تیری چاہت ناول قسط نمبر9

تیری چاہت

 

 

ناول از پروین

ناول

 

 

پروین✍️

قسط نمبر 9

اگر تمہیں واقعی اسکی فکر تھی تو اس طرح نکاح کے بعد روحی کا ہاتھ تھامنے کے بجاۓ اسے اکیلا کیوں آنے دیا شہر اور کیوں اس طرح لا تعلق ہوگئے...

مریم کا لہجہ اب دھیما تھا

آپ نے سارے گناہ میرے اوپر تھوپنے کی سوچ لی ہے کیا کبھی یہ سوچا ہے میرے دل پے کیا گزری تھی جب اس طرح روحی نے مما کی انسلٹ کرکے انھیں یہ کہ کے واپس بھیج دیا کے وو میرے ساتھ رہنا تو نہیں بلکے شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتی اور میں نے تو یہ تک چاہا تھا کے آپلوگ جس طرح شہر سے گاؤں تک میرے ساتھ گئے تھے اسی طرح میں ہی آپلوگ کو ڈراپ کر آؤں شہر تک لیکن آپ نے تو مجھے پتا نہیں کیوں ہر بار دل برداشتہ  کر دیا مجھسے بات ککے بنا وو چلی آئی یہاں...

وو شدید کرب میں بول رہا تھا..

وصی اسکا مطلب اب تک جو ہوا وو اسی کا کیا دھرا ہے، تمہاری طرف سے ہمیں بد ظن کرنے میں بھی سائرہ کا ہی ہاتھ ہے..

مریم نے اسکی طرف راز کھولتے ہوے بولا

نہیں تائی امی اب آپ کوئی غلط فہمی نہ پال لیں پلیز  یہ سب جو ہورہا ہے محض ایک غلط فہمی کی بنیاد پر شروع ہوا ہے اور مزید آپ کسی کو بی قصور وار نہ ٹھہراین...میں چاہتا ہوں یہ ٹوپک اب ختم ہوجاۓ بہت ہوچکا ایک دوسرے کو کوسنا..

اب چاہے کیسے بھی ہو لیکن تقدیر نے ہمیں جوڑ دیا ہے تو دل سے اجازت دے دیجیے میں روحی کو اس گھر لے جاؤں بہو کی حیثیت سے؟

وصی نے مریم کا ہاتھ پکڑ کر التجا کی اور اسنے سر اثبات میں ہلایا... کیونکے اس کے علاوہ وو کر بھی کیا سکتی تھی،

روحی اپنے سامان سمیت اسکے پاس اکر کھڑی تھی وہاں سے رخصت ہوکر وو گاڑی میں بیٹھ گئے تھے  تبھی اسکا فون بجا

وصی میرا بچہ کیسے ہو کہاں ہو اتنی دیر سے آے کیوں نہیں گھر پے

جی مما میں ٹھیک ہوں آپ فکر نہ کریں بس گھر کے لیے نکل رہا ہوں

اسنے گاڑی سٹارٹ کرتے ہوۓ بولا..

 اور میں اکیلے نہیں آرہا آپکی بہو روحی کو ساتھ لا رہا ہوں..

اسنے ایک نظر روحی پے ٹکا تے ہوے کہا..

تم ہوش میں تو ہو نہ کیا کرنے جا رہے ہو؟

اچانک سائرہ کا لہجہ بدل گیا..

یس مما اپنی بیوی اور آپکی بہو روحی کو اپنے گھر میں لا رہا ہوں...

وصی نے بات کو نہ سمجھتے ہوے الفاظ  دہراۓ

تم پاگل ہوگئے ہو یا ان دونوں ماں بیٹی نے تم پر کوئی جادو کر دیا ہے ارے اور کتنا مروگے انکے لیے نہ جانے کیا کیا اذیتیں تو سہی ہیں تمنے انکے لیے یہاں تک تو جیل بھی بھیج دیا تمہیں اور پھر بھی تم ہو کے اس روحی کے لیے نہ جانے کیوں اتنے پاگل ہوے جا رہے ہو..

سائرہ فون پے اتنی تیز بات کر رہی تھی جس کی آواز واضع طور پر روحی بھی سن رہی تھی..

