زندگی ہو جیسے ناول قسط نمبر8

زندگی ہو جیسے

 

 

ناول زندگی ہو جیسے

اردوناول

 

از ایمان خان

Episode 8

دروازے پر مسلسل دستک ہو رہی تھی

شامیں بیگم جو اندر کچن میں کھانا بنا رہی تھی

ہانڈی میں چمچہ ہلا کر باہر کی طرف گٸ

جسے ہی دروازہ کھولا ان کے طوطے اڑ گۓ

آگے ان کے والد صاحب بہت سے تحفے تحاٸف کے ساتھ موجود تھے

ان کی آمد اتنی غیر متوقع تھی کہ وہ سنبھل ہی نہ پاٸی

بس ان کو دیکھے گٸ

کیا بات ہے ہمارے آنے سے کیا آپ کو خوشی نہیں ہوٸی انھوں نے شامین بیگم کے ایسے دیکھنے پر پوچھا

ارے نہیں ابو آٸیں آٸیں اندر آٸیں

وہ انھیں اندر لے کے آٸی پانی دیا

ارے ہماری پریشے کہیں نظر نہیں آرہی

انھوں نے سانس لیتے ہی پہلا سوال پریشے کے ہی متعلق کیا

اور پھپھو کو سمجھ نہ آٸی کہ وہ کیا جواب دیں

وہ ابو وہ سو رہی ہے

آپ کہیں تو اٹھا دوں

وہ جانتی تھی کہ ابو کبھی پریشے کو اٹھانے کا نہیں کہیں گے

نہیں ابھی تو دو دن میں یہی ہوں اٹھے گی تو مل لوں گا

کہہ کر وہ آرام سے ٹانگ پر ٹانگ رکھ کے بیٹھ گۓ

البتہ شامین پھپھو کا چین و سکون برباد کر چکے تھے

لیکن پھپھو کر بھی کیا سکتی تھی

سر ہلاتی ہوٸی باہر چلی گٸ

❤❤❤❤

پریشے اپنے خیمے سے باہر نکلی تو اسے باہر کوٸی دیکھاۓ نہ دیا

او تیری خیر کہیں مجھے یہاں چھوڑ کے تو نہیں چلے گے

اس نے دل ہی دل میں سوچا

اور باری باری سب کے خیموں میں جھانکنے لگی

لیکن اسے کوٸی بھی دیکھاٸی نہ دیا

اب وہ سچ میں گھبرا گٸ

آخر اسے ایک جگہ سے کچھ آوازیں آٸی اس نے قریب جا کر دیکھا

تو سارے فوجی ایک جگہ بیٹھے تھے

میجر انھیں کچھ سمجھا رہے تھے

سب ہمہ تن گوش ہو کہ سن رہے تھے

آپریشن کے دوران اگر مقابل دشمن آپ کا بھاٸی ہو تو

آپ کیا کریں گے

کیا آپ فاٸر کریں گے یا چھوڑ دیں گے

میجر نے سوال کیا تھا

ہم فاٸر کریں گے سب نے ایک آواز ہو کر کہا تھا

پریشے باہر کھڑی سب سن رہی تھی

اور اگر مقابل آپ کا باپ ہوا تو

انھوں نے ایک دفعہ پھر پوچھا تھا

ہم تب بھی یہ ہی کریں گے

وہ پر غزم تھے

اور اگر آپ کا بیٹا ہو تو

انھوں نے اپنا سوال دہرایا

کچھ دیر خاموشی چھا گٸ

ہم تب بھی یہیں کریں گے

ان کے حوصلے بہت بلند تھے

وہ نہ پیچھے ہٹنے والے تھے

نہ گھبرانے والے

غظیم لوگوں کے غظیم ارادے

اور آپ سب یہ کیوں کریں گے

انھوں نے پھر پوچھا

ہم یہ سب اپنے وطن کے لیے کریں گے

ہم نے جو وعدہ کیا ھے وہ پورا کریں گے اور اس کا صلہ خدا دے گا

وطن پر ہر رشتہ قربان

انھوں نے مل کر کہا

آپ سب آپریشن کے لیے تیار ہیں

ہم ایک دو دنوں تک آپریشن شروع کر دے گے.

