زندگی ہو جیسے ناول قسط نمبر11

زندگی ہو جیسے

 

 

 

ناول

ناول زندگی ہو جیسے

از ایمان خان

 

قسط نمبر 11

 

ایک گاڑی حویلی کے سامنے آکر رکی پریشے گاٶں کے اندر آگر بہت خوشی محسوس کر رہی تھی۔۔۔۔۔

جیسے ہی وہ گاڑی سے اتری اسے محسوس ہوا کہ وہ بہت سے لوگوں کی نظروں میں ہیں

قریب سے گزرنے والے لوگ بھی تاسف سے اسے دیکھ رہے تھے

پریشے کو سمجھ نہیں آرہی تھی کہ یہ ہو کیا رہا ہے

گاڑی اب جا چکی تھی

ریان نے آرمی کی گاڑی کے بجاۓ سادہ گاڑی کا انتخاب کیا تھا

کہ کوٸی خطرہ نہ ہو

پریشے حویلی کے اندر داخل ہوٸی سب کچھ ویسا ہی تھا

وہ راہداری سے چلتی ہوٸی لان کی طرف آٸی

ایک گلاب کے پھول کو پکڑ کر ناک کے ساتھ لگایا

اور اس کی خوشبو اندر اتاری

وہ بہت ہلکا پھلکا محسوس کر رہی تھی

جب ایک ملازمہ نے اسے دیکھا اور شور مچا دیا

صاحب جی پریشے بی بی

پریشے بی بی

پریشے نے بوکھلا کر دیکھا

وہ سمجھ نہ پاٸی کہ ملازمہ ایسے کیوں بول کر گٸ ہے

تھوڑی ہی دیر بعد نظالیہ بیگم اسے آتی دیکھاٸی دی

وہ غصے سے اسے گھورتی ہوٸی اس کے قریب آٸی

کیا دیکھنے آٸی ہو کہ ہم ذندہ ہے کہ مر گۓ

انھوں نے غصے سے چبا چبا کر لفظ ادا کیے

پریشے نے ناسمجھی سے انھیں دیکھا

امی یہ کیا بول رہی ہیں آپ

وہی بول رہی ہوں جو تمھاری جیسی بدچلن لڑکی کے لیے بولنا چاہیے

جب تم ہمارے سروں پر خاک ڈال کر آگے بڑھ چکی تھی تو

اب یہاں کیا لینے آٸی ہو

پریشے کو یقین نہیں آرہا تھا کہ اس کی ماں بھی اس کے لیے ایسے الفاظ استعمال کرے گی

امی میرا یقین کریں میں نے کچھ غلط نہیں کیا

میں بدکردار نہیں ہو امی

آنسو تھمنے کا نام نہیں لے رہے تھے

خبردار جو تم نے مجھے امی کہا

مر گٸ تم ہمارے لیے

انھوں نے رخ موڑ لیا

دادا جی کوٸی یقین کرے نہ کرے دادا جی ضرور میرا یقین کرے گے

ایک مدھم سی امید باقی تھی

وہ دیوانہ وار دادا جی کے کمرے کی طرف بڑھی

❤❤❤

وہ جیسے ہی اندر آٸی دادا جی کرسی پر سر ٹکاۓ کسی گہری سوچ میں گم تھے

کل ہی انھیں ہسپتال سے ڈسچارج کیا تھا

پریشے  کو وہ بہت کمزور لگے

انھیں نے پریشے کو ایک نظر دیکھا لیکن بولے کچھ نہیں

یہ وہ ہی دادا جی تھے

جو اس پر اپنی جان نثار کرتے تھے

آج اجنبی بن کر بیٹھے تھے

پریشے کے دل کو کچھ ہوا مطلب وہ بھی غلط فہمی کا شکار تھے

لیکن پریشے جانتی تھی کہ ایسے اس کی بات کوٸی بھی یقین نہیں کرے گا

پھر بھی ایک امید تھی

وہ دادا جی کے قدموں میں بیٹھ گٸ

دادا جی کے چہرے پر کوٸی تاثرات نہیں تھے

دادا جی میرا یقین کریں میں نے کوٸی غلط کام نہیں کیا ہے میں پاکیزہ ہوں دادا جی وہ رو رو کر

اپنے کردار کی صفاٸی دے رہی تھی

اس کے آنسو دادا جی کی قمیض کا دامن بھگو رہے تھے

لیکن دادا جی پر کوٸی اثر نہیں ہو رہا تھا

نظالیہ بیگم اندر آٸی تو یہ منظر دیکھ کر ان کا دل کٹ کر رہ گیا

جو بھی تھا وہ ان کی بیٹی تھی ان کے دل کا ٹکڑا لیکن

انھوں نے کچھ ظاہر نہ کیا

نظالیہ

دادا جی نے نظالیہ بیگم کو پکارا

اس لڑکی کو ہماری نظروں سے دور کر دو اور اسے بول دو

آٸندہ ہمارے قریب بھی مت آۓ

ہم اسے نہیں جانتے

کہہ کہ وہ رکے نہیں

نظالیہ بیگم انھیں سہارا دے کر باہر لے کر جانے لگی

اور پریشے کے ذہن میں دادا جی کے وہی الفاظ گردش کر رہے تھے

یہ لڑکی

ایک غلطی کی وجہ سے اتنا پرایا کر دیا

وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی

❤❤❤❤

جنگل میں ذور و شور سے بارش ہو رہی تھی ریان بارش میں کھڑا ایک ایک قطرے کو محسوس کر رہا تھا

