میں کل رویا تھا پاکستان کے لیے

پاکستان وزیر اعظم

پاکستان

نورالہدی شاہین

 

میرے بہت سارے فیس بک فرینڈز آج وزیر اعظم عمران خان کا خطاب سن کر آنسووں پر قابو نہ پا سکے اور اس کا اظہار سوشل میڈیا پر بھی کردیا جس پر میں نے عادت سے مجبور ہلکا سا مزاحیہ تبصرہ داغ ڈالا کہ "یہ نیا ٹرینڈ ہے بھئی، خطاب سن کر آنکھوں میں آنسو آگئے"
کچھ دوستوں نے توجہ دلائی کہ "رونے" کے لیے دل کا صاف ہونا چاہیے۔ دلوں کے حال تو خیر اللہ ہی جانتا ہے اور آپ روئے نہ روئے یہ بھی آپ جانے آپ کا رب جانے۔
لیکن میں آج کی تقریر سن کر نہیں رویا۔ خوش ضرور ہوا ہوں۔ امید بھی پیدا ہوگئی ہے۔ در اصل میں کل رویا تھا۔ اس لئے کہ جب عمران خان نے اپنی کابینہ کا اعلان کیا کہ تو 15 وزرا میں سے 9 پرویز مشرف کی کابینہ کے ارکان نکلے اور 5 ایڈوائزرز میں بھی 3 مشرف کے کاسہ لیس رہے ہیں۔

اور میرے رونے کے گواہ یہاں فیس بک پر ہی موجود ہیں۔ طاہر اور آصف میرے ساتھ تھے۔ میرا موڈ اس قدر آف ہوا کہ رات کو جب معمول کے مطابق طاہر آیا تو میں ان کے ساتھ بیٹھنے کے لیے باہر نہیں گیا۔ پھر وہ ہوٹل سے اٹھ کر میرے گھر آیا تو ہم کچھ دیر بیٹھے اور میں ہر دو منٹ بعد یہی بات دہراتا رہا کہ خان صاحب نے ہماری تقدیر کیسے لوگوں کے سپرد کردی۔
نوٹ: یہ تحریر رنگ میں بھنگ ڈالنے کے لیے نہیں ہے۔ ایسے ہی رونے سے بات نکل گئی۔ اب خان صاحب کو اپنی تقریر پر عمل کرکے دکھانا ہوگا۔ ورنہ ہم ہیں۔ سوشل میڈیا کی دانشوری ہے اور نواز شریف کی جگہ عمران خان ہوں گے جبکہ ن لیگیوں کی جگہ انصافینز ہوں گے اور ان کے "فرمودات عالیہ"۔

دوستوں سے شیئر کریں

تبصرہ کریں