ناول زندگی ہو جیسے قسط نمبر 4

ذندگی ہو جیسے

 

 

 

 

 

ایمان خان

زندگی ہوجیسے

از ایمان خان

 

 

 

قسط نمبر 4

 

 

.

رات کا اندھیرا ہر سو پھیل چکا تھا ہر طرف سناٹا تھا

گھڑی رات کے 1 بجے کا عندیہ دے رہی تھی

ریان ابھی تک جاگ رہا تھا اس کے کمرے کا بلب ابھی تک جل رہا تھا

وہ گہری سنجیدگی سے اپنے سامنے پڑی ڈاٸری کے ورق پلٹ رہا تھا

وہ اس ڈاٸری کو اتنی بار پڑھ چکا تھا کہ اس کے اندر لکھی باتیں اس کو اب زبانی یاد تھی

لیکن اتنے سال گزرنے کے بعد بھی جس کی یہ ڈاٸری تھی

اس تک وہ نہیں پہنچ پایا تھا

یہ نہیں تھا کہ اسے اپنے اس نکاح کی خبر نہیں تھی

جب سے اس نے ہوش سنبھالا تھا امی نے یہ بات اس کے ذہن میں ڈال دی تھی کہ

اس کا نکاح اس کے ماموں کے گھر ہو چکا ہے

اور اب بس رحصتی رہ گٸ ہے

وہ اس نکاح کو دل وجاں سے قبول بھی کرتا اگر یہ فٹ پاتھ پہ پڑی ڈاٸری اس کی ذندگی میں ہلچل نہ مچا دیتی

اسے اب بھی یاد تھا یہ ڈاٸری اسے تب ملی تھی جب وہ کالج جاتا تھا

ایک دن کالج سے واپسی پر یہ ڈاٸری اسے زمین پر گری نظر آٸی

اس نے جھک کر وہ ڈاٸری اس نیت سے اٹھا لی کہ شاید اس پر اللہ کا نام ہو

یہ ویران جگہ تھی یہاں کم ہی کوٸی آتا تھا

اس نے اردگرد نظر دوڑاٸی جب کوٸی نظر نہ آیا تو مجبوراً اس نے ڈاٸری اپنے بیگ میں ڈال دی

کچھ دن تو وہ اپنے امتحانات میں مصروف رہا اںر امتحانات سے فراغت کے بعد ایک دن یوں ہی اپنی الماری میں پڑی اسی ڈاٸری پر نظر پر گٸ

تھی تو یہ غیر اخلاقی حرکت کے کسی کی بغیر اجازت کے کوٸی چیز کھول کے پڑھ لینا

لیکن اس کا مالک تھا کہاں

اور ہو سکتا ہے اس کے اندر مالک کے بارے میں کوٸی معلومات ہو تو وہ اسے ڈھونڈ کے واپس کر

دے

کیونکہ یہ ایک غیر اخلاقی حرکت تھی

وہ جلد از جلد یہ ڈاٸری لوٹانا چاہتا تھا

اور آخر اس نے اسے پڑھنے کا فیصلہ کر ہی لیا

وہ اوراق پلٹتا گیا اور پڑھتا گیا

وہ ڈاٸری ایسے معلوم ہوتا تھا کہ کسی لڑکی کی ہے

اسے لگا کہ وہ ان الفاظوں کے سحر میں گرفتار ہو رہا ہے

اسے یاد تھا اس نے اس رات وہ ڈاٸری جاگ کہ بار بار پڑھی تھی

اور اس کے بعد یہ معمول بن چکا تھا وہ جب بھی تھک جاتا وہ ڈاٸری کھول کہ پڑھ لیتا

اسے لگتا وہ لڑکی پاس کھڑی اس کی ہمت بڑھا رہی ہے

اسے اپنی اور اس کی کیفیت ایک سی لگتی

کبھی وہ اسے کسی تحریر میں بہت اداس لگتی اور یکدم اسے لگتا وہ خوش ہو گی ہے

عجیب دھوپ چھاٶں سی لڑکی تھی

اور ایک دن وہ بھی آیا جب ریان کو اس کی باتوں کے علاوہ کچھ یاد ہی نہیں رہتا تھا

وہ چھوٹی چھوٹی باتوں میں خوشیاں تلاشنے والی لڑکی تھی

وہ ذندگی جینا جانتی تھی اور ریان کو دادا جی کے مرنے کے بعد کوٸی خاص غرض نہیں تھی

وہ بچپن سے ہی دادا جی کے ساتھ بہت اٹیچ تھا

وہ یہ بھی جانتا تھا کہ دادا جی کو اصل میں کوٸی بیماری نہیں اپنی بھاٸی سے جدا ہونے کا دکھ ہے

