تیری چاہت ناول قسط نمبر4

تیری چاہت

 

 

 

ناول از پروین

ناول

پروین

قسط 4

اسکے قدم ٹھہر سے گئے مشکل سے  لڑ کھڑا تے ہوےچلنے لگا..حسن کے یقیں میں نہ آیا تھا کے اسنے اس لمحے کیا دیکھ لیا ہے حقیقت چاہے کچھ بھی ہو اور کیسے یہ صورتحال  بنی ہو لیکن اس وقت کا منظر کسی کو بھی سوچنے پر مجبور سکتا تھا.. روحی کی آنکھیں آہستہ آہستہ سے کھلنے لگی تہی اسے سب سے پہلے حسن دکھائی دیا جو کے بلکل اسکے سامنے کھڑا تھا اگلے ہی لمحے اسکی ادھ کھلی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں جب سامنے سب گھروالوں کو دیکھا اور اپنے اوپر نظر دوڑائی اور ششدر رہ گئی دونوں جس حالت میں پاے گئے تھے یقینن وو بہت ہی بری صورتحال بن چکی تھی..وو جھٹ سے وہاں سے اٹھی اسے اپنا جسم بہت بھاری سا لگنے لگا تھا لیکن ایسے وقت میں وو اسکے آگے شاید کچھ بھی نہ تھا اسنے لڑکھڑاتے  ھوۓ دوپٹہ خود کی لپیٹ لیا اور ایک نظر وصی کو حیرت سے دیکھا جو کے اپنا کوٹ پہن رہا تھا دل میں ایک شور اور ولولہ سا اٹھا تھا آنے والے طوفان کا سوچ کر اسکا دل تو چاہا تھا وو یہیں پر زندہ دھنس جائے...نظریں چراتے ہوے حسن کو دیکھا جو کے سر جھکاے لیکن بہت غصے میں تھا...

آپ لوگ سب یہاں..؟ اور ایسے کیا دیکھ رہے ہیں..؟

وصی نے ہمّت کر کے منہ سے الفاظ نکالے..

شاید ہم غلط وقت پے آگئے ڈسٹرب کردیا..

حسن نے گھورتے ہوے اسے طنز کے ساتھ کہا..

بھائی آپ بلکل غلط سمجھ رہے ہیں آپ جیسا سوچ رہے ہیں ویسا کچھ نہیں ہے.. وو تو میں جب کمرے میں آیا تو

وصی بوکھلا کر بولا تھا.. اگلے ہی لمحے ایک زوردار تھپڑ اسکے منہ پے  مارا گیا یہ تھپڑ حسن نے نہیں اماں نے مارا تھا..

یہ نتیجہ ہے اتنی آزادی اور چھوٹ کا یہ تک نہ سوچا کے وو تمہارے بھائی کی منگیتر ہے.. نہ جانے کب سے سب کی آنکھوں میں دھول جھونک رہے ہو تم دونوں.. یہ تربیت پائی ہے شہر میں رہ کر بڑے بڑے کالجوں میں پڑھ کر..

اماں دونوں سے مخاطب ہوکر بول رہی تھی اور جیسے دونوں کے اوپر پھٹ پڑی تھی..

سائرہ اور وسیم خاموش تماشا دیکھ رہے تھے سائرہ کے چہرے کے تاثرات کچھ عجیب تھے جیسے اس وقت وہاں کھڑے وو کسی اور بات کو ہی سوچ رہی تھی...

وسیم نے حسرت سے حسن کو دیکھا جو کے آنکھوں میں ایک سوال لیے تھا.. اور حسن نے وو سوال جیسے پڑھ لیا ہو..

اسنے نفی میں سر ہلایا اور بولا.

 نہیں پاپا میں ایسی لڑکی سے شادی نہیں کر سکتا جس کا کردار مشکوک ہو.. میں اس کے ساتھ کیسے زندگی گزار سکتا ہوں جس کا دل کسی اور کے ساتھ جڑا ہو..

