تیری چاہت ناول قسط نمبر3

تیری  چاہت

 

ناول

ناول

پروین

قسط نمبر 3

گاؤں سے فون آیا تھا اماں کا...  وو بیڈ پر بیٹھتے ہوے بولا

وو وہیں لیٹی ہوئی تھی کچھ بولے بنا اسے دیکھ رہی تھی اور مزید بات سننے کی منتظر  تھی..

نسرین کی شادی طے ہوگئی ہے..

وسیم نے بیڈ پے ٹیک لگا کر بولا..

اچھا..

سائرہ دھیمے سے لہجے میں بولی

کافی دن سے وہاں جانا بھی نہیں ہوا اور اب شادی کا موقع بھی ہے میرے خیال سے..

کوئی ضرورت نہیں ہے کہیں جانے کی یہاں سے تحفہ بھجوادینا..

سائرہ نے فورن وسیم کو بات پوری نہ کرنے دیتے ہوے  بے رکھی سے بولا..

کیا مطلب کوئی ضرورت نہیں ؟..  بھانجی ہے وو میری

وسیم نے غصے سے سائرہ کو دیکھ کر یاد دہانی کرائی..

اس میں غصّہ ہونے والی کیا بات ہے میں تو اس لیے  کھ رہی تھی کے تمہاری طبیعت اچانک خراب ہوجاتی ہے اور ایسے میں تمہارا گاؤں جانا اکیلے رہنا ٹھیک نہیں ہے..

سائرہ نے سنبھلتے  ہوے کہا..

میں اکیلے نہیں جا رہا ہم سب چل رہے ہیں..

وسیم  کی بات سن کر سائرہ اس کو چونکنے  انداز سے اسے گھور رہی تھی..

کیا ہوگیا ہے سائرہ تمہیں ہم کافی ٹائم سے گاؤں نہیں گئے اماں کو بھی یہی شکایات رہتی ہیں.. اس بہانے انسے مل لینگے اور بچے بھی زیادہ  ٹائم سے گھر سے دور رہے ہیں کام اور پڑھائی میں مصروف اور تھکن.. اس طرح انکی بھی اوٹنگ ہوجایگی... اور اگر تمہیں بوریت یا پھر کوئی پریشانی ہوئی تو ہم اسی دن واپس آجاۓنگے

وسیم نے سائرہ کا ہاتھ پکڑ کر پیار سے سمجھایا تھا..

اور وو سر اثبات میں ہلانے  لگی..

*****

آجاؤ بیٹھو..

اسنے گاڑی روک کر اشارہ کیا

نہیں وصی تم جاؤ میں خود چلی جاؤنگی

آجاؤ یار تمہارے ہی گھر جا رہا ہوں..

اسنے گاڑی کا دروازہ کھولتے ہوے پھر سے زور بھرا اور وو بیٹھ گئی..

وو خاموش سی بیٹھ گئی اور اگے کی طرف دیکھتے ہوے راستہ ختم ہونے کا انتظار کرتی رہی..

گاؤں چلنے کی تیاری کرلی؟

وصی نے ایک نظر اسے دیکھ کر پوچھا..

کس لیے..

روحی نے بے خبر ہوتے ہوے پوچھا..

میری شادی جو ہے وہاں..

وصی نے اس طرح اسکی بے توجی  پے ٹوک دیا

اور وو مسکرادی

مطلب تم گاؤں کی لڑکی سے شادی کر رہے ہو

ہاں..

وصی نے فورن کہا...

کیوں کینیڈا والی سے چکر نہیں چل پایا کیا..

روحی نے ٹوکا..

یار نسرین آپا کی شادی ہے وہاں..

وصی نے فورن اسے یاد دہانی کرائی..اور عجیب نظر سے دیکھنے لگا..

پتا ہے..

روحی نے ہونٹ بھینچ کر با خبری ظاہر کی

ہاں توکیا پروگرام بنا چل رہی ہو نہ؟.

ابھی تک تو نہیں سوچا..

اسنے بغیر دیکھ بولا..

تو پھر زیادہ سوچنے کی کوئی ضرورتنہیں ہے تم چل رہی ہو..

وو روب جماتے ہوے بولا..

اوراسکا جواب سننے کے لیے اسکی طرف گھورنے لگا وو سوچ میں پڑ گئی اور خاموش ہوگئی..

زیادہ سوچو مت حسن بھائی بھی چل رہے ہیں..

وصی نے شیطانی مسکان سجاۓ اسے جیسے کوئی خوش خبری سنادی.. اسکی آنکھیں ایک جگا ٹک گئیں اور چہرے پے مسکان بکھر گئی.. اب وو منع کیسے کر سکتی تھی..

