تیری چاہت ناول قسط نمبر6

تیری چاہت

 

 

ناول تیری چاہت

ناول

 مصنف پروین

قسط نمبر 6

وصی وہاں سے فورن اپنے کمرے میں چلا گیا اسے روحی کے رویے سے غصہ تو آیا تھا لیکن ساتھ ہی حیرانگی بھی ہوئی تھی

آخر روحی کے اس طرح کے برتاؤ کی کیا وجہ ہو سکتی ہے پہلے تو اسکا رویہ میرے ساتھ نارمل  تھا یہ اچانک آج..

"""دور رہو مجھسے گھٹیا قسم کے انسان ہو تم...

امی اسے کہو جاۓ یہاں سے مجھے شکل نہیں دیکھنی اس کی """

اسکے غصے میں اغلے ہوے الفاظ وصی کے دل کھو گھایل کر رہے تھے..

روحی کہیں ایسا تو نہیں سمج رہی کے میں نکاح کے بعد اس پے جابر بن کے کوئی زبردستی کرونگا یا اسپے حق جتانے لگوں گا...لیکن وو پاگل ہوگئی ہے کیا میں بھلا ایسا کیوں کرونگا.. نہیں نہیں بات کچھ اور ہوگی تبھی تو اسکی آنکھوں میں میرے لیے اتنا غصہ بھرا تھا..

وو خود ہی من میں اندازے لگاتا اور اپنے آپ جواب بھی دیتا پورے کمرے میں وو پریشان حال گھوم رہا تھا ایک جگہ سے اٹھ کر دوسری بیٹھ جاتا لیکن کچھ سمج نہیں آرہا تھا تبھی سائرہ اسے سامنے  سے دیکھ کر اندر آگئی..

کیا بات ہے وصی تم اتنا پریشان کس لیے ہو؟

مما وو روحی...

وصی نے بے بسی کے ساتھ پریشانی میں اسکا نام لیا.. روحی کا نام سن کر سائرہ کے اندر خوف سا بیٹھ گیا اور وو پریشان ہوگی کہیں اسنے وصی کو کچھ بتا نہ دیا ہو..

پتا نہیں اسے کیا ہوگیا ہے پاگلوں کی طرح بارش میں بیٹھی روۓ جا رہی ہے اسکا رویہ بھی میرے ساتھ بلکل عجیب تھا اور عجیب کیا بلکے یوں کہوں بہت بدتمیزی سے پیش آئی وو مجھسے..

وصی ماں کو اپنی پریشانی بتاتے ہوے پھر سے افسردہ ہوگیا..

تو تمہیں کیا لگتا ہے اسکی وجہ کیا ہوسکتی ہے؟

سائرہ نے ٹھہر ٹھہر کر پوچھا..

مما آئ ڈونٹ ہیو اینی آئیڈیا.. اسنے بغیر کچھ کہے مجہپے غصہ نکالا اور مجھے بات کرنے سے بھی منع کردیا..

اسکی بات سن کر سائرہ نے شکر کا کلمہ پڑھا اور اپنی بات وصی کے من میں بٹھانے کی کوشش کرنے لگی..

دیکھو وصی میں جانتی ہوں اسکے اس رویے کے پیچھے کیا وجہ ہے

سائرہ نے اسکے کندھے پے ہاتھ رکھ کر بولا وصی جو سر جھکاے بیٹھا تھا ایک دم گردن ماں کی طرف گھمائی اور پوری طرح سے متوجہ ہوگیا..

دیکھو تم تو جانتے ہو روحی تمہارے ساتھ نکاح میں بلکل بھی خوش نہیں ہے لیکن مجبوری میں ہی سہی تم اسکے شوہر تو بن چکے نہ.. اب اسے یہی خوف ہے کے کہیں تم اس پے اختیار پا کر اپنا حق زوجیت نہ مانگ لو

سائرہ نے بھنویں اچکاتے ہوے بڑی سمجداری سے بولا..

یہ کیا  بات کر رہی ہیں آپ مما میں بھلا ایسا سوچ

 بھی کیسے سکتا ہوں اور اگر یہ بات تھی تو روحی مجھسے آرام سے بیٹھ کر بھی بول سکتی تھی اس طرح  مجھے دیکھ کر چیخنے چلانے کی کیا ضرورت تھی شوہر کا حق ملتے ہی کیا میں اسکے اوپر کسی جانور کی طرح ٹوٹ پڑتا جو یوں وو بچگانی  حرکتیں  کر رہی ہے.. حلانکے میرے دل میں ایسا کچھ بھی نہیں ہے مما آج بھی وو میرے لیے صرف ایک دوست اور کزن ہے بس اور کچھ نہیں.. مجھے لگتا ہے اس سے بات کر کے مجھے اسکا یہ ڈر دور کرنا ہوگا..

