علامہ اقبال سرقہ باز

علامہ اقبال سرقہ باز

تحریر : محمّد سلیم

علامہ اقبال سرقہ باز

علامہ اقبال

کچھ دن پہلے ایک انگریزی فلم Enemy at the gates دیکھ رہا تھا ۔ 1942 کی جنگ سے متعلق اس فلم کی کہانی کچھ یوں ہے کہ جرمن نازیوں نے روس کا حشر نشر کر دیا ۔ روس کے افسر اپنے سپاہیوں کی بزدلی کے ہاتھوں پریشان ہیں اور جرمن سپاہیوں کی شجاعت پر حیران ۔ پھر ایک افسر مشورہ دیتا ہے کہ ہمیں اپنے سپاہیوں کو حوصلہ دینے کے لیئے heros تخلیق کرنے پڑیں گے ۔

ایک عام بندوق چلانے والے سپاہی کو اسنائپر بنا دیا جاتا ہے ۔ روزانہ اس کے ناکردہ کارنامے اخبار میں چھاپے جاتے ہیں کہ آج اس نے پچاس جرمن مار دیئے ۔ وہ چلاتا رہتا ہے کہ میں کوئی ہیرو شیرو نہیں ہوں ۔ مگر اس کی ایک نہیں سنی جاتی ۔ آخر وہ واقعی ہیرو بن جاتا ہے اور روس کے سپاہیوں کے حوصلے شیروں جیسے ہو جاتے ہیں ۔

ہمارا حال اس سے الٹا ہے ۔ ہمیں قسمت سے کوئی ہیرو مل بھی جائے تو ہم اسے زیرو ثابت کرنے کی کوشش میں زمین آسمان ایک کر دیتے ہیں ۔
علامہ اقبال کے بارے میں ایک پروپیگنڈا چل رہا ہے کہ انہوں نے ساری شاعری انگریزی سے چوری کر کر کے لکھی ہے ۔ ایک صاحب نے تو مجھ سے یہ تک پوچھ لیا کہ کیا آپ علامہ اقبال کی کوئی ایک نظم یا غزل بتا سکتے ہیں جو ان کی اپنی ہو ؟

میں سوال سن کر چونک گیا ۔ ظاہر ہے ہم اقبال کو بچپن سے پڑھتے آرہے ہیں ۔ اس قسم کے دل دکھانے والے سوالوں کے عادی نہیں ۔ مگر بہرحال پنڈورا بکس کھل گیا ہے ۔ اب ہر شعر پر تحقیق ہو گی ۔
تھوڑی تحقیق میں نے کی ہے وہ دیکھ لیں پھر آگے بات کرتے ہیں ۔

علامہ اقبال کی جو نظم ہم بچپن سے اسکولوں میں پڑھتے آرہے ہیں لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری وہ درحقیقت مٹیلڈا ایڈورڈز کی انگریزی نظم کا ترجمہ ہے ۔
آپ خود ہی دیکھ لیں کس طرح اقبال نے لفظ بہ لفظ نقالی کی ہے ۔

God make my life a little light
ترجمہ : لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری ۔ زندگی شمع کی صورت ہو خدایا میری
Within the world to glow;
A little flame that burneth bright,
Wherever I may go.
ترجمہ : دور دنیا کا مرے دم سے اندھیرا ہو جائے
ہر جگہ میرے چمکنے سے اجالا ہو جائے
زندگی ہو مری پروانے کی صورت یا رب
علم کی شمع سے ہو مجھ کو محبت یا رب
ہو مرے دم سے یونہی میرے وطن کی زینت
جس طرح پھول سے ہوتی ہے چمن کی زینت

God make my life a little staff
Whereon the weak my rest,
That so what health and strength I have
May serve my neighbors best.
ترجمہ : ہو مرا کام غریبوں کی حمایت کرنا
درد مندوں سے ضعیفوں سے محبت کرنا

God make my life a little hymn
Of tenderness and praise,
Of faith, that never waxeth dim,
In all His wondrous ways.
Amen.

