بلوچ کلچر ڈے Baloch Culture Day

بلوچ کلچر ڈے Baloch Culture Day

بشکریہ شہزاد سلطان بلوچ

بلوچ کلچر ڈے

بلوچ کلچر ڈے

بلوچ کلچر ڈے کے حوالے سے کئی تحریریں نظر سے گزرے جہاں بہت سارے لوگ 2 مارچ کو بلوچ کلچر ڈے منانے کی مخالفت کررہے ہیں تو کافی لوگ اس کی پروموشن کرنے میں بھی لگے ہیں۔

بلوچ کلچر ڈے منانا چاہئے یا نہیں؟
اگر منانا چاہئے تو اس کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
اگر نہیں منانا چاہئے تو کن وجوہات کی بنا پر؟

اب تک جو لوگ مخالفت کرتے نظر آئے ان کا واحد دلیل یہی ہے کہ کافی لوگ مسنگ ہیں اور کچھ احتجاج پہ ہیں اس لئے کلچر ڈے نہیں منانا چاہئے۔
مجھے نہیں لگتا کہ ایسا کرنا درست ہے۔

کافی مثالیں موجود ہیں جن سے یہ ثابت کیا جاسکتا ہے کہ قومیں خوشیاں اور درد ایک ساتھ سہہ لیتے ہیں۔ جہاں کافی تناؤ اور پریشانی کی صورتحال ہو وہاں خوشیاں منانا ایک زندہ قوم ہونے کی دلیل اور پہچان ہے۔

لیکن یہ خوشی محض 2 مارچ کو ہی کیوں؟

اور 2 مارچ کے پروگراموں میں جو کچھ کیا جاتا ہے کیا وہی ہمارا کلچر اور ہماری ثقافت ہے؟

کلچر ہے کیا۔؟ ایک طرز زندگی جو کسی قوم کو ڈیفائن کرے۔ اور جو کلچر ڈے پروگرام اب تک میں نے دیکھے ہیں ان میں بلوچ تاریخی طور پر ایک ناچنے والی ایک محنت کش قوم ہے لیکن بلوچی کلچر اس سے بہت زیادہ وسیع ہے۔

گزشتہ سال جہاں جہاں بلوچ کلچر ڈے کی مناسبت سے پروگرامات کا میں نے جائزہ لیا وہاں مجھے "درانتی" "ہل" کلھاڑی اسی طرح کے زرعی آلات اور روشنی کے لئے ماضی میں استعمال ہونے والا چراغ, بلوچی چاپ اور دستار و گدان نظر آئے۔

ان میں کافی سارے چیزیں بلوچ کلچر ہیں ہی نہیں۔
ایک دن میں ٹی وی پر انٹر نیشنل جیوگرافک پر ایک ڈاکیومنٹری دیکھ رہا تھا جو سوڈان کے متعلق تھا۔
اس میں مجھے سوڈان کے علاقوں کے کسانوں کی جو حالت دکھی ان میں بھی وہی سب نظر آئی جو بلوچ کلچر ڈے پر دکھایا جاتا ہے۔
وہاں بھی درانتی کلھاڑی بیلچہ کوڈال ہل وغیرہ مجھے دکھے۔ تو کیا یہ ضروریات کی چیزیں بھی ہماری ثقافت کا جزء ہیں؟
اور بلوچستان کے مختلف علاقوں میں جو "گَوَر بند" ہیں ان کے کھودنے والے لوگوں کے پاس میں نے خود یہی آلات دیکھے ہیں حالانکہ وہ گور آتش پرست تھے اور بلوچ کبھی آتش پرست نہیں رہے ہیں۔

بلوچ ایک بہادر قوم ہے۔ وہ مہمان نواز قوم ہے۔ اس کی عورتیں اس کا مان اور شان ہیں۔ بلوچ نے ایک تاریخی پس منظر گزارا ہے جہاں عورتوں کے معاملے پر انہوں نے قبیلے لٹوائے مگر پیچھے نہیں ہٹے۔
بلوچ لوگوں کا گھر اپنے پرائے سب کے لئے امن کا گہوارہ ہوا کرتا ہے جہاں اگر دشمن بھی آجائے تو مہمان بنالیا جاتا ہے۔ بلوچ ایک دوسرے کو گھروں میں گھس کر نہیں مارتے اور ایک دوسرے کا احترام کرتے ہیں۔ بلوچ نا انصافی کے خلاف ہوتے ہیں چاہے اپنا کرے یا پرایا۔
بلوچ لوگوں کی پہچان ان کی خوبصورت پگڑی اور محراب والی ٹوپی ہوتی ہے۔
یہ بہت ڈسپلنڈ لوگ ہوتے ہیں اسی لئے ان میں ایک قوت فیصلہ کے حامل شخص کو قبیلء کا سربراہ منتخب کیا جاتا ہے پھر وہ اپنے قبیلے کے اندر کے معاملات اور باہر کے معاملات کو ہینڈل کرتا ہے اور قبیلے کی عزت سے لے کر جان و مال تک سب کی حفاظت کرتا ہے۔

لیکن کیا یہ سب کچھ کلچر ڈے میں دکھائے جاتے ہیں؟
پگڑی باندھ کر ناچنا میراثیوں کا کام ہے بلوچوں کا نہیں۔ ہر قوم میں ایک مخصوص طبقہ ناچ گانا کرتا ہے مگر اسے ایک پوری قوم کا بطور شناخت یا پہچان ظاہر کرنا بہت غلط ہے۔

البتہ ایک چیز جو کہ واقعتا ہماری نشانی ہے گدان۔!!
اس کا حسن, سائیڈ میں لٹکائی گئی تلوار اور خنجر, خوبصورتی سے سجائی گئی محفل اور خلکی کچاری نامی کوئی چیز اس کے ساتھ نہیں ہوتی۔

اس لئے میں سمجھتا ہوں کہ بلوچ کلچر ڈے منانے والوں کے پاس کوئی دلیل ہے نہ ہی انہیں کلچر سے واقفیت ہے۔ اور نہ منانے والے درست ہیں نہ ہی ان کی لاجک قابل عمل ہے۔

بلوچ کلچر پر بہت کچھ لکھنے پڑھنے کی ضرورت ہے۔ بلوچ تاریخ کو ایک واضح اور مضبوط پوزیشن پر لانے کی ضرورت ہے ورنہ اپنی تاریخی حیثیت کے بچاؤ کا جنگ لڑنے والی قوم کلچر کے نام پر رہی سہی تاریخی چیزوں کو بھی بھول جائے پھر یہ سودا سراسر گھاٹے کا ہوگا۔

میں کلچر ڈے منانے والوں کے طرز سے اختلاف کرتا ہوں اور نہ منانے والوں کی بلادلیل باتوں سے۔

دونوں رانگ نمبر ہیں یقین نہ آئے تو کل دیکھنا۔

دوستوں سے شیئر کریں

تبصرہ کریں