وو اٹھنے لگا تھا تبھی سائرہ نے اسے روک لیا..

نہیں وصی یہ وقت نہیں ہے فلحال تم اسے چھوڑ دو سمجھو تمنے اس سے نکاح نہیں کیا اور نہ ہی تم اس سے کسی بھی موضوع پر بات کروگے کیا پتا وو پھر سے جذباتی ہوجاۓ میں اسے ٹھنڈے دماغ سے سمجھاؤں گی اور یہ یقین دہانی کرا وونگی کے وصی کو اسکی طرف بیوی والی کوئی رغبت  نہیں ہے وو اپنے آپ کو شادی شدہ نہ سمجھے بلکے اپنی مرضی سے شہر جاکر اپنی ماں کے ساتھ زندگی گزارے وصی اسے کبھی کوئی حق نہ مانگے گا اور نہ ہی اسے اپنے پاس رہنے کو کہیگا..

سائرہ نے ہمدردانہ انداز سے وصی کو مطمئن کرتے ہوے کہا..

لیکن مما پلیز اسے کہیے گا مجھسے بات ضرور کرے اور وو جب بولےگی میں  ہی انھیں شہر تک چھوڑدونگا.. مما آپ پلیز اسے یہ یقین دلا دیجۓ اور یہی ٹھیک رہیگا اسکے من سے یہ خوف نکل جائے تبھی مجھسے ٹھیک سے بات کریگی..

وصی نے ماں کے ہاتھ پکڑ کر ایک امید کے ساتھ بولا اور سائرہ نے اسکے سر پے ہاتھ پھیرتے ہوے شیطانی سی مسکان سجا لی تھی...

****

مما آپ شہر چلنے کی تیاری کریں ہم یہاں اور نہیں رکینگے.. صبح کے وقت روحی نے اپنی پیکنگ کرتے ہوے کہا اسکی آنکھوں میں سرخی بتا رہی تھی وو پوری رات نہیں سوئی..

اسکی باتوں کو سن کر مریم جیسے سوچ میں پڑ گئی   روحی کو اسکی بات کا جواب نہ ملا تو وو بیگ سے ہاتھ نکال کر پوری طرح اسکی طرف متوجہ ہوئی..

امی کیا سوچنے بیٹھی ہیں آپ اٹھیں اپنا سامان لایں..

روحی میں تمہیں اپنے ساتھ اس طرح نہیں لے جا سکتی اب تم وصی کی زمیداری ہو مجھے پہلے اس سے  بات کرنی ہوگی..

وصی کی طرف سے یہ آزاد ہے

سائرہ نے دروازے پے کھڑے ہوے اسکی بات کا جواب دیا

کیا مطلب آزاد ہے؟

مریم نے تعجب سے مڑ کر اسے دیکھا اور پوچھا

مجھے یہاں وصی نے ہی بھیجا ہے وو رشتہ توڑ نہیں رہا لیکن روحی کی کوئی بھی زمیداری اٹھانا نہیں چاہتا اور نہ ہی اس سے تعلق رکھےگا تم دونوں ماں بیٹی جہاں جانا چاہو جا سکتی ہو..

سائرہ کی بات سن کر روحی سر جھکاے اپنے غصے پے ضبط کیۓ  سن رہی تھی اور اسے کوئی حیرت نہیں ہوئی تھی لیکن اسکے جانے کے بعد مریم کو بہت حیرانی اور پریشانی سی ہونے لگی اور وو بے بسی سے روحی کو تکنے لگی

سن لیا نہ امی اب چلنے کی تیاری پکڑیں

روحی نے دانت بھینچتے ھوۓ کہا

ایسے کیسے چل دیں بیٹا میں وصی سے خود بات کرتی ہوں آخر اتنی لا پرواہی سے کیوں بول رہا ہے وو.. مریم باہر کی جانب بڑھنے لگی تبھی روحی نے اسکا راستہ روک دیا

امی آپ کسی سے کچھ بات نہیں کرینگی سنا آپ نے

روحی نے جوش  کے مارے بولا

روحی تم اتنی کم عقل کیوں بن رہی ہو کچھ تو سمجھداری کا مظاہرہ کرو اور کل تمہارا رویہ اتنا برا کیوں تھا وصی کے ساتھ چلو چل کے اس سے معافی بھی مانگو اور میں اس سے بات بھی کرتی ہوں اس رشتے کے حوالے سے..

