سیرۃالنبیﷺ کے موضوع پہ تقریر

تقریر موضوع : سیرۃالنبیﷺ

تصور اکرم : گاٶں طوطل پتوکی ضلع قصور

سیرۃ النبی پر تقریر

تقریر

الحمدللہ وکفی وسلام علی عبادہ الذین صطفی اما بعد فاعوذ باللہ من شطٰن الرجیم بسم اللٰہ الرحمٰن الرحیم لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوتہ حسنتہ صدق اللہ العظیم رخ مصطفی کو دیکھا تودیوں نے جلنا سیکھا یہ کرم ھے مصطفی کا شب غم نے ڈھلنا سیکھا یہ زمیں رکی ہوٸی تھی یہ فلک تھما ہوا تھا چلے جب میرے محمد تو جہاں نے چلنا سیکھا

محترم سامعین!
ویسے تو سیرت کا معنی لغت میں کسی کی کاگردگی یاکارناموں کااحاطہ کرنے کےآتے ہیں لیکن آج تک کوٸی مصنف کوٸی محدث کوٸی مورخ کوٸی مفکر کوٸی مدبر اور کوٸی مقررایسا پیدا نہیں ہوا جس نے حضورﷺ کی پوری سیرت کااحاطہ کیا ہو چناچہ میں وقت کی نزاکت کومدنظررکھتےہوٸے سیرت کے چند پہلوں پر روشنی ڈالوں گاـ

حاضرین گرامی!
میرٕے آقا کی صورت حسین ھے سیرت بہترین ھے صورت میں جمال ھے سیرت میں کمال ھے میرے محبوب پیغمبر ﷺکی سیرت کاباب اتناوسیع ھے کہ اماں صدیقہ پیمبر کی رفیقہ امت پہ شفیقہ اخلاق میں خلیقہ کاٸنات میں باسلیقہ حبیبہ خدا کی حبیبہ حضرت عاٸشہ فرماتی ہیں کہ
کان خلقہ القرآن
سارا قرآن میرے مصطفی کی سیرت ہے۔

محترم سامعین!
میرا پیغمبر أمی ایساھے کہ ساری کاٸنات کے اندر ان کااستاذ نظرنہیں آتا اورساری کاٸنات ان کی شاگرد نظر آتی ھے یتیم ایساکی نہ باپ نہ دادا پورے مکہ میں لاوارث نظرآتے ہیں اور وارث ایسا ھے کہ ساری پوری امت لاورث کا وارث ہی محمدﷺ ہیں حسین ایسا ھے کہ خدا نے اپنا محبوب بنالیا اور حیااتنی ھے کہ عرب کی کنواری لڑکیاں بھی حیا کا مقابلہ نہ کرسکیں بہادراتنا ھے کہ اکیلےغزوہ حنین میں کھڑاہوکرکہتاھے اناانبی لاکذب اناابن عبدالمطلب نرم اور رحم دل اتنا ھے کہ ساری زندگی کسی کوانگلی کا اشارہ بھی نہ کیا میرے محبوبﷺ کی سیرت عجیب ھے بیک وقت حضورﷺ میں دو چیزیں جمع ہیں میرےمدنی آقا بہادر بھی ہیں شریف بھی ہیں حسین بھی ہیں باحیابھی ہیں اُمی بھی ہیں استاذ بھی ہیں یتیم بھی ہیں وارث بھی ہیں۔

سامعین کرام

مجھے کہنےدیجٸے میرانبی مسکرا کر دیکھے تو جنت کامنظربن جاتا ھے غصے میں آجاٸے تو قیامت کا منظر بن جاتا ھے قدم اٹھاٸے توسنت بن جاتی ھے گفتگوکرے تو حدیث بن جاتی ھے عمل کرے توشریعت بن جاتی ھے ان کے نکاح میں آٸیں مومنین کی ماں بن جاتی ہیں مکہ آٸے تومکرمہ بن جاتاھے مدینہ آٸے تو منورہ بن جاتا ھے ابوبکر آٸے تو صدیق بن جاتاھے عمر آٸے فاروق بن جاتا ھے عثمان آٸے تو ذوالنورین بن جاتا ھے علی آٸے تو حیدرے کررار بن جاتا ھے معاویہ آٸے کاتب وحی بن جاتا ھے ڈاکو اور لٹیرے آٸیں تو محافظ نگہبان بن جاتے ہیں ظالم اور ستم گر آٸیں تو عادل اور ہمدردانسان بن جاتے ہیں فاسق و فاجر آٸیں تو زاہد و پارسابن جاتاھے عرب کا چروااہا آٸے تو زمانے کا مقتدا بن جاتا ھے یہ سب کیسے ہواتھا۔ کیونکرہواتھا ۔ یہ انقلاب کیسے آیا تھا ۔ تو میں عرض کروں کہ یہ انقلاب حضور ﷺ کی سیرت پر چلنے سے پیدا ہواتھا یہ تبدیلی سیرالنبیﷺ کی انقلابی تعلیمات کی وجہ سے آٸی تھی