ایک با کردار بیوی سب سے بڑی نعمت ہوتی ہے یہ عورت کی خوبی ہوتی ہے کے اسکا کردار اور وجود پاک ہو.. اور ایسی بیوی شوہر کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہوتی ہے.. لیکن آج اپنی آنکھوں سے اب دیکھنے کے بعد میں کیسے  مان لوں کے یہ بے داغ اور پاکدامن  ہے.. اگر میں اسے شادی کر بھی لوں تو اس کی یہ بات میرے آنکہ میں چبھتی  رہیگی کے میری بیوی میرے بھائی کے ساتھ....

اسنے مٹھیاں بھینچ لی اور کچھ پل ٹھہر کے پھر سے بولا

 میں یہ سب برداشت نہیں کر سکتا میں آپ سب کے سامنے واضع طور پے یہ بات کہ رہا ہوں میں روحی سے شادی کسی قیمت پر بھی نہیں کرونگا..

وو اپنا فیصلہ سناتا ہوا باہر کو چلا گیا روحی کے پیروں تلے جیسے کسی نے زمین کھینچ لی ہو  اسکا جسم ٹھنڈا پڑ گیا اور وو بے اختیار نیچے بیٹھ گئی اپنی بے بسی کا ماتم منانے...

آپ لوگ اس بات کو غلط ڈھنگ نا دیں یہ محض ایک اتفاق ہے اور کچھ نہیں..میں جب کمرے میں آیا تب روحی بیہوش پڑی تھی اور میں اسے..

خاموش رہو اب یہ صفا ئیاں دینے کی ضرورت نہیں ہے جو کچھ ہوا ہمنے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے دونوں نے غلطی کی ہے اب اس کا اعتراف بھی کرو تو یہی بہتر ہوگا...

اماں نے جوش میں اکر اسے ہاتھ کا اشارہ کرتے چپ کرادیا..اور وصی بے بسی سے کھڑا آنے والے وقت کا سوچ کر کسی گہری سوچ میں ڈوب سا گیا..

****

کچھ وقت پہلے جو گھر خوشی کا مرکز تھا ہر طرف شور شرابہ ہلا  غلا تھا اب جیسے کوئی راکاس چھا گیا تھا..  نسرین اپنے گھر کو جا چکی تھی...چند رشتےدار کے علاوہ ہر کوئی جا چکا تھا...حویلی کے افراد پر جہاں ایک چپ کا تالا سا لگا تھا وہیں یہ بات آگ کی طرح پورے خاندان میں پھیل گئی تھی اور ہرایک کی زبان پے یہی تذکرہ تھا.. جسکو جتنی توفیق ملی اتنا ہی اس بات کو اچھالا.. شہر کے لڑکے لڑکیاں یہی کرتے ہیں منگنی ایک سے تھی اور دوسرے سے چھپ چھپاۓ چکر چالو تھا.. توبہ توبہ..

میں نے تو پہلے دن سے ہی انہیں دیکھ کر انداز لگایا تھا کے ضرور دونوں کے بیچ کچھ نہ کچھ چل رہا ہے..

ایک عورت ناک رگڑ کر بولی تودوسری نے بھی بات پے تبصرہ کیا..

نہ جانے کب سے دونوں چھپ کے ملتے آے ہونگے آج قسمت نے ساتھ نہ دیا اور پکڑے گئے..

وو لوگ بغیر سوچے سمجھے اسکے کردار کو کرید رہے تھے روحی کو یہ اندازہ بلکل بھی نہ تھا کے اسکے اور وصی کے بارے میں ایسی باتیں چل رہی ہیں.. وو سننے کی تاب نہ لا سکی اور وہیں بیہوش ہوکر گر گئی...

اسے جب ہوش آیا تو وو بیڈ پر لیٹی ہی تھی.. آنکھ اٹھا کر دیکھا تو ماں سوفی پے بیٹھی سوچوں میں ایسی گم تھی  جیسے کسی دوسرے جہاں کو پہنچ گئی ہو روحی فورن اٹھ کر اسکے پاؤں میں بیٹھ گئی...

