تیری چاہت ناول قسط نمبر11

تیری چاہت

 

 

ناول تیری چاہت

ناول

 مصنف پروین

قسط11سیکنڈلاسٹ

اسے آفیس میں آج دیر ہوگئی تھی شام  کو تھکا تھکا سا گھر آیا تو اسکی تھکن ایک ہی پل میں دور ہوگئی جب اسنے دروازے کے قریب پہنچ کر روحی کے ہنسنے کی آواز سنی کافی دن بعد وو ایسے کھل کر ہنسی تھی وو چہرے پے چمک لیے ہوے اندر آیا تو دیکھا دونوں سہیلیاں  کسی موضوع پے خوشگوار موڈ میں باتیں کر رہی ہیں وصی کمرے.  میں جانے  کے بجاۓ وہیں انکے پاس بیٹھ گیا..

کیا باتیں ہو رہی ہیں مجھے بھی تو سناؤ..

وصی روحی کی جانب صوفہ پے بیٹھ گیا اور پلیٹ سے چپس اٹھا کر کھانے لگا..

اسے اپنی جانب اتا دیکھ کر روحی سرک کر بیٹھ گئی جو کے وصی نے محسوس تو کیا لیکن دیکھا اندیکھا کر دیا..

ہم بس یو نیورسٹی کی باتیں یاد کر رہے تھے..

ارم نے چاۓ کا کپ ہاتھ میں پکڑتے ہوے بتایا..

اچھا ویسے تم لوگ کے اگزیم کب سٹارٹ ہیں

وصی نے سامنے رکھا چاۓ کا کپ بڑے ایتماد کے ساتھ اٹھایا اور گھونٹ لینے لگا.. یقینن وو چاۓ اسکے لیے تو نہ تھی اسنے روحی کا ہی کپ اٹھایا تھا یہ حرکت دیکھ کر روحی نے کچھ کہے بنا اسے گھورا اور وو اسے نظر انداز کرتے ہوے مزے سے چاۓ پینے لگا..

اسی سلسلے میں تو آئی ہوں اس کے پاس اور یہ دیکھو ایک ہی رٹ لگاۓ بیٹھی ہے کے ایگزم دینے نہیں جاۓگی..

ارم نے شکایت کرتے ہوے بولا..

ارم میں نے بتایا نا میں نے کافی کلاسز مس کردی ہیں کوئی اسا ئمنٹ نوٹس وغیرہ کچھ نہیں ہے سب بھول گئی ہوں میں اور ایسے میں تم ہی بولو میں تھوڑے سے ٹائم میں سب کیسے کروں..

تو سب ریکور ہوجاۓگا اس میں کیا پروبلم ہے ویسے بھی میں نے بھی تو لاسٹ ئییر کافی ساری چھٹیاں کردی تھیں مما کی سرجری والے دنوں میں اور میرے لیے بہت مشکل ہوگیا تھا یہ سب.. لیکن پھر تم ہی نے مجھے ہمت دلا کر مجھے حوصلہ دے کر  کنٹینیو کروایا تھا اب تم خود ایسی باتیں کر رہی ہو..

ہاں کیوں کے تمہارے اندر اگے پڑھنے کی چاہ تھی تم بس ٹائم نہ ہونے کی وجہ سے پڑھائی سے دور ہوگئی تھی اس لیے میں نے تمہیں سپورٹ کیا تھا اور تم نے محنت کر کے سب مینٹین بھی کر لیا پر میرے اندر ایسی کوئی چاہ نہیں رہی میں اب کچھ نہیں کرنا چاہتی مجھے کوئی دلچسپی نہیں رہی اب پڑھنے میں یا آگے بڑھنے میں

بات کرتے وقت اسکے چہرے پے اداسی اور آنکھوں میں آنسو اتر چکے تھے جو اسنے مشکل سے چھپاۓ تھے...