ترجمہ : مرے اللہ! برائی سے بچانا مجھ کو
نیک جو راہ ہو اس رہ پہ چلانا مجھ کو
آمین

دیکھ لیا ۔ یہ ہے حال ۔ اس ایک نظم نے علامہ اقبال کی تمام شاعری پر سوالیہ نشان لگا دیئے ہیں ۔ یہاں تک کہ علامہ اقبال کا شکوہ اور جواب شکوہ بھی ایک انگریز شاعر کی نظموں complaint, answer complaint کے ترجمے ہیں ۔
علامہ اقبال دراصل شاعر نہیں تھے بلکہ انگریزوں کی شاعری پڑھ کر ان کے ترجمے کر کے جملہ حقوق اپنے نام محفوظ کروا لیتے تھے ۔
مزید کچھ نمونے دیکھیں ۔
یہ شعر ملکہ الزبتھ ٹیلر نے ہندوستان فتح کرتے وقت کہا تھا ۔

Forests are forests. we even did not dropped the deserts.
In the river of darkness we forced our horses to run.
ترجمہ : دشت تو دشت صحرا بھی نہ چھوڑے ہم نے
بحرِ ظلمات میں دوڑا دیئے گھوڑے ہم نے
یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ علامہ اقبال کے پاس سرے سے گھوڑے ہی نہیں تھے دوڑانا تو بعد کی بات ہے ۔ گھوڑے اصل میں ملکہ الزبتھ کے پاس تھے ۔
اگلا شعر ولیم ورڈز ورتھ کا ہے جس کا اقبال نے ترجمہ کیا ۔ یہ شعر ولیم نے اپنی سالگرہ پر کہا تھا ۔

The saying exits from the heart keep attraction.
Did not keep wings but keeping the power of fly.

ترجمہ : دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے
پر نہیں طاقتِ پرواز مگر رکھتی ہے

اور اب یہ ملاحضہ فرمائیں Answer complaint سے کچھ اقتباسات جنہیں اقبال نے نقل کیا ۔

In appearance you are like christians so hindus in customs.
These are muslims so jews are ashamed to see them.
So that you are syed also mirza also and also aghaan
You are everything but please tell me, are you muslim too?

ترجمہ : وضع میں تم ہو نصاریٰ تو تمدن میں ہنود
یہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہود
یوں تو سید بھی ہو مرزا بھی ہو افغان بھی ہو
تم سبھی کچھ ہو بتاؤ تو مسلمان بھی ہو ؟

They were respectable by the time becoming muslims.
But you are unrespectable as you leave Quran.

وہ زمانے میں معزز تھے مسلماں ہو کر
تم خوار ہوئے تارکِ قراں ہو کر

یہ شعر پڑھیں ۔ یہ تھامس ہارڈی کا بڑا مشہور شعر ہے جسے اقبال نے چوری کر لیا ۔

It is good that the wisdom and heart live together like roommates as wisdom is a night watchman of heart.
But sometimes sometimes leave the heart all alone.

ترجمہ : اچھا ہے دل کے پاس رہے پاسبانِ عقل
لیکن کبھی کبھی اسے تنہا بھی چھوڑ دے

آگے بھی پڑھیں ۔
پڑھتے جائیں شرماتے جائیں ۔

Drown into your own heart and get the secret of life.
If you don't wanna be mine, never mind but at least be your own.

اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغِ زندگی
تو اگر میرا نہیں بنتا نہ بن اپنا تو بن

Thousands of years Nargis was crying just because her unlightlessness.
It is really very hard to give birth to a seeing child in a garden.

ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا

I am accepting that i am not as beautiful as you can see me.
But please look at my interest and look my wait.

