اردو تقریر : پیغام حق جہاں کو سنایا حضورﷺ نے

تقریر کا عنوان : پیغامِ حق جہاں کو سنایا حضورﷺ نے

ساجد علی صدیقی، میرپور آزاد کشمیر

پیغام حق جہاں کو سنایا

ساجد علی صدیقی

نحمدہٗ و نصلی و نسلم علیٰ رسولہٖ الکریم ​

صدرِ ذی وقار! عزیزانِ گرامی قدر​
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہٗ​

اس خاکدانِ گیتی پر بسنے والے انسانوں میں کون سی برائی موجود نہ تھی ، عرب کی حالت تو اس درجہ خراب ہوچکی تھی کہ شراب پانی کی طرح استعمال ہورہی تھی۔ قمار بازی شب و روز کی تفریح تصور کی جاتی تھی۔ کبر ونخوت اورغرور و تکبر سے سر اونچا رکھنے والے انسان لڑکیوں کو زندہ در گور کرکے اپنی بہیمانہ عادتوں کا مظاہرہ کرتے تھے اور فخر ومباہات سے اپنا سر اُٹھایا بھی کرتے تھے۔ کوئی بھی ان درندہ صفت اور بہائم نماانسانوں کا حکمراں ایسا نہ تھا جو ان کے قاتلانہ اقدامات پر ان کی سر کوبی کرتا ۔

معاملہ تو یہ تھا کہ حاکم و محکوم دونوں ہی اِن برائیوں میں بُری طرح جکڑے ہوئے تھے۔ عرب کے لوگ ہر طرح کی بُرائیوں اور مذموم و ناشایستہ حرکتوں کو روا سمجھتے تھے۔ ظلم و عدوان ، بغاوت و سرکشی ، بے رحمی و سنگ دلی، شقاوت و بربریت ، افعالِ رذیلہ کا ارتکاب، نسلی و نسبی تفاخر و عصبیت، اپنے مقابل دوسروں کو ذلیل و حقیر سمجھنا، معمولی معمولی باتوں پر فتنہ و فساد برپا کرنا ، پھر قبیلوں کی باہمی جنگ صدیوں تک جاری رکھنا ان کی فطرتِ ثانیہ میں داخل تھا۔ غرض درندہ خُو بہائم صفت انسانوں کا ایک ریوڑ تھا جو اَخلاق و اِخلاص ، تہذیب و تمدن تو درکنار ان کے نام سے بھی ناآشنا تھے۔ خیابانِ ہستی اجڑا پڑا تھا۔ خزاں کی چیرہ دستیوں سے گلوں کی نکہت افشانیوں اور عنادل کی نغمہ ریزیوں کی یاد تک بھی گل دستۂ طاقِ نسیاں بن چکی تھیں۔ روشیں ویران تھیں اور آب جوئیں خشک، جہاں کبھی سبزۂ نَو دمیدہ جنت نگاہ ہوا کرتا تھا وہاں خاک اُڑ رہی تھی، یاس و قنوط کی ہمہ گیر کیفیت طاری تھی کہ اچانک فاران کی چوٹیوں سے "پیغامِ حق جہاں کو سنایا رسول ﷺ نے"

قارئین باتمکین!! ۔ عزیزانِ گرامی قدر!! فاران کی چوٹیوں سے وحدت کی وہ گھنگور گھٹا اُٹھّی جس کا ہر قطرہ بہار آفریں اور جس کا ہر چھینٹا فردوس بداماں تھا۔ یہ گھٹا برسی اور خوب دل کھول کر برسی یہاں تک کہ گل زارِ عالم میں پھر آثارِ حیات نمودار ہونے لگے۔ انسانیت کے پژمُردہ چہرے پر شباب و قوت کی سرمستیاں ظہور پذیر ہونے لگیں۔ خودداری و عزتِ نفس اورشجاعت و ایثار کے افسردہ درختوں کی عریاں شاخوں کو از سرِ نَو خلعتِ برگ و بار عطا ہوئی ۔ قُمریوں نے عفتِ قلب و نظر کا نغمہ چھیڑا ، توہمات و عقائدِ باطلہ کے قفَس کی تیلیاں ایک ایک کرکے ٹوٹیں اور ہُماے بشریت کو توحید اور پیغامِ حق کی مقدس و مطہر رفعتوں سے پھر دعوتِ پرواز آنے لگی کہ ؂

کیـــسا انســـان و ہ پیــدا ہوا انســانوں میں​
خون توحیــــد کا دوڑا دیا شــــــریانوں میں​
گــونجـا فــاران سے جب نعـــرۂ اللهٌ احــــــد​
کــھلبلی مچ گئی دنیــا کے صنم خانوں میں​
اور ؂
اک عــــرب نے آدمی کا بـــول بـــالا کـــر دیا
خــاک کے ذروں کـو ہــم دوشِ ثـریا کـــردیا
اتــــر کــــر حــرا ســــے ســــوے قـــوم آیـــا
وہ اک نســـــخۂ کیمیــــا ســـاتھ اپنے لایــــا

