سٹاک مارکیٹ ، پورٹ فولیو ، بلیو چپ کمپنیاں کیا ہوتیں ہیں

سٹاک مارکیٹ ، پورٹ فولیو ، بلیو چپ کمپنیاں کیا ہوتیں ہیں؟

تحریر: عاصم چوہدری

سٹاک مارکیٹ

قسط نمبر 4

 

پچھلی قسط سٹاک مارکیٹ ، شیئر ، ڈیوڈنڈی اور انڈیکس

سٹاک کے حوالے پیش خدمت ہے اگلی قسط-کچھ مصروفیات کی وجہ سے اگلی قسطیں پوسٹ نہیں کرسکا- تو آج انشا اللہ کوشش کرتا ہوں کہ 2 قسطیں پوسٹ کروں- اس قسط میں آپکو پورٹ فولیو بنانے کا طریقہ اور سٹاک مارکیٹ میں انویسٹ کرنے کے اصول کے بارے میں ڈیٹیل سے بریف کرنے کی کوشش کروں گا-

سٹاک میں پورٹ فولیو کا مطلب آسان الفاظ میں سمجھ لیں کہ آپ نے سٹاک کی مختلف کمپنیاں سلیکٹ کرکے ان میں پیسہ انویسٹ کرنا ہے- پورٹ فولیو بنانے کے لیئے آپکو سٹاک مارکیٹ کے اندر کمپنیوں کے نام دیکھنے ہونگے وہ کہ کونسی کونسی ہیں- یہ کام مشکل تھا چنانچہ سٹاک مارکیٹ نے انویسٹرز کی اس مشکل کو حل کرنے کے لیئے کچھ سیکٹرز بنادیئے سیکٹرز کے مطابق کمپنیوں کو تقسیم کردیا- جیسا کہ دیوان سیمنٹ، ڈی جی سیمنٹ ، میپل لیف وغیرہ یہ ساری کمپنیاں سیمنٹ سیکٹر میں آتی ہیں-

اسی طرح حبیب بینک، پنجاب بینک اور یو بی ایل یہ کمپنیاں بینکنگ سیکٹر میں آتی ہیں-سٹاک مارکیٹ میں اس وقت ایکٹیو سیکٹرز 10 ہیں- جن کے نام مندرجہ ذیل ہیں-فوڈز، ٹیکنالوجی، سیمنٹ، ٹرانسپورٹ، متفرق، انجینئرنگ، کمیکل، کمرشل بینک، کیبل الیکٹریکل اینڈ گڈذ اور پاور جنریشن اینڈ ڈسٹری بیوشن-تمام کمپنیوں ان سیکٹرز میں تقسیم کردیا جاتا ہے- اب آپ ان سیکٹرز کو منتخب کرکے جس سیکٹرز کی جونسی کمپنی میں انویسٹ کرکے اس کے جتنے شیئرز خریدتے ہیں تو ٹوٹل ملا کر جو مساوات بنتی ہے اس کو پورٹ فولیو کہتے ہیں- مثال کے طور میں 4 سیکٹرز کی کمپنیوں کے کچھ شیئرز خریدتا ہوں تو میرے ٹوٹل خریدے ہوئے شیئر مل کر پورٹ فولیو کہلایئں گے-

