زندگی ہو جیسے ناول پہلی قسط

ذندگیہو جیسے

 

زندگی ہو جیسے

زندگی ہو جیسے

مصنف ایمان خان

قسط نمبر 1

پریشے پریشے

اٹھ جاٶ

دیکھو دن کے گیارہ بج رہے ہیں اور تم ابھی تک سو رہی ہو

نظالیہ بیگم نے پریشے کی کھڑکی کا پردہ پیچھے کرتے ہوۓ کچھ خفکی سے کہا

وہ کوٸی تیسری بار اسے جگا کے جاچکی تھی

لیکن اس پر کوٸی اثر نہیں ہوا تھا

پتہ نہیں یہ لڑکی اتنی سست کیوں ہے وہ سوچ کہ رہ گٸ

پریشے تم سے ہوں میں

انھوں نے قریب آکر پریشے کو جھنجھوڑا

اس نے اکتا کر کمبل پیچھے کیا

کیا مصیبت ہے امی

ایک دن تو کالج کی چھٹی ہوتی ہے وہ بھی آپ اجیرن کر دیتی ہے

اس نے منہ بناتے ہوۓ کہا

تو کیا ایک دن کی چھٹی میں بندہ پورا دن سویا رہے

انھوں نے بھی اسی انداز میں کہا

اور یہ کمرے کی کیا حالت بنا رکھی ہے

انھوں نے کمرے کا جاٸزہ لیتے ہوۓ کہا

جہاں جگہ جگہ کاغذ سلنٹیوں کے چھلکے

اور میلے کپڑے پڑے تھے

دادا جی اٹھ گۓ اس نے بالوں کو جوڑے کی شکل میں باندھتے ہوۓ پوچھا

ہاں اٹھ گۓ

انھوں نے ابھی تک ناشتہ بھی نہیں کیا ہے

انھوں نے سرسری انداز میں بتایا

کیا ؟

دادا جی نے ابھی تک ناشتہ بھی نہیں کیا تو آپ مجھے ابھی بتا رہی ہیں

اس نے جلدی جلدی اٹھتے ہوۓ کہا

تو کیا تم نٸ آٸی ہو

تم جانتی تو ہو کہ تمھارے دادا ابو تمھارے بغیر ناشتہ نہیں کرتے

انھوں نے بھی اسی انداز میں کہا

اچھا بس بس آپ تو ہر وقت لڑاٸی کے موڈ میں ہوتی ہیں

وہ تقریبا بھاگتی ہوٸی ان کے پاس سے گزری

اور یہ یہ

لڑکی دیکھ کے میں نے ابھی فرش دھویا ہے

لیکن یہ سننے سے پہلے ہی اس کا پاٶں پھسل چکا تھا اور وہ اوندھے منہ نیچے پڑی تھی

اور اب ہاۓ ہاۓ کر رہی تھی

کیا مصیبت ہو تم لڑکی

نظالیہ بیگم نے قریب آتے ہوۓ کہا

ہاۓ میں مر گٸ میرا پاٶں

میرا پاٶں

وہ اب اسے سہارہ دے کر اٹھ رہی تھی کہ خان صاحب بھی اس کا شور سن کر بھاگتے ہوۓ آۓ

پریشے میں ان کی جان تھی

ان کے لاڈلے مرحوم بیٹے کی آخری نشانی

کیا ہوا ہے پریشے کو

انھوں نے روتی ہوٸی پریشے کے قریب بیٹھتے ہوۓ کہا

بھاگ رہی تھی آپ کے پاس آنے کے لیے تو گر گٸ آپ جانتے تو ہیں اس کی جلد بازیوں کو

انھوں نے خان صاحب کو ساری بات بتاٸی خود وہ تیل گرم کرنے چلی گٸ

کیا ضرورت تھی اتنی جلد بازی کی

انھوں نے نرمی سے کہا

آپ جانتی تو ہیں کہ آپ کی یہ جلدبازیاں آپ کو کتنا نقصان دیتی ہیں

دیکھاٸیں پاٶں ذیادہ تو نہیں لگا

انھوں نے محبت سے کہا

اس نے چپ چاپ پاٶں آگے بڑھا دیا

انھوں نے ہاتھ لگا کہ دیکھا پاٶں تھوڑا سوجھ چکا تھا لیکن ذیادہ نقصان سے بچ چکی تھی

آپ تو یہاں سے اٹھ کر وہاں تک نہیں جاسکتی ہیں

ہم آپ کو شہر بھیجنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں

انھوں نے سرسری سے انداز میں گویا اس پر بجلی گرا دی

ویسے تو وہ روزانہ شہر کالج جایا کرتی تھی ان کے خاندان میں وہ پہلی لڑکی تھی کہ خانوں کے خاندان سے ہوتے ہوۓ کالج تک پڑھنے گٸ تھی

