کامیاب اور ناکام لوگ

کامیاب اور ناکام لوگ

تحریر گل نوخیز اختر

 

قاسم علی شاہ اردو لیکچرز

کامیابی

مجھے کامیاب لوگوں کی کہانیاں بہت بور لگتی ہیں۔ یہ چند لوگ ہوتے ہیں جو کروڑوں لوگوں کو بیوقوف اور جاہل ثابت کرکے خود کو نمایاں کر لیتے ہیں۔ بظاہر یہی سب سے محنتی ہوتے ہیں۔ یہی زندگی کو سب سے الگ دیکھتے ہیں اور یہی کامیاب ہوتے ہیں۔ کامیاب لوگوں کی کہانیاں مصالحہ لگا کر بیچنا بڑا آسان ہے۔ مجھے مارکیٹ میں کوئی ایسی کتاب نظر نہیں آئی جس کا عنوان ہو ’’100 ناکام ترین لوگ‘‘۔ ہر دوسری کتاب ’’ہاں تم کرسکتے ہو۔۔۔کامیابی کے نسخے۔۔۔کامیابی کی ضمانت۔۔۔اور ناکامی کو کامیابی میں بدلیں‘‘ جیسے فارمولوں پر مشتمل ہے۔ میرا اندازہ ہے کہ آدھے سے زیادہ لوگ ان کتابوں کو پڑھ کر ناکامی کے عروج پر پہنچے ہیں۔ کسی کتاب میں یہ نہیں لکھا کہ ایک بندہ بھوکا مر رہا ہو تو وہ کیا کرے؟ کسی کے پاس نوکری نہیں تو وہ کہاں جائے؟ زور صرف محنت پر ہے لیکن محنت کس چیز پر؟ ۔۔۔ہوائی باتیں ‘ خیالی قلعے۔۔۔!!!

