عید شاعری عید قرباں کے موقع پر چند اشعار

عید شاعری عید قرباں کے موقع پر چند اشعار

پردیس کی عید

عید شاعری

تیری کلائی عید کی شب تجھ سے پوچھے گی
چوڑیاں لے کر وہ اب تک کیوں نہیں آیا۔۔۔۔۔؟؟؟؟

جن راہوں سے تم گزرو
اُن راہوں کو بھی عید مبارک

اُس نے کہا عید آرہی ہے
میں نے کہا تیری یاد رُلا رہی ہے

اُسنے کہا عید مناؤگے
میں نے کہا کیا تم آؤ گے

‏اُسنے کہا رونا نا عید کے دن
میں نے کہا رُکتے نہیں آنسو تیرے بِن

اُس نے کہا اُداس نا ہونا عید کے دن
میں نے کہا کیسے گُزاروں یہ دن تیرےبِن

‏اُس نے کہا کب تک نا کروگے عید
میں نے کہا جب تک نا ہوگی تیری دید

میں گوشت دینے آؤں اگر تو
تم دروازے پر لینے آؤں گی نا..؟؟؟

بے بسی سے تجھے دیکھوں گا
هاتھوں کی مهندی دیکھاؤں گی نا۔۔؟؟

دیکھ کر میری دیوانگی جانا
سر جکا کر تم مسکراؤ گی نا۔۔؟؟

کیا دروازه تک محدود رکھو گی
تم مجھ کو اندر بلاؤگی نا۔۔؟؟

میری سهیلی کا بھائی هے آیا
یوں اماں سے تعارف کرواؤں گی نا۔۔؟؟

بھائی ﮐﻮ ﮔُﮭﻮﺭﯼ ﮈﺍﻝ ﮐﮯ ﺟﺎﻧﺎﮞ
میرے لیے ﮐﻮﮎ منگواؤ ﮔﯽ ﻧﺎ۔۔؟؟

ﺳﻨﻮ ﮐﻮﮎ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﮨﻮ ﮔﺎ
پھر میرے لیے ﭼﺎﮰ ﺑﻨﺎﺅ ﮔﯽ ﻧﺎ۔۔؟؟چائے نہیں پئیوں گا۔۔

ﯾﺎﺩ ﺁﯾﺎ ﭘﮭﭙﮭﻮ ﮔﮭﺮ بھی ﺟﺎﻧﺎ ﮨﮯ
ﺩﺭﻭﺍﺯﮦ تک چھوڑنے ﺁﺅ ﮔﯽ ﻧﺎ۔۔؟؟

ﺳﻦ ﭘﯿﺎﺭ ﻣﺤﺒﺖ ﺳﮯ ﭘﯿﭧ نئی بھرتا
بدلے میں ﮔﻮﺷﺖ بجھواؤ ﮔﯽ ﻧﺎ۔۔؟

دوستوں سے شیئر کریں

تبصرہ کریں