کیا تھا کہ وہ ان کو ان کا حصہ دے دیتے لیکن ان کے ساتھ تعلق نہ توڑتے

ہم بھی چھوٹی چھوٹی باتوں کو انا کا مسٸلہ بنا کر رشتے ختم کر دیتے ہیں

اور دادا جی کے مرنے کے بعد وہ بالکل ٹوٹ گیا تھا

اور تب اس کی لکھی ایک تحریر اسے آج بھی یاد تھی جس نے اسے دوبارا جینا سکھایا تھا

"ہم ٹوٹتے نہیں ہے ہم توڑ دیے جاتے ہیں کبھی کس کے ہاتھوں کبھی کس کے ہاتھوں لیکن ہم خقیقت میں اپنے ہی ہاتھوں ٹوٹتے ہیں کیونکہ ہم لوگوں پر بلاوجہ امیدیں رکھ لیتے ہیں حالانکہ ہم جانتے ہیں کہ ایک نہ ایک دن سب نے ہمیں چھوڑ جانا ہے اور پھر ہم نے اکیلا رہنا ہے لیکن ہم خود کو بار بار دھوکہ دیتے ہیں اور دوسرے انسان کو موقع دیتا ہیں کہ ہمیں ایک دفعہ اور توڑ دو ایک دفعہ ٹوٹنا ہمارے لیے کافی نہیں ہوتا لیکن میں یہ کہتی ہوں کہ اگر ہم اپنی   ہاتھوں سے ٹوٹ سکتے ہیں تو اپنے ہاتھوں سے جڑ بھی سکتے ہیں اور وہ جب ہم اپنے ہی ہاتھوں سے جڑ جاتے ہیں تو پھر ہمیں کوٸی توڑ بھی نہیں سکتا

اور پھر اس نے خود کو گم کر لیا تھا اپنی دنیا میں

دادا جی چاہتے تھے وہ آرمی میں جاۓ وہ آرمی میں چلا گیا تھا

وہ ایسے دنیا میں چلا گیا تھا جہاں وہ تھا اس کی نوکری تھی اور وہ لڑکی تھی

پھر محبت تو کسی کے احساس سے بھی ہوجاتی ہے

اور اس کے پاس تو اس کی تحریریں تھی

سب کچھ ٹھیک چل رہا تھا اگر امی اس پر یہ انکشاف نہ کرتی کہ

تمھاری منکوحہ تمھارے گھر میں ہے

اور ایسی بے وقوف لڑکی تو اس نے اپنی پوری ذندگی میں نہیں دیکھی تھی ۔۔۔۔۔۔

لیکن وہ نہیں جانتا تھا کہ اس کی قسمت کا فیصلہ کیا ہو گا

اسے ہمیشہ سے سمجھدار لڑکیاں پسند تھی

لیکن اس میں ابھی تک بچپنا باقی تھا

اسے سوچ سوچ کے ہی ہول اٹھ رہے تھے کہ اگر وہ اسی گھر میں اس کی بیوی کی حیثیت سے آگٸ تو

کیا اس گھر کا نقشہ ہی الٹ جاۓ گا

بہرخال اس بات کا فیصلہ آنے والے دنوں میں ہی ہونا تھا

❤❤❤❤❤❤

ریان صبح اٹھا تو دیکھا کہ امی فون پر کسی سے محو گفتگو تھی

اور پرشے پاس ہی بڑی شان سے بیٹھی اسے سلگا گٸ تھی

ساتھ ہی ٹی وی کے چینل چینج کر رہی تھی

ریان پاس آیا تو اس نے اس سے ریموٹ مانگا تو اس نے کسی معصوم بچے کی طرح ریموٹ چھپا لیا

ریان نے آگے بڑھ کر اس کے ہاتھ سے ریموٹ کھینچ لیا

پریشے نے  پہلے بے بسی سے اسے دیکھا

پھر زبان باہر نکال کے اس کی نقل اتاری

ریان نے منہ کھول کے اس کی ایک نٸ حرکت دیکھی

اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتا

پھپھو کی آواز سے دونوں چونکے یہ لو پریشے

ابو تم سے بات کرنا چاہتے ہیں

انھوں نے فون پریشے کی طرف بڑھایا جسے پریشے نے خوشدلی سے تھام کے کان کے ساتھ لگا لیا