قارئین کرام!! جب کائناتِ ارضی پر بسنے والے انسانوں کو جو تہذیب وتمدن سے نا آشنا تھے، رسولِ کونین ﷺ نے پیغامِ حق سنایا تو جانتے ہو کیا ہوا؟ کفر وشرک کی ظلمتیں کافور ہوگئیں ۔ جہالت و حماقت کا اندھیرا چھٹ گیا۔ درندگیت و بہمیت یکسر نیست و نابود ہوگئیں۔ ظلم و تعدی اور کبر ونخوت کی گھٹا ٹوپ تاریکیوں اور ظلمتوں کو ویران گوشوں اور عمیق غاروں کی اندھیریوں کے سوا کہیں پنا ہ نہ ملی ۔

ان عادی مجرموں کے عشرت کدوں میں صفِ ماتم بچھ گئی جو رات کے گھپ اندھیروں میں قمار بازی کا بازار گرم رکھا کرتے تھے اور جو صدیوں سے لڑ رہے تھے، وہ متحد و متفق ہو کر رشتۂ اخوت میں منسلک ہوگئے۔ بہائم صفت اور درندہ خو انسانوں کی وہ فطرت جس پر صدیوں سے جہالت مسلط تھی اور بغض و کدورت کی وحشیانہ ظلمت چھائی ہوئی تھی۔ اُن پرعدل و انصاف ، محبت و اخوت اور ایمان و صداقت کا بسیرا ہوگیا۔ خالقِ مطلق جل شانہٗ کی جانب سے مبعوث فرمودہ ہادیِ برحق، مصطفیٰ جانِ رحمت ﷺ کی منور و درخشاں کرنوں اور فروزاں فروزاں سیرت و کردار کی روشنی میں لوگ رُشد و فلاح کی راہ ڈھونڈنے لگے، وحشی و ظالم انسان نہ صرف تہذیب و اَخلاق کا پیکرِ کامل بن گئے بلکہ تمام کائنات کے لیے معلمِ اَخلاق بھی بن گئے ۔

رسولِ اکرم ﷺ کے ذریعے سنائے گئے پیغامِ حق نے ان کے اندر عظیم الشان تغیر پیدا کردیا اور وہ حیوانیت کے ریوڑسے نکل کر انسانیت کی منور و معطر شاہراہ پر گامزن ہوگئے ۔ پیغامِ حق نے انھیں اَخلاق کی وہ تلوار عطا کردی جسے لے کر وہ جس میدان میں نکلے اسے فتح کرلیا۔ انھوں نے تمام اقوام و ملل کے قلوب و اذہان مسخر کرلیے۔اور حال یہ ہوگیا کہ انھوں نے خداوندِ قدوس کی رضا و خوش نودی حاصل کرنے کے لیے نفسیاتی خواہشات کو کچل کر رکھ دیااور اپنی جانی ومالی قربانیاں پیش کرنے لگے۔اور روز افزوں بڑھتے رہے پھلتے پھولتے رہے اور ایسا ہوا کہ
" رکتــــا نہ تھا کسی سے سیلِ رواں ہمارا۔"​

محترم حضرات!! یہ ہمہ گیر ، آفاقی ، متنوع اور ہمہ جہت انقلابی تغیرات کیوں اور کیسے ہوئے محض مصطفیٰ جانِ رحمت ﷺ کی سادگی، اَخلاقِ حسنہ، پیغامِ حق اور پاکیزہ تعلیمات کی وجہ سے ہوئے آپ نے اس انداز سے انسانوں کو انسانیت کادرس دیا کہ لوگ پکار اٹھے کہ ؂
طــــیبہ کے تـــاجدار نـــے دی زندگی نئی​
وہ آئے اور پھیـــل گــئی روشـــنی نـــئی
قـــرآن میں حیــات کا وہ فلســـفہ دیـــا
جس کے سـبب جہاں کو ملی زندگی نئی​
ہـــم کو دیا نــبی نے مســـاوات کا سبــق
انســـان کے شـــعور کو دی زنــــدگی نئی​
اَخـــلاق اور صـــدق کا جذبہ عــــطا کیـا
بخشــــا اصــــولِ امن نیــــا آشــتی نــئی
خُلقِ نبی سے ہم کو ملا درسِ نظم و ضبط​
انســــان دوســــتی کی مــلی چاشنی نئی​
کــردارِ مــصطفیٰ نے ســکھایـا ہمیـــں یہی
کـــہ اوروں کے کام آؤ ملے گی خوشی نئی
میں انہی اشعار پر تقریر کا اختتام کرتا ہوں
والسلام

دوستوں سے شیئر کریں

تبصرہ کریں