نسرین آپا کی شادی ہے اگر میں نہ گئی تو برا لگے گا نہ انھیں؟

 وو بھی مسکراتے ہوے  شرارتی انداز سے وصی کو دیکھ کر بولی اور وصی نے زوردار قہقہہ لگایا..

****

حسن کیا کر رہے ہو؟ مصروف ہو کیا

وسیم نے کمرے میں اندر آتے ہوے پوچھا

پاپا آئیے نہ میں بس ایسے ہی فائلز چیک کر رہا تھا.. وو فائلز ایک طرف رکھ کر پاپا کی طرف متوجہ ہوا..

وسیم اسکے قریب بیٹھ کر اسے دیکھنے لگا..

کیا بات ہے پاپا آپ  پریشان لگ رہے ہیں..

حسن نے اسے خاموش بیٹھا دیکھ کر بولا

حسن تمسے ایک بات کرنی ہے بیٹا میں یہ بات پہلے بھی تمسے کر چکا ہوں.. بیٹا میں تمہاری اور روحی کی شادی..

پاپا آپ میرا جواب جانتے ہیں پھر بھی..

حسن نے اسکی بات کو کاٹ تے ہوے جواب دیا..

ہان جانتا ہوں تم انکار کرچکے ہو

وسیم نے سر جھکاتے ہوے اعتراف کیا

پھر بھی..؟

حسن نے کھڑے ہوکر سوالیہ نظروں سے اسے دیکھتے ہوے  پوچھا

ہاں میں بار بار پوچھونگا.. کیوں کے بیٹا تمہارے پاس انکار کی کھوئی خاص وجہ نہیں ہے تم روحی کے بارے میں اپنی راۓ نہیں دیتے بلکے جو تمہاری ماں کہتی ہے وو ہی تم سوچتے ہو..

وسیم بھی اسکے ساتھ کھڑا ہوگیا..

روحی میں کوئی برائی نہیں ہے تمہاری ماں اسے بس پسند نہیں کرتی..

لیکن پاپا مما پسند نہیں کرتی تو ضرور کوئی تو  وجہ ہوگی نہ

ہاں اسکے پاس وجہ ہے کیونکے تمہاری ماں ضدی اور جذباتی ہے.. اپنے جذبات کا بدلہ روحی سے لے رہی ہے..  تم تو جانتے ہو جب تمہارے  تایا کی ڈیتھ ہوئی تھی تب بھابھی اور روحی کی زمیداری میں نے لی تھی اور روحی کے سر پر شفقت کا ہاتھ رکھ کر ابا جی کی خواہش پر انکو کو یقین دلایا تھا کے میں اسے ایک دن اپنی بہو بنائونگا اور یہ فیصلہ میرا اکیلے کا نہیں تھا سب کی رضامندی شامل تھی، میں نے تمہاری ماں سے بھی مشورہ کیا تھا تب اسنے کوئی مخالفت نہ کی تھی.. لیکن جب تمہارے چھوٹے چاچو کی شادی کی بات آئی تب ہم سب کو مریم بھابی کی بہن کا رشتہ پسند اگیا تھا اور سائرہ کی یہ خواہش تھی کے وو اپنی بہن کو اپنی  دیورانی بنا کر گھر میں لاے.. اسکی یہ آرزو پوری نہ ہوسکی  اور تب سے اسنے روحی اور

اور بھابی کی طرف اپنی نفرت کو بڑھا دیا جو اتنی بڑھ گئی اور نوبت یہاں تک پہنچ گئی کے انھیں ہمارا گھر بھی چھوڑ کر جانا پڑا..

وو بات کرتے وقت افسردہ ہوگیا..

تو پھر آپنے حمایت کیوں نہیں کی یا پھر جھگڑے اور گھر چھوڑنے میں غلطی تائی کی ہی تھی؟

حسن نے اسکے کندھے پے ہاتھ رکھتے ہوے پوچھا..