ورنہ ان کے خاندان میں بچپن میں ہی نکاح کر دیا جاتا تھا

اور پھر اتنی آذادی نہیں دی جاتی تھی

لیکن پریشے چونکہ خان صاحب کی لاڈلی پوتی تھی

تو اسے تھوڑی ضد کے بعد اس شرط پر اجازت دی گٸ کہ وہ ڈراٸیور کے ساتھ ہی آۓ گی اور جاۓگی

لیکن پریشے کو یہ جان کر حیرت ہوٸی کہ

دادا جی خود اسے شہر بھیجنے کی بات کر رہے ہیں

کیا دادا جی شہر

کیا آپ سچ کہہ رہے ہیں

بلکل سچ کہہ رہا ہوں تم شہر اپنی پھپھو کے گھر جارہی ہو ان چھٹیوں میں

کیا شازمیں پھپھو کے گھر کیا میں نے ٹھیک سنا وہ تو اچھل ہی پڑی

لیکن دادا جی ان کے ساتھ تو آپ کے تعلقات اچھے نہیں تھے

پریشے کی حیرت کی انتہا نہیں تھی

اسے یاد تھا کہ جب وہ چھوٹی تھی تو شازمین پھپھو شہر سے اس کے لیے ڈھیروں تخفے لے کے آتی تھی

ان کے ساتھ کا ایک کھڑوس بیٹا بھی ہوتا تھا جو جب بھی آتا تھا لڑتا تھا اور لڑاٸی کے دوران کچھ اتنے ذور سے پریشے کے بال کھینچتا تھا کہ اگلہ پورا ہفتہ پریشے کے سر میں درد رہتا تھا

لیکن پھر اچانک شازمیں پھپھو نے آنا ہی چھوڑ دیا

شروع شروع کے دنوں میں اس نے سب سے شازمین پھپھو کا پوچھا لیکن کسی نے اسے کچھ نہیں بتایا تھا

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جب جب اس میں شعور پیدا ہوا تو اس نے لوگوں سے سنا کہ کوٸی زمینوں کا چکر تھا

خان صاحب نے اپنے بھاٸی کے بیٹے کے ساتھ اپنی بیٹی کی شادی کرواٸی تھی

کہ وہ دونوں بندھے رہے گے

لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ انکی یہ غلط فہمی ختم ہوگٸ ۔

ان کے چھوٹے بھاٸی نے گاٶں چھوڑنے کی ضد شروع کر دی

اور جب خان صاحب نے مخالفت کی تو ان کے جھگڑے شروع ہو گۓ

اور ان کے بھاٸی ذبردستی بمعہ اپنے پورے خاندان شہر چلے گۓ

وہ دن اور آج کا دن نہ شازمین پھپھو یہاں آٸی تھی

نا وہ وہاں گے تھے

نہ ان کے درمیان کوٸی رابطہ تھا

اور اب جب اتنے عرصے بعد خان صاحب کے چھوٹے بھاٸی وفات پا چکے تھے تو شازمین پھپھو نے پھر سے رابطہ بحال کیا

