زندگی ہو جیسے ناول قسط نمبر 6

ذندگی ہو جیسے

 

زندگی ہو جیسے

novel

 

 

از ایمان خان

 

 

قسط نمبر6

پریشے یکدم بوکھلا کر پیچھے ہٹی

اندھیرا میں اسے کوٸی دیکھاٸی نہ دے رہا تھا

مقابل کا بھی یہی حال تھا

سامنے موجود شخص نے ٹارچ اس کے منہ پر لگاٸی تو چونک گیا

یکدم اسے دور دھکیلا

پریشے نا سمجھی سے سارا منظر دیکھنے لگی

تم یہاں کیا کر رہی ہو

سامنے کھڑے شخص کو شاید یقین نہیں آرہا تھا

پریشے یہ شناسا آواز ایک دم سمجھ چکی تھی

وہ کوٸی اور نہیں ریان تھا

اس کی سانس میں سانس آٸی چلو اچھا ہوا وہ اسے ملا تو

اس کی خوف کے مارے جان نکل رہی تھی

آپ یہاں کیا کر رہے ہیں

پریشے نے الٹا سوال کیا

میں جو میرا دل کرے وہ کروں گا تمھیں کیوں بتاٶں میں

وہ واقعی اسے یوں دیکھ کر بہت خیران تھا

میرا بھی جو دل کرے گا کروں گی

اس نے بھی اسے انداز میں کہا

تم جانتی ہو یہاں کتنا خطرہ کیا

کیا عجیب لڑکی ہو تم یار

وہ واقعی ہی اب اکتا گیا تھا

اس لڑکی نے اس کے لیے کتنی بڑی مصیبت کھڑی کر دی تھی

وہ اس بات کا اندازہ نہیں لگا پارہا تھا

کیا ہو گیا ہے پکڑی گٸ نا چوری تب گھبرا گۓ ہیں

اس نے کمرے پہ ہاتھ رکھتے ہوۓ کسی تھانے دار کی طرح اس سے پوچھا

کون سی چوری

اس نے حیرت سے پوچھا

یہی کہ آپ کوٸی گینگ چلا رہے ہیں اور یہاں چھپ چھپ کے آتے ہیں روز

اس نے اپنی طرف سے چلاک بنتے ہوۓ کہا

اور آج آپ پکڑے گۓ ۔

اس نے ہاتھ جھاڑے

کیا لڑکی ہے کیا خود سے ہی اندازے لگاتی ہے

یہ مصیبت یہاں آتو گٸ ہے

اب اس کو واپس کیسے بھیجا جاۓ

ابھی وہ سوچ ہی رہا تھا کہ  قریب سے فاٸیرنگ کے آواز آنے لگی

پریشے سہم کے ریان کے ساتھ لگ کے کھڑی ہوگٸ

ریان سمجھ چکا تھا کہ آپریشن شروع ہو گیا ہے

لیکن وہ ان خالات میں اسے اکیلا چھوڑ کے کیسے جاۓ ۔

جو بھی تھا وہ اس کی بیوی تھی اس کی ذمہ داری تھی

ریان نے اس کا ہاتھ پکڑا اور اسے ایک مورچے کے پیچھے لے گیا

یہ مورچے آرمی والے دشمنوں سے بچاو کے لیے بناتے ہیں

پریشے نے ڈرتے ڈرتے ریان سے پوچھا

آپ کے ان غلط کاموں کے بارے میں کیا پھپھو بھی جانتی ہیں

اس نے کچھ اس معصومیت سے کہا کہ

ریان کا دل کیا کہ قریب سے ہی کوٸی چیز اٹھا کر یہ اپنے سر میں دے مارے یا پھر

اس کے سر میں

او پاگل لڑکی میں کسی غلط کام میں ملوث نہیں ہوں

اس نے کچھ سختی سے کہا

میں آرمی کپٹین ہوں

کپٹین ریان خان نام ہے میرا

اس نے کچھ جتا کر کہا

اب اس سے چھپانے کا کچھ فاٸدہ نہیں تھا

کیوں کہ جس بے وقوفی کا اسے خوف تھا وہ کر چکی تھی وہ

اچھا تو پھر ابھی بات اس کے منہ میں ہی تھی کہ

ایک دفعہ پھر فاٸیرنگ کا سلسلہ شروع ہو چکا تھا

شور تھا

پہلے وہ گھبراٸی تھی اب باقاعدہ رونے لگی تھی

ریان جو پہلے ہی غصے میں بیٹھا تھا

اس کی وجہ سے وہ آپریشن میں بھی حصہ نہیں لے پارہا تھا

اس نے کچھ غصے سے کہا

میرے پیچھے آنے کی کیا ضرورت تھی

تو آپ مجھے اگر بتا دیتے کہ آپ آرمی میں ہیں تو ایسا نہ ہوتا

اس نے گویا بات ہی ختم کر دی

کیوں تم میری اماں جی تھی جو تمھیں بتاتا میں

اس نے چبا چبا کے لفظ ادا کیے