میں نے بہت کوشش کی تھی لیکن حالات کو سنبھال نہ پایا اپر سے مریم بھابی بھی یہاں رھ نا نہیں چاہتی تھیں اسلیے انہوں نے مجھے کوئی ضد کرنے سے منع کردیا وو نہیں چاہتی تھی کے انکی وجہ سے سائرہ اور میرا رشتہ بھی ختم ہوجاۓ... دیکھو حسن روحی بہت اچھی لڑکی ہے اس میں کوئی برائی نہیں ہے.. ایک اچھے رشتے کی شروعات کرنے سے پہلے جو سب سے اول چیز جانچی  جاتی ہے وو کردار ہوتا ہے اور روحی کا انتخاب کرنے کے لیے تمہارے لیے یہی بات کافی ہے کے وو بے داغ ہے بچپن سے ہی تمہارے نام سے جیتی آئی ہے اسکے دل میں کسی اور کا خیال نہیں بستا.. اور ایک مرد کے لیے یہ بہت بڑے فخر کی بات ہوتی ہے کے اسکی بیوی صرف اسی کو ہی چاہے... اور اس بات کی کیا گارنٹی ہے کے تم کسی اور لڑکی سے شادی کرو اور اسکا کسی کے ساتھ کوئی تعلق نہ رہ چکا ہو یا وو با حیا ھو؟ لیکن اس حساب سے روحی میں وو سارے گن ہیں...بس تمنے کبھی اس پے توجہ ہی نہیں دی دل سے اس معاملے پر سوچ کر دیکھنا.. اورمجھے جلدی جواب دینا میں چاہتا ہوں نسرین کی شادی کے دوسرے دن تم دونوں کی منگنی ہوجاۓ..

وسیم کی بات حسن بڑے غور اور توجہ سے سن رہا تھا...

میں امید کرتا ہوں تم مجھے مایوس نہیں کروگے حسن..؟

وسیم نے کچھ دیر ٹھہر کے پوچھا تھا..

جی پاپا آپکو میری طرف سے کوئی پریشانی نہیں ہوگی میں آپکو نا امید نہیں کرونگا.. میں اس معاملے پر ضرور سوچونگا..

حسن نے سر ہلاتے ہوے وسیم کو خاطری کرائی اور اسکا چہرہ چمک اٹھا..

________

وصی تم کل گئے تھے نہ بھابی کے پاس کیا بولا انہوں نے؟

جی پاپا وو لوگ گاؤں جا رہے ہیں..

وصی نے کچھ ٹیکسٹ کر تے ہوے نظر اٹھائی جواب دیا اور پھر سے موبائل میں لگ گیا..

اس بار دعا کرنا یہ رشتہ قائم ہوجاۓ..

وسیم نے حسرت سے اوپر دیکھتے ہوے بولا..

پاپا آپ فکر نہ کریں اگر بھائی نے سوچنے کا ٹائم مانگا ہےو ضرور آپکی توقع کے مطابق جواب دینگے..

****

سب لوگ گاؤں پہنچ گئے تھے پاپا کے کہنے پر  مریم اور روحی کو وصی اپنی گاڑی میں لیکر آیا تھا.. جو بات سائرہ کو بعد میں پتا چلی اسے بلکل بھی اچھا نہیں لگا تھا..  گاؤں میں رئیس گھرانے  سے ایک انکا گھرانہ تھا  امینہ بیگم کی  بڑی حویلی جس میں نوکر چاکر لگے ہوے تھے.. نسرین کی شادی وو اپنے ذمے لے رکھی تھی اسی کے حویلی میں ہو رہی تھی..  امینہ کا شوہر کچھ عرصہ پہلے فوت ہوچکا تھا لیکن حویلی کو اسنے خود بہت اچھے طریقے سے سنبھالا  ہوا تھا وو گاؤں کی بہت سخت اور ہوشیار قسم کی عورت مانی جاتی تھی.. اکثر کسی مسلے کا حل یا کسی جھگڑے کے فیصلے میں امینہ بیگم کو بھی بیچ میں بٹھایا جاتا..

شادی کا ماحول تھا گھر میں رونق لگی تھی اوپر سے شہر سے آے ہوے بچوں نے بھی چار چاند لگا دیے تھے..

رات کا ٹائم تھا سارے لڑکے اور لڑکیاں ایک دوسرے کے ساتھ گیم کھیل رہے تھے مذاق مستی کر رہے تھے... لیکن حسن سب سے دور بیٹھا صرف لطف اندوز ہورہا تھا

حسن بھائی آپ اتنے دور کیوں بیٹھے ہیں آے نہ.. حرا نے اسے نیچے سب کی طرف کھینچ کر بٹھا لیا اب وو روحی کو سامنے سے دیکھ سکتا تھا..  جب کے روحی کے سائیڈ میں وصی بیٹھا تھا.. وصی بات بات پر اشارے میں دونوں کو چھیڑ دیتا اور وو دونوں صرف اسے آنکہ کے اشارے سے چپ کرانے کے سوا کچھ کر نہ پاتے..

