آسیہ بی بی ، توہین رسالت صلی اللہ علیہ وسلم، سلمان تاثیر اور ممتاز قادری

آسیہ بی بی، توہین رسالت صلی اللہ علیہ وسلم، سلمان تاثیر اور ممتاز قادری

تحریر : ثناء اللہ خان احسان

آسیہ بی بی توہین رسالت

آسیہ بی بی اور توہین رسالت

سن 2009 سے شروع ہونے والے کیس کی روداد

آسیہ بی بی کا تعلق ننکانہ صاحب کے نواحی علاقے اٹانوالی سے ہے۔ پانچ بچوں کی 45 سالہ ماں آسیہ بی بی کو مقامی سیشن عدالت سے توہین رسالت کے الزام میں موت کی سزا سنائی جاچکی ہے۔ آسیہ نے یہ توہین رسالت کب کی اور کس کے سامنے کی اس کے متعلق دو واقعات بیان کہے جاتے ہیں-

جون سن 2009 میں آسیہ بی بی کے ساتھ فالسے کے کھیتوں میں کام کرنے والی عورتوں نے الزام لگایا تھا کہ اس نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں نازیبا کلمات ادا کیے ہیں۔آسیہ بی بی پر توہین رسالت کا الزام جون 2009 میں لگایا گیا تھا جب ایک مقام پر مزدوری کے دوران ساتھ کام کرنے والی مسلم خواتین سے ان کا جھگڑا ہوگیا تھا۔ آسیہ سے پانی لانے کے لیے کہا گیا تھا تاہم وہاں موجود مسلم خواتین نے اعتراض کیا کہ چونکہ آسیہ غیر مسلم ہے لہٰذا اسے پانی کو نہیں چھونا چاہیے۔( اب اگر یہ بات واقعی سچ ہے تو اعتراض کرنے والی مسلم خواتین کا رویہ بھی سراسر اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے کیونکہ نہ قران اور نہ سنت میں کہیں یہ بیان کیا گیا ہے کہ ایک مسلمان کسی غیر مسلم کا برتن استعمال نہیں کرسکتا-

اس سلسلہ میں دارالعلوم دیو بند کا مندرجہ ذیل فتوی پڑھئے-

(۱، ۲) : اگر غیر مسلم کے ہاتھ یا منھ میں کوئی نجاست وناپاکی نہ ہو، جیسے: شراب وغیرہ تو اس کا جھوٹا کھانا کھانا یا پینے کی کوئی چیز پینا جائز ہے بشرطیکہ وہ کھانے یا پینے کی چیز فی نفسہ حلال وجائز ہو، حرام وناپاک نہ ہو؛ کیوں کہ غیر مسلم فی نفسہ ناپاک نہیں ہوتا، اگر اس کے جسم وغیرہ پر کوئی ناپاکی ہو تبھی اس پر ناپاکی کا حکم لگتا ہے ورنہ نہیں، اور قرآن پاک میں جو غیر مسلموں کو ناپاک کہا گیا ہے، اس سے کفریہ وشرکیہ اعتقاد کی ناپاکی مراد ہے، ظاہری ناپاکی مراد نہیں ہے؛ اس لیے کسی غیر مسلم کے ساتھ بیٹھنے سے مسلمان ناپاک نہیں ہوتا بشرطیکہ غیر مسلم کے جسم یا کپڑے پر کوئی ناپاکی نہ ہو یا مسلمان کے جسم یا کپڑے میں اس کی کوئی ناپاکی نہ لگے۔

البتہ بلا ضرورت ومجبوری غیر مسلموں کے ساتھ کھانے پینے یا ان کا جھوٹا کھانے یا مشروب لینے کی عادت ٹھیک نہیں ہے، اس سے مسلمانوں کو بچنا چاہئے، فسوٴر آدمي مطلقاً ولو کافراً ……طاھر الفم، … طاھر (الدر المختار مع رد المختار، کتاب الطھارة، باب المیاہ ۱: ۳۸۱، ۳۸۲، ط: مکتبة زکریا دیوبند)، قولہ: ”أو کافراً“؛ لأن علیہ الصلاة والسلام أنزل بعض المشرکین فی المسجد علی ما فی الصحیحین، فالمراد بقولہ تعالی: ﴿إنما المشرکون نجس﴾ النجاسة فی اعتقادھم۔ بحر۔ (رد المحتار)۔

واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

یہ بھی دیکھئے کہ اس فتوے میں غیر مسلم کا جھوٹا کھانے یا پینے کی بات کی گئ ہے جبکہ آسیہ کے کیس میں دو مسلم خواتین نے اس کے پانی کے مٹکے یا گلاس کو ہاتھ لگانے پر اعتراض کیا تھا-

اپنے بیان میں آسیہ بی بی کا کہنا تھا کہ ان کا اپنے ساتھ کام کرنے والی خواتین کے ساتھ پینے کے پانی کے گلاس کے حوالے سے جھگڑا ہوا تھا جب ان دونوں نے مبینہ طور پر اس لیے پانی پینے سے انکار کیا کہ آسیہ بی بی مسیحی ہے اور اس کے بعد سخت الفاظ کا تبادلہ ہوا تھا۔
آسیہ بی بی نے الزام لگایا کہ دونوں خواتین نے جھوٹی کہانی گھڑی ہے اور قاری سلام کو شامل کیا جس کی بیوی نے ان دونوں کو قرآن کی تعلیم دیتی تھی۔
انھوں نے مزید کہا کہ وہ پیغمبر اسلام کی بہت عزت کرتی ہیں اور انھوں نے کوئی بھی توہین آمیز کلمات نہیں ادا کیے۔

آسیہ بی بی پر الزام ہے کہ اس نے گزشتہ سال کئی افراد کی موجودگی میں توہین رسالت کی جس کے بعد اسے پولیس کے حوالے کیا گیا۔ پولیس نے تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295 سی کے تحت اس کے خلاف مقدمہ درج کیا۔ اس مقدمے کی تفتیش ایس پی انویسٹی گیشن شیخوپورہ محمد امین شاہ بخاری نے کی اور ان کا کہنا ہے کہ دوران تفتیش آسیہ بی بی نے مسیحی برادری کے اہم افراد کی موجودگی میں اعتراف جرم کیا اور کہا کہ اس سے غلطی ہو گئی ہے۔

لہٰذا اسے معاف کر دیا جائے۔ آسیہ بی بی کا کہنا تھا کہ گذشتہ سال کچھ مسلمان خواتین نے اس کے سامنے کہا کہ قربانی کا گوشت مسیحیوں کیلئے حرام ہوتا ہے جس پر غصے میں آکر اس نے کچھ گستاخانہ کلمات کہہ ڈالے جس پر وہ معافی مانگتی ہے۔ آسیہ بی بی نے اپنے خلاف مقدمے کے مدعی قاری سالم سے بھی معافی مانگی لیکن اس کا موقف یہ تھا کہ توہین رسالت کے ملزم کو معافی نہیں مل سکتی۔ ایڈیشنل سیشن جج ننکانہ صاحب نوید اقبال نے گواہوں کے بیانات اور واقعاتی شہادتوں کو سامنے رکھتے ہوئے 8 نومبر 2010ء کو آسیہ بی بی کیلئے سزائے موت اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا کا اعلان کیا۔

دوسری طرف حامد میر اپنے کالم میں لکھتے ہیں کہ
“سوشل میڈیا پر کچھ لوگوں نےفالسے کے کھیت میں پانی پر جھگڑےکی کہانیاں گھڑیں ، انکی ان کہانیوں کا ثبوت وکی پیڈیا کے علاوہ کہیں نہیں ملتا۔ ۔ باالفرض اگر پانی پر جھگڑے کی بات کو بھی سچ مان لیا جائے تو بھی کیس پر کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ ملزمہ نے عدالت کے سامنے خود قبول کیا ہے کہ اس نے ایسے گستاخانہ الفاظ کہے اور انہی کو دیکھتے ہوئے عدالت نے اسے موت کی سزا سنائی۔”

