آپ کی وردی کالی ہے

آپ کی وردی کالی ہے۔

نورالہدی شاہین

چدائی

پولیس

گزشتہ روز ڈیرہ اسماعیل خان میں دو پولیس اہلکاروں کو ٹارگٹ کرکے شہید کیا گیا۔ ٹی وی چینلوں پر ٹکر تک نہ چلے۔
میرے پاس اطلاع پہنچی تو میں نے اپنے دوست پولیس اہلکار عنایت اللہ ٹائیگر کو فون کیا۔ ٹائیگر بم ناکارہ بناتے بناتے اپنی ٹانگ کٹوا بیٹھا ہے۔ ٹائیگر نے غصے میں یہ کہہ کر فون بند کردیا کہ یہاں ساتھیوں کی لاشیں پڑی ہیں۔
میں نے دوسرے ذرائع سے معلومات اکھٹی کیں اور خبر چلادی۔ دو دن بعد ٹائیگر نے مجھے فون کیا اور معذرت کرنے لگا۔ میں نے اسے کہا بھائی معذرت کی کوئی بات نہیں۔ میں نے غلط ٹائم پر فون کیا تھا۔ ٹائیگر نے کہا یار جب ہمارے ساتھی شہید ہوتے ہیں تو لوگ ہمارا خون جلاتے ہیں۔ وہ سوگوار تھا میں نے اس مزید نہیں چھیڑا۔

دوسرے پولیس والے کو فون کرکے پوچھا بھائی خون کون جلاتا ہے۔ کہنے لگا میڈیا اور عوام۔ عوام کہتے ہیں پولیس والے اپنی حفاظت نہیں کرسکتے ہماری کیا حفاظت کریں گے اور میڈیا پولیس اہلکاروں کی صرف رشوت لینے کی خبریں چلاتا ہے اور کچھ نہیں۔

ڈیرہ اسماعیل خان میں 4 روز قبل شہید ہونے والا اہلکار اسپیشل برانچ میں تعینات تھا۔ سادہ کپڑوں میں اہم مشن پر نکلا اور شہید ہوگیا۔ دو بچوں کا باپ اور گھر کا اکلوتا کفیل۔۔۔ اس پر سوائے بوڑھی ماں اور جوان بیوہ کے کسی اور نے آنسو تک نہ بہائے۔
میرے پاس اور کوئی جواب نہیں تھا یہ کہہ کر فون بند کردیا کہ "آپ کی وردی کالی ہے۔"

دوستوں سے شیئر کریں

تبصرہ کریں