تیری چاہت ناول قسط نمبر10

تیری چاہت

 

 

ناول تیری چاہت

ناول

 

پروین

قسط نمبر 10

وو واشروم  سے باہر آیا تو روحی منہ  لٹکاۓ بیٹھی کسی سوچ میں ڈوبی تھی..

تم ابھی تک ایسے ہی بیٹھی ہو جو جلدی سے منہ ہاتھ دھولو  اور کام سے لگ جاؤ..

وصی نے تولیے سے اپنے بال پونچتے ہوے اسکی طرف دیکھا

کیا مطلب کام پے لگ جاؤ میں کیا تمہاری نوکرانی ہوں..

وو غراتی ہوئی بولی

وصی نے تولیہ بیڈ پر پھینکا اور قدم بڑھاتا ہوا اسکی جانب آنے لگا...

نوکرانی کیوں بیوی ہو تم میری اب تمسے نہیں کہونگا تو اور بھلا کون اکر کریگا..

مجھے نہیں آتا ناشتہ بنانا اور نہ ہی میں  کام وام  کرنا جانتی ہوں، کوئی اپنے لیے نوکرانی کا بندوبست کرو

وو منہ پھیرتے ہوے بولی

ویسے اس طرح کی ڈھیٹھائی تمہیں  جچتی  نہیں روحی بانو یہ نخرے جا کر اپنی ماں کے گھر دکھانا میں نے کہا میرے لیے ناشتہ بناؤ تو جاکر عزت سے بناؤ ورنہ مجھے اپنا کام نکلوانا  اچھی طرح سے آتا ہے..

وصی نے اسے آنکھیں دکھاتے ہوے بولا

وو تیار ہوکر کمرے میں ہی فائلز سمیٹنے لگا روحی نیچے کچن میں گھس گئی تھی کافی دیر بعد جب وو نیچے آیا تو روحی نے غصے سے کچھ بڑ بڑ اتے ہوے اسکے سامنے چاۓ کا کپ اور بریڈ رکھدی... وو حیرت سے کبھی پلیٹ  کو تو کبھی روحی کو دیکھ رہا جو کے وہاں سے باہر دور بیٹھ گئی اور بڑی آرام سے چاۓ پی رہی تھی،

یہ کیا ہے؟

وصی نے بریڈ کو گھور تے ہوے پوچھا جو کے نا تو ٹوسٹڈ تھی اور نا ہی اسکے ساتھ جام بٹر تھا..

اسے بریڈ کہتے ہیں کبھی بریڈ نہیں دیکھی یا نظر کمزور  ہوگئی ہے..

اسنے آنکھیں پھیلاتے ہوے انجانی شکل بناتے ہوے وہیں بیٹھے جواب دیا

میں ناشتے میں یہ نہیں کھا سکتا مجھے انڈا پراٹھا چاہیے

وصی نے پلیٹ کو دور کرتے ہوے بولا

مجھے پراٹھا بنانا نہیں آتا

اسنے پر اعتماد لہجے میں بولا..

وصی اٹھ کر اسکے قریب کھڑا ہوا اور اسے گھورنے لگا..

ایسے کیا گھور رہے ہو میں نے کہا تھا مجھے ناشتہ بنانا نہیں اتا پھر بھی تمنے زبردستی کی تو اب جو ہے کھالو ویسے بھی کھانے کی چیزوں پے نخرے نہیں کرتے برکت چلی جاتی ہے.. اور یہ نخرے اب اچھے نہیں لگتے تم پے،  بڑے ہوجاؤ وصی احمد..

وو بڑے آرام سے چاۓ کے گھونٹ لیتے ہوے اسے ٹوکتے ہوے لیکچر دے رہی تھی اور وصی منہ پھلاے اسکی باتیں سن رہا تھا..

مطلب تم میرا کہنا نہیں مانوگی؟

وصی نے سنجیدگی سے پوچھا..

بول تو رہی ہوں مجھے نہیں آتا بنانا تمہیں ایک ہی بات کتنی بار بولنی پڑتی ہے اور جاؤ تمہیں آفیس کے لیے دیر ہو رہی ہے

اسنے چاۓ کا کپ رکھتے ہوے خفگی سے بولا اور اٹھ کے جانے لگی تبھی وصی نے اسے ایک ہی جھٹکے سے کھینچ کر اپنے قریب کر لیا..