سات گواہان کے بیانات کی روشنی میں آسیہ بی بی پر توہین رسالت کےالزامات لگائے گئے ہیں۔ ان میں سے دو مرکزی گواہان وہ دو عورتیں ہیں جو آسیہ بی بی کے ساتھ کھیتوں میں کام کر رہی تھی۔ ان دونوں خواتین نے آسیہ بی بی کی جانب سے ادا کیے گئے مبینہ توہین آمیز کلمات کے بارے میں مقامی شخص قاری محمد سلام کو اطلاع دی جس نے پولیس میں رپورٹ کرائی۔ پولیس کے تین کانسٹیبل جنھوں نے اس کیس کی تفتیش کی اور ایک اور مقامی شخص جس نے دعویٰ کیا تھا آسیہ بی بی نے عوامی طور پر اپنے خلاف لگائے جانے والے الزامات کی تصدیق کی ہے۔

شروع میں آسیہ کے حامیوں کا یہی موقف تھا کہ وہ ایک ان پڑھ عورت ہے، جو مذہب سے متعلق زیادہ نہیں جانتی اور ذاتی دشمنی پر اسے مذہبی معاملے میں پھنسایا جا رہا ہے۔ ننکانہ صاحب کی عدالت میں 20 اکتوبر 2010ء کو آسیہ نے اپنا بیان ریکارڈ کراتے ہوئے کہا تھا کہ اس نے حضرت محمدؐ کی شان میں کوئی گستاخی نہیں کی اور نہ ہی قرآن پاک کے بارے میں نازیبا جملے کہے ہیں، بلکہ استغاثہ کی گواہ دونوں بہنوں نے ذاتی دشمنی نکالنے کیلئے اس پر الزام عائد کیا۔ پھر یہ دعوے بھی سامنے آئے کہ آسیہ کی ذہنی حالت خراب ہے اور وہ dementia کا شکار ہو رہی ہے۔ لیکن گزشتہ پانچ برسوں میں ایک نئی کہانی تیار کر لی گئی ہے، جسے اب بڑے پیمانے پر پھیلایا جا رہا ہے۔ اس نئی کہانی میں آسیہ سے منسوب دو جملے اہم ہیں۔ آسیہ کی زندگی پر 2013ء میں ایک کتاب چھپی۔ Blasphemy: A Memoir: Sentenced to Death Over a Cup of Water (توہین: ایک یادداشت، پانی کے ایک کپ پر موت کی سزا) کے عنوان سے اس کتاب کے مصنفین کے طور پر آسیہ بی بی اور فرانسیسی خاتون صحافی این ایزابیل کے نام ہیں۔ کتاب کے شروع میں بتایا گیا ہے کہ آسیہ نے جیل سے یادداشتیں لکھ کر بھیجیں، جنہیں این ایزابیل نے کتابی شکل دی۔ اس کتاب میں کہا گیا ہے کہ گائوں کی عورتوں سے پانی کے معاملے پر آسیہ کا جھگڑا ہوا۔ اس جھگڑے میں آسیہ نے دو جملے ادا کیے۔ کتاب میں درج ان جملوں سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت محمدؐ میں تقابل اور شان رسالت پر سوال اٹھائے جانے کا تاثر بنتا ہے۔

