زندگی ہو جیسے ناول قسط نمبر 7

زندگی ہو جیسے

اردوناول

اردو ناول

 

 

 

از ایمان خان

 

 

قسط نمبر7

پریشے کا آج وہاں دوسرا دن تھا ۔۔۔۔۔۔یہاں پہ اندر بیٹھ بیٹھ کہ اب وہ تنگ ہونے لگے تھے وہ آرمی والوں کی روٹین کا بھی جاٸزہ لے رہی تھی ان کا ایک مکمل شیڈیول تھا

وہ صبح نماز ادا کرتے تھے وہاں پر صبح بہت جلدی ہو جاتی تھی

وہ سب اپنے کام خود ہی کرتے تھے البتہ ریان کے چھوٹے چھوٹے کام پریشے خود کرنے کی کوشش کرتی

جو وہ ہمیشہ خراب کر دیتی تھی

لہذا اب ریان کی کوشش یہ ہی ہوتی تھی کہ وہ اپنے کام خود ہی کرے

پریشے نے دیکھا کہ وہاں کچھ ایسے نوجوان بھی تھے جو اپنے ٹرینگ ابھی ابھی مکمل کر کے

پاک آرمی میں شامل ہوۓ تھے

ہر کسی کے یہ خواہش تھی کہ وہ شہادت کے رتبے پر فاٸز ہو

پریشے نے یہ سب کتابوں میں پڑھا تھا اور آج جب سب دیکھ رہی تھی تو اس کو کتابوں پہ لکھا حرف حرف سچ لگتا

واقعی ہی ہماری پاک آرمی جیسا کوٸی نہیں پریشے سوچ کے رہ گۓ

❤❤❤

پریشے کو غاٸب ہوۓ آج دوسرا دن تھا پھپھو نے قریب ہر جگہ اسے تلاش کر لیا تھا لیکن وہ کہیں نہیں ملی تھی

دادا جی کٸ بار فون کر کے پریشے کے متعلق پوچھ چکے تھے

اور پھپھو نے ہر بار ٹالا تھا

انھیں سمجھ نہیں آرہی تھی کہ وہ کیا کریں

ریان نے ایک مہینے بعد واپس آنا تھا پریشے کا فون مسلسل  بند آرہا تھا

اب سکیورٹی گارڈ کے کہنے کے مطابق پریشے ٹیکسی پر بیٹھ کے کہیں گٸ ہے

تو پریشے ٹیکسی پر بیٹھ کر کہاں جاسکتی

ایک گاٶں کی رہنے والی لڑکی جو یہاں کسی کو جانتی بھی نہیں وہ اکیلی کہاں جاسکتی ہے

اگر کچھ اوپر نیچے ہو گیا تو وہ ابو کو کیا جواب دیں گی

وہ ان کے گھر میں ان کی ذمہ داری تھی

وہ بہانے بنا بنا کر بھی تھک چکی تھی

وہ نہیں جانتی تھی کہ اب کی بار اگر ابو کا فون آیا تو وہ کیا جواب دے گی

❤❤❤❤

شام کو پرندے اپنے گھونسلوں میں لوٹ رہے تھے

سورج کی کرنیں مدھم ہو چکی تھی

شام کا مدھم مدھم سا اندھیرا رات کی آمد کی اطلاع دے رہا تھا

ایسے میں نواب تصدق خان کسی گہری سوچ میں گم بیٹھے تھے

آج تیسرا روز تھا ان کی پریشے سے بات نہیں ہو پارہی تھی

وہ اس صورتحال کو سمجھ نہیں پارہے تھے کہ آخر شامین کیوں نہیں بات کروا رہی تھی

آخر انھوں نے ملازم کو آواز دی

جاٶ سلطان کو بلا کہ لاو

انھوں نے اپنے وفادار کو بلایا

تھوڑی ہی دیر بعد سلطان ان کے سامنے تھا

جی صاحب جی

اس نے آتے ہی ہاتھ باندھ کے اپنے محسوس لہجے میں کہا

سلطان تیاری کرو ہم نے ابھی شہر کے لیے نکلنا ہے

ان کے دل میں ایک کھٹکا تھا

جو وہ آخر زبان پر لے ہی آۓ تھے

سلطان نے چپ چاپ اثبات میں سر ہلا دیا

اور چلا گیا

وہ محسوس کر رہے تھے کہیں کچھ غلط ہوا ہے

اب وہ دیکھنا چاہتے تھے کہ کیا غلط ہوا ہے

وہ دل میں دعا کر رہے تھے کہ ان کے وسوسے سچ ثابت نہ ہو

❤❤❤❤

پریشے اپنے بال کھولے نیچے نظریں جھکاۓ کچھ لکھ رہی تھی

ریان کے اندر آتے ہی وہ چونکی اور چپ چاپ ڈاٸیری پیچھے سرکا دی

کیا ہوا بور ہو رہی ہو

اس نے آرام سے اس کے قریب بیٹھتے ہوۓ پوچھا

ہاں کچھ کچھ

پریشے نے گہرا سانس لیتے ہوۓ کہا

اچھا ہم واپس کب جا رہے ہیں

دوسرا دن ہے

اس نے آنکھیں مٹکا کر پوچھا

ریان کو ایسے وہ بہت پیاری لگی جو بھی تھا وہ بہت معصوم تھی

ریان کو ایسے دیکھ کر

اس نے چٹکی بجاٸی

ریان یک دم چونکا

کچھ نہیں کیا بول رہی تھی تم

کب واپس جا رہے ہیں

اس نے اپنا سوال واپس دوہرایا

کچھ کہہ نہیں سکتا میں

ایک مہینہ بھی لگ سکتا ہے یہ دو تین دن بھی

یہ خالات کی سنگینی پر مخصر ہے

اس نے اسے آگاہ کیا

مطلب میں ایک مہینہ آپ کے ساتھ رہوں گی

اس نے خوشی سے آنکھیں بند کر کے کسی بچی کی طرح تالی بجاٸی

ریان نے پھر اسے دلچسپی سے دیکھا

اسے اپنی غلطی کا احساس ہوا تو اس نے ایک آنکھ کھول کے اسے دیکھا

وہ اسے ہی دیکھ رہا تھا

اس نے پھر سے آنکھ بند کر دی

کتنی معصوم ہے یہ اس نے سوچ کہ سر جھٹک کے آنکھیں موند لی

❤❤❤❤

جاری ہے

دوستوں سے شیئر کریں

تبصرہ کریں