اور اب وہ چاہتی تھی کہ پریشے کچھ دن ان کے پاس گزارے

تا کہ دوبارہ سے ایک تعلق کا شروع ہو سکے

ہاں وہ پرانی بات تھی نا اب آپ کی پھپھو آپ کو بلا رہی ہیں

انھوں نے اس کی حیرت ختم کی

ٹھیک ہے دادا جی پھر میں اپنی تیاری شروع کروں اس نے جوشسے کہا

اور ساتھ اٹھنے لگی

جیسے ہی پاٶں نیچے رکھا درد کی ایک ٹیس اٹھی

دادا جی دلچسپی سے دیکھنے لگے

لیکن پریشے آپ کا پاٶں ابھی ٹھیک نہیں ہوا

کچھ نہیں ہوتا دادا جی  ابھی تو دو تین دن ہیں چھٹیاں ہونے میں تب تک ٹھیک ہوجاۓ گا

وہ پرجوش تھی

میں تیاری شروع کر دیتی ہوں

لیکن اپنا خصوصی خیال رکھنا ہمیں آپ کی بہت فکر رہے گی

انھوں نے فکر سے کہا

آپ فکر ہی نا کریں دادا جی

میں اپنا خیال رکھ سکتی اب

اور وہ ایک دفعہ پھر گرنے والی تھی

اس نے بامشکل خود کو سنبھالا

وہ تو میں دیکھ رہا ہوں

وہ مسکراتے ہوۓ اٹھنے لگے تھے

آپ آرام کریں میری ایک میٹینگ ہے میں وہ اٹینڈ کر لوں شام میں ملاقات ہو گی

اس نے خوشی سے سر اثبات میں ہلا دیا

خان صاحب شام کی چاۓ پی رہے تھے ساتھ ہی نظالیہ بیگم بیٹھی تھی

جو چاۓ کے کپ کو گھور رہی تھی

وہ کب سے انھیں دیکھ رہے تھے

آخر وہ پوچھ ہی بیٹھے

کیا بات ہے بہو بیگم آپ مجھے کچھ پریشان لگ رہی ہیں

وہ ایک دم چونکی

کچھ نہیں ابا

بس میں سوچ رہی تھی پریشے اب جوان ہو گٸ ہے

شازمین اب اس رشتے کے بارے میں کوٸی بات کیوں نہیں کر رہی

انھوں نے فکرمندی سے کہا

اس نے پریشے کو بلایا تو ہے

انھوں نے اپنی بہو کی پریشانی دور کرنا چاہی

کیوں ابا

پریشے کیوں

اصولا تو ریان کو یہاں آنا چاہیے

شازمین کو باقاعدہ رسم کرنی چاہیۓ

یہ کیا بات ہوٸی کہ لڑکی جاۓ

وہ اس بارے میں بہت فکرمند تھی

بہو بیگم شازمین اس لیے بلا رہی ہے کہ اب وہ دونوں بڑے ہوگۓ ہیں تھوڑا  ایک دوسرے کو سمجھ لیں

پھر بات آگے بڑھاۓ

تم فکر نہ کرو

اللہ کرے ایسا ہی ہو

وہ اٹھنے لگی

پریشے کو کالج سے چھٹیاں ہو گٸ تھی اور اب وہ شہر جانے کے لیے بہت پرجوش تھی اس نے اپنا سارا سامان پیک کیا اور دادا جی کے کمرے میں گٸ

دادا جی اخبار پڑھ رہے تھے

پریشے کو دیکھ کر اٹھ کھڑے ہوۓ

تیار ہو گیا میرا بیٹا

جی دادا جی میں پوری طرح تیار ہوں

دادا جی مسکراۓ

پریشے اپنا بہت بہت خیال رکھنا اور سب سے بڑھ کر اپنی غزت کا

لڑکیوں کی غزت ایک نازک پھول کی مانند ہوتی ہیں اگر ایک بھی پتی ٹوٹ جاۓ تو سارا پھول بکھر جاتا ہے

ایک بیٹی کے کندھے پر تمام عمر ایک بوجھ رہتا ہے جس کو وہ تمام عمر اٹھاۓ پھرتی ہے

ابتدا۶ میں اس کے کندھوں پر اس کے باپ کی غزت کا بوجھ ہوتا ہے پھر شادی کے بعد اس کے شوہر کا پھر اس کے بیٹے کا

وہ شادی سے پہلے بھی شادی کے بعد بھی اپنے شوہر کی امانت ہوتی ہے

اور اپنے نکاح کے بارے میں آپ کو علم ہے

پریشے نے سر اٹھایا وہ بہت چھوٹی تھی جب اس کا نکاح اس کی پھپھو کے بیٹے سے کر دیا گیا تھا

اس کے بعد سے اس نے خود کو اپنے شوہر کی امانت ہی سمجھا تھا اور اس میں کبھی خیانت نہیں کی تھی

بلاشبہ وہ فیصلہ ہم بڑوں کا تھا اب تم لوگ بڑے ہو گۓ ہو

میں چاہتا ہوں کہ تم کچھ دن وہاں جا کر رہو وہ تمھارا شوہر ہے کچھ وہ تمھیں سمجھے کچھ تم اسے سمجھوں اگر تم لوگوں کو اپنے مزاجوں میں فرق محسوس ہو تو پھر ویسے ہی کیا جاۓ گا جیسا تم چاہو گی

انھوں نے اسے پیار سے سمجھایا

ٹھیک ہے دادا جی اب میں جاٶں

اسے ابھی بھی جانے کی جلدی تھی دادا جی نے اسے محبت بے شمار دی تھی

لیکن ساتھ ہی ساتھ اس کی غزت کا بھی بہت خیال رکھا تھا

کیونکہ ان کے نزدیک ہر لڑکی اپنے شوہر کی امانت ہوتی ہے

وہ جتنی بے وقوف تھی وہ اس کے بارے میں تھوڑے فکرمند بھی تھے لیکن وہ مطمٸین بھی تھے کہ وہ اپنے شوہر کے پاس جارہی ہے