اصل میں بات یہ ہے کے روحی آگے پڑھ کے کرے گی بھی کیاویسے بھی میں کما رہا ہوں اسے کھلا پلا رہا ہوں، اسے تو اب گھر داری  سیکھنی ہے اپنے بچے پالنے ہیں یہ اب گھروالی جو بن گئی ہے... میں تو اس کے اس فیصلے سے بہت خوش ہوں  اس لیے میرے خیال سے تمہیں روحی کو زیادہ زور نہیں بھرنا چاہیے.. یہ اب گھر پے ہی ٹھیک ہے

وصی نے ارم کو آنکھ مارتے ہوے اشارہ کیا وو مشکل سے ہنسی کو دباے ہوئی تھی

 روحی اسکی بات سن کر کچھ نہ بولی تھی لیکن من ہی من اسے آگ لگ گئی تھی وصی کی اس منصوبہ بندی پے...

رات کے وقت جیسے ہی وو کمرے میں آیا سمجھو روحی کسی دشمن کی طرح حملہ کرنے کی تیاری کر کے بیٹھی تھی سو اس پے برس پڑی

 تمنے سوچ بھی کیسے لیا کے میں ساری زندگی تمہارے رحم و کرم پے پل کے تمہارے احسانوں کے بوجھ تلے دبی رہونگی،  تمہارا گھر اور بچے سنبھالونگی...؟  مجھسے اس طرح کی کوئی امید مت رکھنا وصی اگر تمہیں بچے پیدا کرنے ہیں یا بیوی کی شکل میں نوکرانی کے خواہاں  ہو تو جا کر کسی کو بھی باندھ کے لے آؤ لیکن  اس خوش فہمی میں مت رہنا کے میں یہ سب کرنے والی ہوں...

روحی نے  انگلی کا اشارہ کرتے ہوے اسپے ساری بھڑاس نکالی تھی

آگے بولو..

وصی بڑے اطمینان سے لیپ ٹاپ اٹھاۓ اسکی طرف متوجہ ہوا..

میں کل ہی یونیورسٹی جاکر فارم فل کر رہی ہوں میں اپنی ڈگری مکمل کرونگی اور اپنے پیروں پے خود کھڑی ہوکراپنی آنے والی زندگی کے اخراجات بھی خود اٹھاونگی تمہاری کسی مہربانی کی ضرورت نہیں مجھے..

وو دونوں ہاتھ بازو پے باندھے اپنا فیصلہ سنانے لگی..

وصی نے اپنا موبائل ہاتھ میں اٹھاتے ہوے اس کی طرف دیکھا اور تیزی سے نمبر ڈائل کیا..

ہیلو..

اگلی لائن سے ریسیو ہوا..

ہاں ارم شرٹ جیت گیا میں اب بتاؤ کب بلا رہی ہو ڈنر پے..

وصی نے خوشی کے مارے سر جھٹکتے ہوے بولا

آر یو سیریس وصی؟؟

ارم نے چونکتے انداز میں پوچھا..

ہاں ہاں یہ سر پھری مان گئی ہے پڑھائی کے لیے کل جا رہی ہے ایگزیم فارم بھرنے

بولتے وقت وصی کی بے اختیار ہنسی چھوٹ گئی

ماننا پڑیگا بھئی تم واقعی میں اسے مجھسے زیادہ اچھی طرح جانتے ہو، مجھے تو لگا تھا وو اس ضد سے اب کبھی پیچھے نہیں ہٹیگی لیکن تمنے تو کمال کر دیا ایسا تیر مارا جو بلکل نشانے پر لگا..

ارم اسے داد دینے لگی اور وو شرارت آمیز آنکھوں سے روحی کو دیکھنے لگا

وصی کی باتیں سن کر اسے دونون کی گفتگو کا اندازہ ہوا اور وو  یہ سب سن کر حیران تو ہوئی ہی تھی ساتھ ہی خود کو بیوقوف بھی  محسوس کرنے لگی  کیوں کے اب وو کوئی بھی فیصلہ کرے دونوں صورتوں میں جیت وصی کی ہی تھی..

اسنے اب یونیورسٹی جوائن کر لی تھی اور بڑی محنت سے امتحان کی تیاری میں لگ گئی تھی..

