اردو تقریر : ماں باپ کا احترام

ماں باپ کا احترام

سید صدام ترمزی اسلام آباد

اردو تقاریر

ماں باپ کا احترام

جناب صدر ذی وقار اور میرے دوستو
السلام و علیکم

جس طرح کو ئی جاہل عقل مند کا اصل ، نقل کا کھوٹا کھرے کا مقابلہ نہیں کر سکتا ، اسی طرح یقین مانئے جھو ٹا کبھی سچے کا مقابلہ نہیں کر سکتا، ممکن ہے کہ کھوٹا سکہ اور نقلی روپیہ دھوکے میں تو ایک دو کے پاس چلے جاتے ہیں مگر جناب صدر میں یقین سے کہتا ہوں کہ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ نقلی نوٹ کی اہمیت ہو اور اصلی کرنسی کو چھوڑ دیا جائے،آج کی نو جوان نسل مغرب کی نقل میں اندھی تقلید کی قائل ہو چکی ہے،نقل کر کے برگر ،پیزا ،پیپسی ،کوک،مغربی لباس ، لیکن جناب والا جو مزہ باسی روٹی اور گڑ میں ہے ، جو لسی ،پنیر ،دیسی مکھن میں ہے ،ان کے سامنے ،برگر ،پیزا ،کوک کان پکڑتے نظر آئیں گے، بیشک اب گاؤں میں بھی مغربی لباس کی تقلید میں پینٹ شرٹ آ چکی ہے ،لیکن جو مزہ لاچے اور کرتے میں ہے وہ پینٹ شرٹ میں کہاں ۔

آج کی جدید نسل لسی ،اصل دودھ کو بھول چکی ہے ،کیونکہ جدیدیت نے ہر چیز کی پہچان بھلا دی ہے،جس طرح اصل دودھ ملنا مشکل ہے اسی طرح آج والدین کیلئے تابعداری بھی لاکھوں واٹ کا بلب لیکر ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتی ،

جناب عالی !
والدین اولاد سے بات کرنے کے لیے ترستے رہتے ہیں کہ بیٹا ،بیٹی آئی گی،بیٹی ماں کے پاس کچھ وقت بیٹھے گی،بیٹا باپ کو دن بھر کی کارگزاری سنائے گا۔ ماں باپ سارا دن سوچنے میں گزار دیتے ہیں لیکن ہوتا کیا ہے بیٹا ،بیٹی موبائل لیکر کمرے میں بند ہو جاتے ہیں اور بوڑھے والدین دیکھتے رہ جاتے ہیں،فرق صرف یہ ہے کہ نوجوان نسل کو مو بائل کے ساتھ کھیلنا پسند ہے،والدین کو وقت دینا نہیں،جبکہ والدین کو اولاد کی قربت پسند ہے آنکھوں میں آنسو نہیں،
مگر جناب صدر ذی وقار! مگر کیا کریں نوجوان نسل موبائل اور لیپ ٹاپ چھوڑنے کو تیار نہیں اور بوڑھی آنکھیں آنسو ”

''ہجر کے ماروں کو خوش فہمی جاگ رہے ہیں پہروں سے ،
جیسے یوں شب کٹ جائے گی جیسے تم آ جاو گے“
زندگی مصروف نہیں ہم مصروف ہوگئے ہیں،ہمارے پاس دوستوں کے لیئے وقت ہے میسجنگ کیلئے وقت ہے،چیٹ کیلئے وقت ہے،لیکن ہمارے پاس گھر میں انتظار کرتے والدین کے لیے وقت نہیں،ہم جدیدیت کے قائل ہیں نئے ماڈل کی کار ،نئے ماڈل کے موبائل نئے کپڑے نئے جوتے ،مگر خدارا دوستو کبھی کبھی زندگی کا ذائقہ تبدیل کرنےکیلئے کبھی کبھی بوڑھے والدین کو وقت دیا کرو اب بھی وقت ہے ورنہ بقول شاعر

غم حیات کا جھنڈا اٹھا رہا ہے کوئی
چلے آو کہ دنیا سے جا رہا ہے کو ئی
ازل سے کہہ دو کہ رک جائے دو گھڑی
سنا ہے آنے کا وعدہ نبھا رہا ہے کوئی

دوستوں سے شیئر کریں

تبصرہ کریں