ناول تیری چاہت قسط نمبر8

تیری چاہت

 

 

 

ناول تیری چاہت

ناول

پروین

قسط 8

شام ہوگئی تھی وو صبح سے گیا ہوا تھا لیکن ابھی تک واپس نہیں آیا تھا.. یہ کمینہ مجھے یہاں قید کر کے نہ جانے خود کہاں مر رہا ہوگا...

وو ٹائم دیکھ کر پریشان ہوتی جارہی تھی.. روحی کو وصی کی کوئی فکر نہ تھی بس اکیلے رہنے کا خوف تھا اور اب بھی اگر وصی نہ آیا تو اسے رات میں اس پورے گھر میں اکیلے رہنا پڑیگا جس کا سوچ کر اسے خوف ہونے لگا تبھی لاونج کا دروازا کھلنے کی آواز سنی اور دل میں ایک امید جاگی..

 چلو اس کو کوئی تو خیال ہوا.. وو من ہی من بڑ بڑائی..

ارم تم... جیسے ہی ارم کو اپنے کمرے میں اتا دیکھا وو اس سے بھاگ کے لپٹ گئی..

تم یہاں کیسے آئی اور امی کہاں ہے؟

روحی ادھر ادھر جھانک کر بولی اسکے چہرے پے تاثرات بتا رہے تھے کے ضرور پولیس کی مدد سے ارم اور گھروالے اس تک پہنچے ہونگے لیکن ایسا کچھ بھی نہیں تھا ارم صرف اسے خاموشی سے دیکھ رہی تھی

ارم تم یہاں کس کے ساتھ آئی ہو روحی نے جب کسی اور کی آہٹ نہ سنی تو حیرت زدہ ہوکر پوچھا..

میں یہاں اکیلی آئی ہوں..

تمہیں کیسے پتا چلا کے میں یہاں پر ہوں؟ اور دروازہ تو لاک تھا پھر تمہارے پاس چابی.....   خیر اب آ ہی گئی ہو تو چلو ہمیں جلدی سے نکلنا ہوگا کہیں وو کم بخت پھر سے آ نہ جائے..

روحی نے بغیر دیر کیے ارم کا ہاتھ پکڑا اور باہر کی جانب رخ کیا

وو جیل میں ہے روحی..

ارم نے اسکا ہاتھ چھڑاتے ہوے بولا...

روحی نے پہلے تو اسے آنکھیں ٹکا کر حیرت سے دیکھا پھر خوش ہوئی..

یہ تو بہت اچھا ہوا...

تم خوش ہو رہی ہو؟

ہان تمنے خبر ہی ایسی سنائی اچھا ہوا نا.. گنڈا گردی کرتا پھریگا تو ایسا ہی ہوگا

روحی کیا تمہیں اس پے ذرا سا بھی ترس نہیں آتا؟

ارم وہیں سوفی پے بیٹھ گئی اور حسرت سے روحی کو دیکھنے لگی..

اس ماں بیٹے نے جب میری عزت کی دھجیاں اڑا ئی تھیں تب مجہپے ترس  نہ آیا ان لوگوں کو اب تم مجھے یہ کہ رہی ہو کے میں ترس کھاوں حلانکے ترس کھانے لائق تو میں ہوں اب تک جو بھی ہو رہا ہے سب میرے ساتھ ہی ہورہا ہے میں نے کسی کے ساتھ کچھ نہیں کیا وو جہاں بھی ہے اور جو بھی بھگت رہا ہے سب اسکے  اپنے کیے کا ہے.. اور تم مجہپے ترس کھانے کے بجاے اسکی حمایت کرنے لگی ہو

وو ارم کے پاس بیٹھ کر بولی..

سچ بولوں تو مجھے تمپے اس وقت بلکل بھی رحم نہیں آرہا کیونکے تم نے اپنے آپ خود کو اس جگہ کھڑا کیا ہے لیکن وصی کا اس میں کوئی قصور نہیں تمنے خود اسے اکسایا ہے یہ سب کرنے کو

ارم کا لہجے میں اپنی مخالفت دیکھ کر روحی چونک گئی تھی..