پچھلے دنوں میرے ایک موٹیویشنل سپیکر دوست نے فرمائش کی کہ میں ان کے نئے سیشن میں شرکاء کو کامیابی کے نسخے بتاؤں۔ یہ کہتے ہوئے انہوں نے پچاس ہزار کا چیک میرے ہاتھ میں تھما دیا۔ ظاہری بات ہے اب تو انکار بالکل بھی ممکن نہیں تھا۔ میں نے ان سے ایک وعدہ لیا کہ میں اپنی مرضی سے بولوں گا اور وہ ٹوکیں گے نہیں۔ وہ خوشی خوشی راضی ہو گئے۔ میں مقررہ وقت پر ہوٹل پہنچ گیا۔ پتا چلا کہ کامیابی کے نسخے والے سیشن کے لیے فی کس 5 ہزار روپے فیس رکھی گئی ہے اور کوئی دو سو کے قریب خواتین وحضرات یہ رقم ادا کرکے تشریف لاچکے ہیں۔ یہ سب کسی منتر کی تلاش میں جمع ہوئے تھے۔ انہیں یقین تھا کہ جب یہ یہاں سے نکلیں گے تو رکشے والے سے پہلے کامیابی اِن کے پاس آن کھڑی ہوگی۔ مجھے ڈائس پر بلایا گیا۔ میں نے ایک نظر حاضرین پر ڈالی۔ ان کی نگاہوں میں عجیب سی بے بسی تھی‘ گویا ترس رہے ہوں کہ خدا کے لیے جلدی سے کامیابی کا نسخہ بتاؤ تاکہ زندگی کچھ آسان ہوسکے۔ میں نے پوچھا کہ کیا آپ سب لوگوں نے پانچ ہزار فی کس کے حساب سے آج کے سیشن کی فیس ادا کی ہے؟ سب کا مشترکہ جواب آیا ’’جی ہاں‘‘۔
’’اللہ والیو! پہلے تو میں آپ کو بتا دوں کہ مجھے ایک گھنٹہ کے لیے آپ پر مسلط کیا گیا ہے تاکہ آپ پر کامیابی کا راز افشا کروں۔ اس کام کے لیے مجھے پچاس ہزار روپے دیے گئے ہیں۔ یعنی آپ لوگ پانچ ہزار دے کر یہاں آئے ہیں جبکہ میں پچاس ہزار وصول کرکے یہاں کھڑا ہوں۔ پہلے تو ذہن میں بٹھا لیجئے کہ مالی طور پر اس وقت آپ ناکام ہیں اور میں کامیاب۔ گویا ناکام لوگوں کی مدد سے زیادہ آسانی سے کامیابی حاصل کی جاسکتی ہے۔ آپ میں سے شائد ہی کوئی ایسا ہو جسے یہ بات پتا نہ ہو کہ زندگی میں محنت کرنی چاہیے‘ اپنے کام پر توجہ دینی چاہیے‘ اللہ سے دعا کرنی چاہیے‘ اپنی صلاحیتوں کو پہچاننا چاہیے وغیرہ وغیرہ۔ تو پھر آپ مجھ سے کیا سننے آئے ہیں؟ یہ جو پانچ ہزار روپے آپ نے میری چکنی چپڑی باتیں سننے کے لیے خرچ کیے ہیں ان سے آپ کی بہت سی چھوٹی موٹی پرابلمز حل ہوسکتی تھیں۔ بچوں کے کپڑے بن سکتے تھے‘ کچن کی چیزیں آسکتی تھیں‘ ٹیلی فون وغیرہ کا بل ادا کیا جاسکتا تھا‘ گھر کی کوئی چیز مرمت کرائی جاسکتی تھی۔۔۔ لیکن نہیں۔۔۔چونکہ آپ کے ذہن میں بٹھایا گیا تھا کہ پانچ ہزار خرچ کرکے آپ خزانے کا نقشہ پالیں گے لہذا آپ اچھل پڑے کہ اس سے آسان طریقہ بھلا کیا ہوسکتا ہے۔ تو بہنو بھائیو! میں صرف یہی کر سکتا ہوں کہ آپ کو گھسی پٹی باتیں ذرا دلچسپ انداز میں سنا دوں۔ میں یہ تو بتاؤں گا کہ زندگی میں اپنے کام پر فوکس کریں لیکن یہ مجھے نہیں پتا کہ ایک الیکٹریشن جو صرف اپنے کام کو ہی جانتا ہے اور اسی پر دھیان دیتا ہے وہ مزید فوکس کیسے کرے؟ میں یہ تو بتاؤں گا کہ بس اللہ سے محبت کرنا شروع کردیں، لیکن یہ نہیں بتا سکتا کہ جولوگ پانچ وقت کے نمازی بھی ہیں‘ ایماندار بھی ہیں‘ کام بھی دیانتداری اور محنت سے کرتے ہیں وہ کیوں ناکام ہیں؟ آپ سب کا یہاں ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ آپ اپنی ناکامی تسلیم کرچکے ہیں۔ لہذا اب آپ جو بھی کہتے رہیں اس کی کوئی اہمیت نہیں۔ اتنی صلاحیت تو مجھ میں ہے کہ آپ کی ناکامی کو ثابت کرنے کے لیے آپ کی ہر بات میں ایک دلیل نکال کر پیش کردوں کہ آپ اس وجہ سے ناکام ہیں۔ اپنی ناکامیوں کی تشہیر کریں گے تو میرے جیسا ہر بندہ آپ کی چھوٹی سی خامی کو سو سے ضرب دے کر پیش کرے گا۔ کامیاب بننا ہے تو ناکام لوگوں سے ملیں۔۔۔ بڑی آسانی سے پتا چل جائے گا کہ خامی کہاں ہے۔ نہ بھی پتا چلے تو کم از کم مجھ سے نہ پوچھئے گا۔میرے پاس کسی چیز کا دو ٹوک حل نہیں‘ صرف خوشنما باتیں اور احساسِ کمتری میں مبتلا کر دینے والی کہانیاں ہیں۔ اجازت دیجئے! مجھے ذرا چیک جمع کرانا ہے۔‘‘

دوستوں سے شیئر کریں

تبصرہ کریں