امی مجھے اس کم ظرف اور کمینے شخص سے کوئی معافی نہیں مانگنی اور نہ ہی آپ اس سے کوئی بات کرینگی..

روحی نے لفظ دبا دبا کر بولا تھا

امی آپ نہیں جانتی میرے ساتھ جو کچھ بھی ہوا ہے وو ایک اتفاق نہیں بلکے سوچی سمجھی سازش کے ساتھ ہوا ہے  مجھے برباد کرنے میں ان ماں بیٹوں نے کوئی کسر نہیں چھوڑی..

اب وو رونے لگی تھی مریم نے بڑھ کر اسے  تھام لیا..

یہ تم کیا کہ رہی ہو؟

میں سچ کہ رہی ہوں امی اسنے ماں سے لپٹ کر ساری وو حقیقت بتا دیبتاتے وقت روحی کی ہچکیاں شروع ہوگئیں تھیں جسے با مشکل مریم نےسنبھالا تھا..

روحی اور مریم اماں سے مل کر شہر کے لیے روانہ ہوچکے تھے اور وصی اسکا انتظار کرتا رہا  کے کب وو اسکے پاس آکر بات کریگی لیکن اسکو جب خبر ھوئی تو وو لوگ نکل چکے تھے اسکا دل بیٹھ گیا اور من ہی من روحی کو دہائی دینے لگا

________

وقت کسی کے لیے نہیں رکتا اور نا ہی زمانہ کسی کو کوئی یاد رکھتا ہے بس یہ وہی جانے جس پے بیتی ہو..6 ماہ گزر چکے تھے سبکی زندگی اپنے اپنے معمول  پے آ چکی تھی.. لیکن روحی کی زندگی اب بلکل بدل چکی تھی اسنے خود کو گھر تک محدود کر لیا تھا ہر وقت اسے یہ بات اندر ہی اندر کہا جاتیں... کبھی حسن کو نا پانے کا احساس تو کبھی  سائرہ تائی کی باتیں اسے افسردہ کر دیتی لیکن ان سب میں سے جو اسکے لیے زیادہ تکلیف دہ تھا وو وصی  کی اسطرح دغا بازی کا تھا اس پر وو سب سے زیادہ یقین کرتی تھی اور اسی نے یہ یقین توڑا تھا....روحی کو وصی سے مکمل طور پے نفرت ہوچکی تھی اتنی نفرت شاید وو کسی سے نہیں کرتی تھی..

وصی کے لیے بھی جیسے وقت رک سا گیا ہو وو  ہر ایک مشکل کا سامنا کر چکا تھا لیکن اسےاپنی بیسٹ فرینڈ کی یوں بے رخی برداشت نہیں ہورہی تھی اسنے ایک بار بھی روحی کو  کال یا ملنے کی کوشش نہ کی تھی البتہ وو اسکے لیے فکرمند  ضرور تھا اس لیے وو ارم سے اسکا  حال چال اور خیریت پوچھتا  رہتا تھا..

***

کوفی شاپ میں وو کوفی ہاتھ میں لیے بیٹھا تو تھا لیکن اسکے ادھر ادھر جھانکنے  اور بار بار ٹائم دیکھنے سے صاف صاف لگ رہا تھا کے یہاں  پے کسی کا انتظار ہورہا ہے

سوری وصی میں لیٹ ہوگئی..

اسنے اپنا شولڈر بیگ ٹیبل پے رکھا اور کرسی کو آگے کی طرف کھینچ کر بیٹھ گئی..

مجھے لگا شاید اپنی دوست کی طرح تم بھی مجھسے خفا ہوگئی.. خیر یہ بتاؤ روحی اور تائی امی کیسی ہیں..

لیٹ آنے کی شکایت کرنے کے بعد اسنے ہر بار کی طرح اس بار بھی سب سے پہلے روحی کا پوچھا..

وو ٹھیک ہے بلکل..

ارم کا جواب سن کر وصی اسکی طرف اب بھی نظریں جماے ہوے تھا جیسے وو کوئی اور جواب بھی سننا چاہتا ہے..

ہاں ہاں بھائی اسنے پڑھائی شروع کردی ہے دوبارہ سے...ارم جیسے سمج گئی تھی کے وصی اسکے جواب کا طالب ہے

سچ.. تم سچ بول رہی ہو.. تھینک یو سو مچ..

وصی کی آنکھوں میں چمک  سی اٹھ گئی تھی یہ سن کر کے روحی اب اپنی زندگی کو پھر سے جی رھی ہے..

