انسانی تاریخ کا سب سے بڑا گینگ ریپ

انسانی تاریخ کا سب سے بڑا گینگ ریپ

انسانی تاریخ کا سب سے بڑا گینگ ریپ

گینگ ریپ

تاریخ انسانی کا سب سے بڑا گینگ ریپ سنہ 1945ء میں سوویت فوج کے ہاتھوں جرمن خاتون کا قراردیا جاتا ہے۔

العربیہ ڈؑاٹ نیٹ کی رپورٹ کے مطابق جنوری سے اگست 1945ء کے دوران مسلسل آٹھ ماہ کے عرصے میں سوویت فوجی درندوں نے قریبا 20 لاکھ جرمن خواتین کی اجتماعی آبر ریزی کی تھی۔ اجتماعی آبر ریزی کا نشانہ بننے والی بعض خواتین کو بار بار اس عذاب کا سامنا کرنا پڑا۔ بعض خواتین کو 70، 70بار گینگ ریپ کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ صرف دارالحکومت برلن میں اپریل اور مئی 1945ء کے دوران روسی فوج نے 1 لاکھ جرمن خواتین کو گینگ ریپ کا نشانہ بنایا۔ مشرقی جرمنی کے علاقوں بومیرانیا اور سیلیزیا میں دوسری عالمی جنگ کے دوران 14 لاکھ خواتین کی اجتماعی آبرو ریزی کی گئی۔

سوویت درندوں کی وحشت سے بڑی عمر کی خواتین کے ساتھ آٹھ اور دس سال کی بچیاں بھی محفوظ نہ رہیں۔ اجتماعی عصمت دری کے باعث دو لاکھ خواتین بروقت طبی امداد نہ ملنے کے باعث لقمہ اجل بن گئیں۔

سوویت فوج کی درندگی کے سامنے انکار کی جرات کرنے والی خاتون کوایک لمحے کی تاخیر کے بغیر موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا تھا۔سنہ 1945ء کے اوائل میں جرمنی کے بیشتر مرد فوج کی صفوں میں تھے جو جنگ عظیم دوم کی وجہ سے محاذوں پر لڑ رہے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ شہر تقریبا مردوں سے خالی ہوچکے تھے جبکہ شہروں میں پیچھے رہ جانے والی خواتین اور بچے ہی تھے۔ سوویت فوج جب جرمنی میں داخل ہوئی تو اس نےوہاں کی آبادی کو مردوں سے خالی پایا اور اپنے سامنے صرف صنف نازک کو پا کر وہ بزدل فوج اور بھی جری ہوگئی۔

انسانی تاریخ کا سب سے بڑا گینگ ریپ

سوویت فوج کے حملوں کےخوف سے جرمنی کی بڑی تعداد میں عورتوں نے خود کشیاں شروع کردیں۔ جرمنی شہر دمین میں بڑی تعداد میں خواتین نے اپنی عزت وناموس کوبچانے کے لیے موت کو گلے لگا لیا تھا۔

سنہ 1948ء میں جرمن خواتین کی عزتوں سے کھیلنے کا سلسلہ اس وقت ختم ہوا جب جرمن فوج آبادی سے نکل کر اپنے کیمپوں میں واپس پہنچی تھی مگر اس کےباوجود جرمن آبادی میں روسی فوج کی وحشت وبربریت کا خوف موجود تھا۔

دوستوں سے شیئر کریں

تبصرہ کریں