گاڑی ایک کشادہ سڑک پر رواں دواں تھی پریشے اہت خوش تھی کہ وہ پہلی دفعہ شہر جارہی تھی اور سب سے بڑھ کر اپنے شوہر سے مل رہی تھی پتہ نہیں پھپھو نے اس بارے میں اسے بتایا بھی تھا کہ نہیں بہرخال وہ اب تھوڑی آذاد تھی یہی کافی تھا یہ ایک پہاڑی علاقہ تھا ایک کے بعد ایک موڑ آتا اور گاڑی گول داٸرے میں گھوم جاتی اور نیچے ایک بڑی کھاٸی دکھنے لگتی

وہ تھوڑا گھبراٸی تو آگے بیٹھے ڈراٸیور سے پوچھا یہ کون سی جگہ ہے

بی بی جی یہ ایبٹ آباد ہے

ہوں

اور ہم کہاں جارہے ہیں

ہم کاکول جارہے ہیں

ڈراٸیور نے تابعداری سے کہا

کاکول یہ کیسا نام وہ سوچ کہ رہ گٸ

.

وہ جیسے ہی پھپھو کے گھر پہنچی پھپھو اس سے بہت گرم جوشی سے ملی پھپھو آج بھی ویسی ہی تھی گھر کو بہت نفاست سے ترتیب دیا تھا پھوپھا باہر کے ملک تھے یہاں پھپھو اور ان کا بیٹا ساتھ رہتے تھے اور بیٹا انھیں کہیں نظر نہ آیا اور وہ پوچھ بھی نا سکی

جب وہ رات کا کھانا کھا چکی تو تب بھی وہ نہ آیا

اور پھپھو اسے سونے کا کہہ کر خود سونے چلی گٸ

وہ بھی اٹھی اور کمرے میں چلی گٸ

چونکہ کمرہ اوپر تھا تو اسے گرمی کا احساس ہوا

اسے سمجھ نہیں آٸی کہ کیا کرے

وہ اتر کے نیچے گٸ پہلے سوچا کہ پھپھو کے کمرے میں سو جاۓ

لیکن پھر یہ سوچ کر رک گٸ کہ پھپھو کی نیند خراب ہو گی

وہ گھر کا جاٸزہ لینے لگی

اسے پھپھو کے کمرے کے ساتھ والا کمرہ دکھا وہاں کوٸی نہیں تھا

اس نے سوچا ویسے بھی کمرہ خالی تھا وہ وہاں رہ سکتی تھی

صبح وہ پھپھو کو بتا دے گی یہی سوچ کر وہ کمرے میں چلی گٸ اور وہ بہت تھکی ہوٸی تھی لہذا جاتے ہی بیڈ پر ڈھے گٸ

وہ دبے پاٶں گھر کے اندر داخل ہوا اس کی جاب ایسی تھی جس میں وہ رات کو کافی دیر سے آیا کرتا تھا

لہذا اس کے کمرے کا ایک گیٹ باہر کی جانب بھی کھلتا تھا جس کی چابی وہ ہمیشہ اپنے پاس رکھتا تھا

اس نے چھت سے چھلانگ لگاٸی اور سب سے پہلے کپڑے تبدیل کیے

پھر بچھلے دروازے کی چابی نکالی اور دروازہ کھولنے لگا

کسی کے قدموں کی چاپ سے پریشے کی آنکھ کھل گٸ

پہلے تو وہ تھوڑا گھبراٸی لیکن

اگلے ہی پل اس نے قریب پڑی فروٹ باسکٹ سے چھری نکالی اور گیٹ کے سامنے کھڑی ہو گٸ

کمرے میں اندھیرا تھا صرف ناٸیٹ بلب کی مدھم روشنی تھی

ریان کی عادت تھی کہ وہ گھر میں آتے ہی پہلے فریش ہوتا تھا پھر کمرے میں جاتا تھا ابھی بھی وہ وردی کے بجاۓ سادہ سے حلیے میں تھا

اس نے جیسے ہی دروازہ کھولا اپنے روبرو کسی کو چاقو پکڑے دیکھ کر وہ چونک گیا

اس کی جاب ہی ایسی تھی کہ فوری ردعمل ظاہر کیا جاتا

اور آرمی والوں کو تو ویسے ہی ہمہ وقت دشمنوں کا خطرہ لگا رہتا ہے

اس نے اپنے خواسوں پر قابو پاتے ہوۓ ایک زوردار طمانچہ پریشے کہ منہ پردے مارا

چاقو اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر زمین پہ گر گیا

جاری

دوستوں سے شیئر کریں

تبصرہ کریں