فیس بک ، میسنجر اور واٹس اپ

فیس بک ، میسنجر اور واٹس اپ

تحریر : محمد ادریس عرف دیشو۔

فیس بک واٹس اپ

سوشل میڈیا

زمانہ قدیم میں رہنے والے لوگوں کے حال احوال جو مختلف کتب و رسائل و جرائد میں شائع ہوتے ہیں ان کا بغور مطالعہ اور تحقیق کے پیشِ نظر دنیا کے کئی محققین کا کہنا ہے کہ زمانہ قدیم کی زندگی انتہائی پیچیدگیوں سے بھری پڑی تھی۔
ایک پہاڑ کے رہنے والے لوگوں کو پہاڑ کی دوسری طرف کے حال احوال علم نا ہوتا تھا ۔

مختلف قسم کے طریقے اپنائے جاتے تاکہ اپنے قریبی احباب کو شادی بیاہ،خوشی غمی کا علم ہو ۔
ڈاک کا نظام بھی موجود تھا جو کہ گھوڑوں کی صورت ہوتا پر اس میں بہت سا قیمتی وقت ضائع ہوجاتا ۔

اس کے برعکس دور جدید میں بہت کچھ نیا دیکھنے کو مل رہا ہے ۔موبائل کی ایجاد اور اسے بڑھ کر سوشل میڈیا جیسے گاؤں کا ملنا تحدیث بن نعت کے جیسے شمار کیا جاتا جس سے آپ کسی کونے میں بیٹھ کر دوسرے سے ایسے بات کرسکتے ہیں جیسے وہ آپ کے ہی شہر کا باسی ہو۔۔

سماجی روابط کی تین بڑی ویب سائٹس ہیں جو سوشل میڈیا پر بہت مشہور و معروف ہیں اور یہ سوشل میڈیا پر روح کا کردار سر انجام دے رہی ہیں درج ذیل ہیں۔

1:- فیسبک
2:-مسنجر
3:- واٹس ایپ۔

فیس بک ۔

مقننہ سوشل میڈیا کی مشہور شخصیت مارک زیوکربرگ نے فیسبک نامی میلا لگا کر ساری دنیا کو ایک جگہ اکٹھا کردیا ہے۔
چاہے وہ گاؤں کے رہنے والے ہوں یا شہر کے رہنے والے ۔ چاہے ان کا تعلق پاکستان سے ہو یا ہندوستان سے ۔
چاہے وہ 21 گریڈ کا افسر ہو یا سر بازار بھیک مانگنے والا ہو تمام کو ایک ترازو میں تولا جاتا ہے جس سے اتحاد کی رسی کے دھاگے مظبوط ہوتے ہیں۔

فیسبک ایک تفریحی پلیٹ فارم ہے۔
اس میلے میں کئی قسم کے افراد مل جاتے ہیں جن میں بیشترین کنوارگان ہوتے ہیں اور اپنی کنوارگی کو اس قدر خوبصورتی سے پیش کرتے ہیں جیسے وہ شادی کے بندھن میں بندھنے کے اکیلے ہی حقدار ہوں پر درحقیقت یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جن کو محلے میں لوگ اس وجہ سے اپنی بیٹی کا رشتہ نہیں دیتے کیوں کہ ان کے والدین کے کارنامے گنوانے جاتے جیسے کہ تیڈ پیو بھنگی ہائی جا چلا جا اسی بھنگیاں چرسیاں نوں رشتے نہیں دیندے ۔(تمھارا باپ چرسی بھنگی ہے اس لیئے ہم رشتے نہیں دیتے )۔

مایوس ہو کر فیسبک پر رشتے کی تلاش میں مارے مارے پھرتے ہیں اور خود کو امیر تر گردانتے ہیں حالانکہ گھر میں شناختی کارڈ پر روٹی کھانے والے لوگ ہوتے ہیں ۔ کپڑا بھی ادھار سے لیتے ہیں اور دکاندار کو کہتے ہیں اگلے ماہ میری کمیٹی نیکسی تاں وت مل ویسی پیسے )اگلے ماہ میری کمیٹی نکلے گی تو دے دوں گا ).
خیر سوشل میڈیا کا یہ سماجی رابطہ ایسے لوگوں کو بھی برداشت کرتا پھر رہا ہے جن کو گھر والے بھی کہتے ہیں
نا ڈوھونڑ دا نا کوونھڑ دا (نا کام کا نا کاج کا دشمن اناج کا ).

ان سے الگ تھلگ کچھ روشنی ان حضرات پر ڈالتے ہیں جن کا معاشرے میں کوئی خاص مقام نہیں ہوتا یہ زندگی کی بیس،تیس بہاریں دیکھنے کے بعد بھی تنہا ہوتے ہیں ۔

وجوہات پر غور کرنے سے علم ہوتا ہے کہ صنف نازک کسی دور میں محلے کی کسی لیلیٰ پر عاشق تھا اسی مد میں موصوف ابھی بھی تنہا ہے ۔
محبوبہ کے اس غم کو یہ حضرات سوشل میڈیا خصوصاََ فیسبک پر بطورِ ایک شاعر کا کردار اد کر کے بیان کرتے ہیں۔ درحقیقت یہ ہی قابل نہیں ہوتے محبوبہ کے۔ خود ہی بتائیے جو صبح سویرے دانتوں پر ٹوتھ برش نہیں کرتے کیا ان کی محبوبہ پیلے دانتوں والے کو پنسد کرے گی ۔۔؟
محبوب کے دھتکارے ہوئے ناکام عاشق شاعری سے داد وصول کرتے ہیں ۔