وصی اسے یہاں لانے کی غلطی مت کرنا ورنہ میں کچھ کر بیٹھوں گی..

مریم نے دبے لہجے میں دھمکی دے ڈالی..

وصی پریشان ہوکر تھوک نگلنے  لگا تھا اسے

سائرہ کے اس طرح سخت رد عمل کی بلکل توقع نہ تھی..

مما یہ وقت غصے کا نہیں ہے ذرا ٹھنڈے  دماغ سے سوچیں میری اس سے شادی ہوچکی ہے اب کبھی نہ کبھی تو اسے گھر لیکر آنا ہے تو اب کیوں نہیں

وو سمجھاتے بولا..

مجھے کچھ نہیں سننا وو تمہاری بیوی نہیں بلکے ایک سزا ہے اور ایسی سزا جو تمنے بنا کسی غلطی کے پائی ہے، ابھی کے ابھی اسے اپنی ماں کے گھر چھوڑو اور تم یہاں آجاؤ..

اگر میں ایسا نہ کروں تو؟

تو ٹھیک ہے میں ہی یہ گھر چھوڑ کر چلی جاتی  ہوں تم کرو اپنی ضد پوری..

سائرہ نے تیزاور جذباتی لہجے میں بولا..

وصی اپنی ماں کے جذبات سے خوب واقف تھا وو کہ رہی ہے تو کر گزرے گی..

ٹھیک ہے مما آپ اپنے گھر میں خوش رہیے میں روحی کو نہیں لے اتا وہاں..

اسنے ٹھہر ٹھہر کر بولا تھا اسکے اس جملے پر روحی  سر اٹھا کر اسکی طرف دیکھنے لگی..

لیکن میں روحی کو دوبارہ واپس نہیں چھوڑ سکتا اگر روحی کے لیے اس گھر میں جگہ نہیں تو پھر مجھے بھی نہیں رہنا آپکے گھر میں..

وصی نے فون کاٹ دیا اور واپس اسی بنگلو کی طرف گاڑی گھمائی جہاں وو پہلے روحی کولے گیا تھا

تمہیں اب تو شاید یقین آجانا چاہیے کے تمہاری ماں..

گھر پہنچ کر روحی نے اسپے طنز کرتے ہوے بولا

ہاں مما تمہیں پسند نہیں کرتی جانتا ہوں میں لیکن اسکا یہ مطلب ہر گز نہیں کے میں یہ مان لوں، کے تمہارے ساتھ جو ہوا وو ان کی وجہ سے ہوا ہے اور تم بھی اپنے من سے یہ بات نکال لو..

وصی نے چڑتے ہوے بولا..

دیکھنا وو خود ہی مجھے فون کرکے گھر بلاینگی.

وصی نے اسکا سامان کا بیگ اٹھاتے ہوے بولا اور سیڑھیاں چڑھتے ہوے کمرے کی جانب بڑھا...

یہ تمہاری غلط فہمی ہے تائی جیسی مکار عورت کبھی کسی اور کےبارے میں نہیں سوچتی وو صرف اپنے بارے میں سوچتی ہیں وو بہت خود غرض ہیں،  انہوں نے میرے ساتھ جو کیا اس سے تو ثابت ہو ہی گیا نہ کے وو ایک نمبر کی مکار اور بے شرم عورت ہیں...

روحی نے دانت بھینچ کر بولا..

شٹ اپ روحی... اگر آگے کچھ بھی بولا تو پھر میں ہوش میں نہیں رہونگا اس لیے تمیز میں رہو..اور تمہیں کوئی حق نہیں ہے میری مما کے بارے میں اسطرح بکواس کرنے کا  وو مجھے گھر مین آنے دیں یا نہ دیں.. یہ میرا اور انکا معاملہ ہے ہم دونوں صلح بھی کر لینگے، تمہیں منہ مارنے کی ضرورت نہیں ہے..

وصی کا ہاتھ اٹھتے اٹھتے رکا تھا...

اور روحی اسکا سائرہ پے  یہ اندھا یقین دیکھ کر جذباتی ہونے لگ گئی..