تم اسے اپنا دشمن سمجتی ہو لیکن تمہیں پتا ہے اسے کتنی پرواہ ہوتی ہے تمہاری جب سے تم گاؤں سے واپس آئی ہو تب سے کوئی ایسا دن نہیں جب وصی نے مجھسے تمہاری خبر اور خیریت نہ پوچھی ہو...  تم میرے ساتھ جب بھی ملی اسکی برا ئیاں کرتی رہی اور وو ہر بار تمہارے آنے والے وقت کے لیے پریشان رہتا.. تمہاری دوبارہ سے پڑھائی شروع کرنے میں بھی وصی کی ہی ضد تھی اس لیے میں دن رات تمہیں بولتی رہتی تھی ورنہ میں اپنی طرف سے ایک دو بار بول کے چپ ہوجاتی وو وصی ہی تھا جو میرے ذریعے تمہیں اکساتا تھا اپنی زندگی دوبارہ جینے کو..

ارم نے شکایت بھرے لہجے میں اسے حقیقت بتائی تھی جس سے روحی انجان تھی..

جسے سن کر وو تھوڑا حیران ضرور ہوئی لیکن پھر خود کو سنبھال لیا..

اور وو وصی ہی ہے جسنے میری زندگی میں زہر بھی گھول دیا... خود ہی آگ لگاتا ہے اور پھر بھجانے چلا اگیا...

روحی نے غصے یاد دلانے والے انداز سے بولا

اس بات کا کیا ثبوت ہے کے سائرہ انٹی نے جو کہا وو سچ ہے؟ تمنے یہ بات وصی سے تو نہیں سنی نہ

کیا مطلب کیا ثبوت ہے اس وقت جب میں کپڑے بدلنے حویلی گئی تھی تو وصی کو کیا ضرورت تھی میرے پیچھے آنے کی چلو مان لیا اسے کوئی کام یاد اگیا ہوگا لیکن وو میرے کمرے میں کیوں آیا اسنے مجھے اس حالت میں

وو بولتے ہوے چپ ہوگئی اسنے اپنی آنکھیں بھینچ لیں..

کل تک تو تم اس بات پے کوئی سوال نہیں اٹھا رہی تھی کے وصی کیسے آیا کیوں آیا اسلیے کے تمہیں اس پر پورا یقین تھا کے وصی ایسی کوئی حرکت نہیں کرسکتا لیکن اسکے بعد تمہارے من میں یہ شک سائرہ انٹی نے ڈالا ہے جو کے تمہارے من میں ایک بیچ بویا گیا اور اب نفرت کا پودا اگ آیا ہے.. کم سے کم ایک بار تو وصی سے پوچھ لیا ہوتا جان نے کی کوشش کی ہوتی کے کیا اسکا کوئی قصور ہے بھی یا نہیں..  تمہاری تائی کا رویہ تو ویسے بھی تمہارے ساتھ اچھا نہیں تھا اسلیے انکے کسی ایسے سلوک پے تمہیں شاید جلدی ہی یقین ہوجانا چاہیے تھا لیکن وصی کے معاملے میں تمہیں اتنی جلدی بد ظن نہیں ہونا چاہیے روحی.. اور آنٹی کی باتوں میں کتنی سچائی تھی اسکا ثبوت تو تم دیکھ ہی چکی ہو انہوں نے تمہیں یہ طعنہ دیا تھا نہ کے تم کسی کی بیوی بن کر نہیں رہ پاؤ گی وصی تمہیں کبھی وو درجا نہیں دیگا لیکن یہ دیکھو وصی تو سبکے سامنے تمہیں اپنی بیوی مان رہا ہے اور اب اس وجہ سے وو سزا بھی کاٹ رہا ہے حلانکے اسنے کوئی گناہ بھی نہیں کیا وو اگر اب بھی تمہیں رسوا کرنے کا ارادہ رکھتا ہوتا تو کیوں اپنی زندگی کو مشکل میں ڈال رہا ہوتا؟

ارم نے اسکا ہاتھ پکڑ کر پوری توجہ سے بولا...