وو کافی دیر سے کچھ لکھ رہی تھی لیکن بار بار  پیج کو پھاڑ دیتی شاید کوئی مشکل اکیؤیشن تھی جو وو حل نہیں کر پا رہی تھی لیکن وو اپنی کوشش جاری رکھے تھی تبھی وصی کمرے میں داخل ہوا اسے سلام کیا اور بیڈ پر بیٹھ گیا اور روحی کو دیکھنے لگا جو کے کسی حساب میں بلکل کھوئی ہوئی سی تھی

روحی جاؤ ذرا چاۓ بنا دو

دیکھ نہیں رہے کام کر رہی ہوں..

روحی نے اسے جھٹکتے ہوے بولا اور پھر سے کتابوں کو پڑھنے لگی

ہاں میں تو دیکھ رہا ہوں تم بھی کچھ دیکھو بہت تھکا ہوا ہوں ابھی چاۓ کی سخت ضرورت ہے جاؤ بناؤ...وصی نے تکیہ ڈبل کرتے ہوے بولا اور ٹیک لگا دی

لیکن وصی میرا بہت مشکل پروجیکٹ ہے میں بہت دیر سے اسے حل کرنے میں لگی ہوئی ہوں ایک تو یہ حل نہیں ہو رہا اور اوپر سے تمہاری فرمائشیں شروع ہوگئیں ہیں.. کل مجھے لازمی سبمٹ کرنا ہے اس لیے پلیز مجھے یہاں سے اٹھنے کا نہ بولو...

روحی نے اسے التجایا لہجے میں بولا اور پھر سے پین اٹھایا وصی نے فورن اٹھ کر اسکا پین اور کتاب ایک جھٹکے سے چھین لیا

یہ کیا بدتمیزی ہے لاؤ میری کتابیں..

روحی نے غصے سے ہاتھ آگے کرتے ہوے بولا....

پہلے چاۓ..

وصی نے کتابیں پیچھے کیں..

کیا ہوجاۓگا اگر آج خود بنا کے پی لو تو..

روحی نے بے بسی سے سوالیہ دیکھا

مجھے چاۓ بنانی نہیں آتی..

وصی کتابیں لیکر بڑے سکوں سے بیڈ پر لیٹ گیا..

 باقی سب کام کر لیتے ہو تو  چاۓ بنانی کیوں نہیں سیکھی اس میں  کیا موت چڑھ رہی تھی..

روحی نے غصے سے دانت دبا کر بولا...

ہاں موت چڑھ رہی تھی جیسے تمہیں اس وقت چڑھ رہی ہے...وصی نے بھی اسی لہجے میں بات کی..

اور وو بے بسی کے ساتھ کمرے سے باہر نکل آئی..

وصی تم بہت ظالم ہو، کبھی ترس نہیں کھایا تمنے مجھپے ہمیشہ اپنی منواتے ہو  تم کبھی میرا بھلا نہیں چاہتے..ہمیشہ میری دل آزاری کرتے ہو..

وو چاۓ بناتے وقت مسلسل رو رہی تھی اور من ہی من وصی کو کوس رہی تھی..

اسنے چاۓ لاکر پاس رکھدی بنا کچھ بولے وصی نے اسے کتابیں تھما دی روحی نے اداسی کے ساتھ وو کتابیں سائیڈ پے رکھ دیں...

کیا ہوا  رکھ کیوں دیے ابھی پڑھنا نہیں ہے کیا؟

وصی نے اسپے طنز کرتے ہوے بولا

نہیں مجھسے نہیں ہو پایگا اب،  کوئی پروجیکٹ نہیں بنانا مجھے اب..

وو بھیگے لہجے میں بولی کروٹ بدلی اور سو گئی وصی چاۓ پینے کے ساتھ ساتھ اسے گھورتا رہا اور اسکے  لبوں پے ہلکی سی مسکان بکھری  ہوئی تھی

