زندگی ہو جیسے ناول قسط نمبر12

زندگی ہو جیسے

 

 

 

ایمان خان

ناول

 

 

 

 

 

از ایمان خان

 

 

 

 

 

قسط نمبر12

پریشے کو گھر آۓ آج پانچھواں دن تھا لیکن گھر میں کوٸی بھی اس سے ٹھیک طرح سے بات نہیں کر رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔اپنوں کے اس رویے نے اسے بہت اندر تک توڑ کے رکھ دیا تھا اور اسے گہری چپ لگا دی تھی۔۔۔۔۔۔

تکلیف دینے والا اگر کوٸی پرایا ہو تو وہ زخم وقت کے ساتھ بھر جاتے ہیں

لیکن جب تکلیف اپنوں سے ملے تو انسان کو اندر تک توڑ دیتی ہے

وہ گھر کے کاموں میں بھی اب تھوڑی بہت دلچسپی لینے لگی تھی۔۔۔۔

وہ اپنا ذہن بھٹکانا چاہتی تھی

بغض اوقات انسان خود سے ہی فرار چاہتا ہے

پریشے بھی خود سے ہی بھاگ رہی تھی

ابھی بھی وہ صبح اٹھ کر پودوں کو پانی دے رہی تھی

اور دروازے کی گھنٹی مسلسل بج رہی تھی لیکن کوٸی دروازہ نہیں کھول رہا تھا

اس نے دو تین دفعہ سکیورٹی گارڈ کو آواز دی لیکن کوٸی جواب نہ آیا۔۔۔۔۔

آخر اکتا کر وہ دروازے کی طرف بڑھی

ادھر جا کر دیکھا کہ سکیورٹی گارڈ گھوڑے بیچ کر سو رہا تھا

وہ اسے گھورتی ہوٸی آگے بڑھی

جیسے ہی دروازہ کھولا

آگے ایک اجنبی چہرہ دیکھ کر وہ تھوڑا پیچھے ہو کر کھڑی ہو گٸ

وہ اس وقت کالے رنگ کی سادہ قمیض نیچے پاجامہ اور سر پر ریشمی دوپٹہ کیے ہوۓ

مقابل بھی

تیس چوبیس سالہ ایک نوجوان تھا سادہ کپڑوں میں تھا

کیا یہ پریشے کا گھر ہے

اس نے پہلا سوال پوچھا

جی میں ہی پریشے ہوں

اس نے بھی مدھم لہجے میں جواب دیا

میں کپٹین روحاب

پاک آرمی سے آیا ہوں

کپٹین ریان کا دوست

اس نے پوری بات بتاٸی

پریشے کا دل ذور سے دھڑکا کہیں کوٸی ایسی ویسی خبر نہ ہو

لیکن چلو ریان کی کوٸی خبر تو آٸی تھی نا

میں چھٹی پر آیا تو ریان نے مجھے یہ خط دیا کہ آپ کو دے دوں ساتھ دو ایڈریس بھی دیۓ

لیکن ڈراٸیور سے پوچھنے پر پتہ چلا کہ آپ کو اس نے ادھر چھوڑا تھا

لہذا میں یہی آگیا

اس نے پوری تفصیل بتانے کے بعد ایک تہہ شدہ کاغذ پریشے کی جانب بڑھایا۔۔۔۔۔

جسے پریشے نے کانپتے ہاتھوں سےتھام لیے

وہ ریان ٹھیک تو ہے

وہ اتنا ہی بول سکی

بس دعا کیجیۓ آپریشن کامیاب ہو جاۓ

وہ کہہ کر جا چکا تھا

اور پریشے بھی دروازہ بند کر کے اندر کی جانب بڑھ گٸ ۔

سکیورٹی گارڈ ابھی تک سو رہا تھا

لیکن یہ پریشےکے لیے ایک طرح سے اچھا ہی تھا

سد شکر کے اس نے دیکھا نہیں تھا

ورنہ اس نازک صورتحال میں اس پر کوٸی بھی الزام لگ سکتا تھا

❤❤❤❤❤❤

پریشے تہہ شدہ کاغذ گھر والوں کی نظروں سے بچاتی ہوٸی اپنے کمرے تک لے کے آٸی

اندر سے دروازہ بند کیا اور دو بار لمبے لمبے سانس لیے

پھر کانپتے ہاتھوں سے کاغذ کھولا

لوگ کہتے ہیں کہ محبت ایک بار ہوتی ہے میں اس بات سے اتفاق کرتا ہوں پریشے

لیکن کبھی کسی لمحے میں کوٸی دل تک پہنچ جاتا ہے دل اسی کے نام سے دھڑکتا ہے انسان اس کی ایک جھلک کے لیے پاگل ہوجاتا ہے

اس احساس کو کہتے ہیں محبت

لیکن وہ احساس جو انسان کو دنیا جہان سے بیگانہ کر دے انسان کی سوچنے سمجھنے کی قوتیں صلب کر دے

انسان کا دل چاہے کہ کسی درگاہ پہ بیٹھ جاو اس کا نام لو بس

تو اس جذبے کو کیا نام دیا جاۓ پریشے

اس جذبے کو کہا جاتا ہے عشق

اور محبت کو عشق پر قربان کر دیا جاتا ہے

وہ لڑکی میری محبت تھی

تم میری بیوی ہو میرا سب کچھ میرا حال میرا مستقبل تم سے وابستہ ہے

میری نوکری میرا ملک سے کیا گیا وعدہ میرا عشق ہے

تم میرا عشق ہو پریشے

اور عشق میں تو خود کو قربان کر دیا جاتا ہے

یہ جو کچی عمر کی محبتیں ہوتی ہیں نا پریشے یہ

انسان کے دل پر گہرے آثار چھوڑ جاتی ہیں۔

میرے ساتھ بھی یہی معاملہ تھا

لیکن جب مجھے شعور آیا تو مجھے یہ محسوس ہوا کہ انسان کی کچھ ذمہ داریاں بھی ہوتی ہیں