وہ اپنی بات ختم کر چکے تھے

سب آہستہ آہستہ باہر نکل رہے تھے

ریان باہر نکلا تو اس نے دیکھا پریشے باہر کھڑی تھی

اس کے سر پر آرمی کی پی کیپ تھی

وہ آرام سے چلتا ہوا اس کے پاس آیا

اپنی کیپ اتار کے اس کے سر پر پہنا دی

اور اس کا آنسو صاف اپنی انگلی پہ چن کے آگے بڑھ گیا

اس کے ایسا کرنے سے پریشے کو محسوس ہوا کہ وہ تو رو رہی تھی

وہ روتے روتے ہلکے سے مسکرا دی

اور ریان کو لگا کہ وہ دنیا کا سب سے خوبصورت منظر دیکھ رہا ھے

❤❤❤❤

شامین

تصدق صاحب نے کھانے کی ٹیبل پر انھیں پکارا

جی ابو

انھوں نے نظر نہیں اٹھاٸی

ریان کہاں ہے

ابو وہ آرمی آفیسر ہے وہ ادھر مصروف ہے ایک مہینے کے لیے

ہوں

ٹھیک

انھون نے روٹی کا نوالہ توڑا ہی کہ

بول اٹھے

رات ہو گٸ ہے پریشے تو اتنا نہیں سوتی ہے تم نے اسے جگایا نہیں

اور میرا بھی نہیں بتایا

وہ اب ان سے پوچھ رہے تھے

پانی ان کے خلق میں اٹک گیا

ارے نہیں ابو وہ اصل میں اس کی طبیعت خراب تھی تو میں نے ہی کہا آرام کرو

انھوں نے بات کو گھمایا

یہ کیا بات ہوٸی

ہماری پریشے کی طبیعت خراب ہے آپ ہمیں ابھی بتا رہی ہیں

ہم جا کے دیکھتے ہیں انھوں نے فکرمندی سے اٹھتے ہوۓ کہا

یہ دیکھ کے پھپھو بوکھلا گٸ ابو آپ کہاں جارہے ہیں میں دیکھتی ہوں

انھوں نے انھیں روکنے کی کوشش کی پر وہ نہ رکے

پریشے کا کمرہ کون سا ہے انھوں نے پوچھا

پھپھو نے چپ چاپ کمرے کی جانب اشارہ کیا

انھوں نے جیسے ہی دروازہ کھولا پریشے اندر موجود نہیں تھی

وہ شازمین بیگم کی طرف پلٹے

ان کے خدشے سچ ثابت ہوۓ تھے

شازمین میری پریشے کہاں ہیں ؟۔

انھوں نے تھوڑی سحتی سے پوچھا

ابو وہ گھبرا رہی تھی

ابو پریشے کہیں چلی گٸ ہے .