امی میرا یقین کریں ایسا کچھ بھی نہیں ہے میرا من میلا نہیں ہے میرے من میں صرف اور صرف حسن کی پاکیزہ  محبت بستی ہے میں نے کسی کو کوئی دھوکہ نہیں دیا..

روحی بات کرتے وقت مریم کی آنکھوں میں اپنی بے گناہی دیکھنا چاہتی تھی لیکن اسنے اپنا چہرہ دوسرے رخ کرلیا تھا..

امی پلیز میں مر جاؤنگی اگر آپ نے بھی مجھسے آنکھیں پھیر لیں تو..

روحی مسلسل روۓ جا رہی تھی

مر جاتی روحی یہ دن نہ دکھاتی..

مریم نے بے رخی سے اسکا ہاتھ چھٹکتے ہوے  بولا..

امی پلیز آپ ایسا نہ کریں ایک آپ ہی ہیں جسکا مجھے سہارا ہے آپ پلیز سب کو سمجھاین آپ جاکر حسن اور تایا ابو سے بات کریں انھیں یہ رشتہ توڑنے سے روکیں امی پلیز مجھ پر رحم کریں میں نے کوئی گناہ نہیں کیا.. وو اپنی ماں کے پیر پکڑے دھاڑیں مار کر رونے لگی تھی..

کس رشتے کی بات کر رہی ہو روحی اسکا تو اب تم اپنے دل سے خیال بھی نکال دو اور یہ د عا کرو کے تمہارے حق میں کوئی اچھا فیصلہ آے

مریم نے اسے پاؤں سے اٹھا کر اپنی جانب متوجہ کیا..

کیا مطلب امی ابھی اور کیا فیصلہ ہونا ہے اپنے دیکھا نہ حسن نے سب کے سامنے تو اپنا فیصلہ سنادیا کیا اب بھی کچھ..

وو بوکھلاہٹ سے ہکلاتے ہوے بولی..

وو تو حسن نے اپنا فیصلہ سنایا لیکن اماں کا فیصلہ سنانا ابھی باقی ہے جو کے سارے خاندان کے سامنے ہونا ہے اب نہ جانے کیا سزا تجویز ہوگی تمہارے لیے..

 تمنے جو کیا بلکل غلط کیا لیکن پھر بھی ماں ہوں نہ تمہاری تکلیف دیکھی نہیں جاۓگی دعا کر رہی ہوں تمہارے لیے..

ووتھوڑا ٹھہر کر بولی اور آنسوں پوچتی ہوئی وہاں سے اٹھ گئی اور روحی کا گلہ خشک ہوتا گیا آنکھیں کھلی رہ گئی..

_______

آج  حویلی میں گھر کے بڑے اور خاندان کے کچھ معتبر  لوگ  جمع ہوے تھے اماں بیٹھک میں شامل تھی روحی کا مدعا اٹھایا گیا تھا..

روحی کا رشتہ حسن کے ساتھ طے ہوچکا تھا اسکے باوجود بھی اسنے کسی اور کے ساتھ اپنا منہ کالا کر کے امانت میں خیانت  کی ہے اسے سزا ملنی  چاہیے..

ایک عورت اپنی راے دیتے ہوے بولی

میرے خیال سے کوئی بھی فیصلہ جلد بازی میں نا لیا جائے کوئی گنجائش رکھی جائے اس بات کی جڑ تک پہنچ کر پتا لگایا جائے آخر یہ ایک حادثہ بھی ہوسکتا ہے..

دوسری خاتون نے سمجداری دکھاتے ہوے اپنی سوچ کا اظہار کیا..

کیا ہوگیا ہے تم لوگوں کو وو دونوں نہ زیبا حالت میں اکیلے کمرے میں پاے گئے ہیں آدھا لباس تو وو اتار چکے تھے اور اگر اس وقت وو پکڑے نہ جاتے تو نہ جانے اگلا قدم کیا ہوتا انکا.. اور یہ تو اس دن کی بات رہی.. رب جانے پہلے کیا کیا گل کہلاتے آے ہیں..