مانا کہ تیری دید کے قابل نہیں ہوں میں
تو میرا شوق دیکھ میرا انتظار دیکھ

When i prostrate anyhow anyway so the sounds coming from the earth.
Your heart is built in darling and dating base, what you would find in prayers?

میں جو سر بسجدہ ہوا کبھی تو زمین سے آنے لگی صدا
تیرا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں

I need the endlessness of your love.
Look at my innocence what i need.

تیرے عشق کی انتہا چاہتا ہوں
میری سادگی دیکھ میں کیا چاہتا ہوں

اقبال کی سرقہ بازی کی داستان یہاں ختم نہیں ہوتی ۔ بلکہ سنا ہے ہندوستان کا قومی ترانہ بھی کسی انگریز نے لکھا تھا ۔ اقبال نے چوری کر لیا ۔

Our India is best in all over the world.
We are its bulbuls, it is our garden.
Iqbal ! there is no one is our mehram in this whole world.
Nobody knows our hidden pain.
سارے جہاں سے اچھا ہندوستان ہمارا
ہم بلبلیں ہیں اس کی یہ گلستاں ہمارا
اقبال ! کوئی محرم اپنا نہیں جہاں میں
معلوم کیا کسی کو دردِ نہاں ہمارا

علامہ اقبال کے بارے میں یہ بھی مشہور ہے کہ انہوں نے پاکستان کا خواب دیکھا تھا ۔ حالانکہ پاکستان کا خواب ایک جاپانی شاعر نے دیکھا تھا ۔ اس بیچارے کی بدقسمتی یہ تھی کہ وہ اردو نہیں جانتا تھا ۔ وہ جاپان کے شہر ٹوکیو میں سو رہا تھا جب اس کو پاکستان کا خواب آیا ۔ اس نے فوراً ہی ہندوستان کی فلائیٹ پکڑی اور قائد اعظم سے ملنے پاکستان چلا آیا تاکہ خواب سنا سکے ۔ لیکن اس بیچارے کا قائد اعظم سے پہلے علامہ اقبال سے ٹاکرا ہو گیا ۔ علامہ اقبال نے خواب سنا اور فرمایا کہ یہ تم نے ایک فضول سا خواب دیکھ لیا ہے جس کا کوئی فائدہ نہیں ۔ تم اپنے ملک واپس جاؤ میں قائد اعظم سے خود ہی بات کر لوں گا ۔ مگر وہ نہ مانا ۔ علامہ اقبال نے اسے ٹنگڑی دے کر گرانے کی کوشش بھی کی مگر وہ کسی نہ کسی طرح قائد اعظم کے سامنے پہنچ ہی گیا اور بولا ۔

"شی نوں واؤں چی پچشتن پچشتن ۔ جاؤں پچشتن بناؤں گاؤں واؤں واؤں ۔ دھیل دھیل پچشتن جین جین پچشتن ۔"
"ارے بھئی ! کیا کہہ رہے ہو ؟" قائد اعظم پریشان ہو گئے ۔ اس نے پھر سر کھجایا اور گانا شروع کر دیا ۔
"تھیرا پچشتن ناہیں میرا پچشتن ہائے ۔ ایش پھے دھیل خوربان ایش پھے جین بھی خوربان ۔"
"ارے بھئی اقبال ! یہ دیکھیں یہ کیا کہہ رہا ہے ؟" قائد اعظم نے اقبال سے مدد طلب کی ۔
"جناب یہ خوبانیاں مانگ رہا ہے ۔ میں اسے دے کر آیا ۔"

اقبال اسے لے کر باہر آگئے اور گارڈز کے حوالے کر دیا ۔
پھر اقبال دوبارہ قائد اعظم کے پاس گئے اور فرمایا کہ میں نے ایک خواب دیکھا ہے ۔ ۔ ۔ ۔
یوں علامہ اقبال قوم کے ہیرو بن گئے ۔

دوستوں سے شیئر کریں

تبصرہ کریں