ہاں ہاتھ روک کیوں دیا مار دو نہ ایک دو تھپڑ... ایک پل کو نا جانے مجھے کیوں لگا کے تم واقعی میں اس سب سے بے خبر ہو لیکن تمہاری ماں کی اتنی طرفداری اور غصہ دیکھ کر اب تو مجھے یقین ہونے لگا ہے کے تم ماں بیٹے ایک دوسرے سے ملے ہوے ہو، میرے ساتھ  جو بھی ہوا یقینن اپنی ماں کے ساتھ مل کر وو تمنے جان بوجھ کے  گھٹیا پن کیا ہوگا..

وو چیخ کر بولی اور آپے سے نکل گئی ہو جیسے...

ہاں چلو میں نے  کیا ہے سب کچھ اور وو بھی جان بوجھ کے، اب بولو کیا کر لوگی؟

وصی نے فورن اسے بازو سے جھٹک کر اپنی طرف کھینچ کر کہا..  دونوں ایک دوسرے کو غصے سے گھور رہے تھے.. وصی نے یہ سب ایسے ہی غصے میں بول دیا تھا روحی کے بار بار بولے جانے پر محض اسے خاموش کرنے کے لیے, لیکن اسکے منہ سےیہ بات سن کر روحی ششدر ہوکے رہ گئی اور آنکھوں میں آنسو تیر آے

اب دوبارہ اس قسم کی کوئی بکواس مت کرنا میرے سامنے ورنہ سچ میں اپنا گھٹیا پن دکھا دونگا..

 وصی کی گرفت اب بھی اسکے بازو پر تھی تبھی اسکا فون بجنے لگا اور اسنے ہاتھ اپنی جب میں ڈالا

جی پاپا میں بنگلو پے ہوں

اگلی لائن پے وسیم کا فون تھا جو کے گھر آنے کو اسرار کر رہا تھا..

نہیں پاپا آپ رہنے دیں میں تو ویسے بھی اتنے دن سے تماشے دیکھ رہا ہوں وہاں اکر کوئی اور تماشا بنانا نہیں چاہتا اگر مما ضد کر رہی ہیں تو آپ انھیں چھوڑ دیں جب تک وو خود نہیں مانتی اب میں بھی وہاں نہیں آنے والا..

لیکن وصی یہ اسکا نہیں میرا بھی گھر ہے اور تم اس گھر کے وارث ہو یہ تمہارا ہے تم جب چاہو اپنی بیوی کے ساتھ یہاں اکر رہ سکتے ہو..

وسیم نے اسے ہمت افزائی کرتے ہوے بولا..

جی پاپا مب جانتا ہوں لیکن میں اب کوئی اور جھگڑا نہیں چاہتا میں نہیں چاہتا میری وجہ سے اس گھر میں بھی مسلے شروع ہوجاۓ مما فلحال غصے میں ہیں وو کچھ کر بیٹھیںگی میں یہ نہیں چاہتا. اور رہی بات گھر پے رہنے کی تو یہ بھی میرا اپنا ہی گھر ہے میں کسی اور کے نہیں بلکے آپکے دے ہوے بنگلو پے ہوں اسلیے آپ پریشان نہ ہوں..

وصی نے وسیم کو مطمئن کر کے فون کاٹ دیا تھا بظاھر تو وو یہی دکھا رہا تھا کے اسے کوئی زیادہ فرق نہیں پڑا لیکن اپنی ماں کی طرف سے اس طرح کی امید اسے بلکل بھی نہ تھی جس وجہ سے وو بہت ٹینس ہوگیا تھا

______

کافی دیر باہر رہنے کے بعد جب اسکا غصہ ٹھنڈا ہوا اور وو اندر آیا تو دیکھا روحی لاؤنج میں صوفہ پے ہی سو گئی تھی وو اسکے قریب پاؤں کے پاس اکر بیٹھ گیا..

روحی.. روحی..

اسنے آواز لگائی لیکن روحی شاید گہری نیند میں جا چکی تھی اور اسکے بلانے پر کوئی جواب نہ دیا،  اسے نا جانے کیا سوجھی اور وو اسکے پاؤں پے ہاتھ رکھ کے دھیرے دھیرے سہلانے لگا اپنے جسم میں حرارت  محسوس کرتے ہی وو فورن اٹھ کھڑی ہوئی اور اس سے دور جاکر بیٹھ گئی خود کو سنبھالتے ہوے دوپٹہ ٹھیک کیا..

