شبیر بلوچ کی گمشدگی جو خبر نہیں ہے

شبیر بلوچ کی گمشدگی ـ جو خبر نہیں ہے

تحریر : ذوالفقار علی زلفی

شبیر بلوچ کی گمشدگی

شبیر بلوچ

بلوچ سیاست میں طلبا تنظیم "بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن" کو اہم ترین مقام حاصل ہے ـ اس تنظیم کی تاریخ، ٹوٹ پھوٹ اور دھڑے بندی کو سمجھے بغیر جدید بلوچ سیاست کو سمجھنا تقریباً ناممکن ہے ـ سرداروں اور ان کی پارٹیوں سمیت ارب پتی مڈل کلاس جماعتوں نے ہمیشہ اس تنظیم کو اپنے استعمال میں لانے کی کوشش کی ـ

2002 کو اس وقت کے طالب علم رہنما ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ نے ایک علیحدہ تنظیم کی داغ بیل ڈال کر بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کو بلوچستان کی آزادی کی جدوجہد کا حصہ بنایا ـ دو سال بعد تنظیم کے چیئرمین ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ اپنے چند ساتھیوں سمیت کراچی سے لاپتہ کردیے گئے ـ گوکہ چند مہینے بعد وہ منظرِ عام پر لائے گئے مگر ان کی حالت انتہائی خستہ ہوچکی تھی ـ

بہرحال، ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ خود تو صحت یاب ہونے کے بعد مسلح تحریک میں شامل ہوگئے مگر ان کی بنائی طلبا تنظیم "بی ایس او آزاد" کے نام سے بلوچ طلبا میں مقبول ہوتی گئی ـ

2010 کے بعد بی ایس او آزاد سے وابستہ طلبا پر قیامت ٹوٹ پڑی ـ تنظیم کے کارکن یکے بعد دیگرے لاپتہ ہوتے گئے، متعدد کی مسخ لاشیں ملیں، درجنوں ہنوز لاپتہ ہیں ـ طویل عرصے سے گمشدگان میں تنظیم کے چیئرمین ذاکر مجید بلوچ اور جنرل سیکریٹری زاہد بلوچ بھی شامل ہیں ـ ذاکر مجید بلوچ کی ہمشیرہ فرزانہ مجید بلوچ بھائی کی بازیابی کے لئے دنیا کا طویل ترین لانگ مارچ کوئٹہ - کراچی - اسلام آباد تک کرچکی ہیں مگر نتیجہ کچھ نہ نکلا ـ

جون 2016 کو پاکستانی حکومت نے بی ایس او آزاد کو کالعدم قرار دے دیا ـ یہ غالباً دنیا کی واحد طلبا تنظیم ہے جس پر پابندی ہے ـ

4 اکتوبر 2016 کو آواران سے تعلق رکھنے والے تنظیم کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات شبیر بلوچ تربت سے لاپتہ ہوگئے ـ اہلخانہ کے مطابق ایف سی نے انہیں گھر سے گرفتار کیا مگر ایف سی ترجمان انکاری ہیں ـ اہلخانہ نے تربت پولیس کو اغوا کی رپورٹ درج کرنے کی درخواست دی ـ پولیس کا موقف ہے کہ اغوا کار "نا معلوم" لکھے جائیں، اہلخانہ کا اصرار ہے ایف سی کو نامزد کیا جائے ـ

اکتوبر کے اواخر میں شبیر بلوچ کی اہلیہ و ہمشیرہ نے کراچی پریس کلب کے سامنے علامتی بھوک ہڑتال کا اعلان کیا ـ پریس کلب انتظامیہ نے احتجاج کی اجازت دینے سے یہ کہہ کر انکار کردیا کہ ہم پر خفیہ اداروں کا دباؤ ہے ـ

اہلخانہ نے بلوچستان ہائی کورٹ اور لاپتہ افراد کے حوالے سے بنائے کمیشن سے بھی رابطہ کیا مگر تاحال ان کا مقدمہ درج نہ ہوسکا ـ مئی 2018 کو کراچی میں منعقدہ پشتون تحفظ موومنٹ کے جلسے کے ذریعے بھی انہوں نے اپنی فریاد دنیا تک پہنچانے کی کوشـش کی، نتیجہ ندارد ـ

اب شبیر بلوچ کی اہلیہ اور ان کی ہمشیرہ کوئٹہ پہنچی ہیں ـ انہوں نے کوئٹہ پریس کلب کے سامنے ایک ہفتے تک علامتی بھوک ہڑتال کا اعلان کیا ہے ـ

بلوچستان اسمبلی کو آسیہ بی بی کو پھانسی دلانے کی کوششوں سے فرصت نہیں مل رہی جبکہ وفاقی حکومت مولوی سے معاہدہ کرنے میں مصروف ہے ـ ایسے میں دو خواتین سیما بلوچ اور زرینہ بلوچ کی فریاد کون سنے؟ ـ

دو سال کا عرصہ گزر چکا ہے ــــــ ابھی تک مقدمہ ہی درج نہ ہوسکا ـ بازیابی کی امید کیسے کی جائے ـ پاکستانی میڈیا کے لئے بھی تاحال یہ خبر نہیں ہے ـ

دوستوں سے شیئر کریں

تبصرہ کریں