رات کو وو غصے سے سو گئی تھی لیکن صبح صبح اسے جلدی اٹھ کر پروجیکٹ حل کرنے کا خیال آیا اور وو فجر پڑھ کے کتابیں کھول کر بیٹھ گئی جونہی  اسنے اپنی فائل کھولی اسے اپنی آنکھوں پے یقین نہ ہوا کیوں کے جس حساب کو لیکر وو پریشان تھی وو اب کسی نے حل کردیا تھا اسکی پوری پروجیکٹ شروع سے لیکر آخر تک بلکل مکمل اور پرفیکٹ تھی وو بار بار بے یقینی سے صفحے پلٹ   کر ایک ایک چیز چیک کرنے لگی جو کے ہر شے ٹھیک طرح سے اور ذہانت کے ساتھ مکمل کی گئی تھی کچھ دیر تک وو سر پکڑ کر بیٹھ گئی اسکی خوشی کی انتہا نہ رہی تھی.. اخر اسنے محسوس کر لیا تھا کے یہ سب جادو سے نہیں ہوا بلکے وصی نے کیا ہے کیوں کے وو اسکی ہینڈ رائٹنگ اچھے سے پہچانتی  تھی اسکی اسطرح کے انداز سے وو بہت خوش ہوئی اور مسکراتے ہوے وصی کو دیکھا جو کے اس وقت گہری نیند سو رہا تھا..

______

روحی کا دن بہت اچھا گزرا تھا پروجیکٹ کو لیکے وو بہت خوش تھی..

معمول کے مطابق وو رات کے ٹائم پڑھنے بیٹھی تھی اور وصی کمرے میں داخل ہوا سلام کیا اور اب کی بار روحی نے ہمیشہ سے کچھ الگ اور تیز آواز وعلیکم السلام بولا.. جسے سن کر وو ٹھہر کر تھوڑا حیران ہوا اور پھر آکر بیڈ پے بیٹھ گیا..کافی دیر بعد جب اسنے کچھ نہ بولا تو روحی سے رہا نہ گیا اور بے رخی کے ساتھ اس سے مخاطب ہوئی..

آج چاۓ نہیں چاہیے...

نہیں..

کیوں؟

روز روز بد دعا نہیں لے سکتا تمہاری..

اب ایسی بھی کوئی بات نہیں ہے میں بد د عا تو نہیں کرتی..

وو نظریں جھکاۓ بولی لیکن وصی نے کوئی جواب نہ دیا اسنے پھر سے بات شروع کی..

اچھا پینی ہے تو بولو  بنا دونگی

اسکی بار بار اسرار کرنے پر وو تھوڑا چونکا اور اسے غور سے دیکھنے لگا...

زیادہ خوش آمد کرنے کی ضرورت نہیں ہے روز روز میں یہ سب نہیں کرنے والا خود پڑھو اور  سیکھو..

اسکے اس اندازے سے وو تھوڑا سٹ پٹا سی گئی وصی کا اندازہ ٹھیک تھا روحی کو واقعی میں اس سے کام تھا

ہاں تو کیا ہوجاۓگا اگر ہیلپ کردوگے..

روحی نے بات کا اقرار کرتے ہوے بولا اور وو ہنس دیا..

چلو ٹھیک ہے آج میں ہیلپ کردیتا ہوں تم لکھو..

ٹھیک ہے تو پھر ابھی بوکس لے آؤں یا چاۓ کے بعد؟

اسنے خوشی سے بولا..

اہممم.. لیکن اس سے پہلے ایک شرط ہے

وصی آنکھ ٹیڑھی کرتے ہوے بولا..

اب کیا ؟

اسنے بھنویں اچکائی..

چاۓ تم بھی میرے ساتھ پیوگی

اوکے..

وو چاۓ بنا کے آگئی تھی اور کتابیں لیکر بیڈ پے اسکے پاس بیٹھ گئی اب وو چاۓ بھی پی رہا تھا ساتھ ساتھ اسے پڑھا بھی رہا تھا جو کے بہت غور سے اسکی باتیں سنتی جاتی اور نوٹ بوک میں لکھتی جاتی...

وصی جتنا تمہیں اگنور کرنا چاہتی ہوں تم اتنے ہی پاس آجاتے ہو چاہ کر بھی تمسے نفرت نہیں کر پاتی حلانکے ہر بار تمسے اقرار نفرت کر بیٹھتی ہوں اور تم کبھی میری باتوں کو دل پے ہی نہیں لیتے میری ہر بات کو در گزر کر کے ہر بار میرے لیے فکر مند رہتے ہو... تم کتنے اچھے اور کیئرنگ ہو تم تو میرے سب سے اچھے اور قریبی دوست تھے..پھر تمنے ایسا کیوں کیا..؟ کاش کے تم وو حرکت نہ کرتے اور میری نظروں سے خود کو نہ گراتے..