مجھے کیوں تھینک یو بول رہے ہو اگر تم مجھے نہیں اکساتے  تو شاید میں اسے کبھی راضی نہ کر پاتی اور ویسے بھی میری باتوں سے وو کہاں ایمپریس  ہونے والی تھی یہ تو تم جو جو مجھسے کہتے تھے وو میں جاکر اپنی طرف سے بول دیتی تھی بس یوں کہوں زبان میری تھی لیکن الفاظ تو تمہارے تھے جو اسکے دل کو لگ رہے تھے

ارم نے سارا کریڈٹ اسے دیتے ہوے سراہا

ہاں پر اسے یہ معلوم نہ ہونے پاۓ کے میں اسکی خبر لیتا ہوں تمسے..یا پھر اسکی دوبارہ پڑھائی کے لیے میں نے زور بھرا ہے..

وصی کو فکر ہوئی

تم اسکی فکر مت کرو میں اسپے کبھی ظاہر نہیں ہونے دونگی..

ارم نے سر کو ہلاتے ھوۓ اسے خاطری دلائی..

اچھا کونسی کوفی  منگاؤں تمہارے لیے..

وصی نے خوش اخلاقی سے پوچھا...

شکر ہے تمہیں روحی کے علاوہ کوئی اور خیال بھی آیا..

ارم نے اسپے ٹوکا اور وو مسکرا دیا...

****

وصی یہاں آؤ ذرا

اسنے مگزیں نیچے رکھتے ہوے بولا..

جی مما کہیے..

ووپاس بیٹھا..

دیکھو وصی اب بہت ہوچکا یہ رشتوں کا بھرم اور اموشنل  ڈرامہ اب اپنی لائف کے لیے آگے کا بھی سوچو

مما میں کہاں خاموش بیٹھا ہوا ہوں کر تو رہا ہوں اپنے بزنس کے سیٹنگ  میں ہی تو ہوں..

ہاں مجھے پتا ہے لیکن میں اس وقت کاروبار کی نہین گھر داری کی بات کر رہی ہوں دیکھو حسن نے منگنی کر لی ہے اب تم بھی اپنے لیے لڑکی پسند کرو تا کے میں دونوں کی شادی ساتھ میں بڑی دھام  دھوم سے کرواوں..

سائرہ نے امید باندھتے  ہوے بولا..

ووسب تو ٹھیک ہے مما لیکن میرا نکاح..

ووبول کر ٹھہر گیا..

وصی وو تمنے اپنی مرضی سے نہیں کیا تھا بلکے تمہیں زبردستی اس کویں میں دھکیلا گیا ہے اور کیا ہوا اگر تمہارا نکاح ہوچکا ہے تو ایک وقت میں ایک نکاح کی پابندی صرف عورت کے لیے ہے  تمہیں شرعی طور پر اجازت ہے تم جہاں چاہو دوسرا نکاح کر سکتے ہو.. اس لیے تم اب اپنے گھر بسانے کا سوچو...

جی

اسنے سر ہلایا

اور ایک بات یاد رکھنا وصی تم جہاں چاہوگے میں تمہاری شادی خوشی خوشی کر دونگی لیکن  روحی  کو اس گھر میں لانے کا کبھی مت سوچنا تم جانتے ہو حسن کو اس سے بہت نفرت ہے اگر وو یہاں آگئی تو حسن گھر چھوڑ کر چلا جایگا اور یہ میں کبھی نہیں چاہونگی.. اور اس بدتمیز اور سر فری  لڑکی کو میں بھی شاید جھیل نہ سکون اب تو تم بھی اسکی بدتمیزیاں دیکھ چکے ہو... دیکھو بیٹا دوسروں کا خیال رکھنے سے پہلے اپنے گھر کا سکوں خراب مت کرنا.. تم سمج رہے ہو نہ میری بات؟

سائرہ نے اس پر نظر ٹکا کر پوچھا

جی مما جیسا آپ چاہتی ہیں میں ویسا ہی کرونگا۔

وصی وہاں سے اٹھ کر اپنے کمرے میں اگیا اور روحی کے بارے میں سوچنے لگ گیا..