اسکے لیے کوئی مشکل کام نہیں ہے ایک بار اگر بول دے کے تم اسکی بیوی نہیں ہو اور تمہیں اپنی ماں کے گھر چھوڑ دے پھر وو جیل سے آزاد ہوجاۓگا بعد میں بھی اسے کوئی پرواہ نہ ہوگی لیکن ذرا سوچو اسکے بعد تمہارا کیا ہوگا کیا تم کسی اور کی بن پاؤگی؟ جو کچھ سائرہ آنٹی چاہتی ہیں پھر تو وہی ہوجاۓگا تمہاری اس ضد اور انا کی وجہ سے وصی نہ تو تمہیں گھر میں رکھےگا اور نہ ہی تمہیں طلاق دیگا اس صورت میں تو جیت سائرہ آنٹی کی ہی ہوگی.. اور یوں تم بھی اسی کی مدد کر رہی ہو جتانے میں...

ارم کا ایک ایک لفظ اسکے من کو چبھا تھا وو اپنے آنسوں روک نہیں پائی تھی اسے سمج نہ آیا تھا وو کیا کرے..

دیکھو روحی پہلے بھی تمنے اسکے ساتھ سب کے سامنے برا سلوک کیا جس کا رد عمل تم دیکھ چکی ہو اب تمہارے گھر والوں کی وجہ سے وو جیل میں ہے... تم اسکی منکوحہ ہو اس بات کو تم جھٹلا نہیں سکتی

ارم نے اسکے آنسوؤں پونچتے ہوے سمجھایا...

تم کہنا کیا چاہتی ہو؟

روحی نے اسکا اشارہ نہ سمجھتے ہوے بولا..

میں چاہتی ہوں تم پولیس میں جاکر یہ کیس خود ختم کرواؤ کے تمہیں اغوا نہیں کیا گیا تم اسکی بیوی ہو اور خود مرضی سے اسکے ساتھ آئی ہو..

ارم کی بات سن کر روحی نے آنکھیں بڑی کرلیں اور اسے گھور نے لگی...  جیسے ارمنے  اس سے کسی نا ممکن کام کرنے کو کہ دیا...

روحی سمجنے کوشش کرو اور ٹھنڈے دماغ سے سوچو، صبح سے لیکر انکل  وسیم نکاح نامہ حاصل کرنے کی بھگ دوڑ میں لگے ہوے ہیں جیسے ہی وو مل جاۓگا وصی آزاد ہوجاۓگا لیکن اسکے بعد سوچو وصی کا رد عمل تمہارے گرد کیا ہوگا اور وصی کو تمسے زیادہ اچھی طرح بھلا اور کون جانتا ہے کے وو جب غصہ اور جذباتی ہوجاتا ہے تو کیا کر بیٹھتا ہے... اس لیے بہتر یہی ہوگا تم میرے ساتھ چلو تھانے...

ارم اسکی طرف التجایا نظروں سے دیکھ رہی تھی...

  اور رہی بات وصی کے اس گناہ میں ملوث ہونے یا نہ ہونے کی تو اسکے لیے بھی یہی بہتر رہیگا کے تم اس سے ایک دفعہ بات کر کے دیکھو کیا پتا سائرہ آنٹی نے تمہیں اس سے بد ظن کرنے کے لیے اپنے گناہ میں وصی کا نام بھی شامل کر لیا ہو.. کیوں کے وصی کا ہر بار تمہاری جانب فکر مند ہونا اس بات کو تر دید کرتا ہے کے وو کبھی تمہارے ساتھ غلط کر سکتا ہے... اس لیے کبھی ایک مرتبہ اس موضوع پے تم بات کرکے دیکھو اور اس غلط فہمی کو سلجھاؤ...