کتاب میں درج یہ دو جملے کئی سوالات پیدا کرتے ہیں۔ کیونکہ آسیہ کے عدالتی بیان میں یہ جملے کہیں نہیں۔ آسیہ کی کتاب سے یہ جملے کئی دیگر کتابوں اور اخباری رپورٹوں میں بھی نقل ہوئے ہیں۔ ان جملوں اور عاشق مسیح کے بیان کے ذریعے آسیہ کو اس انداز میں پیش کیا جا رہا ہے، جیسے اس نے عیسائیت کی کوئی جنگ لڑی ہے اور اب اس جنگ میں جان قربان کرنے کو بھی تیار ہے۔ بچ گئی تو اس کا ہیرو کی طرح استقبال کیا جائے گا۔ کتاب میں ہی یہ دعویٰ بھی سامنے آیا کہ جھگڑے کے بعد مسلمان عورتوں نے آسیہ مسیح کو توبہ کرنے اور اسلام قبول کرنے کیلئے کہا تھا۔ جب اس نے یہ بات نہیں مانی تو اس پر مقدمہ بنا دیا گیا۔ قبول اسلام پر مجبور کرنے کے حوالے سے اس دعوے کو بھی دہرایا جا رہا ہے۔ پیر کو آسٹریلوی ویب سائٹ news.com.au نے اپنی رپورٹ میں آسیہ کی کتاب سے لیے گئے جملے اور یہ دعویٰ نقل کیا کہ عورتوں نے اسے اسلام قبول کرنے کیلئے کہا تھا۔
آسیہ بی بی کو ہیرو بناکر پیش کرنے کیلئے اس کے عبادت گزار راسخ العقیدہ عیسائی ہونے کے یہ دعوے اس کے عدالت کو دیئے گئے بیان سے متضاد ہیں۔ جس بیان میں آسیہ نے توہین رسالت سے انکار کیا ہے، اسی میں وہ یہ بھی کہتی ہے ’’میں ان پڑھ ہوں، عیسائیت کی کوئی پادری نہیں۔ حد تو یہ ہے کہ گائوں میں کوئی چرچ بھی نہیں ہے۔ لہٰذا اسلامی نظریات سے لاعلم ہونے کی بنا پر میں ایسے الٹے سیدھے اور گستاخانہ ریمارکس کیسے دے سکتی ہوں‘‘۔ یاد رہے کہ آسیہ کے خلاف جو الزامات ہیں، ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ حضرت محمدؐ، حضرت خدیجہؐ اور قرآن پاک سمیت اسلام کے بارے میں کافی کچھ جانتی تھی، جس کی بنا پر اس نے گستاخانہ باتیں کیں۔

اس بات کو غلط ثابت کرنے کیلئے اس کا موقف تھا کہ چونکہ وہ ان پڑھ اور اسلامی نظریات سے ناواقف ہے، لہٰذا اس کا ایسی باتیں کرنا ممکن ہی نہیں تھا۔ آسیہ مسیح کے کیس میں ابتدا میں اس کے حامیوں نے بھی ’’ان پڑھ‘‘ عورت کا یہ موقف اپنایا۔ لیکن اب مغربی عیسائی تنظیمیں اس معاملے کو کچھ اور رنگ دے رہی ہیں۔ اب اسے صلیبی ہیرو بنایا جا رہا ہے۔

کیتھولک نیوز سروس کو انٹرویو دیتے ہوئے عاشق مسیح نے کہا کہ ان کی بیوی بین الاقوامی برادری تک یہ پیغام بھی پہنچانا چاہتی ہے کہ وہ اسے اپنی دعائوں میں یاد رکھیں۔ ان کی دعائوں سے جیل کا دروازہ کھل جائے گا اور وہ جلد رہا کر دی جائے گی۔ عاشق مسیح کا کہنا تھا ’’وہ اپنی زندگی بڑے مضبوط عقیدے سے گزار رہی ہے اور ہر روز بائبل پڑھتی ہے‘‘۔ اسی انٹرویو میں آسیہ کی بیٹی ایشام نے بھی کہا کہ ان کی ماں کو جلد رہا کردیا جائے گا۔ لیکن وہ پاکستان میں نہیں رہ سکے گی۔

یہ انٹرویو پانچ اکتوبر کو انگلینڈ کے شہر چیسٹر میںAid to the Church in Need نامی تنظیم کی تقریب کے دوران دیا گیا۔ اس موقع پر آسیہ کی جلد رہائی کے امکانات ظاہر کیے گئے۔ مغرب میں آسیہ بی بی کے نام پر مہم چلانے والے عیسائی خیراتی ادارے چندہ بھی جمع کر رہے ہیں۔ ’’توہین: ایک یادداشت‘‘ نامی کتاب کے شروع میں کہا گیا ہے کہ اس کتاب کی رائلٹی کی رقم سے آسیہ کے اہلخانہ کی حالت بہتر ہوئی ہے۔ اس کی ایک بیٹی کا مہنگا علاج ہو رہا ہے۔

آسیہ مسیح کیس

ملزمہ کو نومبر 2010 میں جرم ثابت ہونے پر عدالت نے سزائے موت سنا دی تھی۔ سزا کے خلاف آسیہ مسیح نے 2014 میں لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا، عدالت عالیہ نے بھی توہین رسالت میں ٹرائل کورٹ کی سزا کو برقرار رکھا تھا۔

