کریڈیبلٹی اور سلیم صافی

کریڈیبلٹی اور سلیم صافی

تحریر : نورالہدی شاہین

سلیم صافی کالم

سلیم صافی

صحافت میں گریجویٹ ہونے اور مختصر عرصہ سڑک چھاپ صحافت کرنے کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ ٹی وی اسکرین پر 3 قسم کے لوگ بیٹھے ہوتے ہیں۔ ایک ہوتا ہے صحافی، دوسرا اینکر اور تیسرا انٹرٹینر۔
صحافی وہ ہے جس نے ٹرینی بھرتی ہوکر "چھوٹا" بن کر کام کیا اور طویل جدوجہد کے بعد کسی مقام پر پہنچا۔ صحافت میں آگے بڑھنے، نام کمانے اور طاقتور ہونے کا پہلا اور آخری ہتھیار کریڈیبلٹی ہے۔

اس سے ہٹ کر کوئی بھی راستہ آپ کو 'اینکر پرسن' تو بنا سکتا ہے لیکن صحافی ہر گز نہیں۔ اس وقت چوٹی کے صحافیوں میں حامد میر، نصرت جاوید، جاوید چودھری، سلیم صافی، کامران خان و دیگر شامل ہیں۔ ( یہ میرا خیال ہے۔ آپ اس میں مزید نام شامل کرسکتے یا ان میں سے کسی کو نکال سکتے ہیں)

اینکر پرسن وہ لوگ ہیں جو پیراشوٹ کے ذریعے ڈائریکٹ ٹی وی اسکرین پر آبیٹھے ہیں۔ ان کا صحافت کا بیگ گراونڈ نہیں ہے۔ اگر ہے بھی تو کوئی اچھا ٹریک ریکارڈ نہیں ہے۔ ان کے ہاں صحافت کا معیار کریڈیبلٹی نہیں بلکہ ریٹنگ ہے اور اس ریٹنگ کے گھن چکر میں وہ کبھی ایسی ٹچی حرکتیں کر جاتے ہیں کہ اپنا پورا صحافتی کیریر پل میں اڑا کر رکھ دیتے ہیں اور محض اینکر بن کر رہ جاتے ہیں۔ یاد رہے کہ ان کا کیریئر نہیں بلکہ صحافتی کیریر ختم ہوجاتا ہے۔ شاہد مسعود، مبشر لقمان، صابر شاکر، عامر لیاقت حسین وغیرہ اس کیٹیگری میں شامل ہیں۔

انٹرٹینرز در اصل صحافت نہیں کرتے بلکہ ناظرین کو انٹرٹین کرتے ہیں۔ اس میں مارننگ شوز، کچن شوز، مذہبی اور ثقافتی پروگرامات شامل ہیں۔ یہ بذات خود کوئی برائی نہیں لیکن برائی تب بن جاتی ہے جب انہی پروگرامات کے اینکرز سیاست، صحافت اور ملکی سلامتی کے معاملات پر ٹاک شوز کرنے لگ جائیں۔ ایسے لوگوں میں حمزہ علی عباسی، نبیل، ساحر لودھی، مایا خان اور شائستہ لودھی ودیگر شامل ہیں۔

صحافی اور اینکر کا فرق

حامد میر جب اپنے ٹاک شو یا کالم میں کوئی اسکینڈل سامنے لائے تو پورے ملک میں بھونچال آجاتا ہے۔ ایک حامد میر کی آواز دبانے کے لئے ملک کے دفاعی ادارے میدان میں آجاتے ہیں اور یہاں تک کہ چینل بند کردیا جاتا ہے۔
صابر شاکر بھٹی عامر لیاقت اور مبشر لقمان وغیرہ روز شام کو ایک نئے اسکینڈل کے ساتھ ٹی وی پر آجاتے ہیں۔ ان کو ریٹنگ بھی زیادہ ملتی ہے۔ لیکن کیا آپ نے کبھی سنا کہ ان کے کسی پروگرام کے بعد ایکشن ہوا ہو، انکوائری بیٹھے یا ملک میں بھونچال آجائے۔ نہیں ناں؟؟ ایسا کبھی ہو بھی نہیں سکتا۔ ان لوگوں کی باتوں کو معاشرے کا وہ 45 فیصد سنتا اور سیریز لیتا ہے جن کی ذہنی نشوونما نہیں ہوتی۔

آپ چونکہ یہ تحریر سوشل میڈیا پر پڑھ رہے ہیں تو یہاں کی مثال دے دیتا ہوں۔ اگر آپ فیض اللہ خان اور ناصر خان جان کا تقابلی جائزہ کریں تو ریٹنگ کس کو زیادہ ملتی ہے؟ یقینا ناصر خان جان کو۔ لیکن کتنے لوگ ہیں جو فیض اللہ خان کے مقابلے میں ناصر خان جان کو سنجیدہ لیتے ہیں؟ یقینا ایک بھی نہیں۔
تازہ مثال: سلیم صافی نے ایک چھوٹی سی خبر دی ہے اور اس چھوٹی سی خبر پر دو ہفتے سے ڈیبیٹ جاری ہے۔ مجھ سمیت سب نے اس پر جملے کسے، طنز کیا، مذاق اڑایا یہاں تک گھٹیا قسم کی گالیاں دیں لیکن کوئی مائی کا لعل دلیل کے ساتھ کوئی جواب نہ دے سکا اور یہ ہوتی ہے کریڈیبلٹی۔

دوستوں سے شیئر کریں

تبصرہ کریں