تیری چاہت ناول قسط نمبر7

تیری چاہت

 

ناولیں

ناول

پروین

قسط 7

حد ہوتی ہے روحی تم اتنی بے حس اور بے رحم ہو سکتی ہو مجھے اندازہ نہیں تھا.. بہت لا غرض ہو تم اس طرح تو کوئی کسی انجان سے بھی نہیں کرتا جتنا بے حیائی سے برتاؤ  تمنے وصی کے ساتھ کیا ہے جس کے ساتھ ایک نہیں بلکے بہت سارے رشتے ہیں تمہارے کم سے کم ایک رشتے کا ہی خیال کرلیتی..

ارم اسکی طرف بغیر دیکھے بول رہی تھی چہرے سے خوب ظاھر تھا کے وو غصے میں ہے اور اسے روحی کی یہ حرکت بلکل پسند نہیں آئی..وو اسے سارا راستہ خوب سناتی آئی تھی لیکن روحی نے ایک لفظ بھی نہ بولا تھا نہ اپنی صفائی میں اور نہ ہی وصی کے خلاف.. اسکا گھر پہلے اگیا تھا اور ارم سے بغیر کچھ بولے گھر چلی گئی تیز قدم لیتی ہوئی اسکی رفتار سے لگ رہا تھا وو جلد ہی اپنے کمرے میں پہنچنا چاہتی ہے..

ارے روحی یہاں آؤ دیکھو کون آے ہیں..

مریم نے اسے آتا دیکھ کر مہمانوں کی خبر دینی چاہی اور اسے یہی لگا کے روحی جب لاؤنچ کی طرف آیگی تو دیکھ کر خوش ہوجایگی لیکن پلٹنا  تو دور روحی نے بات کا جواب تک نہ دیا اور جیسے اسنے کچھ سنا ہی نہ ہو  اس کی قدموں کی رفتار سے تو لگ رہا تھا جیسے اسکے پیچھے کوئی پولیس پڑی ہو اسنے فورن کمرے میں پہنچ کر دروازہ بند کردیا اور جیسے مشکل پے خود پے ضبط پایا تھا اب وو پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی تھی

اسکی یہ حالت بتا رہی تھی کے اسنے جو وصی کے ساتھ کیا اسکا اسے خود بھی دکھ ہوا ہے شاید اسے یہ سب نہیں کرنا چاہے تھا....

 لیکن اسی وقت اسے اپنی ذلت اور رسوائی کا وو منظر یاد اگیا جس نے اسکی زندگی  عذاب بنادی

جو وصی نے میرے ساتھ کیا اسکا حساب کیا ہوگا.. جو میں نے پل پل سہا ہے اور اب تک سہ رہی ہوں اسکے آگے تو یہ چند منٹ کی ذلت اور بے عزتی کچھ بھی نہیں وو اسی لائق ہے...اور میں اس کم ظرف کی فکر کیون کروں جس نے مجھے رسوا کرتے وقت ذرا بھی میری فکر نہ کی..

وو آنسو پونچ کر اٹھی اور خود کوسنبھالتے ہوے فریش ہونے واشروم چلی گئی..

*****

وصی گھر واپس آیا تو کسی سے کچھ بات نہیں کی تھی نا ہی کھانا کھایا اسکا غصہ اسمان کو چڑھ گیا تھا اب وو پوری رات سویا نہ تھا بار بار اسکے آنکھوں کے سامنے روحی کی بے حسی کا وو منظر آتا اور وو مٹھیاں بھینچ لیتا..  نیندیں  تو ویسے بھی کم آتی تھیں، پہلے روحی کی فکر میں پریشان رہتا تھا لیکن اب اسکے کیۓ گئے بد تر سلوک پے خوب غصہ چڑھا تھا جسنے اسے سونے نہ دیا تھا وو پوری رات کمرے میں ٹہلتا رہا.. بہت ہوچکا روحی میں جس طرح صبر سے ہر بات کو سلجھانا چاہ رہا تھا تم نے اتنا ہی اسکا نہ جائز فائدہ اٹھایا ایک پل کو یہ نہیں سوچا  بھلا جو کچھ بھی ہوا ان سب میں میری کیا غلطی تھی یہ سب ہمارے ساتھ حالات نے کیا تھا ہم دونوں کا کوئی قصور نہ تھا... لیکن اب تمنے خود کو قصور وار بنایا ہے روحی... اب اگر تمنے شرو عات کر ہی لی ہے تو میرے جواب کے لیے بھی تیار رہو

وو من ہی من کچھ فیصلہ کر چکا تھا...