ارم کی بات کو روحی خاموشی سے  بغور سن رہی تھی...

*****

وصی کو جیل سے باہر نکال کر آفیس میں لے جایا گیا تھا...

چلیں آپ پر سے کیس ختم ہوگیا ہے آپ جا سکتے ہیں وصی کو افسر نے اپنے پاس بیٹھا کر ادب کے ساتھ بات کرتے ہوے بولا..

وصی کہنے کو تو جیل میں تھا لیکن اسکے باپ کی کافی ساری عزت اور شہر میں نام تھا پولیس میں بھی جان پہچان ایک شریف آدمی کے طور پر تھی اس بنیاد پر اس کے ساتھ مجرموں  والا کوئی سلوک نہیں کیا گیا تھا لیکن چاہے سؤ سکھ ہی کیوں نہ ہوں پھر بھی جیل جیل ہوتی ہے اور وو صبح سے لیکر شام تک وہیں قید تھا... وصی انسے ہاتھ ملاتے ہوے رخصت ہوا باہر اکر ادھر ادھر وسیم کو دیکھنے لگا لیکن اسے وہاں صرف ایک گاڑی نظر آئی..قریب پہنچا تو ڈرائیونگ سیٹ پر ارم بیٹھی تھی جس نے فرنٹ سیٹ پر بیٹھنے کا اشارہ کیا وو بیٹھ گیا...

ارم تم گئی تھی روحی سے ملنے؟ وو ٹھیک تھی نہ اور کھانا کھایا تھا اسنے؟

  گاڑی میں بیٹھتے ہی اسنے پہلا سوال روحی کے بارے میں کیا اسکے آواز سے روحی کے لیے فکر ظاہر ہورہی تھی وصی نے ہی ارم کو اس گھر کا اڈریس اور چابی دیکر وہاں بھیجا تھا تا کے روحی کو اکیلے میں کوئی دکت نا ہو...

ہاں ہاں ٹھیک تھی وو اور میں نے اس سے کھانے کا پوچھا ہی نہیں.. ویسے یہ نہیں پوچھا تمنے کے تم جیل سے باہر کیسے آے؟

ارم نے منہ ٹیڑھا کر کے جواب دیا اور بات بدلی..

ہاں میں یہ ہی سوچ رہا ہوں کے پاپا نے جب کیس ختم کروا دیا تو مجھے لینے کے لیے رکے کیوں نہیں...وصی نے سوچ میں پڑتے ہوے بولا..

کیونکے وو اس وقت یہاں آے ہی نہیں تھے تو ر کتے کیسے..

ارم نے گاڑی ڈرائیو کرتے ہوے بولا...

کیا مطلب؟

وصی. نے بھنویں اچکائی...

تمہیں چھڑانے تمہارے پاپا نہیں بلکے تمہاری مسز آئی ہوئی ہے جو کے پیچھے بیٹھی کب سے ہماری باتیں سن رہی ہے..

ارم نے بولتے ہوے پیچھے اشارہ کیا اور وصی فورن گردن موڑ کر دیکھنے لگا جہاں  پیچھے کی سیٹ پر روحی بیٹھی تھی وو کچھ پل کے لیے اسے حیرت سے دیکھتا رہ گیا اور روحی نے بھی اسے دیکھا لیکن فورن نظر جھکا دی..

روحی نے پولیس کے سامنے اپنا بیان دیتے ہوے کیس کو ختم کیا ہے اب تم روحی کا شکریہ گھر پہنچ کر ادا کردینا..

اچھا کیا کہا روحی نے ؟

وصی نے ٹیڑھی آنکھ کرکے اسے دیکھ کر دلچسپی سے پوچھا..

یہی کے وو میرا شوہر ہے اور میں اپنی مرضی سے اسکے ساتھ گئی تھی مجھے کسی نے اغوا نہیں کیا وغیرہ وغیرہ..