گرامی قدر سامعین!

ج بھی وہ ہدایت ربانی اور دعوات آسمانی موجود ھے اور سیرت کے جلسے بھی بہت ہورھے ہیں بارگاہ رسالت میں نزرانہ عقیدت کرنے میں کوتاہی نہیں کی جارہی لیکن وہ فضا اور ماحول نہیں بن رہا جو صحابہ کے دور میں تھا اگر ہم وہ ماحول اور فضا پیدا کرنا چاہتے ہیں تو ہمارے لیے سرور کاٸنات کی سیرت طرف رجوع ضروری ھے اسی میں ہمارا علاج ھے
شاعر کہتا ھے
اصلا ح عالم کااب سامان ہونا چاٸیے سب کا دستورالعمل سیرت انبی ہونا چاہٸے یہی ھے آرزو سرت مصطفٰی عام ہوجاٸے سب سے اونچا پرچم پرچم اسلام ہو جاٸے

سامعین گرامی !
میرے آقا تو وہ عظیم ہستی ہیں جسکا ثنا خواں خدد رب کریم ھے جسکی صفات کابیاں قرآن حکیم ھے جس پہ ملاٸکہ صبح شام درود بھیجتے ہیں جسے پتھر اور درخت جھک جھک کر سلام کرتے ھیں جسکے اشارے سے چانددو ٹکڑے ہو جاتا ھے جس دعا سے سورج واپس پلٹ جاتا ھے جسکی شفاعت دلیل نجاعت ھے جسکا ذکر عبادت ھے

مجھے کہنے دیجٸے ! میرا محبوب پیغمبرﷺ ایسی کریم ہستی ھے جسکا تذکرہ آدم علیہ اسلام سے شروع ہوا اور قیامت تک جاری رھےگاجواولین اور آخرین کاامام ھے جو نبیوں کا سردار ھے جسکی ہستی تجلی ہی تجلی ھے جسکی زندگی روشنی ہی روشنی ھے جسکی باتیں شہد سے زیادہ میٹھی ہیں جسکا کردار صداقتوں آٸنہ دار ھے اور جسکی ہر حرکت ہدایت ھے جسکی زلفیں لہراتی ہیں تو ہرسو رات ہوجاتی ھے جو ابراہیم کی دعاھے جو موسیٰ کی التجاھے جوعیسیٰ کی پیش گوٸی ھے جو نا ھوتا توکچھ نہ ہوتا جو آیاتوسب کےلیےرحمت بن کر آیا جسکی ذات مخلوقات میں سب سے اعلیٰ ھے جو خدا کے بعد برتروبالاھے جسکے شہر میں ہردم رحمتوں کی برسات رہتی ھے جسکانام ہروقت بلند ہوتا ھے جس نے اسلام جیسا مبارک دین دیا جس نے قرآن جیسا عظیم تحفہ دیا جس نے عرب کے وحشیوں کو انسانیت کا تاج پہنایا جس نے افریقہ کے حبشیوں کو زمانے کا امام بنایا ۔

میں اس مختصر وقت میں کیا بیاں کروں میرے آقا کوتواللہ تعالیٰ نے ان صفات سے نوزا ھے جو کمالات کم و بیش ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیإ کو فردً ا فردً ا عطا فرماٸے تھے ۔ اللہ تعالیٰ آقا کی سیرت کو سمجھنے والا اور اس پر عمل کرنے والا بناٸے آمین۔

وماعلینا الالبلٰغ مبین۔

دوستوں سے شیئر کریں

تبصرہ کریں