مزاحیہ تحریر از کشف بلوچ

مزاحیہ تحریر

تحریر: کشف بلوچ
موضوع: قائم علی شاہ
شہر: ڈیرہ اسماعیل خان

مزاحیہ

ویسے تو ہمارے سیاست دان اپنے کام سے کم اور حرکتوں سے زیادہ دنیا بھر میں مشہور ہیں۔
مگر جو شہرت سائیں قائم علی شاہ کو نصیب ہوئی وہ شاید ہی کسی کے حصے میں آئی ہو۔
سائیں آئے روز ایسے مزے دار چٹکلے چھوڑتے ہیں کہ بعض کمزور مثالے والے خواتین و حضرات تو باتھ روم میں جا کر ہی کٌھل کر کھلکھلا سکتے ہیں ۔
پچھلے دنوں ہمارے جاننے والے نے جو کہ ایک مشہور و معروف لکھاری ہیں۔حیران رہ گئے جب سائیں نے نہ صرف ان کا ناول پڑھا بلکہ اپنا تبصرہ بھی انہیں ای میل کیا۔
لکھا تھا ڈئیر شاعر !!
پچھلے دنوں آپ کا ناول ”لونگ تے لاچی“ پڑھا۔اور یقین مانیں کہ ویسا ہی لطف آیا جیسا آپ کا پچھلا ناول ”خانی “ پڑھ کر آیا تھا۔
بیانیہ اتنا جاندار تھا کہ مجھے ہر منظر اپنے سامنے ہوتا دکھائی دیا۔

آپ نے بڑی خوبصورتی اور چابکدستی سے اس سین کی منظر نگاری کی جب فہد مصطفی،ڈونلڈ ٹرمپ اور وسیم اکرم نے آخری چند سیکنڈ میں گول کرکے مخالف ٹیم کو کبڈی میں ہرا کر فیفا ورلڈکپ جیت لیا۔
اتنے آنسوٶں تو میرے ڈرامہ سیریل ”ٹائی ٹینک“ کے اس سین پر نہیں نکلے تھے جب نبیل کے مرتے ہی میسی کا مشہور گانا ”کسے دا یار نہ وچھڑے“ لگا تھا۔
سنا ہے اس مشہور ِزمانہ ڈرامہ جس نے ترکی کی ڈرامہ انڈسٹری کو دوام بخشا تھا کے ڈائریکٹر عاطف اسلم آج کل انگلینڈ میں چنگ چی چلا رہے ہیں۔
ناول کی ہیروئین کا کردار ہو بہو میرا جی سے مشابہہ تھا۔

ہمسایہ ملک بنگلہ دیش میں شاہد آفریدی کے ساتھ رئیس فلم میں میرا جی نے ایسی ہی شاندار کارکردگی دکھا کر آدم جی ایوارڈ بھی جیتا تھا۔
۔البتہ ناول کا ہیرو جیکی چن ویسا کردار نبھانے میں ناکام رہے جیسے اس نے فلم مولا جٹ میں ادا کیا تھا۔
ناول میں ولن کے کردار کو پڑھتے ہوئے نہ جانے کیوں مجھے ہولی وڈ اداکار شفقت چیمہ یاد آتا رہا۔جس کے ساتھ لاہور میں عین نیاگرا فال کے سامنے میں نے سیلفی بھی لی تھی۔
جملے نہایت عمدہ اور چاشنی میں اس قدر لتھڑے ہوئے تھے کہ چیونٹیوں نے مجھے سے ایک دن پہلے ناول ختم کرلیا۔
آپ کی تحریر پڑھتے ہوئے میں بار بار سوچتا رہا کون کہتا ہے پاکستانی نوجوان نکمے ہوتے ہیں۔نواز شریف جیسا نوجوان ریلوے اسٹیشن پر چائے بیچ کر انگلینڈ کا وزیر اعظم بن سکتا ہے تو بلاول بھٹو برطانوی گلوکارہ معصومہ انور سے آواز مستعار لے کر جونک سٹوڈیو کے لیے قوالی کیوں نہیں گا سکتا۔
ناول میں ایموجیز کی واضح کمی محسوس ہوئی۔

آپ کا گانا مجھے اس لیے بھی پسند آیا کہ یہ بےحد سبق آموز تھا۔حلانکہ پچھلے دنوں آپ کے ہم عصر پاکستانی ادیب جناب باراک اوباما کی نئی کتاب ”میرا کالا ہے دلدار“ زیر مطائعہ تھی جس میں زبیدہ آپا نے رنگ گورا کرنے کے ایک سو ایک طریقے بتائے تھے۔مگر اس کے باوجود امانت چن ابھی تک شو پالش کے اشتہار میں پالش کا کردار ادا کررہا ہے۔
بعض اوقات لوگ تبصرہ کرتے ہوئے کہانی کے اسپائلرز بتا دیتے ہیں. اس معاملے میں دھیان رکھنا چاہیے کیوں کہ جب تجسس ختم ہوجائے تو قاری ناول نہیں پڑھ پاتا اس لیے میں کبھی نہیں بتاوں گا کہ ناول کا اہم کردار پروین مرد تھا یا عورت۔
پسندیدہ اقتباسات:”جو مزہ بھنگ میں ہے جھنگ میں کہاں “
”بیوی بیوی ہوتی ہے اپنی ہو یا پڑوسی کی“
آپ سے التماس ہے کہ اگلی بار فلم بنائیں تو میری فرمائشں پر سنی لیون کو ضرور کاسٹ کریں۔
تبصرہ نگار: قائم علی شاہ
سنا ہے یہ تبصرہ پڑھنے کے بعد وہ لکھاری ابھی تک بے ہوش ہیں ۔۔۔۔

دوستوں سے شیئر کریں

تبصرہ کریں