قومی پرچم کے ساتھ ناروا سلوک

قومی پرچم کے ساتھ ناروا سلوک

تحریر: محمدامین رضا ڈسکہ 

محمد امین رضا

نقطہ نظر

رات کے وقت قومی پرچم لہرانا اچھا شگون نہیں سمجھا جاتا یہی وجہ ہے کہ اہم قومی عمارات اور مقامات پر لگائے گئے پرچم شام ہوتے ہی سرنگوں کر دیے جاتے ہیں اور صبح ہوتے ہی انہیں دوبارہ لہرا دیا جاتا ہے
قارئین کرام اگر آپ کو کبھی واہگہ بارڈر پر پرچم سرنگوں کرنے کی تقریب دیکھنے کا موقع ملا ہوتو یقیناًآپ میرے ساتھ اتفاق کریں گے کہ بارڈر پر پرچم سرنگوں کرتے وقت پاک بھارت سرحد کے دونوں طرف موجود عوام کے دلوں کی دھڑکنیں تیز ہوجاتی ہیں اور ان کی عجیب کیفیت ہوتی ہے جوں جوں پرچم نیچے کی طرف آتا ہے ایسے محسوس ہوتا ہے کہ ہمارے دل بھی اس کے ساتھ زمین کی طرف سفر کررہے ہیں اور پرچم سرنگوں کرنے کی تقریب میں حصہ لینے والے پاک فوج کے جوانوں کی آنکھیں اور ہاتھ عجیب طلسماتی طریقے سے کام کررہے ہوتے ہیں پاکستان اور بھارت دونوں ملکوں کے جھنڈے بیک وقت سرنگوں کئے جاتے ہیں دونوں میں ایک انچ اور ایک لمحے کا بھی فرق نہیں ہوتا قومی پرچم ہماری آن ہماری شان اور ملی وقار کی علامت ہے جنگ کے دوران جس ملک کا پرچم سرنگوں ہوجائے وہ ،ک شکست سے دوچار ہوجاتا ہے قومی پرچم کا بلند اور بلند تر رکھنے کا جزبہ ہر پاکستانی کے دل میں موجزن ہے اور ہر محب وطن پاکستانی کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ اس کے قول وفعل سے سبز ہلالی پرچم پر کوئی آنچ نہ آنے پائے
اگست کا مہینہ شروع ہوتے ہی پاکستان کا ہربچہ، بوڑھا اور جوان آزادی کا جشن منانے کی تیاریوں میں مشغول ہوجاتا ہے یہ وہ مقدس مہینہ ہے جس میں ہمارے بزرگوں ، ماؤں، بہنوں، بیٹیوں اور جوانوں نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر کے ایک آزاد ملک اسلامی جمہوریہ پاکستان کی بنیاد رکھی تاکہ یہاں آزادی اور خود مختاری کے ساتھ اسلامی شعائر کے مطابق زندگیاں بسر کرسکیں
جشن آزادی کی تیاریوں میں بچوں کا جوش وخروش دیدنی ہوتا ہے کوئی سینے پر جھنڈے کا اسٹیکر سجائے گھوم رہا ہوتا ہے تو کوئی جھنڈیاں خرید رہا ہوتا ہے گھروں، گلی ،محلوں اور چوکوں بازاروں کو سجا دیا جاتا ہے بڑا ہی روح پرور نظارہ ہوتا ہے لیکن یہ روح پرور نظارہ دیکھتے دیکھتے اچانک آنکھوں میں چبھن سی محسوس ہوتی ہے جیسے لذیذ کھانا کھاتے ہوئے کوئی کنکر دانتوں کے نیچے آگیا ہو چبھن اور تکلیف اس وقت ہوتی ہے جب ہم سبز اور سفید رنگ کے علاوہ دوسرے رنگوں کی قومی پرچم والی جھنڈیاں بازاروں میں سجی اور فروخت ہوتی دیکھتے ہیں ۔ قومی پرچم کسی ملک کے ملی وقار اور شان وشوکت کی علامت ہوتا ہے اور اس کے رنگوں اور ڈیزائن کے پیچھے بہت سے مقاصد اور محرکات کارفرما ہوتے ہیں ہمارے بزرگوں نے بھی قومی پرچم کے رنگوں کا چناؤ کرتے ہوئے نہایت سوچ بچار کے بعد سبز اور سفید رنگ کو حتمی قرار دیا ہوگا سبز ہلالی پرچم میں موجود سبز رنگ یہاں پر بسنے والے مسلمانوں کی نمائندگی کرتا ہے جبکہ سفید رنگ اقلیتوں کو ظاہر کرتا ہے جبکہ چاند ستارہ امن وسلامتی کی علامت ہے اس لئے ہمیں اپنا پرچم جان سے بھی زیادہ عزیز ہے اور کیوں نہ ہو سبز اور سفید رنگ ہمارے پیارے نبی حضرت محمد ﷺ کے بھی پسندیدہ رنگ ہیں اور اس نسبت سے ان کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے
گزشتہ چند برسوں سے ہمارا سبز ہلالی پرچم اپنی اصل شکل اور رنگت کھوتا جارہا ہے بازاروں مارکیٹوں اور گلی محلوں کی دوکانوں پر سبز اور سفید رنگوں کی بجائے نیلی، پیلی، سرخ، سیاہ اور دیگر رنگوں کی قومی پرچم والی کاغذ کی بنی جھنڈیاں سرعام فروخت ہورہی ہیں علاوہ ازیں کپڑے کے بنے قومی پرچم پر بھی پیلے سنہرے سلور اور ملٹی کلر کے چاند ستارے بنے ہوئے ہیں جو اصلی پرچم کی جگہ فروخت ہورہے ہیں جنہیں دیکھ کر بچے پوچھتے ہیں کہ ان میں سے ہمارا اصلی قومی پرچم کونسا ہے مجھے تو ایسا لگ رہا ہے اس کے پیچھے کوئی لابی ہے جو سوچی سمجھی اسکیم کے تحت ایسا کام کررہی ہے
میں گزشتہ کئی برسوں سے اخبارات ورسائل اور سوشل میڈیا کے زریعے اعلیٰ حکام کی توجہ اس اہم اور نازک مسئلہ کی جانب مبذول کروانے کی کوشش کررہا ہوں مگر تاحال اس طرف دھیان نہیں دیا جارہا میرے چیخنے چلانے اور رونے دھونے کی آواز شائد حکومت کے ایوانوں اور اپوزیشن کے ٹھکانوں تک نہیں پہنچ سکی حکومت اور اپوزیشن میں سے کسی کو بھی قومی پرچم کے ساتھ ہونے والے اس ناروا سلوک کی پرواہ نہیں اور ہوبھی کیسے جو بھی حکومت آتی ہے اپنی کرسی بچانے کی فکر اور اپوزیشن جماعتیں حکومت کے خلاف محاذ آرائی میں مصروف رہتی ہیں اور دونوں فریقوں کو شائد یہی مسئلے سب سے بڑے نظر آتے ہیں انہیں نہ تو عوام کی فکر ہوتی ہے اور نہ ملک کی لیکن شائد انہیں یہ نہیں معلوم کے یہ جو کچھ بھی ہے ہمارے پیارے وطن پاکستان کی وجہ سے ہے اگر یہ وطن نہیں رہے گا تو ہماری شیروانیاں ، عہدے اور نام وشہرت سب ختم ہوجائے گا ۔اب عمران خان کے بقول نیا پاکستان بننے جارہا ہے اس لئے عمران خان اور چیف جسٹس آف پاکستان کو چاہئے اس اہم اور نازک مسئلہ سے نمٹنے کیلئے فوری عملی اقدامات کرتے ہوئے سبز اور سفید رنگ کے علاوہ دوسرے تمام رنگوں کی جھنڈیوں کی پرنٹنگ اور فروخت پر فوری پابندی عائد کردے اب دیکھنا یہ ہے کہ گزشتہ کئی سال سے اٹھائی جانے والی آواز حکومت کے ایوانوں اور چیف جسٹس آف پاکستان تک رسائی حاصل کرپاتی ہے کہ نہیں ۔۔۔۔*

دوستوں سے شیئر کریں

تبصرہ کریں