آسیہ مسیح توہین رسالت

آسیہ مسیح

سلمان تاثیر کا قتل

2011 میں اسی معاملہ سے جڑے سلسلہ میں پنجاب کے اس وقت کے گورنر سلمان تاثیر کو ان کے محافظ ممتاز قادری نے قتل کر دیا تھا۔ قتل سے کچھ عرصہ پہلے سلمان تاثیر نے جیل میں آسیہ بی بی سے ملاقات کر کے ملزمہ سے اظہار ہمدردی کیا تھا۔ سابق گورنر نے ملزمہ کے ہمراہ جیل میں پریس کانفرنس کی تھی۔ سلمان تاثیر کے قاتل ممتاز قادری کو 2016 میں سزائے موت دے دی گئی تھی۔

آسیہ بی بی کی سزائے موت کے خلاف اپیل سننے والے عدالتی بینچ میں شامل جسٹس آصف سعید کھوسہ ممتاز قادری کی سزائے موت کے خلاف اپیل سننے والے بینچ کے سربراہ تھے۔

عیسائی تنظیموں کی ہلچل کے نتیجے میں سوشل میڈیا پر صارفین آسیہ کی اپیل کے حوالے سے کئی طرح کے تحفظات ظاہر کر رہے ہیں۔ افواہوں کا بازار گرم ہوگیا ہے۔ ان قیاس آرائیوں کے بعد عدالت عظمیٰ نے کیس پر رپورٹنگ روکنے کا حکم دے دیا ہے۔ بعض قانونی ماہرین کے مطابق سپریم کورٹ میں زیر سماعت اپیل ملعونہ آسیہ کیلئے آخری راستوں میں سے ایک ہے

سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں 8 اکتوبر کومحفوظ کیا گیا فیصلہ سنایا۔ بینچ میں جسٹس آصف سعید کھوسہ اور جسٹس مظہر عالم خان میاں خیل بھی شامل تھے۔سپریم کورٹ نے توہین رسالت کے الزام میں سزا ئے موت پانے والی مسیحی خاتون آسیہ بی بی کی اپیل کی سماعت مکمل کر کے فیصلہ محفوظ کرلیا۔ چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں جسٹس آصف سعید کھوسہ اور جسٹس مظہر عالم میاں خیل پر مشتمل 3 رکنی بنچ نے کیس کے فیصلے تک اس حوالے سے میڈیا میں کسی قسم کی بحث اور تبصروں پر مکمل پابندی عائد کردی ہے اور قرار دیا ہے کہ فیصلہ مناسب وقت پر صادر کردیا جائے گا۔

چیف جسٹس نے کہا اس میں دو رائے نہیں کہ توہین رسالت سے بڑھ کر کوئی جرم نہیں اور اس جرم کی سزا موت ہے لیکن جرم ثابت کرنے کے لئے ثبوت چاہئیں، صرف پانی کے جھگڑے پر تو توہین عدالت کا الزام کوئی نہیں لگاتا،پانی کے معاملے پر تو تضحیک آسیہ بی بی کی ہوئی تھی، دیگر خواتین کیوں ایسا سخت الزام لگائیں گی، اس کی کوئی ٹھوس وجہ تو ہونی چاہئے ،بظاہر آسیہ بی بی کا خواتین کیساتھ کوئی ذاتی تنازع نہیں تھا۔

جسٹس مظہرعالم میاں خیل نے کہا تاخیر سے ایف آئی آر درج ہونے کی کیا وجہ ہے ؟ آسیہ کے وکیل نے کہا مخالف فریق کا موقف ہے وہ 5 دن خود تفتیش کرتے رہے ۔وکیل نے کہا شکایت کنندگان نے دعویٰ کیا کہ آسیہ بی بی نے اقبال جرم کیاحالانکہ آسیہ بی بی کو عوامی اجتماع میں بلا کر اقبال جرم کرایا گیا،خواتین کی شکایت پر امام مسجد نے آسیہ بی بی کیخلاف مقدمہ درج کرایا۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا شکایت کنندگان واقعہ میں خود گواہ نہیں، امام مسجد کے بیانات میں تضاد بھی ریکارڈ پر ہے ۔جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا ایس پی نے تفتیش کے بجائے صرف فریقین کے بیانات لئے ۔ وکیل نے کہا آسیہ بی بی کیخلاف تفتیش بد نیتی پر مبنی اور غیر قانونی ہے ۔

