سٹاک مارکیٹ شیئرز کی خرید و فروخت Stock Exchange Shares buy and sell

سٹاک مارکیٹ شیئرز کی خرید و فروخت

تحریر: عاصم چوہدری

سٹاک مارکیٹ شیئرز کی خرید و فروخت

پانچویں قسط

 

پچھلی قسط سٹاک مارکیٹ پورٹ فولیو ، بلیو چپ کمپنیاں

سٹاک کے بارے میں پیش خدمت ہے اگلی قسط- یہ قسط پچھلی ساری قسطوں کا نچوڑ ہے- اس قسط کو مکمل سمجھنے کے لیئے آپکو مایئکروسافٹ ایکسل کی تھوڑی سی گرپ اور گراف کو پڑھنے کی صلاحیت ہونی چاہیئے- ورنہ اس کے بغیر یہ قسط آپکو سمجھ نہیں آئے گی-اس قسط میں آپکو یہ بتاؤں گا کہ ایک شیئر آپ نے کب خریدنا ہے اور کب بیچنا ہے- یعنی شیئر کے خریدنے کا اور بیچنے کا ٹائم کب آتا ہے-

اس تصویر کو غور سے دیکھیئے کہ یہ ایک گراف ہے-گراف میتھس کا ایک ٹاپک ہے- اس کو آسان لفظوں میں سمجھاتا ہوں کہ گراف ایک ڈرایئنگ ہے جو کہ دو مختلف چیزوں کے درمیان تعلق کو ایک تصویر کی شکل میں دکھاتی ہے- کیونکہ میتھ میں ویلیوز ہوتی ہیں جن کو ذہن میں رکھنا مشکل ہوجاتا ہے تو آسانی کے ان ویلیوز کا گراف بنالیا جاتا ہے- اس تصویر میں ہمارے پاس 2 چیزیں ہیں ایک شیئر کی قیمت ہے- اور دوسری سال ہے- یعنی اس گراف کو دیکھ کر آپکو مختلف سالوں میں ایک شیئر کی قیمت پتہ چلے گی کہ کس سال میں شیئر کی قیمت کتنی زیادہ یا کم تھی-

عام گراف میں دو ایکسز ہوتے ہیں ایک ایکسز کو افقی ایکسز کہتے جبکہ دوسرے کو عمودی ایکسز کہتے ہیں- افقی ایکسز کو انگلش میں x-axis بھی کہتے ہیں جبکہ عمودی ایکسز کو y-axis کہتے ہیں- اس گراف میں ہم افقی ایکسز پر سال رکھتے ہیں اور عمودی ایکسز پر شیئر کی قیمت رکھتے ہیں تو ہمارے پاس مختلف لایئنیں حاصل ہوتی ہیں-

اس گراف پر آپ مختلف پیکس دیکھیں گے- پیکس گراف میں جو چونچ بنی ہوتی ہے اس کو کہتے ہیں- اس پیک پرسکیل رکھ کر ایک لائن y-axis کی لائن سے ملادیں اور دوسری لائن نیچے x-axis کی لائن کے ساتھ ملادیں- اس طرح میں نے 4 پیکس(چونچ) سلیکٹ کی ان کے ساتھ یہی کیا- یعنی اس کو y-axis اور x-axis کے ساتھ ملایا- اب اس لائن کو ملانے کے بعد y والی لائن پر جو قیمت ہوگی وہ شیئر کی ہوگی اور x والی لائن پر جو قیمت ہوگی وہ سال کی ہوگی-اگر ان دونوں کو ملا کر پڑھا جائے تو ہمیں پتہ چلتا ہے سال کے اس حصے میں شیئر کی قیمت وہ تھی جس کے ساتھ y والی لائن پر ٹچ ہوئی- اس تصویر میں 4 پوایئنٹس کو سلیکٹ کیا- ان میں سے ایک پوایئنٹ لال لائن والا "سب سے ہائی " ہے اور ایک پوایئنٹ پیلی لائن والا "سب سے لو" ہے- اس کے بعد 2 پوایئنٹس (نیلا اور سبز لائن والا) میں نے وہ سلیکٹ کیئے جو کہ حال ( یعنی 1 سال کے اندر اندر) میں اس شیئر کی ویلیو تھی- اب اس ویلیو کو ہم پڑھتے ہیں کہ لال وال لائن کو اگر y والی لائن پر دیکھا جائے تو شیئر کی ویلیو 40 اور x پر اس کی ویلیو 2017 بنتی ہے-