روحی یہ بہانے نہیں چلنے والے تمہارے میں اچھی طرح جانتا ہوں تم ہر کام بخوبی جانتی ہو.. اور میں نے تمہارے ہاتھ کے بناۓ پراٹھے بہت بار کھاۓ ہیں اس لیے میرے سامنے زیادہ ڈرامہ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے..

بولتے وقت وصی نے اپنا چہرہ اسکے چہرے کے بلکل قریب کر لیا تھا وو جانتی تھی وصی سچ کہ رہا ہے اب مزید شاید کوئی بہانہ بن نہیں سکےگا اوپر سے وو اتنا قریب تھا کے روحی کے لیے اسکی سانسوں کی گرمی اور اور لہجے کی تپش کو برداشت کرنا مشکل ہورہا تھا...

لیکن مجھے آٹا گوندھنا نہیں آتا..

اسنے چہرے کو دوسری طرف پھیرتے ہوے بولا اور اس بار اسنے کوئی بہانہ نہیں بنایا تھا بلکے سچ بول رہی تھی

ہان تو چلو آٹا میں گوندھ  دیتا ہوں..

وصی نے اسکا بازو چھوڑ کر کچن کا رخ کیا اور برتن میں آٹا نکال کر گوندھنے لگا وو حیرت سے اسے تک رہی تھی.. کیوں کے وو کافی مہارت  سے یہ کام کر رہا تھا جس سے صاف اندازہ لگایا جا سکتا تھا کے وو یہ پہلی بار تو بلکل بھی نہیں کر رہا..

ایسے گھور کے کیا دیکھ رہی ہو؟ سارے کام جانتا ہوں میں ہمیشہ سے ہی پڑھائی کی وجہ سے گھر سے دور اکیلا رہا ہوں اس لیے اپنے سارے کام کاج خود کرتے کرتے سیکھ گیا ہوں.. شادی کے بعد بھی قسمت بہت اچھی ہے جو اب بھی مجھے ہی کرنا پڑ رہا ہی

وو پیڑے بناتے ہوے روحی سے خوش اخلاقی سے گفتگو کرنے لگا تھا اور ساتھ ہی ٹوکنے بھی لگا

اروحی اسکی بات سے متاثر ضرور ہوئی لیکن محسوس نہ ہونے دیا..

چلو اب ایک پیڑا اٹھاؤ اور جلدی سے پراٹھا بناؤ..

وصی نے ہاتھ صاف کرتے ہوے اسے اگے آنے کا اشارہ کیا..

پیڑے بنا لیے ہیں تو پراٹھے نہیں بنا سکتے؟

روحی غصے سے اسپے ٹوکتے ہوے بڑ بڑائی اور چولہے پے توا چڑھا دیا..

اوہ تم تو بڑی خود غرض اور  اکڑو ہو یار بجاۓ میرا شکریہ ادا کرنے کے مجھ پے ہی ٹوک رہی ھو... نا شکری عورت

وصی نے آخری لفظ دبا دبا کے بولا تھا وو جان بوجھ کے اسے غصہ دلا رہا تھا کیونکے وو ہمیشہ سے ہی اسے چڑاتے ھوۓ لطف اٹھاتا  اور وو تو جیسے تیار ہی بیٹھی تھی غصہ نکالنے کو..

بہت ڈھیٹھ ہو تم کمینے کہیں کے..

وو روٹی بیلتے ہوے دبے الفاظ بول رہی تھی لیکن وصی اسکے سامنے ہی ٹیبل پے بیٹھا تھا جو کے اسکے الفاظ سن رہا تھا..

ہاں ہاں لیکن تمسے تھوڑا کم..

وصی کا جواب سن کر وو تھوڑا سٹ پٹا سی گئی اسے اندازہ نہ تھا کے وصی اسکی آواز سن لیگا اسے دیکھ کر روحی نے شانے اچکاۓ جیسے وو یہ کہنا چاہ رہی ہو کے اسے کوئی پرواہ نہیں اگر وو سن بھی لے تو...