جسٹس آصف کھوسہ نے کہا سیکشن 295 سی کے تحت مقدمہ کی تفتیش ایس پی لیول کا افسر ہی کر سکتا ہے ۔چیف جسٹس نے کہا عدالت نے صرف شواہد کو دیکھ کر فیصلہ کرنا ہے ،اسلام میں بھی فیصلے کیلئے شواہد کو بنیاد قرار دیا گیا ہے ، مسلمانوں کو بھڑکانے کیلئے بہت کچھ کیا جا رہا ہے ،عدالت نے صرف کیس کے شواہد کا جائزہ لینا ہے ۔ ایڈیشنل پراسیکیوٹر پنجاب محمد زبیر نے آسیہ کی اپیل کی مخالفت کرتے ہوئے کہاکہ چشم دید خواتین گواہان کے بیانات میں تضاد نہیں۔

آسیہ مسیح نے سزائے موت کے خلاف 2015 میں عدالت عظمیٰ میں اپیل دائر کی تھی جس کا فیصلہ آج سنایا گیا ہے۔
۔ 31 اکتوبر 2018ء) : توہین رسالت کے مقدمے میں قید آسیہ بی بی کوآج رہا کرنے کا حکم دے دیا گیا ۔ تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رُکنی بینچ نے فیصلہ سنایا۔جسٹس آصف سعید کھوسہ اور جسٹس مظہر عالم خان بھی بنچ کا حصہ تھے۔ سپریم کورٹ نے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے آسیہ بی بی کو الزامات سے بری کیا اور رہا کرنے کا حکم جاری کر دیا۔

تاہم اب آسیہ بی بی کی رہائی کا تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا گیا ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے تحریری فیصلے کا آغاز کلمہ شہادت سے کیا۔ فیصلہ 56 صفحات پر مشتمل ہے جسے چیف جسٹس نے تحریر کیا۔ فیصلے میں علامہ اقبال کا نعتیہ کلام ''کی محمدﷺ سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں'' بھی درج ہے۔
فیصلے میں قرآنی آیات اور احادیث کا حوالہ بھی دیا گیا ہے۔

فیصلے میں کہا گیا کہ اگر آسیہ بی بی کسی اور مقدمے میں ملوث نہیں ہیں تو انہیں رہا کر دیا جائے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ اپنےمذموم مقاصد کے حصول کے لیے توہین رسالت کے قانون کاغلط استعمال کیا جاتا ہے ۔اس قانون کے غلط استعمال کی تازہ مثال مشال خان قتل کیس ہے۔ برداشت اسلام کا اصول زریں ہے ۔ مخلوق خدا کے مابین برابری،فکرو وجدان اورعقیدہ کی بنیادی آزادی سے متعلق ہے۔

یہ نہ صرف ہماری مذہبی اور اخلاقی ذمہ داری ہے بلکہ اس کا تعلق انسانی تکریم سے بھی ہے۔ یہ قانون کا طےشدہ اصول ہے کہ جوالزام لگاتا ہےاسےالزام ثابت بھی کرنا ہوتا ہے۔اسی لیے ملزمہ پر عائد کیے جانے والے الزام کو ثابت کرنا استغاثہ کی ذمے داری تھی۔ ملزم اس وقت تک معصوم ہوتا ہے جب تک اس کے خلاف الزام ثابت نہ ہو۔ کرمنل جسٹس میں شکوک و شبہات سے پاک ثبوت بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔

اس کا مقصد یہ ہے کہ کسی بے گناہ کو سزا نہ ہو۔ اللہ کےنبیﷺ کےنام پرسچ میں جھوٹ کوملاناب ھی توہین رسالت سے کم نہیں ہے۔ شکایت کنندگان کی جانب سے آسیہ بی بی کے مذہب کی توہین کی گئی۔ مذہب اسلام کچھ بھی برداشت کرسکتا ہے لیکن ناانصافی، جبر اور انسانی حقوق کی پامالی نہیں۔ فیصلے میں کہا گیا کہ استغاثہ آسیہ بی بی کے خلاف اپنا مقدمہ بلا شک و شُبہ ثابت کرنے میں ناکام رہا۔