وصی تم اتنے ڈھیٹ کیوں ہوتے جارہے ہو؟

سب لوگ اٹھ گئے تھے تب روحی نے غصیلے  انداز سے وصی کو بولا..

اب کیا کیا میں نے روحی بھابی؟

وصی نے پھر سے اسے چھیڑ دیا تھا اور وو آگ بگولہ ہوگئی

دیکھو اب اگر تم مجھے چڑ انے سے باز نہیں اے تو میں تمسے کبھی بات نہیں کرونگی اس طرح سب کے سامنے مت بولا کرو ایسا..

روحی کا انداز کچھ خفا خفا سا تھا..

اچھا چلو سوری

وصی نے معافی مانگی اور وو مسکرادی..

**

وسیم نے جب سے سائرہ کو بتایا کے حسن اور روحی کی منگنی کی رسم ادا ہوگی وو تو جیسے آپے سے نکل گئی تھی پورا کمرہ اسکی چیخوں  سے گونج رہا تھا

میں اسے کبھی اپنے گھر میں برداشت نہین کرونگی وسیم تم غلطی کر رہے ہو تم پچھتاؤگے

وسیم اسکی باتوں کو نظر انداز کرتے ہوے باہر چلا گیا کیون کے وو جانتا تھا حویلی میں اماں کے سامنے سائرہ کی ایک نہیں چلنے والی..

 روحی کو جب سے پتا چلا وو تو بس دن گن رہی تھی کے کب وو گھڑی آے جب حسن اسے سب کے سامنے اپنا ہونے کا حق دے.. لیکن شاید کبھی کبھی ہمیں جو بظاہر آسان نظر اتا ہے وو اتنا بھی آسان نہیں ہوتا کس کے نصیب میں کتنی آزمائش لکھی ہے وو تو بس کاتب تقدیر ہی جانتا ہے...

***

حسن میں یہ کیا سن رہی ہوں بیٹا تمنے اس رشتے کے لیے کیسے ہاں بولدی ؟

وو حیرت اور تعجب سے حسن کو دیکھ رہی تھی..

اسمیں برائی کیا ہے مما وو میری کزن ہے اور بچپن سے منگنی بھی چل رہی تھی سب لوگ خوش بھی ہیں تو پھر میرے خیال سے مجھے بھی کچھ سمجھوتہ کرنا چاہیے ابھی نہ سہی لیکن ہوسکتا ہے کبھی نہ کبھی مجھے روحی پسند آجاے..

حسن مطمئن  لہجے میں بول رہا تھا...

کیا بولے جا رہے ہو حسن کہیں تم اسے چاہنے تو نہیں لگ گئے..  یا پھر تم پے کسی نے کوئی دباؤ ڈالا ہے کیا مجھے بتاؤ بیٹا کہیں اماں نے تو تم پر زبردستی نہیں مڑ دی.. اگر ایسا ہے تو تمہیں کسی سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے یہ تمہاری زندگی ہے کوئی تم پے جبر نہیں کرسکتا

سائرہ نے اسکے چہرے پے ہاتھ رکھتے ہوے بے چینی سے بولا..

نہیں مما مجھ پے کوئی زبردستی نہیں کر رہا اور نہ ہی میرا دل آگیا ہے روحی پر.. ہاں البتہ پاپا نے ایک بات ضرور کہی تھی جو مجھے بہت متاثر کر گئی ہے..

حسن کسی سوچ میں ڈوب کر بولنے لگا..

کیا کونسی بات؟

اسکا کردار مما.. ایک با کردار بیوی بہت بڑی نعمت ہوتی ہے یہ خوبی روحی میں ہے

حسن نے بات کرنے لگا تھا  اور بیچ میں اسکا فون بجنے لگا وو معزرت کرتے ہوے باہر کی طرف چل دیا..

کردار... تو تم اسکے کردار سے متاثر ہوے ہو واہ وسیم احمد کیا رگ پکڑ ی ہے بیٹے کی ٹھیک نشانے پے تیر مار گئے لیکن اب دیکھنا جس کردار کو بہانہ بنا کر تمنے روحی کو معزز بنا کر حسن کے دل اور آنکھوں پے بیٹھا دیا ہے.. کیسے میں اس کے کردار کو مشکوک بنا کر اسکی عزت اتار تی ہوں..حسن تو کیا وو کسی کے بھی سامنے عزت کے قابل نہیں رہیگی..

سائرہ کا چہرہ مارے جوش کے لال ہوچکا تھا وو من ہی من کچھ خطر ناک منصوبہ بندی کرنے لگی تھی...