ہم دونوں ایک دوسرے سے نکاح کے بندھن  میں جڑ ے ہیں اور میں تو اپنی زندگی کسی کے ساتھ بھی بسا لوں لیکن روحی.... اسکا کیا ہوگا جو میرے نام سے جڑی ہوئی ہے میرے نکاح میں ہے ہم دونوں ایک ساتھ نہیں ہو سکتے اور وو جب تک میرے نکاح میں ہے وو کسی اور کے ساتھ نہیں جڑ سکتی  میرے خیال سے مجھے اسے آزاد کرنا چاہیے تاکے وو اپنی زندگی جس کے ساتھ گزرنا چاہے گزار سکے۔

وصی کافی دیر کے بعد آخر اپنے نتیجے کو پہنچا تھا اور اب من ہی من روحی سے مل کر بات کرنے کا سوچ رہا تھا

****

روحی پڑھنے کے لیے جانے لگی تھی جس سے اسکا من ادھر ادھر کی باتوں میں تھوڑا سا لگا رہتا تھا..

 شام کے وقت وصی کسی کام سے  اپنی بائیک پے تیز رفتاری سے پروفیشن سائیڈ پے جا رہا تھا تبھی اسکی نظر روحی پر پڑی جو کے سڑک کنارے کھڑی کسی کا انتظار کر رہی تھی.. اسکو دیکھ کر ہی رفتار  دھیمی کر لی اور  دل پے ضبط نہ ہو پایا وو اسکی طرف آ گیا..

روحی

اپنا نام سن کر اسنے سر اوپر کو اٹھایا اور وصی کو دیکھ کر چہرے پے بل پڑ گئے بنا کچھ بولے وو دوسری جانب مڑی اور وہاں سے جانے لگی

روحی پلیز یار تمہیں ہو کیا گیا ہے اتنی ریوڈ کیوں ہو تم مجھسے..  چلو کہیں بیٹھ کے بات کرتے ہیں مجھے ضروری بات کرنی ہے..جو بھی غلط فہمی ہے جو بھی ناراضگی ہے بیٹھ کر سلجھاتے ہیں..

وصی نے اسکا راستہ روک کر کہا..

مجھے کچھ نہیں سلجھانا اور نہ ہی تمسے بات کرنی ہے میرا راستہ چھوڑ و خا مخواہ  کا تماشا نہ بناؤ..

روحی نے دانت بھینچ کر بولا لیکن وصی وہیں کھڑے رہا۔

روحی کا غصہ سر پے چڑھ گیا تھا

آپ سب کیسے مرد ہیں کوئی لڑکا بیچ راہ مجھے تنگ کر رہا ہے میرے ساتھ زبردستی کر رہا ہے اور آپ لوگ کھڑے کھڑے تماشا دیکھ  رہے ہیں کیا اتنے بے حس ہوگئے ہیں سب..

روحی اچانک سب کو بلاکر  اپنی طرف متوجہ کر چکی تھی کہنے کو تو  وو سب کو بے حسی کا طعنہ دے رہی تھی لیکن اس وقت بے حسی کا مظاہرہ وو خود کر رہی تھی روحی کا بلانا تھا اور وہیں کھڑے کچھ لوگ وصی کو گریبان سے پکڑ کر اونچی آواز میں بولنے لگے۔

کیوں بے سڑک پے اکیلی لڑکی دیکھ کر شروع ہوگئے، تم جیسوں کو نہ جانے کب عقل آیگی کے عورت کی عزت کرنے لگو

وولوگ اس پر مکوں کے ساتھ ٹوٹ پڑے تھے.. وصی صرف روحی کو دیکھ رہا تھا اور وو گردن جھکاے آنکھیں بھینچ رہی تھی... تبھی ارم بھاگتی ہوئی وہاں پہنچی

یہ آپلوگ کیا کر رہے ہیں چھوڑیں اسے یہ لڑکی پاگل ہے آپلوگ اسکے کہنے پے اسے مار رہے ہیں..

ارم نے غصّے سے روحی کو دیکھ کر بولا..

کچھ دیر پہلے اسنے پاس آتے وقت وصی کو دیکھ لیا تھا شاید دونوں میں کچھ بات چیت ہوجاۓ اس لیے ارم تھوڑی سائیڈ لیکر رک گئی تھی لیکن اسے کیا پتا تھا کے روحی اپنی نفرت کی آگ میں یہ بھی کر جاۓگی۔

وو دونوں وہاں سے چل دی اور وصی نے اپنی بائیک پکڑی۔

جب سے انکے ساتھ مسائل ہوے تھے وصی پہلے دن سے بہت ہی سمجھداری سے اور اچھے سے پیش آرہا تھا روحی کی غلطیوں  کو نذر انداز کرتا آرہا تھا لیکن اب روحی کی اس حرکت نے اسے جھنجوڑ  کر رکھا تھا۔

دوستوں سے شیئر کریں

تبصرہ کریں