پھپھو اٹھ کے کچن میں چلی گٸ

اب وہ اپنی دادا جی کے ساتھ باتوں میں مصروف تھی

ہاں دادا جی بالکل حیرت سے پہنچ گٸ تھی

ریان بظاہر ٹی وی دیکھ رہا تھا

لیکن کان ادھر ہی تھے

کون ایسا بے وقوف ہے کہ اسے اغوا۶ کر کے مصیبت گلے ڈال لے

وہ منہ ہی منہ میں بڑبڑایا

پریشے نے پتہ نہیں سنا تھا کہ نہیں

البتہ اس کا منہ ضرور بن چکا تھا

نہیں دادا جی اور تو کوٸی مسٸلہ نہیں بس آپ بہت یاد آتے ہیں

ہاں اگر اتنے  ہی یاد آتے ہیں تو واپس چلی جاو وہ پھر بولا تھا

اب کی بار پریشے نے اس کی بات کا کوٸی اثر نہیں لیا تھا

اور بھی دو تین باتیں کر کے اس نے فون کاٹ دیا اور اب اس کی جانب متوجہ ہوٸی تھی

پہلی بات یہ ہے کہ میں نے آپ کی ساری باتیں سن لی ہیں

اس نے جتا کہ کہا

تو میں کیا کروں وہ بھی ڈھیٹ تھا

تو آپ یہ کریں کہ میری ایک بات کان کھول کر سنیں .

پہلی بات کہ میں کوٸی مصیت نہیں ہوں یہ آپ کے ذہن کا فتور ہے

دوسری بات یہ میری پھپھو کا گھر ہے میرا جب تک دل کرے گا یہاں رہوں گی

ورنہ آپ جیسے کھڑوس سڑیل انسان کو میں ایک منٹ بھی برداشت نہ کروں

وہ اپنی دھن میں بول کر جا چکی تھی

البتہ اسے بہت تپا بھی گٸ تھی

❤❤❤❤

ریان کی چھٹیاں ختم ہو گٸ تھی اب اس کا وہی پہلے والا معمول تھا کبھی کبھی تو پورا دن نظر نہ آتا تھا

اور کبھی دو دو دن غاٸب رہتا تھا

اور یہ بات پریشے کے لیے خیران کن تھی

آخر ہمت کر کے اس نے پھپھو سے پوچھ لیا

پھپھو

وہ اس وقت لان میں بیٹھی چاۓپی رہی تھی

وہ میں کیا کہہ رہی تھی

کہ وہ ریان جو ہیں نا ان کی حرکتیں کچھ مشکوک ہیں

پھپھو ایک دم چونکی

کیا مطلب

مطلب کہ آپ نے ان سے پوچھا نہیں وہ دو دو دن کدھر غاٸب رہتے ہیں

پھپھو ایک دم ہنس دی

اب وہ اسے کیا بتاتی اس لیے بات گول کر گٸ

ارے نہیں پریشے وہ یہی کہیں اپنے دوستوں کے ساتھ مصروف رہتا ہے

انھوں نے اسے ٹالا

پریشے پہلے تو کسی گہری سوچ میں گم رہی پھر دوبارا بولی

پھپھو کہیں وہ کسی غلط کام میں ملوث تو نہیں ہیں

اس نے قریب ہو کر مکمل رازداری سے کہا

تو پھپھو نے  دل ہی تھام لیا

وہ ان کے اتنے شریف بیٹے کو کیا سمجھ رہی تھی

پریشے بیٹا پاگل ہو گٸ  ہو میرا بیٹا ایسا نہیں ہے

انھوں نے نفی میں سر ہلایا

اچھا آپ کو بہتر پتہ

اس نے کندھے اچکا دیۓ ۔اور

پھپھو مطمیٸن سی بیٹھ گٸ

میں جانتی ہوں آپ دونوں مجھ سے کوٸی بات چھپا رہے ہیں

لیکن میں بھی اصل بات تک پہنچ کہ رہوں گی وہ چاۓ پیتے ہوۓ سوچنے لگی

❤❤❤❤❤

جاری ہے

دوستوں سے شیئر کریں

تبصرہ کریں