تمام گواہان ، شواہد ،حقائق اور بیانات تضاد ات سے بھرپور ہیں۔آسیہ بی بی پرتوہین رسالت کا الزام ثابت نہیں ہوا۔ عدالت نے حکم دیا کہ اگر آسیہ بی بی پر کوئی اور مقدمہ نہیں ہے تو انہیں رہا کیا جائے۔ یاد رہے کہ توہین رسالت کے مقدمے میں آسیہ بی بی کو سزائے موت سنائی گئی تھی جس پر آسیہ بی بی نے سزائے موت کے خلاف عدالت عظمیٰ میں اپیل دائر کی تھی۔

چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے 8 اکتوبر 2017ء کو توہین رسالت کے مقدمے میں سزا پانے والی آسیہ بی بی کی سزا کے خلاف اپیل پر سماعت کے بعد فیصلہ محفوظ کیا تھا۔ آسیہ بی بی کا تعلق مسیحی برداری سے ہے اور انہیں 2010ء میں توہینِ مذہب کے الزام پر ایک مقامی عدالت نے موت کی سزا سنائی تھی۔ ان کی سزا کو بعدازاں لاہور ہائی کورٹ نے بھی برقرار رکھا تھا۔

میڈیا رپورٹس کےمطابق سپریم کورٹ نے حکم دیا ہے کہ اگر آسیہ بی بی کے خلاف کوئی اور کیس نہیں ہے تو انہیں فوری رہا کردیا جائے۔
عدالت عظمیٰ نے لاہور ہائی کورٹ کا2014 میں سنایا گیا فیصلہ کالعدم قرار دیا ہے۔
چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے فیصلہ محفوظ کرتے وقت حکم جاری کیا تھا کہ کیس کا فیصلہ آنے تک کسی ٹی وی چینل پراس کیس سے متعلق کوئی بحث نہیں کی جائے گی۔

اسلام آباد کے ریڈ زون میں کنٹینرز رکھ دیے گئے ہیں اور ملک میں سیکیورٹی کو بھی ہائی الرٹ کیا گیا ہے۔
آسیہ بی بی کی رہائی کے فیصلے خلاف مذہبی جماعت نے اسلام آباد میں فیض آباد کا پل بلاک کردیا ہے علاوہ ازیں پنڈی بھٹیاں اور کراچی کے مختلف علاقوں میں بھی احتجاج کیا جارہا ہے۔
تمام مصروف شاہراہوں پر ٹائر جلا کر اور رکاوٹیں کھڑی کر کے شہر کو بند کردیا گیا ہے۔

دوستوں سے شیئر کریں

1 تبصرہ

  1. shaikh says:

    sawal pada hota hay k agar toheene risalat nahin huei to lahore high court nai kyun is k khilaf faisalah dia?kia sari aqal saib k pass hay?yeh kaisdi adaltain hain faisalay ek doosay k khilaf hain?kia adaltoon par koi asatamaad kray gaa?peshawar high court nay 70 afrad k khilaf ghooiti sszaaaion ko khatam kia.Sc nay dobarah sazaion ko

    bahaal kia kyun k saza milirtary courts nay dee thein aur woh sirf muslim thay na esai.pakistan main muslim aur rasikhu aqeeda jurm ban gaya hay?sawal hay k paspardah pakistan par kon hakoomat kar rahaa hay?kon rasikhul aqeedah musliums par ghootay khudsakhta ilzamaat laga kar unko hang kar rahaa hay?kia is mulk ki aazadi salab nahin ho chuki?ismam dishman aur muslim dushman k hath tamam pillars of power hain aur awam bebas.kash koi sochay.qoom yarghamaal hay.ek ek kar k tamam islam pasandoon ko mitaya ja rahaa hay.kash cj insaf par ghor kar sakay.

تبصرہ کریں