اسے پریشے کی کمی شدت سے محسوس ہو رہی تھی

اسے پریشے سے محبت نہ سہی اس کی عادت ضرور ہو گٸ تھی

وہ اسی طرح کھڑا تھا جب پیچھے سے کپٹین روحاب نے اسے پیچھے سے پکارا

کیا بات ہے لگتا ہے آپ بھابھی کو یاد کر رہے ہیں

اس کے ریان کے ساتھ دوستانہ تعلقات تھے

ریان ہولے سے مسکرایا

اور سر ہلا دیا

روحاب تم جانتے ہو نا کہ یہ آپریشن کتنا اہم ہے

ہم سب نہیں جانتے کہ

ہم زندہ واپس لوٹے گے کہ نہیں

ریان اداسی سے مسکرایا

ہم لوگ بھی عجیب ہوتے ہیں نا ہمیں پتہ ہوتا ہے کہ

ہم واپس نہیں لوٹے گے

لیکن پھر بھی اپنے پیاروں کو یہ نہیں بتا پاتے کہ ہمارے پاس مہلت بہت کم ہے

وہ اب روحاب کی طرف مڑا جو ہمہ تن گوش ہو کہ اسے سن رہا تھا

مجھ سے ایک وعدہ کرو

روحاب نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا

اگر میں شہید ہو گیا تو تم پریشے سے ملنا

اسے بتانا کہ ریان تم سے محبت کرتا تھا بہت محبت

آخر وہ دل کی بات زبان پر لے ہی آیا تھا

اسے کہنا کہ میں بھی چاہتا تھا کہ میری بھی ایک فیملی ہو

لیکن ہم یہ رشتے نبھا سکتے ہیں

یا پھر فرض نبھا سکتے ہیں

اور میں نے فرض نبھا لیا

اور اسے رونا مت دینا

اس نے آنسو ضبط کیے

اور یہ کاغذ اس تک پہنچا دو آپریشن سے پہلے پہلے

جو باتیں میں اسے روبرو نہیں بتا سکا

میں چاہتا ہوں کہ وہ خود پڑھ لے

ایک تہہ شدہ کاغذ اس نے روحاب کی طرف بڑھایا

جسے خاموشی سے اس نے تھام لیا

دونوں کے پاس بولنے کو کچھ نہیں تھا

کل کی صبح بہت کچھ نیا لا رہی تھی

❤❤❤❤

شامین بیگم نے دروازہ کھولا تو آگے ایک آرمی آفیسر کو دیکھ کر کھٹک گٸ

اسلام علیکم

اس نے دروازہ کھلتے ہی

سب سے پہلے سلام کیا

وعلیکم السلام

انھوں  نے نرمی سے کہا

آپ کپٹین ریان کی والدہ ہیں

شامین بیگم کے دل کو کچھ ہوا

جی میں ان کی والدہ ہوں

یہ کپٹین ریان نے اپنی کیپ آپ کے لیے بجھواٸی ہے

اور ساتھ ہی یہ کاغذ ان کی طرف بڑھایا

جس کو انھوں نے تھام لیا

یا اللہ میرے بیٹے کو اپنے خفظ و امان میں رکھنا

ان کے دل سے دعا نکلی

وہ آرمی آفیسر اب جا چکا تھا

انھوں نے دھڑکتے دل کے ساتھ کاغذ کھولا

امی کیسی ہیں آپ امید ہے آپ خیرت سے ہونگی

جیسے ہی خالات ٹھیک ہوۓ میں نے آپ کو خط لکھ دیا

امی آپ خود کو ذہنی طور پر تیار کر لے

اگر آپ کو میری شہادت کی خبر ملی تو اداس مت ہونا اور رونا بھی مت

بس میرے وطن کی  بھلاٸی اور ترقی کے لیے دعا کیجیۓُ گا

اور میرے بعد پریشے کا بہت خیال رکھیۓ گا

اور میرے جانے کے بعد آپ اس بات پر فخر کیجیۓ گا کہ آپ ایک شہید کی ماں ہیں

آپ کا بیٹا ریان

خط پڑھنے کے بعد شامین بیگم کی آنکھیں آنسوٶں سے بھر گٸ

انھوں نے خط لبوں کے ساتھ لگا لیا

جاری ہے

دوستوں سے شیئر کریں

تبصرہ کریں