پریشے نے جواب میں برا سا منہ بنا کر کہا

اماں نہیں بیوی تو ہوں

اس کے منہ سے پھسلا

ریان جواب میں خاموش رہا

پریشے کو احساس ہو گیا کہ اس نے غلط وقت میں غلط بات کی ہے

لیکن یہ پہلی بار تو نہیں تھی یہ تو اس کی عادت تھی

اس لیے تھوڑی دیر شرمندہ رہنے کے بعد وہ پھر نارمل ہو گٸ تھی

❤❤❤❤❤❤

آپریشن اپنے انجام کو پہنچ چکا تھا بہت سے دہشتگرد واصل جہنم کر دیے گۓ تھے

اپ جب ریان مطمٸین ہو گیا کہ اب کوٸی خطرہ نہیں ہے تو وہ پریشے کو لے کر آگے بڑھا

کیونکہ وہ ان خالات میں اسے اکیلا واپس نہیں بھیج سکتا تھا

اسے ابھی کپٹین کے سوالات کے بھی جوابات دینے تھے

اسے سمجھ نہیں آرہا تھا

کہ وہ کیا کہے گا

یہ لڑکی اس کی ذندگی میں مشکلات بڑھا رہی تھی

پتہ نہیں کون سا برا وقت تھا جب اسکا نکاح پریشے سے ہوا تھا

لیکن اب اس جلنےکڑنے  کا کیا فاٸدہ تھا

جو ہونا تھا وہ تو ہو گیا تھا

❤❤❤❤❤

پریشے اس کی رہنماٸی میں آگے بڑھ رہی تھی وہ آگے گٸ تو اسے پاک آرمی کی وردی میں کچھ نوجوان نظر آۓ جو اب دہشگردوں کی لاشوں کا جاٸزہ لے رہے تھے

ریان کے ساتھ ایک لڑکی کو دیکھ کر وہاں موجود سب ہی لوگ چونک پڑھے

ریان تھوڑا شرمندہ ہوا کیونکہ اس کے کیریٸر کے اتنے سالوں میں اس نے کوٸی ایسا کام نہیں کیا تھا

جس کی وجہ سے وہ شرمندہ ہو

بہرحال اس کی ماں نے ایک شاندار کارنامہ پریشے کی شکل میں سر انجام دیا تھا

جس کا خمیازہ اسے تمام عمر بھگتنا تھا

سر

ایک سپاہی نے اسے پکارا

میجر آپ کو یاد کر رہے ہیں

اس نے پریشے کے متعلق کچھ نہیں پوچھا

ریان جانتا تھا کہ آج کے آپریشن میں حصہ نہ لینےکی وجہ سے اب اس سے انوسٹیگیشن ہو گی

ٹھیک ہے میں آتا ہوں

وہ کہہ کہ آگے بڑھنے لگا

اور ایک بات اگر تم ذیادہ چالاک بنی یا ادھر ادھر کہیں گٸ تو پھر دیکھنا

اس نے انگلی اٹھا کر تنبہہ کرتے ہوۓ کہا

پریشے اتنی شرمندہ تھی کہ کچھ بول ہی نہ پاٸی

❤❤❤❤❤

آرمی والے جتنے دن وہاں رہتے ہیں خیمے ہیں

وہ میجر کے خیمے میں گیا انھوں نے یہاں تقریباً ایک مہینہ رہنا تھا لہذا یہاں ان کے انتظامات پورے تھے

میجر پاس پڑے نقشے کا بخوبی جاٸزہ لے رہے تھے

ریان کو اندر آتا دیکھ کے انھوں نے ایک نظر اسے دیکھا

اور اسے بیٹھنے کا اشارہ کیا۔

ریان چپ چاپ پاس رکھی کرسی پر بیٹھ گیا

کپٹین ریان

میجر نے بات کا آغاز کیا

آپ ہمارے ذمہ دار کمانڈر ہیں آپ نے اپنے پورے کیرٸیر میں کبھی ایسی کوتاہی نہیں کی تو آج کی گٸ اس کوتاہی کی وجہ پوچھ سکتا ہوں آپ سے

انھوں نے آرام سے پوچھا

پہلے میری ذندگی میں یہ مصیبت شامل نہیں تھی نا اس کا دل کیا بول دے

مگر چپ رہا

سر میں معافی چاہتا ہوں لیکن ایک ایمرجنسی تھی جس کی وجہ سے میں شامل نہیں ہو پایا

اس نے جواز پیش کیا

ایسی بھی کیا ایمرجنسی تھی کہ آپ یہاں آکر بھی آپریشن میں شامل نہیں ہوۓ

آرمی والوں کی ایک بات ہوتی ہے انھیں کسی بھی حالات میں اپنی احساسات پر قابو پانا آتا ہے

سر وہ اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ کیسے بتاۓ

کیا بات ہے کپٹن آپ پریشان لگ رہے ہیں .