****

 صبح کو روحی بلکل نارمل تھی اسکے  ماموں کی فیملی آئی تھی انکے آنے سے روحی کا دل کچھ بہل گیا تھا شام کے ٹائم کزن کی برتھڈے کی سلیبریشن تھی جو کے مریم کے کہنے پر اسی کے گھر میں رکھی گئی تھی سب کے ساتھ مل جل کر روحی نے کچھ وقت خود کو پریشانی سے باہر نکالا تھا یوں تو اسے اب تیار ہونے میں کوئی دلچسپی نہ رہتی تھی لیکن اپنی ماموں زاد ماریا کی ضد کرنے پر اسنے بلیک کلر کا کڑھائی دار فراک اور میچنگ میں کانچ کی چوڑیاں پہن لی تھی وو زیادہ تیار نہیں ہوئی تھی لیکن روزانہ کے معمول سے کچھ الگ لگ رہی تھی..سالگرہ کی تقریب  ختم ہوئی سب لوگ اپنے گھر جا چکے تھے روحی ماریہ سے خوشگوار موڈ میں کچھ باتیں کر رہی تھی بات کرتے کرتے اچانک اسکا چہرہ پھیکا پڑنے لگا جب اسنے سامنے سے وصی کو اپنی طرف آتے ہوے دیکھا...

چلو روحی گھر چلنے کی تیاری پکڑو..

وصی نے اسکے قریب اکر آرڈر کرتے ہوے بولا..

روحی اسے سواۓ تعجب کے ساتھ گھورنے کے اور کچھ نہ بولی تھی..

تمنے سنا نہیں چلو میرے ساتھ

اب وصی نے کچھ آواز بڑھائی..

کہاں لے جارہے ہو روحی کو؟

مریم نے دور سے آتے ہوے آواز لگائی

شوہر سے یہ سوال نہیں کیا جاتا کے وو اپنی بیوی کو کہاں اور کیوں لے جا رہا ہے..

وصی نے بے ججھک  اور تیز لہجے میں بولا تھا..اسکی بات سن کر روحی تو جیسے ششدر رہ گئی اور قدم پیچھے کی طرف ہٹانے  لگی لیکن وصی نے فورن اسے بازو سے پکڑ لیا..

چلیں بیگم صاحبہ بہت رہ لیا میکے میں اب اپنے شوہر کی بھی کوئی خاطر داری کریں

وصی نے اسکی کلائی پے اپنی گرفت مضبوط کرتے ہوے کہا..

وصی یہ کیا بیہودہ پن ہے چھوڑو مجھے

روحی نے دانت بھینچتے ہوے چھڑانے کی کوشش کرتے ہوے بولا...

شوہر ہوں حق رکھتا ہوں.... اب بیوی سے یہ بیہودہ پن نہیں کرونگا تو کس سے کروں؟ کیا کسی اور سے جاکے سڑک پے بات کروں یا اسے چھیڑ کھانی کروں؟ اس سے تو اچھا ہے عزت سے اپنی بیوی سے گھر پے...

وولفظ دبا دبا کر بول رہا تھا اور روحی کو اسی ہی کی بات پے طنز کر رہا تھا جو اسنے ایک دن پہلے  سڑک پے کھڑے اسکے ساتھ کیا تھا.. روحی کو بھی من ہی من یہ بات چبھنے لگی

وو غصے سے لال اسکی طرف گھور نے لگی تھی اپنی کلائی چھڑانے کی کوشش میں اسکی ساری چوڑیاں ٹوٹ چکی تھیں شاید ایک دو اسے چبھ  بھی گئی تھی لیکن وصی پے نہ جانے کیسا جنوں سوار تھا اسے آج کس کی بھی پرواہ نہ تھی.. اسکی اسطرح کی حرکت پے روحی کے ماموں نے بڑھ کر اسکا ہاتھ چھڑانا  چاہا تھا لیکن اگلے ہی لمحے وصی نے اپنی جیب سے پستول نکال کر سب کے سامنے تان لی تھی اسکے اس عمل کے آگے اب کوئی قریب آنے کی غلطی نہیں کر سکتا تھا وو روحی کو اپنی گاڑی تک لے آیا اور اسے آگے کی سیٹ پر بیٹھا کر خود ڈرائیو کرنے لگا.. روحی نے اب اس سے کچھ بات نہ کی تھی اسکی آنکھوں سے مسلسل آنسوں بہ رہے تھے اور وو وصی کی طرف دیکھنا بھی گنوارہ نہیں کر رہی تھی

وصی نے ایک سرسری نظر سے اسے دیکھا تھا اور اسکے بعد دھیان اگے کی ترف کرتے ہوے گاڑی چلانے  لگا اسے گھر تک پہنچنے میں ویسے تو زیادہ ٹائم نہ لگتا لیکن بیچ سڑک ٹریفک جام ہونے کے بائث اسے کافی ویٹ کرنا پڑا وو انتظار کرتے ہوے صرف سامنے کی طرف دیکھ رہا تھا اسنے روحی سے کچھ بات نہیں کی تھی تبھی اسکا فون بجنے لگا..