ارم کی بات سن کر وصی کے مرجھا ے ہوے چہرے پر عجیب سی چمک اٹھنے لگی تھی اور وو مسکرا نے لگا تھا...

________

ارم نے دونوں کو گھر ڈراپ کردیا اور وو اپنے گھر چلی گئی دونوں اب اندر کمرے میں آگئے اور کافی دیر تک ایک دوسرے سے بات نہ کی تھی وصی نے گھر پے فون کر کے بتا دیا تھا کے وو جیل سے باہر اگیا ہے...

صبح سے لیکر جیل میں تھا تمہاری خاطر اور تم ہو کے چاۓ پانی کا بھی نہیں پوچھ رہی کسی بیوی ہو یار...

وصی تھکن سے چور بیڈ پے لیٹ کر اسے چھیڑتے ہوے بولا وو اسکے سامنے ہی صوفہ پر بیٹھی تھی

پوچھنا تو تمہیں چاہیے مجھسے، کیوں کے تم آزاد ہوچکے ہو اور میں اب بھی قید میں ہی ہوں..

روحی نے طنزیہ بولا..

اپنے گھر میں کوئی قید نہیں ہوتا

وصی نے نظر ملاتے کہا..

زبردستی گھر نہیں بنتے..

روحی نے بغیر دیکھے بولا..

تو پیار سے بنا لینگے دونوں مل کے بس اب مجھے ہر بار زبردستی پے مجبور مت کرنا ورنہ تم تو جانتی ہو

 وصی وہاں سے اٹھ کر واشروم چینج کرنے چلا گیا کچھ دیر بعد فریش ہوکر جب باہر نکلا تو روحی اسی جگہ بلکل کھوئی کھوئی اور اداس بیٹھی تھی تبھی وصی کو یہ احساس شدت سے ہونے لگا کے وو کل سے اسی لباس میں ہے کچھ چینج نہیں کیا کہنے کو یہ اسکا اپنا گھر ہے لیکن اسکی ضرورت کی کوئی چیز موجود نہ تھی.. تبھی وصی کو شرمندگی ہونے لگی وو اسکے پاس بیٹھ گیا اسے اپنے پاس اتے دیکھ وو مٹھیاں بھینچ کر گھبرانے لگی..

روحی چلو ہم بازار چلتے ہیں تم اپنی ضرورت کی چیزیں لیلو پھر اسکے بعد رات کا کھانا بھی کھا لیتے ہیں وہیں پر..

وصی نے اسکی حالت دیکھ کر ہمدردی سے بولا

میں کہیں نہیں جا رہی اپنے یہ شوق جا کر کسی اور سے پورے کرنا مجھسے اس قسم کی کوئی امید بھی مت رکھو تم.... تمہیں شوہر تسلیم کر لینا میری مجبوری تھی ورنہ مجھے کوئی شوق نہیں تمہارے ساتھ رہنے کا میں بس ایک سمجھوتہ کر رہی ہوں اور تم اس غلط فہمی میں نہ رہنا کے میں نے دل سے تمہیں اپنایا ہے..

وو غرائی تھی...

مجھے کوئی شوق نہیں ہے تمہیں باہر لے جاکر گپیں لڑ انے کا.. تمنے حالت دیکھی ہے اپنی ایسا لگتا ہے سالوں سے ایک ہی لباس پہنے بیٹھی ہو..  اب میری جینز تو تم پہنو گی نہیں ظاہر سی بات ہے بازار چل کے کپڑے خریدنے پڑینگے نہ...

تم مجھے امی کے پاس لے چلو

روحی نے اسکی بات سن کر فورن التجا کی...

وصی کا موڈ جو کے نارمل ہوچکا تھا اسکے چہرے پے غصے کے آثار دکھائی دینے لگے وو روحی کو صرف گھورنے لگا تھا اور سر نفی میں ہلا دیا

 روحی جانتی تھی وو نہیں مانے گا وو بے بسی سے اسے دیکھنے لگی

امی بہت پریشان ہونگی وصی پلیز تم جانتے ہو انکی حالت کو... مجھے ایک بار انسے ملنا ہے پھر تم جیسا بولو میں ویسا کرونگی

روحی کی آنکھوں سے آنسوں جاری ہوے..

