ہنوز دلی دور است

ہنوز دلی دور است!

تحریر : ثنااللہ خان احسان

دلی ہنوز دور است

باؤلی

ولیم ڈینئیل کی دہلی میں واقع شیخ نظام الدین اولیا کے مزار پر موجود بائولی کی منظر کشی- یہ پینٹنگ ولیم نے 1802 میں بنائ تھی-

باؤلی

باؤلی : اردو اور ہندی میں سیڑھی والے کنویں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
عموما باؤلی راجپوت دور میں استعمال ہونا شروع ہوئی شیر شاہ سوری نے بھی کافی باؤلیاں بنوائیں ان میں ہاتھی اور گھوڑے بھی اتر سکتے تھے بعض باؤلیوں میں خفیہ راستے بھی بنائے جاتے تا کہ ہنگامی حالات میں استعمال ہو سکیں بعض اوقات انخلاء کے مقصد کے لیے بھی استعمال ہوتیں ان کے قریب زیر زمین کئی کلومیٹر خفیہ راستے بھی ملتے ہیں جہاں بھی راجپوت اور شیر شاہ سوری کے دور کے قلعے ہیں وہاں یہ باؤلیاں ضرور ملتی ہیں۔

خواجہ نظام الدین اولیاء (پیدائش: 9 اکتوبر 1238ء— وفات: 3 اپریل 1325ء) سلسلہ چشتیہ کے معروف صوفی بزرگ جن کا سلسلہ نسب امام حسین تک پہنچتا ہے۔

تغلق آباد کا مشہور قلعہ جب بن رہا تھا تب حضرت کی درگاہ کی موجودہ باؤلی بھی بن رہی تھی،بادشاہ کا حکم تھا ہر مزدور قلعہ کے لئے کام کرے۔ باؤلی بنانے کوئی نہ جائے۔

بادشاہ کے حکم پر دن کو قلعہ بنتا رات کو چراغوں کی روشنی میں باؤلی کی تعمیر ہوتی رہی، بادشاہ نے حکم دیا تیل کی فروخت بند کر دی جائے اس وقت باؤلی میں سے پانی نکل آیا تھا حضرت نے اپنے خلیفہ مخدوم نصیر الدین روشن چراغ دہلی کو حکم دیا کہ باؤلی کا یہ پانی کونڈوں میں بھر کر تیل کی طرح جلایا جائے پانی تیل کی طرح جلنے لگا اور مخدوم نصیرالدین روشن چراغ دہلی کے نام سے مشہور ہو گئے۔

یہ سکیم بھی ناکام ہوئی تو بادشاہ نے بنگال کی مہم کے دوران دہلی فرمان بھیجا کہ میں دہلی واپس آ رہا ہوں حضرت میرے پہنچنے سے پہلے شہر چھوڑ دیں ، اس حکم پرحضرت نے اپنا وہ تاریخی فقرہ کہا جو آج تک ضرب المثل ہے ، ہنواز دلی دوراست یعنی ابھی تو دلی بہت دور ہے،پھر ہوا یہ کہ بادشاہ افغان پور میں محل کے نیچے دب کر مر گیا اور اس کو دہلی آنا نصیب نہیں ہوا۔

A Baolee near the old city of Delhi’ a coloured aquatint by Thomas Daniel, circa 1802. From Thomas and William Daniell's 'Oriental Scenery.' Sourced from the British Library, UK.

Sanaullah Khan Ahsan

دوستوں سے شیئر کریں

تبصرہ کریں