ہاں حرا بولو

اسنے فون رسیو کرتے ہوے پوچھا..

وصی بھائی کہاں ہیں آپ؟

حرا نے پریشانی سے پوچھا

کیوں کیا بات ہےکیا ہوا ہے تم پریشان کیوں ہو؟

یہاں پولیس آئی ہے... تائی امی نے آپکے خلاف روحی باجی کو اغوا کرنے کا کیس درج کیا ہے..

حرا کی بات سن کر وو حیران رہ گیا اور ایک نظر روحی کو دیکھ کر گھورنے لگا جو کے سر جھکاے آنسوں بہا رہی تھی..

 بھائی آپ فلحال یہاں نہ اےیگا کیون کے پولیس اپکا ویٹ کر رہی ہے..

اچھا ٹھیک ہے میں سائیڈ بنگلو پے جا رہا ہوں مزید مجھے صورت حال سے آگاہ کرتے رہنا..

جی ہان..

وو فون بند کرتے ہوے روحی سے مخاطب ہوا..

مجھے تائی امی سے یہ امید نہیں تہی میں انھیں سمجدار سمجھتا تھا لیکن وو تو آج نہ سمجھی کر بیٹھی ہیں.. کمال ہے اپنے ہی داماد پر اسکی بیوی کو اغوا کرنے کی رپورٹ درج  کرالی ہے انہوں نے..

وصی اسے دیکھ کر ٹوک رہا تھا روحی نے ایک نظر اسے حقارت  سے دیکھا اور نظر پھیر لی...لیکن پولیس میں رپورٹ کا سن کر اب اس کے من میں ایک امید جاگ گئی تھی...

آج بیوی کو ساتھ لایا ہوں تو اغوا کا کیس درج کرایا ہے کل کو پھر تھانے جاکر رپورٹ کرینگی کے میرے داماد نے میری بیٹی کا ریپ...

ووبولتے ہوے رک گیا اسکا لہجہ شدید طنزیہ تھا  اسکی بات سن کر روحی نے آنکھیں بھینچ لی تھیں...

_______

گھر پہنچتے ہی اسنے گاڑی روکی..بریک لگا کر اسنے روحی کو دیکھا جو کے شدید غصے میں تھی لیکن چہرے سے بے بسی بھی عیاں ہو رہی تھی...

وصی گاڑی سے اترا اور اسکا دروازہ کھول کر باہر آنے کو بولا لیکن وو ٹس سے مس نہ ہوئی اور نہ ہی اسکی طرف ایک نظر دیکھا ہی..

بیوی صاحبا آپ چل رہی ہیں یا میں پیار سے آپکو گود میں اٹھا کر لے چلوں..

وصی کے لفظ ابھی ادا ہوے ہی تھے کے وو فورن گاڑی سے اتری..

شاباش!  وصی نے پھر سے اسے کلائی سے پکڑا تھا اور اندر کی طرف چل دیا اب کی بار روحی نے کوئی مزاحمت تو نہ کی تھی لیکن من ہی من اسے بہت دوہائی دی تھی وو اسے اپنے بنگلو پے لے آیا تھا جہاں فل وقت کوئی رہائش پذیر نہ تھا اور فیملی کے علاوہ یہاں کوئی اور لوگ اس رہایش گاہ سے اگاہ نہ تھے.. نوکر چاکر رہتے تھے...

