زندگی ہو جیسے ناول قسط نمبر5

ذندگی ہو جیسے

 

 

زندگی ہو جیسے

اردو ناول

از ایمان خان

قسط نمبر5

ریان تین دن کی چھٹی پر آیا تھا پریشے کی حیرانگی میں اضافہ ہو گیا تھا کہ

اس نے اس بات کا اندازہ لگایا تھا کہ ریان ان دنوں میں گھر سے کم نکلتا تھا

پھر وہ دوسرے دنوں میں گھر سے کیوں غاٸب رہتا تھا

لیکن مسٸلہ یہ تھا کہ اس کی یہ الجھن دور کرنے والا کوٸی نہیں تھا

پھپھو کچھ بتا نہیں رہی تھی اور ریان کچھ بتانا تو دور اس سے بات کرنا پسند نہیں کرتا تھا

لیکن پریشے نے بھی تھان لی تھی کہ

سچ پتہ کروا کے ہی دم لے گی

❤❤❤❤❤

شام کے وقت ہلکی ہلکی بارش نے موسم رنگین بنا دیا تھا

وہ لان کی ٹھنڈی گھاس پہ چل رہی تھی

پھپھو اندر تھی اور ریان پتہ نہیں کہاں تھا

اچانک اس کے دل میں خواہش پیدا ہوٸی کہ گھر سے باہر جاۓ

اور اس بارش سے لطف اٹھاۓ

اتنے میں اسے ریان عجلت سے گھر کے اندر جاتا دیکھاٸی دیا

ریان تین دن کی چھٹی لے کہ آیا تھا

اور اب ان کو سیکیورٹی خدشات تھے لہذا اسے جلدی بلا لیا گیا تھا

کپٹن ریان آپ سیدھا میرے بتاۓ ہوۓ پتے پر ہی پہنچے

معلومات کے مطابق یہ جگہ دہشت گردوں کا گڑھا ہے

ہم نے اس جگہ کو کلیر کرنا ہے بہت نازک صورتحال ہے کسی کو اس بات کی بھنک بھی نہ پڑے

آپ سمجھ رہے ہیں نہ کپٹین

میجر نے ریان کو پوری تفصیل سمجھاٸی جسے ریان نے پوری توجہ سے سنا

یس سر میں سمجھ چکا ہوں اس نے تابعداری سے کہا

اور ایک بات

انھوں نے کچھ یاد آنے پر کہا

آپ گھر سے سادہ خلیے میں آٸیں گے

اوکے سر جیسے آپ کہیں

اس نے یہ کہہ کر فون بند کر دیا

جیسے ہی اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا

پریشے کان لگاۓ کھڑی پاس ہی کرسی پر بیٹھی تھی

لیکن ریان سمجھ چکا تھا کہ اس نے کان یہیں لگا رکھے ہیں

پریشے نے محض ریان کو دیکھانے کے لیے اخبار اٹھا کر

منہ کے سامنے اس انداز میں کر لی کہ ریان کو لگے کہ وہ پڑھ رہی ہے

ریان جانتا تھا کہ ایسی ویسی تو بات اس  نے کوٸی کی نہیں جس سے اسے شک پڑھے پر جتنی بے وقوف وہ تھی وہ یہ بھی جانتا تھا کہ وہ دیر سے بات سمجھنے والے لوگوں میں ہے

ریان کے آگے بڑھتے قدم رکے اور وہ دو قدم پیچھے آیا ۔

اسے شرمندہ بھی تو کرنا تھا

اس کے ہاتھ میں پکڑی اخبار جو جلدبازی میں اس نے الٹی ہی منہ کے سامنے رکھ لی تھی

اسے پکڑ کے سیدھا کیا

ساتھ ہی طنز سے کہا

یہ تو میں جانتا تھا کہ تم دنیا کی عجیب و غریب مخلوق ہو اور تمھارا ہر فعل ہی انوکھا ہے لیکن میں یہ نہیں جانتا تھا کہ تم اخبار بھی الٹی  پکڑ کر کے پڑھتی ہو

پریشے تھوڑی کھسیانی ہوٸی مگر بولی کچھ نہیں

البتہ ریان اب کچھ ضروری سامان لینے اندر چلا گیا تھا

پریشے ایک دم سے اٹھ کر کھڑی ہوٸی پہلا خیال جو اس کے ذہن میں آیا اور سر سر کہنے سے اس نے جو اندازہ لگایا

وہ یہ ہی لگایا کہ ریان کوٸی گینگ چلا رہا ہے

اور کسی غلط کام میں ملوث ہے تب ہی پھپھو اس کے بارے میں کچھ بتا نہیں رہی ہیں

کون اپنے بیٹے کے گناہ بتاتا ہے کسی کو وہ منہ ہی منہ میں بڑبڑاٸی لیکن میں بھی آج پتہ کروا کے رہوں گی

ریان اسے اپنی گاڑی کی طرف بڑھتا دیکھاٸی دیا

امی کو وہ بتا چکا تھا کہ اسے ایک مہینہ لگ ہی جاۓ گا

پہلا خیال جو پریشے  کے ذہن میں آیا کہ اگر وہ اس کا پیچھا کرے تو

وہ اس کا پردہ فاش کر سکتی ہے

ریان گاڑی موڑ کر باہر نکل رہا تھا پریشے بجلی سی تیزی سے پھپھو کو بتاۓ بغیر آگے بڑھی