ایک عورت جوش کے مارے بول پڑی جو کے بظاھر تو ایک سلجھی ہوئی سمجھدار خاتون لگ رہی تھی لیکن اسکی باتوں سے جہالت خوب جھلک رہی تھی

اماں نے کسی کی بات کا کوئی جواب نہیں دیا تھا بلکے مٹھیاں بھینچ کر باتیں سنتی جارہی تھی کوئی روحی کے حق میں بات کرتا تو کوئی اسے کڑی سے کڑی سزا دینے کا مطالبہ کرتا تاکے آیندہ کوئی ایسی حرکت نہ کرے..

اب سب کی باتیں ختم ہوچکی تھیں خاندان کو بڑے مرد اور اماں کچھ فیصلہ سنانے لگے تھے

روحی نے یہ نہ زیبا حرکت کر کے اپنے ساتھ ساتھ خاندان کی عزت کی بھی  دھجیان  اڑائی ہیں لہٰذا اسے..

جیسے ہی انہوں نے بات شروع کی مریم انکے آگے ہاتھ جوڑ کر کھڑی ہوگئی

میں معافی چاہتی ہوں مجھے کوئی حق نہیں ہے مداخلت کرنے کا آپ لوگ بڑے ہیں مجھے آپ کو صلاح مشورہ دینے کا کوئی حق نہیں بنتا لیکن پھر بھی میں آپ لوگ سے اسکے لیے رحم کی اپیل کرنے لگی ہوں اسے اس دفعہ معاف کردیں اگلی بار وو ایسی غلطی نہیں کریگی وو میرا ایک ہی سہارا ہے میں اسے تکلیف میں دیکھ نہیں سکتی خدا کا واسطہ اسکے بارے میں کوئی بھی فیصلہ کرتے وقت میری اس التجا کو قبول کریں  وو روتے ہوے بڑے میاں کے قدموں میں گر گئی اور گڑ گڑانے لگی..

بچوں سے غلطیاں ہوجاتی ہیں لیکن ہمیں انکی اصلاح کرنی چاہیے نہ کے انھیں سزا دیکر پورے جگ میں رسوا اور خوار کرنا چاہیے.. میں یہ نہیں کہتا کے انکی غلطی پر پردہ ڈالا جائے لیکن انھیں غلطی سدھارنے کا موقع ضرور دیا جاۓ.. اور ایک میری اس بات کو بھی مد نظر ضرور رکھےگا  آپلوگکے وو یتیم ہے اماں... میرے مرحوم بھائی کی اکلوتی نشانی ہے...وسیم نے بھی مریم کے بعد اپنی بات سامنے رکھی تھی اور جذباتی ہوتے ہوے اسکی آنکھیں بھر آئی تھیں.. کیونکے وو جانتا تھا سزا کوئی بھی رکھی جائے یقینن قصور وار روحی کو ٹھہرایا جائے گا کیونکے وو ایک لڑکی تھی اور کسی کے نام پے ہوچکی تھی..

وسیم کے زبان سے اپنے بیٹے کا ذکر سن کر اماں کا زخم تازہ ہوگیا تھا اسکی آنکھیں بھر آئی تھیں..