زیادہ اہمیت اور پذیرائی اور سیزن دسمبر کا مہینہ ہوتا ہے جس کو ایسے لوگ مال غنیمت سمجھتے ہوئے ایسے اشعار پیش کرتے ہیں کہ سننے والا قاری کچھ پیسے ہدیہ کردیتا ہے اس قول کی تائید پڑوسی گروپ میں "دسمبر کے فوائد اور نقصانات" سے کی جاتی ہے۔
ایک شعر کسی بستن سے لیا ہوا ملاحظہ فرمائیں۔

میں کل بھی تمھارا تھا آج بھی تمھارا ہوں،
میرا جرم دیکھ میں آج بھی کنوارا ہوں۔۔۔۔۔

دنیا میں عموماً آپ جس محکمے میں جائیں وہاں آپ کو دو جنس ہی ملتے ہیں میل اور فی میل ۔
مارک زیوکربرگ کی برکت سے فیسبک پر جہاں میل اور فی میل نظر آتے ہیں وہاں مکھیوں کی طرح شی میل (فیک آئی ڈیز) بھی ملتے ہیں۔
ان کو ایک اہم کردار حاصل ہے۔ مختلف رقائص میں جیسے یہ اپنے رقص و سرور میں مشہور و معروف ہوتے ہیں اور لوگ ان کا رقص دیکھنا پسند کرتے ہیں اسی طرح فیسبک پر بھی یہ اپنے رقص و سرور میں اپنی مثال آپ ہیں۔

دنیا میں جیسے ان کے عجیب و غریب نام ہوتے ہیں ایسے ہی فیسبک کی دنیا میں ان کے نام پاپا کی پریاں اور ڈول مشہور ہوتے ہیں۔
مارک زیوکربرگ کو 21 توپوں کی سلامی پیش کرتے ہیں مزید تفصیل پھر کبھی ۔

میسنجر

فیسبک کی ایجاد کے بعد دنیا میسنجز جیسی انمول نعمت سے مستفیض ہوئی ۔
میسنجر کے لغوی معنی "پیغام بھیجنا یا موصول کرنا ہے"

لغوی معنی اپنی جگہ رہنے دیں ہم اس کے سوشل میڈیا کی رو سے معنی بیان کرتے ہیں۔

"ایک ایسا خفیہ کمرہ جس میں دو یا دو سے زائد افراد اپنے خیالات و جذبات اس طرح پیش کریں جو صرف ان حضرات تک محدود رہیں مسنجر کہلاتا ہے"
مسنجر میں ہائے ہیلو آپشن ہوتا ہے جو اگر قابل قبول یعنی تیر نشانے پر لگ جائے تو دل کی کلی کھل جاتی ہے۔
مسنجر میں ایک آپشن ہوتا ہے جسے "بلاک" ہیں ۔
اگر تیر نشانے پر نا لگے تو کمان ہی ختم کردیا جاتا ہے۔

میسنجر بہت ہی قیمتی چیز ہے اس کی بڑی وجہ کچھ ایسے رشتے ہوتے ہیں جن سے کھلے عام بات چیت کی صورت میں آپ کی عزت کا کباڑہ ہوتا
ہو تب مسنجر آپ کے منہ کالا کرنے کو چھپانے کے لیئے بہترین پلیٹ فارم ہے۔

محبوب کے تھوبڑے کا دیدار کرنے کے لیے بھی اچھا ہے جہاں چڑیل نما محبوب کسی کیمرے ،ایڈٹنگ اور فیس بیوٹی کا استعمال کرکے خود کو چودھویں کا چاند ظاہر کرتا ہے۔
مسنجر سے آپ پاکستان میں بیٹھ کر اپنی ساؤتھ افریقی محبوبہ کا دیدار کرسکتے ہیں۔

جہاں فائدے مند ہے وہاں نقصانات بھی ہیں جن میں سے ایک قابل بیان ہے ۔
اگر یہ ساری باتیں لیک ہوں تو یہ سارے اعتماد توڑ دیتا ہے جن کا بننا تیر کا واپس کمان میں جانے کے مترادف ہے۔

واٹس ایپ

واٹس ایپ کا تعارف یقیناً قابل ذکر ہوگا۔
سماجی ویب سائٹ فیسبک سے بننے والی محبوبہ کی مکمل تحقیق اور اس کے خاندان کے بارے میں جاننا نیز شادی شدہ اور بچوں کی ماں تو نہیں۔؟
اصلی بھی ہے کہ کوئی ثناء اللہ ثناء بنا پھرتا ہے ۔
اس لیئے اس سے نمبر مانگ پر واٹس ایپ پر اس کی تصدیق کی جاتی ہے۔
یہ ایک فرینڈلی ایپ ہے ۔

سماجی روابط کی یہ تیسری ویب سائٹ بہت ہی سود مند ثابت ہورہی ہے۔
جہاں بہت سے لوگ موبائل فون پر دھوکا کھانے (وائس چینجر) کے بعد محبوب کی میٹھی آواز سننے کے خواہشمند ہوتے ہیں۔

اس پر اب بھی ماضی کی یادیں تازہ ہیں لوگ مسیج بھیجتے ہیں کہ اسے آگے پچاس لوگوں کو بھیج دو آپ کو جنت میں گھر مل جائے گا حد ہے ۔

دوستوں سے شیئر کریں

تبصرہ کریں