ہانپتے ہوے شوخ نظروں سے اسکی طرف دیکھنے لگی

چلو اوپر اپنے کمرے میں چلتے ہیں

وصی نے اشارہ کرتے ہوے بولا..

مجھے کہیں نہیں جانا میں یہیں ٹھیک ھوں..

یہاں سونے کی جگہ نہیں ہے چلو اٹھو وہاں آرام سے سوجانا

وصی اٹھ کر اسکے قریب اگیا..

نہیں میں تمہارے ساتھ ایک کمرے میں نہیں رہ سکتی

روحی نے کسی آنے والے لمحے کا اندیشہ کرتے ہوے بولا..

کیوں میرے ساتھ کیا مسئلا ہے؟  کھا نہیں جاؤنگا تمہیں چلو..

میں نے کہا نا میں نہیں چلونگی

پروبلم کیا ہے وہاں چلنے میں؟

وصی نے نظر ٹکا کر پوچھا..

نہیں مجھے تمپے یقین نہیں ہے اگر تمنے کچھ...

وو ہڑ بڑا کر بولتے ہوے رک گئی..

اچھا پھر تو میں یہاں پر بھی کچھ کر سکتا ہوں اگر مجھے کچھ کرنا ہوگا تو میں کمرے کا پابند نہیں ہوں پورا گھر میرا ہے اور یہ مت بھولو کے ہم دونوں کے علاوہ یہاں کوئی اور نہیں ہے..

وو پھر سے اسکے قریب ہوکر بیٹھ گیا

اگر ایسا ہے تو پھر کمرے میں سونے کی پابندی کیوں؟

وو آنکھیں اٹھا کر پوچھنے لگی

کیوں کے مجھے بھی تم پے کوئی بھروسہ نہیں ہے بیوی صاحبہ کیا پتا  یہاں سے بھاگ جاؤ تو..

تو پھر سارے دروازوں  پے تالا لگا دو نہ اور اگر پھر بھی کوئی کسر رہ جاۓ تو مجھے بھی باندھ دو رسی سے

وو طنز کرنے لگی

دیکھو روحی تمہارا میری آنکھوں کے سامنے رہنا بہت ضروری ہے اگر تم یہاں سو گئی تو مجھے وہاں نیند نہیں آئیگی..

وو اپنایت کے ساتھ بولا

اسکا انداز دیکھ کر روحی کا ڈر اور بھی بڑھنے لگا وو خود کو سمیٹنے لگی..

چلو میری جان ورنہ پھر میں سچ میں ٹپیکل  شوہر بن کے دکھاؤنگا..

وصی نے اسکے دوپٹے کا پلو اپنے ہاتھ میں لیتے ہوے دانت دباتے بولا..

اور اسنے جھٹ سے اپنا دوپٹہ کھینچ کر اسکے ہاتھ سے چھینا اور اپنے اوپر اوڑھنے  لگی

آئی ہیٹ یو وصی..

وو اٹھ کر اسے گھور کے غصے سے بولی

سیم ہئیر ڈارلنگ..

وصی نے مسکراتے ہوے بولا اور اسکے پیچھے پیچھے کمرے کی جانب چل دیا...

وو پورے کمرے کو غصے سے دیکھ رہی تھی اور اپنے لیے سونے کی جگہ تلاش کر رہی تھی..

ادھر ادھر کیا دیکھ رہی ہو آجاؤ یہاں

وصی نے بیڈ کی طرف اشارہ کرتے ہوے بولا..

اب کیا ساتھ سونے کی بھی پابندی ہے؟

اسنے منہ بناتے ہوے بولا..

نہیں جناب آپ پورے کمرے میں جہاں چاہیں وہاں سو جایں وو تو بیڈ پے نیند اچھی آیگی اس لیے بول رہا ہوں..

وصی نے چڑاتے ہوے بولا..

مجھے نہیں چاہیے اچھی نیند تم ہی مرو وہاں پر..

وو دانت بھینچ کر بولی اور تکیہ لیکر صوفہ پے لیٹ گئی اسکے بعد وصی اٹھ کر دروازہ لاک کرنے لگا اسکا یہ عمل دیکھ کر وو فورن اٹھ بیٹھی

 اب یہ کیا بیہودگی ہے تمنے دروازہ کیوں لاک کیا..