سب سے پہلا اصول سٹاک مارکیٹ میں پیسہ انویسٹ کرنے کا یہ ہے کہ آپ نے اپنا مظبوط قسم کا پورٹ فولیو بنانا ہے- پورٹ فولیو بنانے کے لیئے آپ نے اپنی ٹوٹل انویسٹمینٹ کو 4 سے 5 حصوں میں تقسیم کرنا ہے- اپنی ٹوٹل کو 5 حصوں میں تقسیم کرکے اب آپ نے 4 سیکڑز منتخب کرنے ہیں- سٹاک مارکیٹ کا پہلا اصول یہ ہے کہ کبھی بھی سارا پیسہ ایک ہی کمپنی پر نہیں لگانا چاہیئے- اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر آپ ایک ہی کمپنی کے سارے شیئر خرید لیں اور اسی سیکٹر پر گورنمنٹ کوئی ٹیکس وغیرہ عائد کردے تو آپکی انویسٹمینٹ ڈوبنے کا خطرہ پیدا ہوجائے گا- لہذا ہمیشہ 4 سیکٹرز منتخب کریں- اور 4 سیکٹرز منتخب کرنے کے بعد ان سیکٹرز کی کوئی سی 3 اچھی کمپنیاں سلیکٹ کریں اور ان کمپنیوں کے شیئرز خریدیں- اس طرح کے آپ کے پاس ٹوٹل 4 سیکٹرز اور ان 4 سیکٹرز میں 12 کمپنیاں ہوں گی جن کے آپکے شیئرز خریدے ہونگے- اور یوں آپ کا پورٹ فولیو بہترین قسم کا بن جائے گا- اور رسک پھیل جائے گا- انویسٹمینٹ میں رسک کو ہمیشہ پھیلا کر رکھا جاتا ہے اس طرح رسک کم سے کم ہوتا ہے-

سٹاک کا دوسرا اصول یہ ہے کہ آپ کو شروع میں بتایا کہ آپ نے اپنی رقم کو 5 حصوں میں تقسیم کرنا ہے- 4 حصوں کو تو آپ نے 4 مختلف سیکٹرز میں استعمال کرکے اس کے شیئرز خرید لیئے لیکن رقم کا ایک حصہ آپ نے کیش کی صورت میں بچا کر رکھنا ہوتا ہے اور اس کو سٹاک والے اکاؤنٹ میں ہی رکھنا ہوتا ہے- کیونکہ اس کی کبھی بھی ضرورت پڑ سکتی ہے-

سٹاک کا تیسرا اصول یہ ہے کہ جب بھی آپ شیئرز خریدیں تو کبھی اکٹھے شیئر مت خریدیں- بلکہ تھوڑے تھوڑے کرکے خریدیں- مثلا آپ نے سیمنٹ سیکٹر سلیکٹ کیا اور سیمنٹ سیکٹر کی ایک کمپنی دیوان سیمنٹ سلیکٹ کی- تو جس وقت آپ خریدنا چاہ رہے ہیں اس وقت شیئر کی قیمت اپنے "لو ریٹ" پر ہے لیکن ہوسکتا ہے وہ "لو ریٹ" تھوڑا اوپر نیچے ہو(یہ اعشاریہ میں ہی ہوتا ہے) تو اگر آپ نے 500 کے حساب شیئر خریدے ہونگے تو دن کے آخر میں آپکے ٹوٹل خریدے ہوئے شیئرز سے آپکی شیئرز کی رقم ایوریج آؤٹ ہوجائے گی- مثلا صبح 10 بجے شیئر کی قیمت 12.5 تھی آپ نے 500 شیئر خرید لیئے-11 بجے شیئر کی قیمت 12.4 ہوجائے تو 1000 شیئر اس وقت خرید لیئے اور 12 بجے پھر شیئر کی قیمت 12.5 ہوگئی تو اس وقت 1000 خرید لیئے- آپ نے یوں ٹوٹل 2500 شیئر خریدے اور ایک ریٹ پر نہیں خریدے لہذا آپکا ایوریج ریٹ 12.45 بنا- اس کو ایوریج آؤٹ کہتے ہیں-

سٹاک کا چوتھا بنیادی اصول یہ ہے کہ کبھی بھی ٹینشن نہیں لینی اور جلد بازی نہیں کرنی- یاد رکھیں سٹاک مارکیٹ میں لگایا ہوا پیسہ کبھی بھی ڈوب نہیں سکتا اگر آپ کے اندر صبر اور حوصلہ موجود ہے- کیونکہ اگر آپ نے کوئی شیئر مہنگا خرید بھی لیا تو یاد رکھیئے وہ شیئر دوبارہ اپنی قیمت پر واپس ضرور پہنچے گا لیکن ہوسکتا ہے اس کو 4 ،5 مہینے لگ جایئں لیکن آپکا پیسہ ریکور ضرور ہوگا- مثال کے طور پر میں نے ایک شیئر جنوری کی 1 تاریخ کو 24.9 پر خریدا اس شیئر کی قیمت 18 جنوری تک کم ہوکر 20 روپے تک چلی گئی اب اس کا مطلب یہ ہوا کہ مجھے پر شیئر 4 روپے نقصان ہوا-لیکن میں نے جلد بازی نہیں کی- اور صبر کیا آج 30 تاریخ کو اسی شیئر کی قمیت 26.8 روپے پر پہنچ چکی ہے- لہذا آپ کا پیسہ ریکور ہوجاتا ہے- کبھی تھوڑے انتظار کے بعد کبھی 2، 4 مہینے کے انتظار کے بعد-