سر وہ میری بیوی میرے پیچھے آگٸ ہے اس وجہ سے

اس نے آخر تیز تیز بولتے ہوۓ بتا ہی دیا

کیا

میجر سبحان اپنی جگہ سے اچھل پڑے

جی سر مجھے خود یہ امید نہیں تھی

وہ اب بھی شرمندہ تھا

کپٹین ریان آپ کو یہ چھوٹی سی بات لگتی ہے

کہ اس نے آپ کا پیچھا کیا اور اب وہ یہی موجود ہے

یہ کتنے خطرے کی بات ہے

وہ واقعی فکرمند تھے

سر میں اس کو اکیلا نہیں بھیج سکتا ورنہ میں یہ کب کا کر چکا ہوتا

اس نے ان کی پریشانی دور کرنے کی کوشش کی

کپٹین ریان آپ جانتے ہیں کہ یہ جگہ خطرے سے خالی نہیں ہے

ابھی بھی یہ جگہ دہشتگروں کا گھڑ ہے

ہم کم از کم ایک مہینہ یہاں سے نہیں نکل سکتے ہیں

انھوں نے اسے موجودہ صورتحال سے آگاہ کیا

اور اگر کسی کو یہ بھنک بھی لگ گٸ کہ ایک لڑکی یہاں موجود ہے تو

کتنی نازک صورتحال ہے

ابھی آپ اس کو لے کے ادھر سے نکلے تو اور یہ باپ بھی باہر نکل جاۓ گی کہ یہاں پہ خفیہ آپریشن ہو رہا ہے

انھوں نے اسے خالات سے آگاہ کیا

سر مجھے اندازہ ہے لیکن میں مجبور ہوں مجھے سمجھ نہیں آرہی کہ کیا کروں

وہ واقعی ہی بے بس تھا

ایک ہی راستہ ہے ہمارے پاس ہم یہ بات خفیہ رکھیں گے کہ

یہاں ایک لڑکی موجود ہے

ہمارے ساتھ وہ ہمارے تخفظ میں رہے گی

ہم جتنے دن یہاں موجود ہے وہ یہیں رہیں گی

اور جیسے ہی خالات بہتر ہو گے

ہم انھیں واپس بھیج دے گے

انھوں نے اگلا لاٸحہ عمل ترتیب دیا

واقعی ہی اور کوٸی راستہ نہیں تھا ریان نے سر اثبات میں ہلا دیا

وہ جس مصیبت سے دور بھاگتا تھا

اب اسی کے ساتھ اسے رہنا تھا

❤❤❤❤❤

ریان اپنے خیمے میں آیا تو پریشے نظریں جھکاۓ بیٹھی تھی

اس کے ہاتھ میں ایک پلیٹ تھی

یہ لو کھانا کھا لو تم نے شام سے کچھ نہیں کھایا

اس نے پلیٹ پریشے کے سامنے کی

پریشے نے ایک نظر اس ملغوبے کو دیکھا جسے ریان کھانے کا نام دے رہا تھا

آپ یہ کھاۓ گے اس نے اس ملغوبے کی طرف اشارہ کیا

یہ کیا ہم نخرے نہیں کرتے پیٹ ہی بھرنا ہوتا ہے جو مل جاۓ کھا لیتے ہیں

اس نے سنجیدگی سے کہا

مثلاً کیا کیا کھاتے ہیں

اس نے دلچسپی سے پوچھا

کچھ بھی اگر کچھ نہ ملے تو انسان بھی کھا لیتے ہیں اس نے اس کی حالت سے مزا لیتے ہوۓ کہا

تو پھر اگر آپ کو کچھ نا ملا تو مجھے بھی کھا لے گے

اس نے ڈرتے ہوۓ پوچھا

نہیں میں چربی والا گوشت نہیں کھاتا

اس نے اسی ملغوبے کے ساتھ انصاف کرتے ہوۓ کہا

پریشے نے ایک نظر خود کو دیکھا

اب وہ اتنی بھی موٹی نہیں تھی کہ وہ اسے ایسے کہہ رہا تھا

وہ منہ بسور کے بیٹھ گٸ

دیکھو یہ کھا لو

ورنہ بھوکی رہو گی

اس نے اسے مشورہ دیا

میں نے نہیں کھانا اس نے اسی انداز میں کہا

اچھا جیسی تمھاری مرضی

کہہ کر وہ پریشے کو کڑرنے کے لیے چھوڑ کے پھر سے کھانے کی طرف متوجہ ہو گیا

❤❤❤❤❤

جاری ہے

دوستوں سے شیئر کریں

تبصرہ کریں