وو حسرت سے اسکے چہرے کو دیکھتے ہوے من ہی من بولی تھی اور وو اس کی اسطرح کی غلط فہمی سے انجان بڑے خلوص کے ساتھ بوک کی ریڈنگ میں مصروف تھا..

اپنی محنت اور لگن سے اسنے ماسٹرس کے ایگزیم مکمل کر لیے تھے بس اب پرجوش تھی کے رزلٹ اسکی توقع کے حساب سے اچھا ہی ائیگا صبح  کا وقت تھا وصی کے آفیس جانے کے بعد اسنے ہلکی فلکی  گھر کی صفائی کر دی اور اب  بیٹھی مزے سے ٹی وی دیکھ رہی تھی تبھی اچانک اسکے کمرے کا دروازہ کسی نے ہلکے سے ناک کیا.. وو پریشان ہونے لگی کیوں کے وہاں پر زیادہ تر وصی اور ارم کے علاوہ کوئی اور نہیں اتا تھا اور وو لوگ کبھی ناک کرکے نہیں آے.. وو یہی سوچتے ہوے پلٹی تو دروازے پے حسن کھڑا تھا وو اسے دیکھتے ہی رہ گئی اور کچھ بول نہ پائی کیوں کے اس طرح اتنے مہینوں بعد وو بھی اچانک اسکا سامنا..

کیا میں اندر آ سکتا ہوں..

حسن نے روحی کی طرف سے کوئی بلاوا نہ دیکھا تو خود ہی پوچھ لیا..

جی.. جی.. ہاں...  آ ئیے نا..

روحی نے ہڑ بڑا تے ہوے بولا اور اٹھ کھڑی ہوئی

وصی کہاں ہے؟

وو آفیس گیا ہے،  کیوں آپکو کوئی ضروری کام ہے کیا؟  سب خیریت ہے نہ گھر پے؟

روحی نے تعجب کے ساتھ اسے دیکھ کر پوچھا...

روحی یقینن مجھے دیکھ کے تم ضرور پریشان اور حیران ہوئی ہوگی اور ہونا بھی چاہیے.. لیکن میں یہاں تمہیں پریشان کرنے نہیں آیا بلکے اپنی  پریشانی اور بوجھ کو کم کرنے آیا ہوں.. تمسے معافی مانگنے

وو بیڈ کے ایک سائیڈ پے بیٹھ تے ہوے بولا..

کس بات کی معافی؟

روحی نے ٹھہر ٹھہر کے پوچھا..

ہر اس ظلم کی معافی جو تم نے سہا ہر اس سزا اور رسوائی کی معافی جو تمنے مجرم نا ہوتے ہوے بھی کاٹی ہےتم بے گناہ اور پاک دامن تھی لیکن میں نے تمہارے کردار پر شک کیا اور تمسے رشتہ توڑ دیا یہاں تک کے تمہیں اپنی بات ثابت کرنے کا ایک موقع بھی نہ دیا.. روحی مجھے معاف کر دو اسدن اگر میں تمپے یقین کر لیتا تو شاید یہ بات آگے کبھی نہ بڑھتی سب ویسے کا ویسا رہتا..... لیکن میں کیا کرتا میں نے وہی دیکھا اور محسوس کیا جو مجھے دکھایا گیا تھا ایسے میں میرے ہوش بلکل بھی خطا ہوگئے تھے تم نے گناہ نہیں کیا تھا بس تمہیں سبکی نظروں میں گناہ گار بنایا گیا ہے..

وو اٹھ کر اسکے سامنے کھڑا ہوگیا..

روحی کی آنکھوں سے آنسو نکل پڑے تھے..

تو اب آپ کو اچانک میری بے گناہی کا کیسے خیال اگیا..

وو آنسو پوچتے ہوے طنزیہ بولنے لگی..

کیوں کے میں جانتا ہوں تمہارے ساتھ سوچی سمجھی سازش کے تحت بہت بڑا ظلم کیا گیاہے..

