ناول زندگی ہو جیسے دوسری قسط

ذندگی ہو جیسے

 

 

ناول زندگی ہو جیسے

زندگی ہو جیسے

مصنف از ایمان خان

قسط نمبر 2

ہاۓ اللہ اف اتنے ذور کا مارا مجھے

چور تمھیں اللہ پوچھے

اللہ کرے تمھارے ہاتھ ٹوٹ جاۓ مردانہ ہاتھ سے تھپڑ کھانے کے بعد اب وہ اسے گالیوں سے نواز رہی تھی

اور ریان الگ حیران پریشان کھڑا تھا کہ

اس نے تو لڑکا سمجھ کے ہاتھ اٹھایا تھا اور اب لڑکی

یہ کیا ماجرا ہے

اس کے کمرے میں لڑکی کا کیا کام

اس نے آگے بڑھ کر بلب جلایا تو کمرہ روشن ہو گیا

اب وہ دونوں ایک دوسرے کو دیکھ سکتے تھے

وہ ابھی بھی صدمےکے ذیر اثر گال سہلا رہی تھی

ریان نے اس کا جاٸزہ لیا

لمبی قمیض

چوڑی دار پاجامہ

لمبے بال جو کھلے ہوۓ تھے

اس نے نظر اٹھا کر دیکھا

بڑی بڑی لمبی پلکیں موٹی موٹی آنکھیں

تیکھی ناک

گلاب کی پنکھڑیوں جیسے لب

وہ بس سمارٹ تھی نا ذیادہ موٹی نا ذیادہ کمزور

محترمہ میں پوچھ سکتا ہوں

آپ کون ہیں اور میرے کمرے میں کیا کر رہی ہے

اس نے ابرو اچکا کر کہا

کیا مطلب تمھارا کمرہ تم چور ہو چوری کرنے کی غرض سے آۓ ہو

اور ہمت تو دیکھو ذرا اب اس کمرہ کو اپنا بول رہے ہو

اس نے ہاتھ کمرے پر رکھتے ہوۓ چلاقی سے کہا

تم نے مجھ پر ہاتھ اٹھایا

تمھاری ہمت کیسے ہوٸی

میں شور ڈالو گی تمھیں پولیس کے خوالے نا کیا نا تو پھر کہنا

وہ اب اپنے فون کی طرف بڑھنے لگی

روکو یہ کیا بدتمیزی ہے لڑکی میرے کمرے میں کھڑے ہو کہ مجھے ہی دھمکی دے رہی ہو اس نے اسے کلاٸی سے پکڑ کر پیچھے کیا