اگر ملا کر اس کو پرھا جائے تو یہ بنتا ہے کہ 2017 کے شروع میں اس شیئر کی ویلیو 40 روپے تھی جو کہ اس شیئر کی ہسٹری کی سب سے ہائی ویلیو تھی- اور اسی طرح پیلی لائن کے مطابق 2015 کے اپریل یا مئی کے مہینے میں اسی شیئر کی قیمت 4 روپے کے پاس آئی ہوگی- یعنی یہ شیئر اپنی ہسٹری میں سب سے لو ویلیو 4 روپے پر آیا تھا- اب اس گراف سے ہمیں یہ چیز کنفرم ہوچکی ہے کہ یہ والا شیئر ہمیشہ 4 روپے سے لیکر 40 روپے کے درمیان ٹریڈ کرتا ہے-

اس کا مطلب یہ ہوا کہ آپ نے والا شیئر اس وقت خریدنا ہے جب اس کی قیمت 4 روپے کے قریب ہو- مطلب ضروری نہیں 4 ہی ہو تب ہی خریدنا ہے بلکہ آپ باقی گراف کو دیکھیں اگر زیادہ تر اس کی پیکس 4 کے آس پاس ہوں تو اس کا مطلب یہ شیئر 4 روپے کے قریب ہی خریدنے والا ہے لیکن اگر اس گراف کو دیکھا جائے تو اس کے مطابق 2016 کے بعد یہ شیئر کبھی 4 پر نہیں آیا- بلکہ 10 روپے کے آس پاس رہا لہذا اس شیئر کو خریدنے کا سب سے بیسٹ ٹائم 10 روپے ہے-

جیسا کہ یہ شیئر اس گراف کے مطابق اکتوبر 2018 میں 10 روپے کے پاس تھا- اس وقت یہ شیئر خریدنے والا تھا- اب اس کو آپ نے بیچنا کب ہے- دوبارہ اس گراف کو دیکھیں کہ اس گراف کے مطابق اس شیئر کی "ہائی ویلیو" 40 کے قریب ہے لہذا اب یہ آپ پر منحصر کرتا ہے کہ آپ نے اس شیئر کو 40 پر بیچنا ہے یا 30 پر- اگر گراف کو پھر دیکھا جائے تو پتہ چلتا ہے یہ شیئر زیادہ 40 پر ایک دفعہ ہی ٹریڈ کیا- وہ وقت 2017 کا ہے جب پانامہ لیکس کا معاملہ تھا اور اس مارکیٹ کو جعلی بوسٹ اپ دیا گیا عوام کی نظروں میں دھول جھونکنے کے لیئے- یہ شیئر زیادہ تر 30 کے آس پاس ہی گھومتا ہے-تو اس کا مطلب ہے کہ یہ شیئر 30 روپے کے آس پاس جیسے ہی پہنچے تو فورا بیچ دیں- یوں آپ کو پر شیئر تقریبا 15 سے 20 روپے منافع ہوگا-

اب آپ میں سے بہت سے لوگوں نے سوال پوچھا کہ لوگوں کا پیسہ کیسے ڈوبتا ہے-تو عرض ہے اگر سٹڈی کیئے بغیر ایک شیئر خرید لو گے جو کہ اس وقت "اپنی ہائی ویلیو" پر ہوگا تو اس شیئر نے "ہائی ویلیو" سے "لو ویلیو" پر آنا ہے تو پھر پیسہ نہیں ڈوبے گا تو اور کیا ہوگا- میں نے یہ والا شیئر 9.30 پر خریدا تھا اس وقت اس کی قیمت 15 روپے کے پاس پہنچ چکی ہے- اس طرح آپکو سٹاک مارکیٹ میں رجسٹرڈ ہر کمپنی پر نظر رکھنی پڑتی ہے کہ کس کمپنی کے شیئر کی لو ویلیو کتنی ہے اور ہائی ویلیو کتنی ہے-

جیسے ہی وہ شیئر لو ویلیو پر آئے اس کو خرید لو اور جب ہائی ویلیو پر جائے اس کو بیچ دو- یہی سٹاک مارکیٹ کے شیئر خریدنے کا سمپل سا اصول ہے- اور اس کے لیئے آپکو مایئکرو سوفٹ ایکسل میں گراف بنانا اور گراف کو پڑھنا آنا چاہیئے- اور یہی اس کی بنیادی شرط ہے- اس کے علاوہ اس میں کوئی راکٹ سائنس نہیں ہے- اس قسط میں تھوڑی ٹیکنیکل چیزیں زیادہ ہیں لہذا آج کے اتنا ہی کافی ہے- باقی انشاء اللہ اگلی قسط میں-

دوستوں سے شیئر کریں

تبصرہ کریں