تو پھر مجھسے معافی مانگنے کے بجاۓ ان اصل گناہ گاروں سے جواب مانگیں جنہوں نے میری زندگی جہنم بنا دی جاکر اپنی ماں سے حساب مانگیں کے آخر میں نے کیا بگاڑا تھا انکا

روحی نے روتے ہوے دہائی دے ڈالی..

اسکا مطلب تم جانتی ہو کے یہ سب مما نے؟

حسن حیرت سے پوچھنے لگا اسے یہ اندازہ نہ تھا کے روحی بھی اسکی مما کی اصلیت  سے واقف ہے..

ہاں میں جانتی ہوں آپکی ماں نے وو گھٹیا پلان کیا اور وصی نے انکا ساتھ دیکر خوب تباہ کی میری زندگی...

وصی نے؟ نہیں روحی تمہیں غلط فہمی ہوئی ہے وصی تو اب تک اس سب سے انجان ہے اسکا کوئی قصور نہیں ہے..یہ بات تو مجھے بھی کل رات کو پتا چلی تھی جب میں نے اس لڑکے کو بار بار مما کو پیسوں لے لیے پریشان کرتے دیکھا کوئی اور کہتا تو میں کبھی یقین نہ کرتا لیکن میں نے خود مما کے منہ سے یہ بات سنی ہے کے وو تمہارے پیچھے کسی لڑکے کو بھیجنے والی تھی لیکن بیچ میں  انجانے میں وصی اگیا اور اس سب میں وو پھنس گیا.... اگر وو نا آتا تو نا جانے کیا ہوتا

اسکی بات سن کر روحی کے آنسوں کی قطار سی بن گئی تھی وو بے جان ہوکر وہیں صوفہ پے بیٹھ گئی..

جب سے یہ سب ہوا ہے میرا رویہ وصی کے ساتھ بہت برا رہا ہے مما کی اس حرکت نے ہم سب کی زندگیوں میں ایک طوفان لا کر کھڑا کر دیا ہے،  میں آج یہاں تم دونوں کا مجرم بن کے آیا ہوں اور چاہتا ہوں تم دونوں میرے ساتھ گھر چلو، مما نے یہ سب تمہیں میری نظر میں بد کردار بنانے کے لیے کیا لیکن خود اپنا کردار گنوا دیا ہے... اور تم نے مما کی اس گھٹیا حرکت کو کسی کے سامنے پیش نا کر کے خود کو اعلی ظرف ثابت کیا ہے بھلے ہی میرے من میں تمہارے لیے کوئی فیلنگس نا رہی ہوں لیکن تم میری نظروں میں با حیا ہو اور ہمیشہ رہوگی... تمہیں اس گھر کی بہو تو بننا ہی تھا  قسمت کا لکھا کوئی ٹال نہیں سکتا چاہے انسان لاکھ کوشش کرلے.. اور مما اپنے کیے سے بلکل ہار گئی ہیں انکی بازی انہی پے الٹ گئی ہے کیوں کے اگر وو یہ سب نہ کرتی تو تمہاری اور میری شادی ہوجاتی لیکن اس کی کوئی گارنٹی نہیں تھی کے یہ شادی آگے کتنا چل پاتی کیوں کے میں یہ سب صرف دباؤ کی وجہ سے کر رہا تھا،  پر دیکھو اب انکی وجہ سے تم وصی کی منکوحہ  بن گئی اور وصی تمہیں کبھی اکیلا نہیں چھوڑ سکتا کسی بھی موڑ پر کیوں کے وو تمسے بہت محبت کرتا ہے اتنی محبت جو کے اسکے لہجے میں تمہارے ذکر اور فکر میں ہمیشہ خوب جھلکتی  ہے پر کبھی وو زبان پے نہیں لایا شاید اس لیے کے وو تمہیں اپنے بھائی کی امانت سمجتا  تھا..پر اب تم اسکی ہو صرف اور صرف اسکی اور میں یہ چاہتا ہوں کے تم بھی ہمیشہ اسکی بن کے رہو اسے دل سے اپنا بنا لو.. اور اسکی طرف سے جو بھی غلط فہمی ہے وو دور کردو۔

دوستوں سے شیئر کریں

تبصرہ کریں