اور کوئی حکم؟

روحی نے پراٹھے کی پلیٹ زور سے اسکے پاس رکھی تھی یا شاید پھینک دی تھی جس کی آواز اسکے کانوں میں رینگ سی گئی تھی..

ہاں چاۓ ٹھنڈی ہوگئی ہے گرم کردو..

وصی نے بغیر دیر کے فورن حکم دے دیا اور وو جانتی تھی اب نا کرنے کا کوئی فائدہ نہیں کیونکے وصی کے سامنے اسکی ایک نہیں چلنے والی تھی اسلیے روحی نے کوئی مخالفت نہ کرتے ہوے کپ میں رکھی چاۓ اٹھائی اور دبی ہوئی آواز میں بڑ بڑاتے ہوے چولھا  جلایا اور چاۓ کو گرم کرنے لگی..

کچھ کہا کیا تمنے تھوڑا زور سے بولو سنائی نہیں دے رہا؟

وصی نے اسے چڑاتے ہوے مخاطب کیا..

روحی نے اسکی بات کا کوئی جواب نہ دیا اور  چاۓ کا کپ اسکے آگے پیش کرکے اب اندر کی جانب چلنے لگی..

اچھا روحی میں دوپہر کا کھانا بھی یہیں پر کھا وونگا اسلیے ٹائم پے بنا دینا..

اہ گاڈ اب کیا اسکی شیف بن کے رہنا پڑیگا مجھے

وو من ہی من سوچ کر منہ بنانے لگی اس سے پہلے کے وو پھر سے بہانہ بناتی وصی نے اسکے بولنے سے پہلے ہی آگاہ کردیا..

اور ہاں سنو میں نے آٹا زیادہ بنا کے رکھا ہے لنچ میں اس سے روٹی بنا لینا جب تک تم سیکھ نہیں لیتی میں تمہارا ہاتھ بٹا لیا کرونگا لیکن اگر تمنے کوئی ادھر ادھر کی باتیں کر کے بہانے بناۓ اور کام چوری کا مظاہرہ کیا تو پھر تم میری ضد سے خوب واقف ہو کام تو سب تمہیں ہی کرنا پڑیگا لیکن پھر کوئی ہیلپ نہیں کرنے والا میں.. سمجھی ؟

اسکا لہجہ کچھ سخت سا ہوگیا تھا جیسے وو دھمکی دے رہا ہو اور وو جو بول رہا ہے ضرور کر گزریگا..

روحی صرف خاموشی سے اسکی بات سنتی رہی اور کچھ نہ بولی..

اب تم جا سکتی ہو

________

دونوں اسی نوک جھوک کے ساتھ اب رہنے لگے تھے کہنے کو تو وو میاں بیوی کی حثیت سے ایک چھت کے نیچے رہ رہے تھے لیکن دونوں میں  کوئی ازدواجی  تعلق قائم نہیں ہوا تھا.. روحی کو ہر وقت وصی کے رویے سے ایک خوف سا لگا رہتا کے کہیں وو اس سے اس رشتے کی تکمیل نہ مانگ لے وصی کی باتوں سے اسے ایسا لگنے لگا تھا کے کبھی نہ کبھی اسکا دل پھسل  جاۓ گا اور وو اسے اپنی خواہش پوری کرنے کا مطالبہ ضرور کریگا.. یہی سوچ کر وو پریشان اور گھبرائی سی رہنے لگی تھی زیادہ تر وصی کا سامنا نہیں کرنا چاہتی تھی لیکن وو جتنا وصی کو نظر انداز کر رہی تھی وصی اتنا ہی اسکے سامنے رہ کر اسے تنگ کرنے کی کوشش کرتا رہتا وصی ظاہری طور پر اسے تنگ ضرور کر رہا تھا لیکن اسکے قریب آنا یا بیوی جیسی قربت حاصل کرنے کا خیال وو کبھی دل میں نہ لایا تھا وو تو بس اسے جان بوجھ کر اپنی بیوی بول کر ستانے لگتا تھا روحی چڑ کھا کر اسے برا بھلا کہتی اور وو بقول روحی کے کسی ڈھیٹھ پن کا مظاہرہ کرتے اسکی باتوں پے کوئی دھیان نہ دیتا.. مستقبل کی کوئی پلاننگ کوئی خواہشات کچھ اتا پتا نہ تھا بس دونوں اسی طرز عمل پے چل پڑے تھے،  اس بیچ وسیم نے بہت کوشش کی تھی سائرہ اور وصی کو منانے کی لیکن سائرہ اسے روحی کے ساتھ قبول کرنے کو تیار نہ تھی اور وصی روحی کو کسی قیمت چھوڑنے پے آمادہ نہ تھا.