پتا نہیں کیا چل رہا ہے تمہارے من میں اور اگر تمنے وہاں جاکر کوئی دھوکے بازی کی تو؟

وصی نے بھنویں اچکاتے کہا..

آئ پرومس میں بس امی سے مل لوں اسکے بعد تمہارے ساتھ واپس آجاوون گی..

روحی کی بات سن کر وصی کچھ پل غور کرنے لگا اور پھر چلنے پر آمادہ ہوگیا...

****

رات ہوچکی تھی  وو اسے گھر لے آیا وصی نے گاڑی گیٹ پر روکی اور روحی کو اندر جانے کا بولا

روحی میری جان وو اسے دیکھ کر ہی لپٹ گئی دونوں ماں بیٹی نے کچھ دیر آنسو بہاۓ اور ایک دوسرے کا حال چال پوچھا..

روحی کیا واقعی تمنے تھانے جاکر وصی کے حق میں بیان دیا تھا؟

مریم نے تحقیقی انداز سے پوچھا..

اور روحی نے سر اثبات میں ہلایا..

کیا تم اپنی مرضی سے اسکے ساتھ رہنا چاہتی ہو یا پھر  ان لوگوں نے کوئی زبردستی کی ہے تم پر بیان دینے کے لیے

مریم کو فکر ہوئی..

نہیں امی کسی نے کوئی زبردستی نہیں کی میرے ساتھ، اور ویسے بھی ہر بار تو میرے لیے قسمت نے ہی فیصلہ کیا ہے، میری مرضی کا کہاں سوال اٹھتا ہے جیسے نکاح کو قسمت کا لکھا سمج کر تسلیم کرنا پڑا ویسے ہی اس رشتے کو بھی نہ چاہتے ہوے قبول کرنا پڑا... اب قسمت جہاں لے جاۓ چلتی جا رہی ہوں میری مرضی تو شاید میری قسمت میں ہی نہیں ہے..

وو بے بسی سے سر جھکاے اپنی بے بسی بیان کر رہی تھی

صبر سے بڑا کوئی ہتھیار نہیں ہوتا اور دیکھنا ایک دن تمہیں اسی صبر پے ناز ہوگا..

مریم نے اسکا ماتھا چومتے ہوے بولا

وصی نے تمہیں یہاں کیسے چھوڑ دیا وو کہاں ہے؟

وو باہر گاڑی میں میرا ویٹ کر رہا ہے..

***

وصی تمہیں امی اندر بلا رہی ہین...

وو گاڑی سے ٹیک لگاۓ کھڑا اسکا ویٹ کر رہا تھا تبھی روحی نے اسے پیغام پہنچایا

مجھے؟ کیوں؟

وو تھوڑا گھبرا کر بولا..

ہان چلو اندر..

روحی نے اندر کی جانب مڑ کر بولا..

سنو کہیں تم لوگوں نے مجھے پھنسا نے کا کوئی پلان تو نہیں بنایا..

ڈر تو ایسے رہے ہو جیسے بہت بڑے معصوم ٹھہرے..

اسنے ٹوکا..

اور ویسے کل تک تو بڑے پوزین مارے جا رہے تھے… کیا ہوگا اگر کوئی پلان بنایا بھی ہوگا تو تمہارے پاس تو پستول ہے نہ وو اٹھا کر مار دینا سب کو..

وو میں نہیں لایا آج

کیوں ایک دن جیل میں رہ کر نکل گئی ساری ھوا..

نہیں اب سمج آگئی ہے بیوی کو پستول سے نہیں پیار سے ڈرایا جاتا ہے..