 لہٰذا فیصلہ کچھ یوں سنایا گیا کے روحی کے کردار یا اسکی زندگی سے کبھی کوئی بدچلنی  کے شواہد نہیں پاۓ گئے یہ بھول پہلی بار ہوئی ہے لیکن اس گناہ کو نظر انداز بھی نہیں کیا جاسکتا... اسکے حمایت میں رحم کی اپیل کو قبول کرتے ہوے کوئی اور سزا نہیں دی جاتی لیکن حسن اور اسکا رشتہ توڑ دیا جاتا ہے.. چونکے روحی اور وصی کو جس حالت میں پایا گیا اسکے لیے سزا یہی ہونی تھی کے روحی کا نکاح خاندان سے باہر کر دیا جاتا اور اسے پوری طرح سے قطع تعلق کیا جاتا لیکن یہ اسکی پہلی بھول سمج کر اسے ایک موقع دیتے ہوے فیصلہ سنایا گیا کے روحی اور وصی کا نکاح  کردیا جاۓ تاکے دوبارہ وو کبھی ایسی حرکت نہ کریں... اسکے ساتھ ساتھ دونوں کو خاندان کے کسی بھی خوشی یا غمی میں شرکت کرنے کی  خاندانی طور پر کوئی حیثیت حاصل نہ ہوگی ملکیت میں انکا حصہ ہونے کے وجہ سے وو حویلی میں انے سے روکے نہین جاینگے لیکن خاندان اور رشتےداروں سے وو محدود حد میں رہینگے...

****

مریم جیسے ہی دبے پاؤں کمرے میں داخل ہوئی روحی اسی کی منتظر تھی جیسے ہی ماں کو اندر اتے دیکھا اسے بنا کچھ بولے تکتی رہی جیسے ہمت نہ تھی پوچھنے کی مریم اندر اکر بیڈ پر بیٹھ گئی اور خود کو ڈھیلا چھوڑ دیا اسے یقین نہ سہی لیکن تھوڑی بہت امید تھی کے برسوں پرانا جڑا ہوا روحی اور حسن کا رشتہ شاید بچ جاۓ لیکن ایسا نہ ہوا..

امی کیا کہا ان لوگوں نے؟

آخر کافی دیر تک اسنے خاموشی نہ توڑی تو روحی سے رہا نہ گیا اسکے پاس بیٹھ گئی..

میں نے انکے سامنے ہاتھ جوڑے تھے رحم کی بھیک مانگی کے تمہارے ساتھ نرمی کی جائے..

 وو بات کر کے رک گئی وو نظریں کہیں اور ٹکا کر بات کر رہی تھی لیکن روحی کی نظریں مسلسل اسپے تھیں

تو کیا کسی نے رحم کھایا مجھ پر؟

روحی نے حسرت سے خشک لبوں سے بولا اس وقت جیسی اسکی حالت تھی واقعی وو رحم کھانے کے قابل تھی بکھرے ہوے بال اور  اجڑی ہوئی رنگت چہرے پے اداسی اور مرجھایا پن..

ہاں یون سمجھو یہ تم پر رحم ہی ہوا ہے کل تمہارا نکاح ہے

مریم نے اسے دیکھتے ہوے ٹھہر ٹھہر کے بولا

کیا آپ سچ کہ رہی ہیں امی کیا حسن  واقعی مجھے اپنا رہے ہیں وو مان گئے نہ کے میں..... میں بے گناہ ہوں میرے اور وصی کے درمیان کچھ غلط نہیں ہے...

اسکے چہرے پے ایک چمک کی لہر دوڑنے لگی اسکا پھیکا  سا چہرہ پھر سے تازہ ہونے لگا تھا جیسے مرجھایا ہوا پھول پھر سے سبز ہونے لگا تھا اور وو صرف حسن کا نام لیکر بولے جا رہی تھی کسی خوش فہمی میں مبتلا ہونے لگ گئی تھی

روحی اب یہ حسن حسن کرنا بند کردو خدا کے واسطے.... تمہارا نکاح حسن سے نہیں وصی سے ہورہا ہے

 ایک جھٹکے سے اسکے پیروں تلے زمین نکل گئی جب مریم نے اسے جھنجھوڑ کر ایک ہی سانس میں بولتے ہوے حقیقت سے اگاہ کیا...

یہ.. یہ... آپ کیا کہ رہی ہیں  ایسا نہیں ہوسکتا میں حسن کے علاوہ کسی اور سے کیسے کر سکتی ہوں امی آپ جانتی ہیں آپ میرے دل سے میرے جذبات سے اچھی طرح واقف ہیں اس دل میں حسن کے سوا کوئی اور نہیں بستہ امی خدا کے واسطے مجھے اتنی بڑی سزا نہ دیں.. کہ دیں کے یہ جھوٹ ہے امی بولیں نا یہ جھوٹ ہے

وو جھنجھلا  کر  چیخ چیخ کر بول رہی تھی زمین پر پاگلوں کی طرح بیٹھ گئی تھی..