دونوں میں جو پہلے دوستی ہوا کرتی تھی وو اب کہیں نظر نہیں آرہی تھی روحی کے من میں وو گناہگار ٹھہر چکا تھا بس اب مجبوری کے رشتے کو نبھانے کے لیے اس کے ساتھ سمجھوتہ کر رہی تھی وصی نے کبھی روحی کے ساتھ اس طرح ایک چھت کے نیچے ایک ہی کمرے میں رہنے کا سوچا تو نہ تھا لیکن اب اگر قسمت میں یہ لکھا ہے تو وو اس رشتے کو بخوبی نبھانے کی چاہ بھی دل میں سماے رکھے ہوے تھا لیکن سہی وقت کے انتظار میں تھا اور وو وقت کب آیگا یہ شاید اسے بھی معلوم نہ تھا..  وصی ہمیشہ ہر کسی کے ساتھ مخلص رہا ہے ماں باپ بھائی بہن دوستی یا پھر چاہے وو کوئی بھی رشتہ ہو وو ہمیشہ خوش اسلوبی سے نبھاتا آیا ہے اسے،   اسلیے وو بھلا اس مقدس رشتے کو نظر انداز کیسے کر سکتا ہے..

رات کافی ہوچکی تھی وو کمرے میں آتے ہوے سوچنے لگی تھی کے اب تک وصی گہری نیند سو چکا ہوگا لیکن اسکا اندازہ غلط نکلا

یہ کیا حرکت ہے؟

روحی نے کمرے میں پہنچ کر جب صوفہ کا رخ کیا تو وصی اپنی ڈھیر ساری فائلز کے ساتھ وہاں ایسے جم کے بیٹھا تھا جیسے سامان سمیت شفٹہوکر آیا ہو...

اسکے سائیڈ میں فائلز اور سینے پے لیپ ٹاپ تھا جو کے صوفہ پے لیٹے ہوے بڑے مزے کے ساتھ اپنے کام میں مصروف تھا..

وصی.. اٹھو یہاں سے مجھے نیند آرہی ہے

تھوڑا ویٹ کرو دیکہ نہیں رہی کام کر رہا ہوں..

وصی نے پنا ہاتھ میں اٹھاتے اسکی طرف بغیر دیکھے ہی بولا

وو ہاتھ کمر پر باندھے اسے گھور نے لگی اور ایک نظر بیڈ کو دیکھا جو بلکل صاف تھا کوئی کاغذ یا فائلز نہیں تھے..

وصی جب پورا بیڈ خالی پڑا ہے تو پھر میری جگہ پے یہ آفیس اڈا بنانے کی کیا ضرورت ہے؟

ارے یار پورا گھر میرا ہے میری مرضی میں جہاں پر جو چیز رکھوں یہاں کھڑکی کے پاس دل کر رہا تھا بیٹھنے کو مجھے لگا جلدی فارغ ہوجاؤں گا سو بیٹھ گیا اور ابھی تک کام ختم نہیں ہوا.. جب تک یہ نپٹا نہ لوں میں یہاں سے ہلنے ہل والا نہیں ہوں..

وصی نے اسکی طرف ٹیڑھی آنکھ دیکھ کر بولا اور پھر سے نظر لیپ ٹاپ پر  ٹکادی روحی وہیں کھڑی اسکی بے حسی کا مظاہرہ کر رہی تھی.. کافی دیر وہیں کھڑی رہنے کے بعد وصی نے سر اٹھا کر اسے دیکھا اسکے چہرے سے خوب ظاہر تھا کے اسے بہت زیادہ نیند آرہی تھی وو واقعی میں سونا چاہتی تھی

 ایسے کیا کھڑی ہو جاؤ جاکر بیڈ پے سوجاؤ..

آج میں یہیں سوجاؤںگا..

