ظرف کی بات ہے

ظرف کی بات ہے

نورالہدی شاہین

اردو کالم

ظرف کی بات ہے

نقیب اللہ محسود کو جب فوج اور خفیہ اداروں کے لاڈلے راو انوار نے جعلی مقابلے میں قتل کیا تو پورے میڈیا سمیت تمام ادارے مکمل خاموش تھے۔ سوشل میڈیا پر آواز اٹھی اور اس قدر شدت سے اٹھی کے بڑے بڑوں کے پیروں تلے زمین گرم ہو گئی۔

بالآخر ذلالت کی حد تک کی شرمندگی سے بچنے کے لیے پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ جب نقیب اللہ شہید کے گھر پہنچے تو اس کے بوڑھے والد نے ان کو بڑے بھائی کی طرح عزت اور احترام دیا اور ماتھے پر ایک شکن لائے بغیر پختونوں کی روایتی مہمان نوازی کا مظاہرہ کیا۔ یہاں تک کہ نقیب کے بچوں کو باجوہ کی گود میں بٹھا دیا۔
حالانکہ نقیب شہید کا بوڑھا باپ اچھی طرح جانتا تھا کہ جس سانپ نے ان کے جوان بیٹے کو ڈسا ہے اس سانپ کو جنرل قمر جاوید باجوہ اور اس کے ماتحت لوگ دودھ پلاتے رہے اور آج تک پلا رہے ہیں۔ وہ چاہتے تو میڈیا کے سامنے جنرل باجوہ سے کم از کم احتجاج تو کرہی سکتے تھے۔ لیکن انہوں نے اپنی پختون ولی کا بھرم قائم رکھا۔

دوسری جانب کرنل شیرخان شہید کا بھائی انور شیر خان ہے۔ کرنل شیر خان کو بھارتی فوج نے شہید کیا اور بھارتی فوج کو یہ موقع جنرل مشرف کے ایڈوینچر کے شوق نے فراہم کیا۔
کرنل شیر خان بہادر پشتون تھا۔ ایک قدم پیچھے نہ ہٹا۔ آج انور شیر خان نے گھر آئے مہمان کو دھتکار کر اپنی پختون ولی مشکوک کردی ہے۔ یہ پختون روایات تو کیا بنیادی انسانی اخلاقیات سے بھی ماورا حرکت تھی۔
پختون معاشرے میں جب آپ کسی کا قتل کریں اور اپنے دشمن کی قبر پر جاکر بیٹھ جائیں تو ساری دشمنی ختم ہوجاتی ہے۔ کاش انور شیر خان 10 منٹ کے لیے پختون ولی ہی نبھالیتے۔ کیا پتہ اس خیر سگالی کے نتیجے میں فریقین کسی مصالحتی راستے پر چل پڑتے۔

دوستوں سے شیئر کریں

تبصرہ کریں