

 

دوستوں سے شیئر کریں

تبصرہ کریں