تمھاری ہمت کیسے ہوٸی میرا ہاتھ پکڑنے کی

پاگل لڑکی یہ میرا کمرہ ہے میرا گھر ہے

میں کوٸی چور نہیں ہوں

چوروں کے پاس چابیاں نہیں ہوتی ہیں

اس نے چابی اس کی نظروں کے سامنے کی

اوہ اچھا یہ تو پھپھو کا بیٹا تھا اس کا شوہر اور وہ کیا سمجھی

اب آپ اپنا تعارف کروانا پسند کریں گی

اس نے طنز سے کہا

یہ میری پھپھو کا گھر ہے

اس کے منہ سے پھنسے پھنسے الفاظ نکلے

اچھا تو آپ میرے کمرے میں کیا کر رہی ہیں

اس نے سنجیدگی سے کہا

وہ اوپر گرمی تھی نا تو اس لیے نیچے آگٸ ۔

مجھے نہیں پتہ تھا کہ یہ کمرہ آپ کا ہے

وہ تھوڑا گھبرا گٸ تھی

کوٸی بات نہیں آپ یہی رہیں میں اوپر چلا جاتا ہوں

اس کو شاید ہاتھ اٹھانے کی شرمندگی تھی

ہوں

وہ کہہ کر کمرے سے باہر نکل گیا

❤❤❤

جیسے ہی اس نے کمرے کے بلب روشںن کیا تو اس کے ہوش اڑ گۓ

کمرہ میدان جنگ کا منظر پیش کر رہا تھا

ہر چیز ادھر ادھر بکھری تھی اور ریان کو گندگی سے نفرت تھی

اف ایک دن میں اتنا گند

کیا پھڑ لڑکی ہے اسے جی بھر کر غصہ آیا کیا تھا کہ وہ حاتم طاٸی نا بنتا

اور جب ایک انجانے میں مار ہی دی تھی ایک اور بھی مار دیتا

دل کو سکون تو آتا

اب وہ گند سمیٹ رہا تھا سونا تو تھا ہی

اور گندگی ریان کو پسند نہیں تھی

❤❤❤❤

صبح وہ اٹھی تو دیکھا پھپھو کچن میں ناشتہ بنا رہی تھی

اسے آتا دیکھ کر پھپھو مسکراٸی

ارے اٹھ گٸ

جی پھپھو

وہ اسے سڑھیاں اترتا دیکھاٸی دیا

وہ ناٸٹ سوٹ میں تھا ابھی سو کر اٹھا تھا

کل  کی بات کی وجہ سے وہ تھوڑی شرمندہ تھی  نظریں جھکا گٸ

امی

میری ریڈ شرٹ ڈھونڈ دے

ٹھیک میں آتی ہوں

وہ پریشے کی جانب مڑی

پریشے میں اسے شرٹ ڈھونڈ کے دے آٶں پیاز میں نے کاٹ دیا ہے

آملیٹ بنا دو

اس کے پہلے کہ وہ کچھ بولتی پھپھو سے کچن نکل گٸ

اسے تو آملیٹ بنانے آتی ہی نہیں تھی

پہلا سوچا چھوڑ دے پھر سوچا کوشش کرنے میں کیا ہے

پھپھو کیا سوچے گی

وہ اٹھ گٸ انڈے میں ہلدی نمک ملاٸی اور لال مرچوں کی چمچ بھر کر فراٸی پین کےبجاۓ توے پر ڈال دیا