اسکی اس بات پر روحی رک کر اسے شوخی سے گھورنے لگی اور وو آگے کی جانب بڑھ گیا، دونوں ایک دوسرے کو ٹوکتے ہوے اندر پہنچےتھے روحی اپنے کمرے میں  چلی گئی اور وو مریم کے پاس اکر کھڑا ہوگیا جو کے لاؤنج میں اسکی منتظر تھی...

بیٹھو وصی

مریم نے بیٹھنے کا اشارہ کیا اور وو بیٹھ گیا

کیسے ہو ..

میں ٹھیک ہوں تائی امی آپ کیسی ہیں

وصی سر جھکاے تھا وو مریم سے نظریں نہیں ملا پارہا تھا..

تمسے یہ امید نہیں تھی وصی تم تو مجھے بیٹوں کی طرح عزیز تھے تم پر بہت ناز تھا مجھے بیٹا پھر تمنے ایسا کیوں کیا..

مریم نے اسے دہائی دیکر بولا..

تائی امی میں اب بھی اپکا بیٹا ہوں اور ہمیشہ رہونگا میں مانتا ہوں میرا رویہ غلط تھا لیکن یہ سب میں صرف میرا نہیں روحی کا بھی قصور ہے اسنے خود یہ حالات پیدا کیے اور مجھے مجبور کیا،  آپ نے دیکھا نہ ان چند مہینوں میں کس قدر اسنے میرے ساتھ سلوک کیا ہے  حلانکے میں تو اسکا مجرم نہ تھا پھر بھی وو مجھے نہ جانے کس جرم کی سزا دے رہی ہے.. آپکو پتا ہے اس دن اسنے بیچ سڑک جو تماشا کیا میری کتنی انسلٹ کی..اسکا حق کس نے دیا تھا اسے..

وصی شکایت لےکے بیٹھا تھا..

میں مانتی ہوں اسنے غلط کیا اسے ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا، اسکا رویہ تمہارے ساتھ بدلہ سا ضرور ہے لیکن اس سب کے زمیدار تم خود ہو وصی یہ لڑائی تمہاری شروع کی ہوئی ہے جس کے بدلے میں تم روحی کا رد عمل دیکھ رہے ہو..تمنے اگر اسدن گاؤں میں وو حرکت نہ کی ہوتی تو آج روحی کو یہ دن نہ دیکھنے پڑتے

مریم نے غصے کی حالت میں بولا..

 آپ یہ کہنا چاہتی ہیں کے اس سب کا زمیدار میں ہوں.. آپ ایسا سوچ بھی کیسے سکتی ہیں کے میں ایسا گھٹیا کام کر سکتا ہوں..

وو مریم کی بات سن کر ہڑ بڑا اٹھا..

کم سے کم مجھے آپ سے یہ امید تو ھرگز نہ تھی .. یقین کیجیے تائی امی اگر کوئی بھی روحی کی طرف میلی آنکھ سے دیکھتا یا اسکی عزت پے ہاتھ ڈالتا تو کوئی اور اسکا دفاع کرے یا نہ کرے لیکن میں آپکو سب سے پہلے اسکے ساتھ کھڑا دکھائی دیتا.. اگر  اس دن گاؤں میں ہوے حادثے کے پیچھے  کسی بھی  انسان کا  ہاتھ ہوتا تو میں اسے زندہ نہ چھوڑتا...  لیکن یہ محض ایک حادثہ تھا جو کے ہماری زندگیوں میں طوفان برپا کرنے اگیا تھا جو کے شاید قدرت کی طرف سے ہماری تقدیر میں لکھا گیا تھا بھلا اس میں میری کیا غلطی تھی

وو بے باکی سے بول رہا تھا اسنے بات کرتے ہوے ایک بار بھی نظر نہیں پھیری تھی وو بلکل سچ بول رہا تھا جسکا اندازہ اب مریم کو بھی ہونے لگا تھا..

روحی دور سے کھڑے اسکی باتیں سن رہی تھی اور اسکے گالوں پے آنسوؤں کی قطاریں چل پڑی تھیں..

دوستوں سے شیئر کریں

تبصرہ کریں