اسکی یہ حالت مریم سے دیکھی نہیں جا رہی تھی اسنے اسے گلے سے لگا لیا تھا اور سمجھانے کی کوشش کرتی رہی اور روحی کی چیخیں سسکیوں میں بدل گئیں..

****

جب سے یہ واقعہ ہوا تھا سائرہ نے کچھ اس بارے میں خاص کر کوئی ڈسکس نہیں کیا تھا لیکن فیصلہ سننے کے بعد تو وو جیسے کانپ اٹھی تھی تیز تیز قدم لیتی من ہی من کچھ ہڑ بڑا رہی تھی جیسے کوئی بہت بڑی چیز اسکے ہاتھ میں آتےآتے نکل گئی ہو آخر رات کو وو اماں کو اکیلا دیکھ کے اسکے کمرے میں آ گئی...

اماں گھر میں اگر کوئی چیز خراب ہوجاۓ تو

اسکی بد بو پورے گھر میں پھیل جاتی ہے اسلیے ایسی چیز کہیں دور  پھینک دیتے ہیں تاکے اسکی نحوست سے دوسری چیزیں غلیظ نہ ہوجاییں...لیکن ایسی چیز کو گھر کے ایک کونے سے اٹھا کر دوسرے کونے میں رکھنے میں کوئی سمجھداری تو نہیں ہوتی..

سائرہ نے بھنویں اچکاتے ہوے تنز سے اماں کو دیکھ کر کہا..

سیدھا سیدھا بولو سائرہ..

اماں اسکی بات سمج چکی تھی شاید سائرہ کے منہ سے وضاحت سننا چاہتی تھی..

میں روحی کی بات کر رہی ہوں جب یہ ثابت ہوچکا کے وو چال چلن  کی اچھی نہیں ہے تو آپنے میرے ایک بیٹے کے گلے سے نکال کر دوسرے کے گلے میں وو مصیبت ڈال دی..

سائرہ نے نفرت آمیز  لہجے میں بولا..

مت بھولو کے جتنی وو گناہگار ہے تمہارا بیٹا بھی اسکے شریک ہی ہے.. اسکے اوپر کسی اور کا گناہ نہیں تھوپا جارہا روحی کے ساتھ اگر اپنے بیٹے کے گن بھی گنو تو ٹھیک رہیگا..

اماں نے بھی اسے فورن اسی لہجے میں جواب دیا..

لیکن اماں میرا بیٹا ایسا نہیں ہے اس روحی نے ہی اسے پھنسایا ہے وو خود ہی ایسی لڑکی ہے نہ جانے اور کس کس کے ساتھ اسکا...

سائرہ نے لب بھینچتے ہوے کہا...

کیا تمہارے پاس اسکے بے گناہ ہونے کا کوئی ثبوت ہے؟

اماں نے تحقیقی لہجے میں پوچھا..

نہیں لیکن میں جانتی ہوں میرا بیٹا ایسا نہیں ہے وو محض اسکے ساتھ اتفاق ہوا ہے یا پھر اسے کسی نے پھنسا دیا ہے..

اگر اسکے ساتھ اتفاق ہوا ہے تو ضرور روحی کے ساتھ بھی اتفاق ہوا ہوگا پھر اس لحاظ سے تو روحی کا کردار بھی پاک ہونا چاہیے تمہاری نظر میں اور ایسے میں تمہیں اسے بہو بنانے میں کیا عار ہوگا...

سائرہ نے وصی کی طرف سے صفائی پیش کی تو اماں نے بھی منہ توڑ جواب دے کر بھرپور اس پر ٹوک دیا اور اسے خاموش کر دیا..

دوستوں سے شیئر کریں

تبصرہ کریں