جب آملیٹ جل گٸ تو اسے توے سے اتارنے تک وہ کچھ اور ہی بن چکا تھا

لیکن چلو بنا تو تھا

پریشے مطمٸن ہو کر بیٹھ گٸ

❤❤❤❤❤

یہ لو مل گٸ شرٹ

انھوں نے شرٹ سامنے کی

ہوں یہ کون ہے وہ جانتا تو تھا لیکن انجان بنا

ارے وہ تمھارے ماموں کی بیٹی ہے

انھوں نے خوشی سے بتایا

اچھا ماموں نے اسے

اتنا بھی نہیں سکھایا کہ کسی کے کمرے میں بغیر اجازت نہیں گھستے

اس نے طنز سے کہا

کیا وہ ایک دم باہر جاتے جاتے رکی

کیا مطلب وہ کس کے کمرے میں بغیر اجازت کے گٸ

میرے اور کس کے

اس نے سرسری انداز میں بتایا

اچھا تو کیا ہوا بیوی ہے تمھاری کیا ہوا چلی گٸ

انھوں نے بھی آرام سے اس کے سر پر بم پھوڑا

What

امی یہ اتنی غیر ذمہ دار لڑکی یہ میری بیوی

اس نے سر تھام لیا

آپ نے اتنی غیر ذمہ دار لڑکی کا انتحاب کیا میرے لیے

اس نے احتجاج کیا

کوٸی ظلم نہیں کیا ہے میں نے تمھاری بہتری کے لیے کیا جو بھی کیا

اور خبردار جو تم نے اب اسے کچھ بھی کہا

انھوں نے اسے ڈانٹا

امی یہ ناانصافی ہے وہ چھوٹی چھوٹی بات سے رونے لگتی ہے

اور آپ خود ہی بتاٸیں ایک آرمی آفیسر کی بیوی ایسی ہو سکتی ہے

اس نے اپنی طرف سے ایک جواز پیش کیا

کیوں ان میں کیا خاص ہوتا ہے

انھوں کہاں قبول تھا کہ کوٸی ان کی بھتیجی کے بارے میں ایسے کہے

امی آرمی والوں کے گھر والے بہت بڑے دل والے ہوتے ہیں

انھیں ہر سچویشن کو فیس کرنا آتا ہے

ان کے اتنے چھوٹے دل تو نہیں ہوتے نا ابھی کل جدھر آپ نے اسے ٹھہرایا تھا نا

ادھر رات کو مجھے سونا پڑھا

جب میں ادھر گیا تو میرا سر گھوم گیا

ایک دن میں اتنا گند امی اس میں سے ابھی تک بچپنا ہی نہیں گیا ہے

مجھے افسوس سے کہنا پڑھ رہا ہے کہ آپ نے میرے لیے لڑکی کے انتحاب میں جلد بازی کی شازمین بیگم سوچنے پر مجبور ہو گٸ وہ واقعی ان کا ذمہ دار بیٹا تھا

لیکن وہ اتنے عرصے بعد جڑنے والے رشتے کو توڑ بھی نہیں سکتی تھی

اور ہو سکتا ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ اس میں بھی شعور پیدا ہو جاے

آپ کا جو بھی فیصلہ ہو گا میری سر آنکھوں پر لیکن یاد رکھیے گا کہ اس میں میرے ساتھ نا انصافی نہ ہو

اور ایک بات وہ ابھی یہاں نٸ ہے

اس کو ہرگز میری جاب کے بارے میں مت بتاٸیں گا

امی میں نہیں چاہتا کہ اس کی بے وقوفی کی وجہ سے آپ کے لیے کوٸی خطرہ پیدا ہو

آپ سمجھ رہی ہیں نا

انھوں نے اثبات میں سر ہلا دیا

آپ سمبھال لیجیۓ گا

آٸیے ناشتہ کرتے ہیں

وہ دونوں اٹھ گۓ

❤❤❤❤

پھپھو کچن میں جانے لگی تو پریشے نے انھیں روک دیا

آپ بیٹھے میں ناشتہ لگاتی ہوں

اس نے ریان کے سامنے سگھڑ بنتے ہوۓ کہا

ریان رخ موڑ گیا

پھپھو مسکرا کے کرسی پر بیٹھ گٸ

پریشے ناشتہ لگانے لگی

وہ پلیٹس لا رہی تھی کہ اس کے ہاتھ سے دو پلٹس ذمین پر گر کر ریزہ ریزہ ہو گٸ

وہ تھوڑی شرمندہ ہو گٸ

ریان تمخسر سے ہنسا اور اسے سلگا گیا

کوٸی بات نہیں پریشے

ساتھ ہی ملازمہ کو آواز دینے لگی

وہ ناشتہ لگا کہ پھپھو کے پاس ہی بیٹھ گٸ

جیسے ہی ریان نے آملیٹ کے اوپر سے ڈھکن اٹھایا اس کے رونگھٹے کھڑے ہوگۓ

وہ آملیٹ نہیں کچھ اور ہی تھا

امی وہ چلایا

یہ کیا ہے اس نے پلیٹ آگے کی

پھپھو کی بھی کچھ یہی حالت تھی

پریشے

وہ صدمے کے ذیر اثر بولی

کیا تمھیں آملیٹ نہیں بنانے آتی ہے

پریشے نے صفاٸی پیش کی

نہیں بس تھوڑی جل گٸ

ذاٸقہ اچھا ہے

اف پھپھو نے سر تھام لیا

پریشے میری جان اگر تمھیں نہیں بنانا آتا تھا تو مجھے بتا دیتی

ہوں

ریان اٹھا اور کرسی کو کچھ ایسے ذور سے پیچھے دھکیلا کہ

پریشے ڈر گٸ

اس گھر کا تو چین و سکون برباد ہو گیا ہے پہلے سونا نصیب نہیں تھا اب کھانے میں بھی یہی کچھ ملے گا

وہ بڑبڑا کے جانے لگا

ریان

پھپھو نے آواز دی

رکو میں بنا دیتی ہوں

رہنے دے

کہہ کہ وہ دروازہ کھول کے باہر نکل گیا

پیچھے پریشے  نے شرمندگی سے نظریں جھکا لی

جاری ہے

دوستوں سے شیئر کریں

تبصرہ کریں