اردو تقریر : کیا ہم ایک ہیں ؟

اردو تقریر : کیا ہم ایک ہیں ؟

عظمت مجتبی : ضلع دیر لوئر خیبر پختونخواہ

اردو تقریر

عضمت مجتبی

بسم اللہ الرحمن الرحیم

آج مجھے جس موضوع پر قلم اٹھانے کا موقع ملا ہے اس کا عنوان ہے کہ " کیا ہم ایک ہے "۔
جناب صدر! ہم پچپن ہی سے سنتے آرہے ہیں کہ ہم ایک ہے۔ہم میں کوئی بھی سندھی، پنجابی ، پٹھان اور بلوچی نھی بلکہ ہم سب پاکستانی ہے اور اسی ارض وطن کیلیے ہم ایک ہیں۔

اور یھی وہ پیغام تھا جو قاید اعظم محمد علی جناح نے ہمیں دیا تھا تاکہ شھداءملت کی خون رایگا نہ ہو اور یہ ملک امت مسلمہ کیلیے ایک نمونہ بن کر ابھر ایے۔ا
ور اسی پیغام کو لے کر ہمارے اباواجداد نے مہاجرین کی بھایی بن کر خدمت کی اور ان کے دکھ درد کو بانٹا۔
فرمودات قاید اور اصول دین کو لے ہمارے وطن نے دن دگنی رات چوگنی ترقی شروع کی اور اہلیان وطن میں کوئی فرق نھیں رہا۔

وقت گزرتا گیا اور دشمنان وطن نے چال چلنا شروع کیا اور ہمیں ایک سے دو اور دو سے تین بنانے میں کوئی کسر نھی چھوڑی۔
دشمن نے وہی مقاصد کو ذہن میں رکھ کر جنگ کی چال بدل ڈالی اور قوم کی اہنی دیوار میں دراڑیں پیدا کر ڈالی۔ کسی کو پنجابی بنایا تو کسی کو پٹھان اور سندھی۔کسی کو سنی بنایا تو کسی کو شیعہ۔ کسی کو کافر قرار دیا تو کسی کو مشرک۔

کھانی ابھی ختم نھی ہویی بلکہ بندوق اور تلواروں تک بات بڑھتی گیی۔وطن عزیز کو کربلا جیسے میدان جھاد بنایا گیا جس میں قاتل بھی مسلمان اور مقتول بھی مسلمان۔قاتل بھی لا الہ ءاللہ کا ورد کرتا رہا اور مقتول بھی لاءالہ اللہ کا ورد کرتا رہا۔قاتل غازی بن گیا اور مقتول شھید ہوتا رہا۔

جناب صدر !

میں پوچھ رہا ہوں کہ کیا ہم ایک ہے؟
نھی! ہم ایک نھی۔ ہم اب ایک نھی رہے بلکہ بھت سے فرقوں اور نسلوں میں تقسیم شدہ قوم ہیں جس کو یاد بھی نھی کہ ہم کسی وقت میں ایک تھیں۔ہمیں یاد بھی نھی کہ ہمارے بزرگ اس مٹھی کیلیے بھت سے رنگ ونسل اور فرقوں سے آخر ایک ہوگئے تھیں۔

جناب صدر ! دشمن کے اس ناپاک مقصد کیلیے صرف ہمارے دشمن کافی ہی نھی تھی اس لیے ہمارے سیاست دانوں اور فلاسفروں نے بھی کوئی کسر نھی چھوڑا اور دشمنان وطن کا بلا واسطہ خوب ساتھ دیا۔

کہیں پر سندھی بن کر اپنی شہرت کمائی جبکہ کہیں پر پٹھان ، بلوچی اور پنجابی بن کر اس مہم کا ساتھ دیا۔
جبکہ حکمرانوں نے بھی اپنا حصہ ڈالا اور ترقی کے میدان کے ساتھ ساتھ رنگ ونسل اور لسانی تعصب سے کام لیا اور قوم میں احساس محرومی پیدا کیا جس کا فائدہ اٹھا کر دشمن کو شمالی علاقہ جات میں منظور پشتون مل گئے جبکہ بلوچستان میں آزادی مانگنے والے بلوچ ہاتھ لگ گئے۔

جناب صدر

اگر مستقبل میں اس مسلے پر توجہ نھی دی گئی تو دشمن کو مزید مواقع ملیں گے اور ہمیں مزید دکھ درد ملیں گے۔ ہمیں اپنے قوم کو دین اسلام کی شیریں اصولوں اور اپنی بزرگوں کی اقوال پر عمل کرنے کی تلقین کرنا ہوگی۔ جیسا کہ حدیث میں ہے کہ مسلمان مسلمان کا بھایی ہے اور مسلمانوں کی مثال ایک جسم کی مانند ہے جن کا دکھ درد ایک ہے۔

جبکہ قائد اعظم کے ارشاد کے مطابق ہم سب پاکستانی ہے۔ہم میں کوئی بھی سندھی بلوچی پنجابی اور پٹھان نھیں۔ اگر اسی پیغام کو لے کر آگے جائیں گے تو ہم واقعی ایک ہوں گے اور دشمن کیلیے اہنی دیوار ثابت ہوں گے۔
اپنی تقریر کا اختتام اس شعر پر کرنا چاہتا ہوں کہ

خدا کرے کہ میرے ارض وطن پے ابھرے۔
وہ فضل گل جسے اندیشہ زوال نہ ہو۔

دوستوں سے شیئر کریں

تبصرہ کریں