اردو تقریر | لیڈر پیدا ہوتے ہیں بنائے نہیں جاتے

اردو تقریر

موضوع : لیڈر پیدا ہوتے ہیں بنائے نہیں جاتے

مُستنیر الھاشمی : محلہ کالرہ کلاں تحصیل و ضلع گجرات

اردو تقریر

مستنیر الھاشمی

دل بینا بھی کر خدا سے طلب
آنکھ کا نور، دل کا نور نہیں

صدر ذی وقار!

لیڈر پیدا ہوتا ہیں، پیدا نہیں کئے جاتے. وہ جو حق الیقین کے ساتھ بار بار اعلان کئے جاتے ہیں. لیڈر پیدا کئے جاتے ہیں. دراصل احمقوں کی جنت کے باسی ہیں.

جنابِ والا
دنیائے آب و گل کا کُھلی آنکھوں مطالعہ کیجئے اس روز افزوں بڑھتی. پھیلتی،پھولتی کائنات کا ذرہ ذرہ تفسیر بن کر سامنے آجائے گا اور ببانگِ دہل ایک ہی اعلان دُہراتا چلا جائے گا.

لیڈر پیدا ہوتے ہیں پیدا نہیں کئے جاتے
لیڈر پیدا ہوتے ہیں پیدا نہیں کئے جاتے

لیڈر، رہنما، جی ہاں وہ رہنما جو نگہ بلند، سخن دلنواز اور جاں پرسوز کا زندہ مجسمہ ہو. وہ رہنما جس کی بصیرتوں کے کارواں، نیلگوں آسمان کی رفعتوں کو چھو رہے ہوں.جو ذوقِ گدائی سے ماوراء خودی کا تابندہ ستارہ ہو. جو آنے والے زمانوں کے دُکھ اور سُکھ اپنی دوربین نگاہوں میں سمو سکتا ہو. جو صدیوں کی مسافتیں. فہم و ادراک کے سہارے لمحوں میں طے کر لینے میں مشاک ہو، جو اپنے جلو میں رواں، ہر دم جواں قوم کی حسین امنگوں کا بہی خواہ ہو. جو بپھرے گردابوں کے درمیان غرق ہوتی ناؤ کے لیے نا خدائے کامل بن جائے. وہ رہنما جو کارواں کے راہیوں کے لیے شجر رضوان بن جائے.

جی ہاں جنابِ والا
شجرِ رضواں بن جائے
نگہ بلند، سخن دلنواز، جاں پُرسوز
یہی ہے رخت سفر میر کارواں کے لیے
ایسا رہنما پیدا کیا نہیں جاسکتا،پیدا ہوتا ہے. پیدا ہوتا ہے.

جنابِ والا!
کیا کوئی فہم و شعور کے گنبدوں میں اُبھرتے اس سوال کا جواب دے پائے گا کہ ممی ڈیڈی اور برگر فیملیز نے اقوام عالم کو کتنے باضمیر لیڈر عطا کئے Elite خاندانوں کے کتنے سپوت روشن دماغ رہنما قرار پائے؟

صدرِ ذی وقار!

ذرا غور فرمائیے. ایک ایسا شخص جس نے ٹھٹھرتی راتوں میں فٹ پتھروں پہ مرتے جسم نہ دیکھے ہوں.جون کی جلتی دوپہروں میں جلتے لاشے نہ دیکھے ہوں. فاقہ کشوں کے درمیان شب بسری کا عذاب جھیلنے سے محروم رہ گیا ہو. بے خانماں خرابیوں کے برباد چمن نہ دیکھے ہوں. لیڈر کیسے ہوسکتا ہے. لیڈر کیسے ہو سکتا ہے.

منڈیوں سے غائب ہوتے آٹے کی قیمت وہی جان سکتا ہے جس کے بچے بھوک سے نڈھال ہو کر آٹا آٹا پکارتے ہوں. مزدور کے خون کی قیمت وہی ادا کر سکتا ہے جس نے مزدوری کا ذائقہ چکھا ہو.وہ جسم جنہیں سینت،سینت کے رکھا ہوجو ایئر کنڈیشن کی پیداوار ہوں جو غمِ ذات، غمِ روزگار اور غمِ کائنات سے عاری رہ گئے ہوں لیڈر ہو نہیں سکتے.

قم باذن اللہ کہ سکتے تھے جو رخصت ہوئے
خانقاہوں میں مجاور رہ گئے یا گورکن!
لیڈر پیدا ہوتے ہیں. پیدا کئے نہیں جاتے.

جنابِ والا
وہ اصحابِ فکر و دانش جنہوں نے زمانے کے فہم و ادراک کو بدل ڈالا. جو زندگی کے مختلف میدانوں کے رہنما ٹھہرے کس ماحول کے پروردہ تھے. ذرا ایک طائرانہ نگاہ ڈالیے. تہذیب جدید کا بانی سقراط ایک سنگ تراش کے ہاں پیدا ہوا. دنیا بھر حکمران سکندرِ اعظم کو مقروض رومی سلطنت ورثے میں ملی. سرزمین فرانس کے قابلِ فخر سپوت نپولین نے اپنی زندگی کا آغاز ایک ڈاکیے کی حیثیت سے کیا. شیر شاہ سوری عاملوں کے ایک قبیلے کا فرد تھا. التمش ایک غلام کے ہاں جنم لیا. اٹلی کا عظیم قائد مسولینی ایک لوہار کا بیٹا تھا. سٹالن جوتے کانٹھنے والے کے ہاں پیدا ہوا. ہٹلر معمولی بڑھئی کا فرزندِارجمند تھا اور مشرق و مغرب میں جاوداں نغمے الاپنے والے اقبال کا باپ دھسے سی کر گزارہ کرتے ہیں.
مگر ان عزم و ہمت کے متوالوں نے جہانِ رنگ و بو کو اپنے پاؤں تلے روند ڈالا.
لیڈر پیدا ہوتے ہیں پیدا کئے نہیں جاتے.

جنابِ والا
جس میں نہ ہو انقلاب، موت ہے وہ زندگی
روح امم کی حیات کشمکش انقلاب
لیڈر پیدا ہوتے ہیں. لیڈر ماحول کے پرودہ بیٹے ہوتے ہیں. لیڈر خون کے سمندر اور آگ کی آندھیوں سے گزر کر بنتے ہیں. لیڈر ظلم کی چکی کے پاٹوں کے بیچ رہ کر بھی اپنا وجود زندہ رکھتے ہیں. لیڈر جھونپڑیوں میں پیدا ہوتے ہیں. جھونپڑیوں کا دُکھ جانتے ہیں. جھونپڑی میں پیدا ہوتے ہیں. جھونپڑیوں کا سکھ بانٹتے ہیں.

جی ہاں جناب والا!
لیڈر ایک احساس کا نام ہے جاگتے جذبات کا نام ہے لیڈر پیدا ہوتے ہیں، پیدا کئے نہیں جاتے.
ان عقل کے اندھوں کو الٹا نظر آتا ہے
مجنوں نظر آتی ہے، لیلٰی نظر آتا ہے

والسلام

دوستوں سے شیئر کریں

تبصرہ کریں