یہ محبت پیار تو فارغ لوگوں کا کام ہے

تب سے میں نے اپنی خواہشیں تم سے وابستہ کر لی

میری بھی خواہش ہے میرا ایک گھر ہو میری مکمل فیملی ہو جہاں تم میرے ساتھ ہو میرا انتظار کرو

اور اگر مجھے ذندگی نے مہلت دی تو یہ سب ضرور ہوگا

لیکن ابھی میرے وطن کو میری ضرورت ہے

اگر ذندگی نے مجھے اس بات کی مہلت نہ دی تو تم

اس بات پر فخر کرنا کہ تم ایک شہید کی بیوہ ہو

روزے محشر ملیں گے پری

میرا انتظار کرنا

پریشے نے بامشکل اپنے آنسو ضبط کیے

تمھارا اور فقط تمہارا ریان

آنسو پریشے کا پورا چہرہ بھگو چکے تھے

❤❤❤❤

ہر طرف بارود کی بو پھیلی تھی آپریشن کامیاب ہوا تھا

تین سو دہشت گردوں کو واصل جہنم کر دیا گیا تھا

البتہ فوج کا کوٸی جانی نقصان نہیں ہوا تھا

ریان کو بازو میں ایک گولی لگی تھی

جس کے لیے ابھی اسے ڈاکٹر نے آرام کا کہا تھا

لیکن وہ جلد از جلد یہاں سے نکلنا چاہتا تھا

وہ جانتا تھا کہ پریشے کو کِن مشکلات کا سامنا کرنا پڑھ رہا ہو گا

وہ ان حالات میں اسے اکیلا نہیں چھوڑ سکتا تھا

لہذا وہ اپنے زخموں کی فکر کیے بغیر وہاں سے گھر کے لیے نکل چکا تھا

❤❤❤❤❤

شامین بیگم نے جیسے ہی دروازہ کھولا سامنے ریان کو کھڑے دیکھ کر

ان کی خوشی کی انتہا نہیں رہی

انھوں نے اس کا ماتھا چوما

اسے اندر لے کے آٸی

تھک گۓ ہو اسے آنکھیں موندے دیکھ کر

شامین بیگم نے محبت سے پوچھا

جی امی تھوڑا

سا بس اس نے مسکرا کر کہا

ارے یہ کیا ہوا ہے تمھیں

انھوں نے فکرمندی سے اس کے بازو کی طرف اشارہ کیا

جدھر پٹی بندھی تھی

کچھ نہیں امی گولی لگی تھی بس اب ٹھیک ہوں

اس نے انھیں مطمیٸن کرنے کی کوشش کی

ایسے کیسے ٹھیک ہے گولی لگی ہے

کوٸی چھوٹی سے بات ہے میں کسی اچھے ڈاکٹر سے تمھارا ٹریٹمنٹ کرواٶں گی

وہ کہاں اتنی آسانی سے مطمٸین ہونے والی تھی

اچھا پریشے کہاں ہے؟

اس نے پریشے کے متعلق پوچھا

شامین بیگم خاموش رہی

اس نے تو پریشے کو گھر بھیجا تھا تو کیا امی کو کچھ نہیں بتایا اس نے؟

بیٹا وہ کہیں چلی گٸ ہے بس تب سے اس کا کچھ پتہ نہیں

ابو کو اس کی وجہ سے دل کا دورہ پڑا ہے

انھوں نے تو کہا ہے ہماری طرف سے مر گٸ

انھوں نے ریان کو پوری تفصیل بتاٸی

ریان نےسر تھام لیا

وہ کیا سمجھ رہے ہیں اس کے بارے میں

امی کیا ہو گیا ہے آپ لوگوں کو پریشے کہیں نہیں گٸ وہ میرے ساتھ تھی

کیا؟

پھپھو کو جھٹکا لگا

وہ تمھارے ساتھ کیسے ؟

ریان نے انھیں پوری بات بتاٸی

پھپھو کا شرمندگی سے برا حال تھا

انھوں نے اس کی پاک دامنی پر جانے انجانے میں ہی سہی الزام لگایا تھا

لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر وہ یہاں نہیں آٸی تو کہاں گٸ ہے

پھپھو تھوڑے وقفے کے بعد بولی

امی اگر یہاں نہیں ہے تو

پھر ظاہری سی بات ہے کہ وہ نانا کے گھر گٸ ہو گی

اس نے پریشان لہجے میں کہا

لیکن ریان ابا جی تو اسے ہر گز قبول نہیں کرے گے انھوں نے اسے اگلی بات سے آگاہ کیا

جس سے وہ اور پریشان ہو گیا

امی اب کیا ہوگا

وہ واقعی پریشان تھا

شامین بیگم کچھ دیر خاموش رہی

پھر بولی

ریان اب ایک ہی طریقہ ہے

تم ہی وہ انسان ہو جو اس کا کھویا ہوا مان لوٹا سکتے ہو

تم اپنے نانا جی سے ملو اور انھیں ساری بات بتاو

انھوں نے ریان کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر تسلی دی

اب یہی واحد طریقہ تھا

دوستوں سے شیئر کریں

تبصرہ کریں