پائلٹ آفیسر راشد منہاس(شہید) کا 47واں یوم شہادت

پائلٹ آفیسر راشد منہاس(شہید) کا 47واں یوم شہادت

تحریر :محمدامین رضا

راشد منہاس کی شہادت

راشد منہاس

پاکستان کا سب سے بڑا عسکری اعزاز نشان حیدر سب سے پہلے حاصل کرنے والے پائلٹ آفیسر راشد منہاس کاآج 20اگست کو47واں یوم شہادت عقیدت واحترام سے منایا جارہا ہے ۔ راشد منہاس 17فروری1951ءکو کراچی میں پیدا ہوئے ان کے خاندان کا تعلق گرداس پور جموں کشمیر سے تھا راشد منہاس نے ابتدائی تعلیم لاہور میں حاصل کی اس کے بعدراوالپنڈی شفٹ ہوگئے اگست1971ءکو پائلٹ آفیسر بنے 20اگست 1971ءکی بات ہے جب راشد منہاس مسرور ایئر بیس سے اپنی تیسری تنہا پرواز کیلئےT-33جیٹ سے روانہ ہونے لگے تو اچانک ان کے بنگالی انسٹرکٹر مطیع الرحمن نے انہیں رکنے کا اشارہ کیا اور طیارے میں سوار ہوگئے اور نہ صرف سوار ہوئے بلکہ انہوں نے خود طیارہ کنٹرول کرنا بھی شروع کردیا اور جب راشد منہاس نے محسوس کیا کہ طیارہ اغواکرلیا گیا ہے اوروہ اس طیارے کو اڑا کر بھارت لے جانا چاہتے ہیں توانہوں نے پی اے ایف مسرور رابطہ کیا اور صورتحال سے آگاہ کیا اور وہ طیارے کا ۔کنٹرول سنبھالنے کیلئے انسٹرکٹر سے گتھم گتھا ہوگئے

جب طیارہ بھارتی سرحد سے صرف 64کلو میٹر دور رہ گیا تو اور جب انہیں یقین ہوگیا کہ طیارے پر قابو پانا ان کے بس میں نہیں تو انہیں دو ہی راستے نظر آرہے تھے اول یہ کہ طیارہ اغوا ہونے دیا جائے اس سے ایک تو وہ قیدی بن جائیں گے اور طیارے کا ملک کو نقصان پہنچے گا اور مطیع الرحمن جو پاکستان کے اہم راز ساتھ لے جارہا تھا وہ بھی دشمن کے ہاتھ لگ جائیں گے دوسرا راستہ طیارہ، پاکستان کے قیمتی راز دشمن کے ہاتھ لگنے سے بچایا جاسکتا تھا اور یہ راستہ شہادت کا تھا یہ سوچ کر 20سالہ خوبسورت پائلٹ آفیسر نے طیارے کا رخ زمین کی طرف موڑ دیا اور جہاز تباہ کر کے جام شہادت نوش کیا اور ملک کا سب سے بڑا عسکری اعزاز نشان حیدر سب سے پہلے حاصل کرنے کا اعزاز حاصل کیا آج ان کے یوم شہادت کے موقع پر تقریبات کاانعقاد کر کے انہیں خراج عقیدت پیش کیا جائے گا۔

دوستوں سے شیئر کریں

تبصرہ کریں