اردو تقریر : نیا پاکستان

تقریر : نیا پاکستان

ثروت آرائیں : حیدرآباد سندھ

اردو تقریر

نیا پاکستان

 

 

 

کھول کر آنکھیں میرے آٸینہِ گفتار میں

آنے والے دور کی اک دھندلی سی تصویر دیکھ

جناب صدر

آج کے اس ایوان میں مجھے جس موضوع پر لب کشاٸی کا موقع ملا ہے وہ ہے "نیا پاکستان"

صدر ذی وقار!
اس موضوع کے پیچھے ہماری 71 سالہ تاریخ بال کھولے بین کررہی ہے یہ جو لفظ "نیا"ھمارے سامنے جگمگارہا ہے یہ ہم سب سے سوال کررہا ہے کہ آخر پچھلے 70 سالوں میں ایسا کیا ہوا کہ آج ہم پھر اسی جگہ پہنچ گۓ جہاں سے رخت سفر باندھا تھا

تو جناب والا!
میں آپکو بتاتی ہوں کہ نوبت یہاں تک پہنچی کیسے ؟ زرا کچھ دیر کے لیےحال سے رشتہ توڑ کر اور اس نفسا نفسی کے عالم سے نظریں چرا کر اگر ماضی میں جھانکیں تو ہمیں قیام پاکستان کا مقصد ہر پاکستانی کی آنکھوں میں جھلملاتا نظر آٸیگا. غلامی کی زنجیروں نے جس طرح انھیں حواس باختہ کیا ہوا تھااور انکے اشرف المخلوقات کے تشخص کو جس طرح پامال کیا ہوا تھا وہاں ان مسلمانوں و صرف ایک ہی دھن سوار تھی کہ
لے کر رہیں گے پاکستان بٹ کر رہے گا ہندوستانی

جناب والا!
زرا غور تو کیجیے آخر وہ کونسی پیاس تھی جس کو بجھانے کے لیے انھیں اپنی جان اور مال کی بھی پرواہ نہیں تھی۔
جب غوروفکر کے گھوڑے دوڑاتے ہیں تو یہ بات ہمارے سامنے روز روشن کی طرح عیاں ہوجاتی ہے کہ وہ صرف اور صرف عزت نفس اور انسانی وقار ہی کی تلاش تھی جو آذادٸ پاکستان کی وجہ بنی۔

لیکن صدر ذی وقار!
یہ کیا؟ کہ جس چیز کو پانے کے لیے ہمارے بزرگوں نے خون کی ندیاں بہادیں. آج ہم آزاد ہونے کے بعد بھی اس چیز سے محروم ہیں۔
یعنی انسانی حمیّت جو مسلمانوں کی شان ہے ہے .،کسی کے آگے ہاتھ نہ پھیلانا ایک مسلمان کا فخر ہے . اپنی تہذیب کا پرچار کرنا مسلمانوں کا غرور ہے لیکن جناب والا آج ہم اپنے ملک کو دیکھتے ہیں تو خود کو آج بھی بے بس و لاچار نظر آتے ہیں،غیر ملکوں سے قرض مانگتے ہوۓ، ملک کے وقار کا جنازہ نکالتے ہوٸے ،غیروں کے طریقوں کو اپنے گلے کا ہار بناتے ہوۓ "وطن کی مٹی گواہ رہنا عظیم تر ہم بنا رہے ہیں "کا راگ الاپ رہے ہیں ؟؟؟؟

جناب والا ! افسوس صد افسوس کہ یہ وہ پاکستان نہیں جو قاٸد اعظم ہمیں ہمیں سونپ کر گۓ تھے
پچھلے 71 سال میں ہر حکمران نے اسے جس طرح پوری دنیا کے سامنے قرضے لے لےکر اس ملک کو شرمندہ کیا ہے اس کا علم ہم سب کو ہے کہ کس طرح اپنے ذاتی مفادات کی گنگا میں ہر حکمران نہا کر گیا ہے

جناب اعلی!
آج پاکستان پھر اسی جگہ کھڑا جہاں 1947 ۶ سے پہلے کھڑا تھا اب پھر وہ وقت آگیا ہے کہ ہمیں پھر سے خود مختار ہونا ہے پھر سے غیروں کی لاٹھی کو چھوڑ کر اپنے پیروں پر کھڑا ہونا ہے اسی تہذیب کو اپنانا ہے جس نے غیر مسلموں کے دلوں پر اپنی دھاک جماٸی ہوٸی کیونکہ

افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ

جی ہاں جناب والا ہمیں ایک نیا پاکستان بنانا ہے
وہ نیا پاکستان جہاں اچھی تعلیم پر صرف امیروں کا حق نہ ہو۔
وہ نیا پاکستان جہاں کے لوگ بجلی اور پانی جیسی بنیادی ضرورتوں کے لیے نہ ترس رہے ہوں۔
وہ نیا پاکستان جسے پوری دنیا میں عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہو نہ کہ گری پاسپورٹ والوں کی حقارت سے الگ لاٸن بناٸی جاتی ہو۔
وہ نیا پاکستان جس کے شہریوں کو روشن مستقبل کے لیے دوسرے ملک کا رخ نہ کرنا پڑے۔
وہ نیا پاکستان جو معاشی سماجی اور اخلاقی طور پر مستحکم ہو۔
اور جناب والا ملکی سیاست نے آج جس طور سے کروٹ لی ہے اس سے ایک امید کا سرا ہاتھ لگا ہے ۔
کہ شاید۔۔۔ شاید اب وہ سورج طلوع ہوجائے جس کا انتظار یہ ملک 71 سال سے کررہا ہے شاید اب کوٸی بہار آنکھوں کی ٹھنڈک بن جائے۔
شاید اب تحریک آذادی کے بزرگوں کی روحوں کو قرار آجاٸے ۔
شاید اب پاکستان حقیقی معنوں میں ہر براٸی ہر جرم ہر خرابی سے پاک ہوجائے۔

خدا کرے کہ میری ارض پاک پر اترے
وہ فصل گل جسے اندیشہ زوال نہ ہو

شکریہ

دوستوں سے شیئر کریں

تبصرہ کریں