 اسنے روحی کو ایک کمرے میں بیٹھا دیا تھا جو کے بے بسی کے عالم میں گھبرائی ہوئی ایک ہی جگہ پے بیٹھی رہی تھی جو کچھ ہو رہا تھا اسے اس کا بلکل بھی اندازہ نہ تھا وو نہیں جانتی تھی کے وصی اس حد تک بھی جا سکتا ہے وو خاموشی سے اس کمرے کو تک رہی تھی اور آنے والا وقت نہ جانے اور کیسا خوفناک ہوگا وو وصی کے اس رویے کے بعد تو اندازہ کر چکی تھی کے وو اب کچھ بھی کر سکتا ہے... اس لمحے کو سوچ اب وو سر گھٹنوں میں لگاے روے جا رہی تھی وصی اسے کمرے میں چھوڑ کر باہر چلا گیا تھا اسنے سارے نوکروں  کو چھٹی دے دی جو کے گھر کی صفائی کا کم کرتے تھے اور خود باہر سوفی پے بیٹھ گیا..

""کیا دیکھ رہے ہو وصی

اسنے کمرے میں پہنچتے ہوے پوچھا

فلم دیکھ رہا ہوں

وصی نے چپس منہ میں ڈالتے ہوے بولا

اچھا کونسی فلم؟

وو پاس بیٹھ کر بولی اور ساتھ ہی اسکے ہاتھ سے چپس لیکر کھانے لگی..

""میرے برادر کی دلہن..""

وصی نے با مشکل ہنسی روک کر سنجیدگی سے جواب دیا..

 یہ کیسی فلم ہے...  روحی حیرت سے ٹی وی کو دیکھنے لگی جہاں کوئی انگلش چینل لگا ہوا تھا جیسے ہی اسنے وصی کو دیکھا تو وصی کا قہقہا چھوٹ گیا

وہاں کیا دیکھ رہی ہو میں تو تمسے مخاطب ہوں..

وصی نے ہنسی روک کر جواب دیا"""

وصی تمہیں ہر بار ہی.. ہی.. ہی کرنے کی عادت بن گئی پاگلوں کی طرح

روحی تھوڑا خفگی سے بولی..

ہاں تو اچھی بات ہے نہ روحی سچ بات بتا رہا ہوں جب تمہاری حسن بھائی سے شادی ہوجایگی نہ تم یہ سب مس کرنے لگو گی..

کیا مطلب مس کرنے لگوں گی؟

روحی نے بھنویں اچکاتے ہوے پوچھا

ارے یارجب تمہاری حسن بھائی سے شادی ہوجایگی نہ میری ہنسی مذاق کو مس کرنے لگو گی قسم سے یار حسن بھائی بہت سنجیدہ ہیں بہت بور ہونے والی ہو تم انکے ساتھ..

وصی وو سلجھے ہوے اور سمجھدار ہیں تمہاری طرح بچے نہیں ہیں..

روحی نے بیڈ پے ٹیک لگا تے ہوے بولا

ہاں ہاں بیٹا سب پتا چل جایگا ایک بار بس شادی ہوجاے دیکھنا پوری پوری رات اس سوچ میں گزر جا یگی کے ایکچوئلی بات کیا کریں..

وصی نے پھر سے اسے چڑایا تھا..

اور تمہاری بیوی تمہاری زیادہ باتوں سے  پریشان ہوکر گھر  بھاگ جاۓگی دیکھنا..

روحی نے اس پر تکیہ پھینک کر بولا..

بلکل نہیں وو تو میرے رنگ میں ایسی رنگ جاۓگی کے جب تک میری آواز نہ سن لے تب تک اسے چین نہیں آیگا اور ویسے بھی میری باتوں سے کبھی تم بور ہوئی ہو جو بیوی محترمہ ہونگی..."""

وو وہاں باہر سوفی پے بیٹھا اپنی پرانی باتیں یاد کیے بہت افسردہ سا ہوگیا تھا... اور اس طرح تیزی سے بدلتے ہوے حالات اور اسکے بعد روحی کا وو رویہ اسے جھنجھوڑے ہوے تھا..

روحی بھی پرانی باتیں یاد کرتے ہوے بہت روئی تھی اور اسی دوران وو ٹیک لگاے نہ جانے کب اسے نیند آگئی لیکن اسی پل اسکی آنکھ دروازے کی آواز سے کھلی آنکہ کھول کر دیکھا تو وصی تھا لیکن یہ کیا وصی دروازے کی کنڈھی لگا رہا ہے..

وو جھٹ سے اٹھی اپنا دوپٹہ ٹھیک کرتے ہوے گھبراہٹ سے اسے دیکھنے لگی جو کے اسکی طرف آرہا تھا..

نہیں وصی تم میرے ساتھ ایسا نہیں کر سکتے..تم اتنے بے رحم نہیں ہو سکتے

وو روئی..

بلکل بھی نہیں میں بھلا تم پے کوئی بے رحمی کیوں کرونگا.. میں تو آج بلکل پیار کے موڈ میں هوں..آج تو صرف پیار ہی پیار ہوگا آفٹر آل آج ہماری...

