نواب اکبر خان بگٹی کا قول

نواب اکبر خان بگٹی کا قول

 

رحیم بلوچ

نواب اکبر خان بگٹی کی کہانی

نواب اکبر خان بگٹی

نواب اکبر خان بگٹی نے قول دیا تھا کہ " وہ کبھی کسی انسان کے سامنے نہیں جھکے گا"

وہ ساری زندگی نہ صرف اس قول پہ قائم رہے بلکہ ۔بلوچی تاریخ میں بے شمار مثالیں قائم کیں
ان کی زندگی کے کچھ دلچسپ واقعے آپ کی خدمت میں پیش کرنے کی جسارت کر رہا ہوں

ایک دفعہ وزیراعظم نواز شریف صاحب ان سے ملنے کیلئے آنے والے تھے۔
وہ اپنے بیٹھک میں بیٹھے قبیلے کے لوگوں سے باتیں کر رہے تھے ۔
جب نواز شریف اپنے ساتھیوں سمیت ہوائی جہاز سے اتر کر ان کی بیٹھک کے قریب پہنچے تو نواب صاحب ان کا استقبال کرنے کے بجائے بیٹھک سے نکل کر گھر کو چل دئیے۔

نواز شریف کا استقبال دوسرے لوگوں نے کیا جو نواب صاحب کے بیٹھک میں تھے۔
جب نواز شریف بیٹھ گئے کچھ دیر بعد نواب بگٹی واپس آگئے تو نواز شریف نے اٹھ کر مصافحہ کیا
کچھ دیر بعد جب نوازشریف واپس چلے گئے تو لوگوں نے پوچھا کہ آپ نے ایسا کیوں کیا ؟
نواب صاحب نے جواب دیا "اگر میں یہاں بیٹھا ہوتا تو مجھے نواز شریف سے ہاتھ ملانے کیلئے اٹھنا پڑتا اب میں گھر جاکر واپس آیا تو نواز شریف میرے لئے اٹھ کھڑا ہوا میں اپنا قول کسی کیلئے توڑ نہیں سکتا"

ایک دفعہ کسی دوسرے قبیلے کے نواب نے نواب اکبر بگٹی کو دعوت پہ بلایا۔
اس نے جان بوجھ کر ایک ایسے کمرے میں کھانا لگوا دیا جس کا دروازہ نواب بگٹی کے قد سے چھوٹا تھا کیونکہ وہ نواب صاحب کو کسی طرح سر جھکانے پہ مجبور کرنا چاہتے تھے۔

نواب بگٹی جب اس دروازے کے قریب آیا تو دروازہ چھوٹا لگا انہوں نے سر نہیں جھکایا بلکہ اپنے باڈی گارڈز کو حکم دیا کہ اس دروازے کو اکھاڑ دو باڈی گارڈز نے ایسا کیا تب وہ اس کمرے میں داخل ہوئے۔
نواب بگٹی سر جھکائے بغیر اپنی گاڑی میں سوار ہوتے اور سر جھکائے بغیر اترتے تھے۔

سنا ہے آخری وقت انہوں نے فوج کو گرفتاری دینے کے بجائے خود کو بارود سے اڑا کر اپنی جان دے دی۔

اے لائر طاہوتی اس رزق سے موت اچھی
جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی۔

دوستوں سے شیئر کریں

تبصرہ کریں