****

روحی ویسے تم تو اب بہت خوش ہورہی ہوگی بھئی آئی تو تھی آپا کی شادی اٹینڈ کرنے اور یہاں پے اپنا ہی پتا گول ہورہا ہے

ارے روحی تو اسی میں خوش ہے یہ تو انگوٹھی پہن نے کو

بے چین ہورہی ہے..

ولیمے کا فنکشن حویلی کے قریب کے ایک لونج میں رکھا گیا  تھا  جہاں روحی کو کولڈ ڈرنک پیتے وقت لڑکیاں اسے چڑا رہی تھیں اور روحی مسکرا رہی تھی لڑکیوں کے چڑانے پر وو وہاں سے اٹھ چلی اور کسی دوسری جگا جانے لگی

 تبھی اچانک سے کوئی ویٹر تیز چلتے ہوے روحی کے ساتھ ٹکرا گیا اور سالن اسکے اوپر گرا دیا.. روحی نے وائٹ کلر کا فراک پہنا تھا جس کے اوپر وائٹ کلر کا ملٹی کلر میں کڑھائی کیا ہوا ہاف کوٹ پہنا ہوا تھا سالن گرنے سے اسکا پورا کوٹ خراب ہوچکا تھا..

یہ کیا کیا بھائی دیکھ کے نہیں چل سکتے..

اسنے غصے سے دیکھا جو کے جا چکا تھا اب پریشان ہوکر ادھر ادھر دیکھنے لگی اسکی طرف کسی نے نہیں دیکھا تھا غنیمت  جان کر وو مہمان سے خود کو چھپانے لگی اور حویلی میں آگئی چینج کرنے جہاں اسکے علاوہ اور کوئی بھی نہ تھا..وو کمرے کی جانب چل دی.. اسنے دروازہ لاک نہیں کیا یہ سوچ کر کے اس وقت کوئی نہیں ایگا سب لوگ ولیمہ میں ہیں.. اسنے اپنا دوپٹہ اتار کر  بیڈ پر رکھا اسکے بعد کوٹ اتر دیا.. اسکا فراک بغیر سلیوس کے تھا اسکے بازو کوٹ پے لگے تھے...جیسے ہی اب اسنے الماری کا رخ کرنا چاہا اسے زوردار چکر اگیا اور خود کو سنبھال ہی نہ پائی اور نیچے گر گئی...

 یہ روحی وہاں کیوں جارہی ہے ابھی اس وقت تو حویلی میں کوئی بھی نہیں ہے.. وصی نے روحی کو حویلی جاتے ہوے دیکھ لیا تھا وو وہیں کھڑا سوچ ہی رہا تھا اور کچھ دیر سوچنے کے بعد وو خود ہی حویلی کی طرف چل پڑا  اندر آکر دیکھا اور روحی کو آوازیں دینے لگا لیکن روحی کی آواز نہیں آئی.. جب روحی کے کمرے میں پہنچا تو اسے بے ہوش دیکھ کے گھبرا سا گیا..

روحی روحی کیا ہوا تمہیں تم ٹھیک تو ہو نہ؟ وو جلدی سے پانی لے آیا اور اسے چھینٹے مارنے لگا.. اور اسے ہلاتے ہوے ہوش میں لانے کی کوشش کرتا رہا روحی کا سر اسکی گود میں تھا. وو مسلسل کوشش کر رہا تھا تبھی روحی کے کپڑے گیلے ہونے کی وجہ سے جسم نمایاں ہورہا تھا اس غرض سے وصی نے اپنا کوٹ اتار کر روحی کے اوپر رکھ کر جسم کو ڈھانکنا چاہا جیسے ہی وو کوٹ اتارنے لگا ایک بازو سے کوٹ نکالا دوسرے میں ہاتھ تھا اسی لمحے دروازہ کھلنے کی آواز ہوئی وصی کے ہاتھ وہیں روکے ہوے تھے جیسے اب وقت بھی وہیں روک سا گیا ہو دروازے سے حسن اندر داخل ہوا اور جو کچھ اس وقت منظر تھا وو سو سوال پیدا کر چکا تھا ایک بہت ہی برا ماحول انے والی مصیبت اور بہت کچھ کیوں کے حسن وہاں اکیلا نہیں تھا اسکے پیچھے پورا خاندان کمرے میں داخل ہوا تھا اسی وقت روحی کو بھی ہوش انے لگا تھا لیکن یہ لمحہ ایسا تھا جس سے سب کے ہوش اڑ چکے تھے

دوستوں سے شیئر کریں

تبصرہ کریں