وو اسکے بلکل قریب ہوگیا تھا اسنے روحی کے دونوں ہاتھوں کو پکڑ کر سہلاتے ہوے بولا.

وو کانپ رہی تھی اسکا دل زوروں سے دھڑکا..

وصی پلیز چھوڑو مجھے وو کپکپاتے ہوے بولی...لیکن وصی کا ہاتھ اب اسکی کمر کو پہنچ  چکا تھا اور وہیں سے اب رینگتا ہوا اوپر کی جانب چلنے لگا تھا تبھی روحی نے زور سے چیخ تے ہوے اسے دھکا دیا تھا...

چیخ کی آواز سے اسکی آنکہ کھل گئی تھی اور یہ ایک خواب تھا..  ادھر ادھر دیکھا تو صبح ہوچکی تھی...وو زور زور سے سانس لے رہی تھی وصی اسکی چیخ سن کر دوڑتا ہوا کمرے میں پہنچا

اسکی یہ حالت دیکھ کر وو اسکے بلکل قریب بیٹھ گیا

کیا ہوا تم ٹھیک تو ہو نہ روحی.. وصی نے اسے کندھے پے ہاتھ رکھ کر پوچھا اور روحی نے اسکا ہاتھ جہٹک دیا..

وصی کو فون کر کے وسیم نے گھر پے بلا لیا تھا وو روحی کے کمرے میں ناشتہ رکھ کر اسے لاک کرنے کے بعد اپنے گھر چلا گیا تھا جہاں پولیس اسے پھر سے گرفتار کرنے پہنچ گئی تھی...

دیکھیے میں مانتا ہوں دونوں خاندانوں میں تعلقات کچھ ٹھیک نہیں چل رہے آج کل، وو لوگ بس غصے میں اکر ایسا کر رہے ہیں... لیکن  وصی نے کسی کو اغوا نہیں کیا وو اسکی بیوی ہے..

وسیم نے انسے حقیقت بیان کرتے ہوے کہا..

ٹھیک ہے آپ ہمیں نکاح نامہ دکھا دیجۓ..

افسر نے ہاتھ بڑھاتے ہوے بولا..

 وصی پاپا کو دیکھنے لگا جو کے خود پریشان ہوگیا تھا کیوں کے اس وقت نکاح نامہ دونوں کے پاس موجود نہ تھا..

وو تو یہاں موجود نہیں ہے نکاح گاؤں میں ہوا تھا اور جن حالات میں ہوا ہمیں اس وقت یہ دھیان ہی نہ رہا سنبھالنے کا..

وسیم کے چہرے کی پریشانی بڑھ گئی تھی اور وو سر جھکاے سوچ میں پڑ گیا.

ہم آپکو اچھی طرح جانتے ہیں ہمیں آپکی امانداری اور شرافت پے کوئی شک نہیں ہے لیکن ہم اپنے یقین اور جان پہچان کی بنیاد پے اس طرح کیس خارج نہیں کر سکتے.. ان کو ہمارے ساتھ چلنا ہوگا... پولیس نے وصی کی طرف اشارہ کرتے ہوے کہا

کیا کوئی اور طریقہ نہیں ہے اس وقت اس کیس سے نکلنے کا..؟

وسیم وصی کو ایک نظر دیکھ کر فکر کے ساتھ افسر سے مخاطب ہوا

ہان اگر لڑکی اکر خود بیان دے دے کے وو واقعی میں اسکی بیوی ہے،  تو پھر یہ کیس ہی نہیں بنتا یا پھر وصی اس لڑکی کو اسکے گھر والوں کے پاس  واپس چھوڑ دے.. اس کے علاوہ اور کوئی حل نہیں ہے...

نہ تو وو لڑکی اپنی زبان سے مجھے شوہر قبول کریگی اور نہ ہی اب میں اسے واپس جانے دونگا.. وو میری بیوی ہے اب اس بات کو کوئی جھٹلا نہیں سکتا... جب تک نکاح نامہ نہ مل جاۓ تب تک میں ذرا تھانے کی ہوا کھا لوں..

وصی نےایک نظر پاپا کو دیکھا اور اٹھ کر پولیس کو ساتھ چلنے کا اشارہ کیا اس وقت اسکے چہرے پے سنجیدگی عیاں تھی لیکن اندر میں اب ایک اور طوفان جنم لے چکا تھا۔

دوستوں سے شیئر کریں

تبصرہ کریں