اسکا یہ عمل دیکھ کر دل میں ایک وہم سا بیٹھ گیا اور وو گھبراہٹ سے بولی

لیکن وصی نے کوئی جواب نہ دیا اور واشروم چلا گیا چینج کر کے واپس آیا تو روحی اسی حالت میں بیٹھی اسکی طرف گھور رہی تھی..

روحی سوجاؤ پاگل مت بنو

کیا چل رہا ہے تمہارے من میں؟

روحی نے آواز تیز کر کے پوچھا..

 ہان میں سوچ رہا تھا بس اب روحی کو نیند  آجاۓ اور میں اسے اپنی باہوں میں بھر کے وہاں سے اٹھا کر بیڈ پے اپنے پاس سلادوں..اور پھر

وو بولتے ہوے روک گیا اور اپنا نچلا  ہونٹ دباتے ہوے رومانوی انداز سے بولا تھا...

وو جان بوجھ کر اسے چڑا رہا تھا اور وو اسکے باتوں سے آگ بگولہ ہو رہی تھی..

اللّه پوچھےگا تمہیں وصی

وو دانت دبا کر بولی اسکا لہجہ رونے سس ہوگیا تھا

بلکل نہیں، البتہ اللّه تمسے ضرور پوچھےگا شوہر کی نا فرمان...

وو غیر سنجیدگی سے اسے غصہ دلاتے ہوے بولا

یہ تو مجھے شرعا حق ہے بھلا اب بیوی کے ساتھ دل نہیں بہلاوونگا تو کیا سڑک پے کھڑی کسی لڑکی سے منہ لگا لوں اور ایک دو مکے بھی کھا کر آؤں؟

وصی نے اسے پچھلی بات کے لیے پھر سے طنز کرتے ہوے بولا..

صرف یہی حق ملا ہے بیوی کی دل آزاری کرنے کا؟ کیا شوہر کا کام بس یہی رہ گیا ہے ہر وقت رشتے کی دہائی دیکر اسے پریشان کرنا...

ووبے بسی سے بول کر رونے لگ گئی..

روحی کوئی تنگ نہیں کر رہا میں تمہیں میرا کوئی ایسا ارادہ نہیں ہے، تم خواہ مخواہ خود کو پریشان کر رہی ہو رونا بند کرو کوئی حرکت نہیں کر رہا میں اب سوجاؤ صبح جلدی اٹھنا ہے تمہیں..

ووسنجیدگی سے بولتے ہوے کروٹ لے کر سوگیا  کچھ دیر  بیٹھنے کے بعد آخر روحی بھی صوفہ پے لیٹ گئی اسکو بھی نہ جانے کب نیند آگئی

روحی اٹھ جاؤ 7 بج گئے ہیں چلو شاباش...

 صبح اسکی آنکھ وصی کے بولنے پر ہی کھلی بڑی مشکل سے وو اٹھنے کی کوشش کر رہی تھی اسے لگا تھا جیسے وو ابھی ابھی سوئی ہے آنکھوں کو مسلتے ہوے ادھر ادھر دیکھا تو وصی کبٹ سے کپڑے نکال رہا تھا..

گڈ مارننگ

روحی کو اٹھتا دیکھ وو اس سے مخاطب ہوا لیکن روحی نے کوئی خاص دھیان نہ دیتے ہوے اپنے بالوں کو سمیٹا اور جمائی لیکر پھر سے لیٹ نے لگی..

بہت سو لیا اٹھو اب فریش ہوجاؤ جلدی سے اور ناشتہ بنا لو مجھے آفیس کے لیے دیر ہو رہی ہے.. وو واشروم کی طرف چلتے ہوے اسے حکم دے کر گیا..اور اسکی آنکھیں جو کھل نہیں پا رہی تھیں وصی کی بات سن کر پوری کی پوری کھل گئی..

ناشتہ مجھے بنانا پڑیگا..

وو من ہی من بڑ بڑا کر گھبراتے ہوے بولی اور ششدر ہوگئی... جیسے کسی نے اس پے کوئی نئی مصیبت کھڑی کردی ہو۔

دوستوں سے شیئر کریں

تبصرہ کریں