خیالی دنیا میں رہنے والے حقیقی دنیا کو سمجھ نہیں پاتے

خیالی دنیا میں رہنے والے حقیقی دنیا کو سمجھ نہیں پاتے

رحیم بلوچ

قاسم علی شاہ

موٹیویشن

ناولوں اور فلمی دنیا میں رہنے والے حقیقی زندگی میں عموما ناکام ہوتے ہیں کیونکہ وہ زندگی کو اسی زاویے سے دیکھتے ہیں۔
وہ اپنے ذہن میں کسی بڑے کام کا خاکہ بنا کر چھوٹے چھوٹے کام کرنا اپنی توہین سمجھتے ہیں۔
وہ اپنی تنگ نظری کو وسعت نظری کا نام دیتے ہیں۔
انہیں لگتا ہے کہ لوگ ان کی قدر نہیں کرتے اور ایک دن ایسا آئے گا کہ کوئی قدردان آ کر انہیں کسی تخت پر بٹھائے گا تب یہ لوگ ان کی جی حضوری کریں گے۔
یہ لوگ اپنے آپ کو باقی لوگوں سے بہتر اور ذہین سمجھتے ہیں جس کی وجہ سے ہر وہ کام حقیر لگتا ہے جسے ان کے آس پاس رہنے والے لوگ کرتے ہیں۔

انہیں لگتا ہے کہ ان کو کوئی سمجھنے والا نہیں ہے اس لیے ایسے لوگ مختلف پناگاہیں تلاش کرتے ہیں اور ہر اجنبی سے دوستی کے خواہشمند ہوتے ہیں اور دور کے ڈھول سننے میں ایک روحانی لطف محسوس کرتے ہیں۔
وہ چاہتے ہیں کہ جہاں بھی جائیں لوگ ان کے استقبال کے لیے کھڑے ہوجائیں۔
لیکن جب سب کچھ ان کے توقعات کے برعکس ہوتا ہے تو اس بات سے سبق حاصل کرنے کے بجائے وہ زندگی سے مایوس ہوجاتے ہیں۔

پھر کسی کمرے میں بند ہو کر دنیا کی منافقت اور اپنی فقیری کا رونا روتے ہیں یا کسی نشئی سے دوستی کر کے دنیا کے غموں کو دھواں بنا کر اڑاتے ہیں۔

پچھلے سال فیس بک پہ کی گئی ایک پوسٹ

دوستوں سے شیئر کریں

تبصرہ کریں