نہیں میں یہیں اپنی جگہ  سوجاونگی  تم بس اٹھو اب..

اور میں یہ کہوں کے میں آج رات یہاں سے کہیں نہیں اٹھنے والا تو؟

وو اسے نظر ملاتے ہوے بولا..

تومیں یہ مان لونگی جتنا ڈھیٹھ میں تمہیں سمجہتی ہوں تم اس سے کئی گنا  زیادہ ڈھیٹھ اور بے مروت  ہو..

وو انگلی سے اشارہ کرتے ہوے دانت دبا کر بولی..

ہاں تو چلو جاؤ میں بہت بڑا ڈھیٹھ ہوں، نہیں اٹھنے والا اب کسی بھی قیمت  پے..سونا ہے تو جاکر بیڈ پر سوجاؤ..

وصی نے بیڈ کی طرف ہاتھ اٹھایا

نہیں وہاں نہیں سو سکتی میں ضرور تم اپنا کمینہ پن دکھاؤگے مجھے وہاں پاکر تم پھر اکر وہاں سوجاؤگے اور نہ جانے نیند کی آڑ میں پھر کیا بے ہودگی کر بیٹھو اس سے اچھا ہے میں نیچے اپنا بستر لگا دیتی ہوں

وو اپنا ڈر اور خدشہ ظاہر کرتے ہوے تھوک نگلتے ہوے بولی اور نیچے جگہ دیکھنے لگی اپنے لیے

اسکی حد سے زیادہ گھبراہٹ کو دیکھ کے وصی زور زور سے ہنسنے لگا تھا..

ارے اہ نادان لڑکی مجھے کوئی شوق نہیں چڑیل کو چھیڑ کر آفت کو بلاوا دینے کی تم بے فکر سوجاؤ میں تمہارے پاس نہیں آؤنگا..  لیکن ہان اگر تم نیچے سوئی تو پھر آئ پرومِس میں بھی تمہارے ساتھ نیچے اکر سوجاؤنگا  اور ہاں وو بھی ایک ہی تکیے اور چادر کے اندر..

وصی نے.   دھمکی آمیز لہجے میں بولا..

اسکی یہ بات سن کر وو زیادہ گھبرا نے لگی اور آخر منہ پھلاتے ہوے بیڈ پر لیٹ گئی لیکن دل میں خوف اب بھی قائم تھا اس وجہ سے  بار بار  مڑ کر دیکھ رہی تھی لیکن ہر بار وو وصی کو کام میں مصروف ہی پاتی.. اب تو اسے بھی نیند آ ہی گئی تھی جیسے ہی وصی نے محسوس کر لیا وو سو چکی ہے اسنے سارے فائلز اٹھاۓ جنہیں وو کافی دیر سے سواۓ سرسری نظر ڈالنے کے اور کچھ بھی نہ کر رہا تھا  ٹیبل پر رکھ دیے لیپ ٹاپ پے جو کافی دیر سے ایک ہی پریزنٹیشن کھلی ہوئی تھی اسے بند کیا روحی کی طرف دیکھا جو بڑے سکوں کے ساتھ سوئی ہوئی تھی اسے گہری نیند میں دیکھ کر وصی کے چہرے پے اطمینان سا ظاھر ہونے لگا اور وو من ہی من خوش ہونے لگا کے اسکا یہ جھوٹ موٹ کا آفیس کے کام والا آئیڈیا کام آگیا ورنہ روحی اسکے کہنے پے کبھی بھی بیڈ پے نہ سوتی.. کافی دنوں سے وو صوفہ پے سو رہی تھی اور ٹھیک سے کروٹ  نہ لینے کی وجہ سے اسکے کمر میں درد ہونے لگا تھا جو کے وصی نے محسوس کر لیا تھا کے ٹھیک سے نا سونے کی وجہ سے اسے یہ تکلیف ہو رہی ہے اس لیے اسنے سارا جھوٹا ڈرامہ رچایا  اور اب روحی کو بیڈ پے سلا کے خود سکوں سے صوفہ پے سوگیا یہ سوچ کر کے آج روحی چین سے  سوےگی اسکے کمر درد میں کچھ کمی ہوگی..

دوستوں سے شیئر کریں

تبصرہ کریں