سٹاک کا پانچواں اصول یہ ہے سٹاک کا کاروبار کبھی بھی ان پیسوں سے مت کریں جو آپکو چاہیئے ہوتے ہیں مثال کے طور بندہ یہ سوچے آج میں مارکیٹ میں پیسہ لگا رہا ہوں اور کل ہی مجھے اس میں منافع ہوجائے- ایسا نہیں ہوتا- لہذا سب سے پہلی چیز اس چیز کو دماغ میں رکھنا چاہیئے کہ سٹاک مارکیٹ کے کام کے لیئے وہ پیسہ استعمال کریں جو آپکے زیر استعمال نہ ہو- بلکہ کمیٹی کی طرح آپکے ذہن میں یہی ہو کہ یہ 5 مہینے بعد ہی مجھے منافع کے ساتھ ملے گا-

سٹاک کا چھٹا اصول یہ ہے کہ کبھی بھی لالچ مت کریں کیونکہ سٹاک مارکیٹ صبر اور حوصلے کا کام ہے یہ آپ کو دنوں یا منٹوں میں منافع نہیں دیتی- اس سے لوگ پیسے بناتے ہیں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ آپ دنوں میں ہی امیر کبیر بن جایئں گے-لہذا خوابوں کی دنیا سے نکل کر حقیقت کی دنیا میں رہنا سیکھیئے-

سٹاک کے کام کو پارٹ ٹائم بزنس کے طور پر اختیار کریں- سٹاک کے بزنس کو کبھی بھی اپنا مین سٹریم بزنس مت بنایئں- آپ اگر جاب کرتے ہیں تو آُ اپنی جاب کے ساتھ دن کا آدھا یا 1 گھنٹہ اس کو دےد یں تو کافی ہے- لیکن اس کو کبھی بھی مین سٹریم بزنس کے طور پر اختیار مت کریں-

اس کے بعد ایک سوال کا جواب کہ "بلیو چپ کمپنیاں" کونسی ہوتی ہیں تو اس کا جواب عرض ہے کہ بلیو چپ پوکر گیم کی ایک ٹرم ہے- پوکر کی گیم میں 3 طرح کی گوٹیاں ہوتی ہیں- بلیو، ریڈ، اور وائٹ- ان گوٹیوں میں بلیو گوٹیاں سب سے مہنگی ہوتی ہیں- شروع شروع میں سٹاک مارکیٹ میں جن کمپنیوں کے شیئر بہت مہنگے ہوتے تھے انکو "بلیو چپ کمپنیاں" کہا جاتا تھا- بعد میں یہ تعریف تھوڑی تبدیل ہوتی گئی اور ماڈرن تعریف اب اس کی یہ بنی ایسی کمپنیاں جو کہ ریلائی ایبل کمپنیاں ہوں اور اپنے انویسٹرز کو ڈیوی ڈینڈ بھی دیتی ہوں ایسی کمپنیاں بلیو چپ کمپنیاں کہلاتی ہیں-ان کی لسٹ اور تفصیل آپکو سٹاک مارکیٹ کی ویب سائٹس پر مل جائے گی-امید کرتا ہوں آج کی قسط آپکو سمجھ آگئی ہوگی- باقی کمنٹ سیکشن میں آپکے سوالات کا جواب انشااللہ پہلے کی طرح دیتا رہوں گا- دعاؤں میں یاد رکھیئے گا-

دوستوں سے شیئر کریں

تبصرہ کریں