اور ایک ٹیکسی پکڑی اور اسے کہا کے اگلی گاڑی کے پیچھے چلو

وہ ذندگی میں پہلی بار یوں اکیلی کہیں جارہی تھی وہ بہت گھبرا بھی رہی تھی

یہ وہ علاقہ تھا جہاں سے اسلام آباد ختم ہوتا تھا اور مری شروع ہوتا تھا

گاڑی سڑک پر رواں دواں تھی شام کا اندھیرا پھیل رہا تھا

مری جیسی جگہ جہاں بہت سے درخت پاۓ جاتے ہیں

وہاں بہت جلدی شام کا اندھیرا چھا جاتا ہے

تقریباً آدھے گھنٹے بعد جب ہر طرف مکمل اندھیرا چھا چکا تھا

تو ریان نے ایک سنسان علاقے میں گاڑی کھڑی کر دی تھی

پریشے نے اس سے تھوڑا پیچھے ہی ٹیکسی رکوادی  تھی

آتے ہوۓ دادا جی نے اسے کچھ پیسے دے دیۓ تھے

اس نے اسی میں سے کرایہ ادا کیا

اور آرام آرام سے اس سمت میں چلنے لگی جدھر ریان جا رہا تھا

یہ بہت سنسان علاقہ تھا بہت کم لوگ یہاں آتے تھے

سڑک پر بہت کم تعداد میں گاڑیاں تھی

ریان آگے بڑھتا چلا گیا اور پیچھے پریشے اس کی پیروی کر رہی تھی

بس اسے لگا اس کا شک درست ہونے ہی والا ہے

یہاں تک کے ریان ایک ایسی جگہ پہنچ گیا جو بالکل ویران تھی

پریشے کو اب ڈر لگنے لگا تھا

وہ غلطی تو کر چکی تھی لیکن اب پچھتا رہی تھی

اچانک اس کا پاٶں الٹا ہوا اور ایک کانٹا اس کے پاٶں میں چبھ گیا

اس کے منہ سے ایک سسکی لکلی

اس نے نیچے جھک کے کانٹا نکالا

وہ جیسے ہی اوپر اٹھی تو اس نے نظر اٹھا کر ادھر ادھر دیکھا

لیکن ریان اسے کہیں نظر نہ آیا

ریان کیا ادھر تو کوٸی بھی نہیں تھا

دیکھنے میں وہ ایک جنگل لگ رہا تھا وہ اتنا گھنا تھا کہ واپسی کا راستہ اسے سمجھ نہیں آرہا تھا

اف یہ کیا کر دیا میں نے

میں یہاں آٸی ہی کیوں تھی میری عقل پہ تالے پڑھ گۓ تھے

اف اب کیا کروں میں واپس کیسے جاٶں گی

اس نے سر تھام لیا

وہ اکیلی کبھی گھر سے سے باہر نہیں گٸ تھی اور ابھی وہ ایک جنگل میں اکیلی تھی

ریان پتہ نہیں کہاں چلا گیا تھا

وہ تو جلد بازی میں پھپھو کو بھی بتا کر نہیں آٸی تھی

اس نے پرس سے موباٸل نکالا لیکن یہ کیا

یہاں پر تو سگنل ہی نہیں آتے تھے

وہ اور گھبرا گٸ

پلٹ کر پیچھے پیڑ کے ساتھ جالگی

اسے وہاں ایک سانپ دیکھاٸی دیا

کاکروچ سے ڈر جانے والی لڑکی سانپ کا کیا مقابلہ کرتی

اس کے منہ سے بے اختیار چیخ نکلی

اچانک وہ پیچھے سے کسی کے کسرتی بدن سے ٹکرا گٸ

وہ بے اختیار پیچھے ہٹی

❤❤❤❤💌❤

پھپھو باہر آٸی تو انھیں پریشے کہیں دیکھاٸی نہ دی

انھوں نے کمرے میں ہر جگہ اسے دیکھا

وہ کہیں نظر نہ آٸی وہ اتنی ڈرپوک تھی کہ گھر کے باہر جانے کا وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی

پھر وہ کہاں چلی گٸ تھی

انھوں نے باہر ادھر ادھر گلی میں ہر جگہ دیکھا

لیکن وہ کہیں نہیں تھی

رات کے دس بج چکے تھے پھپھو کی پریشانی میں اضافہ ہو گیا تھا

پریشے کو ان کے بھروسے چھوڑا تھا ابو نے

اور اب وہ پانچ گھنٹوں سے غاٸب تھی اگر اسے کچھ ہو گیا تو

میں ابو کو کیا جواب دوں گی

انھیں سوچ سوچ کر پسینہ آرہا تھا

انھوں نے ریان کا نمبر ملایا لیکن وہ جس جگہ تھا وہاں سگنل نہیں آتے تھے

انھوں نے پریشے کا نمبر ملایا لیکن وہ تو بند مل رہا تھا

انھیں کوٸی راستہ نظر نہیں آرہا تھا

انھیں کالونی کا سکیورٹی گارڈ یاد آیا

ایک امید کا دیہ جلا

کہ ہو سکتا ہے وہ کچھ جانتا ہو

وہ باہر کی طرف بھاگی

اور پریشے کی ایک تصویر جو حال میں ہی انھوں نے اس کے ساتھ لی تھی

سکیورٹی گارڈ کو دیکھاٸی

سکیورٹی گارڈ نے پہلے تصویر کو غور سے دیکھا

پھر کچھ سوچتے ہوۓ بولا

یہ بچی تو شام کو ٹیکسی پر بیٹھ کر کہیں گٸ ہیں

اس نے اپنی معلومات کے مطابق بتایا

شامین بیگم کے پاٶں کے نیچے سے زمین نکل گٸ

پریشے اکیلے کہاں جاسکتی تھی

اور وہ اس وقت کن حالات میں تھی

یہ کوٸی نہیں جانتا تھا

پھپھو نے سر تھام لیا

❤❤❤❤

جاری ہے

دوستوں سے شیئر کریں

تبصرہ کریں