کیا بکواس کر رہی ہوں پریشے کہاں جا سکتی ہے

ان کی آوازتھوڑی اونچی ہوٸی تو سلطان بھی وہے پہنچ آیا

ابو میں نہیں جانتی مجھے خود سکیورٹی گارڈ نے بتایا

انھوں ڈرتے ڈرتے کہا

میری پریشے دھوکے باز نہیں ہے

وہ کہیں نہیں جا سکتی

کہتے کہتے وہ نیچے ڈھے گۓ

پھپھو اور سلطان دونوں ان کی طرف بھاگے

❤❤❤❤❤

یہ لے پانی

رضیہ نے پانی  کا گلاس سلطان کے ہاتھ میں پکڑایا

جسے اس نے تھام لیا

کیا ہوا ہے پریشان لگ رہے ہو

رضیہ پوچھے بنا نہ رہ سکی

کچھ خاص نہیں وہ خان صاحب کا وفادار تھا کیسا یہ بات باہر نکالتا

لیکن رضیہ اس کی بیوی تھی وہ اسے تو بتا ہی سکتا تھا

وہ اپنے خان صاحب ہیں نا

اس نے رازداری سے کہا

ان کی پوتی شہر سے کسی کے ساتھ بھاگ گٸ ہے

ہاۓ

رضیہ نے دل پہ ہاتھ رکھ دیا

ہاۓ پھر

اس نے اگلی بات پوچھی

تو پھر کیا خان صاحب کو دل کا دورہ پڑا ہے

اس نے اس بار بھی رازداری سے کہا

اب کیسے ہیں وہ

وہ اب سنبھل چکی تھی اب تفصیل پوچھ رہی تھی

چار لگا کہ آگے بتانی بھی تو تھی

اب خطرے سے باہر ہیں

لیکن سن تو کسی کو بتانا مت اچھا

ارے میں کیوں بتاٶ گی خان صاحب کی غزت ہماری غزت

اس نے عقلمندی سے کام لیتے ہوۓ کہا

ورنہ گاٶں کی عورتوں کو کسی کی کمزوری پتہ چلے اور بات پورے گاٶں میں نہ پھیل جاۓ یہ نا ممکن تھی

اور شام تک یہ بات پورے گاٶں میں پھیل چکی تھی

❤❤❤❤

شازمین بیگم اس وقت ہسپتال میں خان صاحب کے پاس بیٹھی تھی

ابو اب آپ کی طبیعت کیسی ہے

انھوں نے ان کے ہوش میں آنے کے  بعد پہلا سوال یہ ہی کیا

مر جانے دیتے مجھے تم کیوں بچایا مجھے میں ایسی ذلت بھری ذندگی نہیں جینا چاہتا

انھوں نے آزردہ لہجے میں کہا

ابو کیسی باتیں کر رہے ہیں آپ ۔

مریں آپ کے دشمن وہ تڑپ ہی تو اٹھے تھے

تو اور کیا بولو میں وہ ہماری غزت روند کے آگے بڑھ گٸ ہے اس نے ہمیں کہیں منہ دیکھانے کے لاٸق نہیں چھوڑا

ابو جو ہونا تھا ہو گیا ہے اب آپ پریشے کی سلامتی کے دعا کریں

ریان کے خق میں جو بہتر ہو گا اسے وہ ہی ملے گا

انھوں نے دلاسہ دیتے ہوۓ کہا

بس اب ہم سے پریشے کی کوٸی بات مت کیجیۓ گا اب

وہ خاموش ہو گٸ

❤❤❤❤

پریشے کتنی دیر سے اپنا پرس تلاش کر رہی تھی

ابھی اپنے ذہن پر ذور ڈالا تو یاد آیا کہ ریان سے ٹکر لگتے وقت اس کا بیگ نیچے گرا تھا

جسے وہ اٹھانا بھول گٸ تھی پتہ نہیں پھپھو کیا سوچ رہی ہو گی

وہ تو انھیں بتا کر بھی نہیں آٸی تھی

ابھی تک تو دادا جی تک بھی خبر پہنچ گٸ ہو گی

ریان اندر آیا تو

اس سے پوچھے بنا نہ رہ سکا

کیا بات ہے پریشان کیوں ہو؟

ریان میں جلدبازی میں کسی کو اطلاع دے کر نہیں آٸی

اس نے انگلیاں مڑوڑتے ہوۓ بتایا

اور میرا موباٸل بھی گم ہو گیا ہے

ریان اس سے اسی چیز کی توقع رکھتا تھا

امی یقینً پریشان ہو گی وہ جانتا تھا لیکن یہاں سگنل نہیں آتے تھے

وہ کیسے اطلاع دیتا

اچھا تم فکر نہ کرو کچھ نہیں ہوتا ہم آنے والے وقت میں سب بتا دے گے

اس نے اسے تسلی دی

ویسے بھی تم اپنےشوہر کے پاس ہو محفوظ ہو

اس نے آج پہلی بار اسے یہ حق دیا تھا

وہ مسکرا کہ اسے دیکھنے لگی

اس نے ہاتھ اٹھا کر ماتھے کو مسلا

کیا ہوا

کیا سر میں درد ہو رہا ہے

وہ فکرمند ہوٸی

ہاں تھوڑا تھوڑا اس نے اسی طرح لیٹے لیٹے کہا

اچھا کیا میں دبا دوں

اس نے مدھم لہجے میں کہا

ریان نے سر اثبات میں ہلا دیا

وہ آرام آرام سے اس کا سر دبانے لگی

اور ریان کو پتہ ہی نہ چلا کب وہ سو گیا

جاری ہے

دوستوں سے شیئر کریں

تبصرہ کریں