تیری چاہت ناول قسط نمبر 5

تیری چاہت

پروین

قسط 5

وصی اپنے اور روحی کا نکاح کا سوچ کر جیسے کانپ اٹھا تھا اسے بہت جھٹکا لگا جب فیصلے کا سنا.

یے سب کیا ہورہا ہے کیوں ہو رہا ہے پاپا کیا آپ بھی یہی سمجھتے ہیں کے میں گنہگار ہوں؟  کیا آپکو میرے اوپر ذرا سا بھی بھروسہ نہیں ہے؟

وو وسیم کے پاس بیٹھ کر دل کا حال بتانے لگا..

میں مانتا ہوں روحی سے میری بچپن سے بہت اٹچمنٹ رہی ہے ہم دونو بہت اچھے دوست ہیں لیکن اسکا مطلب یہ ہرگز  نہیں کے ہم اپنی حدوں سے ہی نکل جاییں.. اور میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں پاپا میرے اور اسکے بیچ ایسا کچھ بھی نہیں جس سے ہمارا یا خاندان کا سر شرم سے جھک جائے اور میرے لیے ایسا تصور کرنا بھی پاپ ہے..پھر کیوں ہمیں یہ سزا دی جارہی ہے....

وصی نے سوالیہ نظروں سے اسکی طرف دیکھتے بولا..

زندگی ہر بار ہماری منصوبہ  بندی پے نہیں چلتی اور کبھی کبھار  انسان کو ایسی سزا بھی دے دیتی ہے جسکی ہمیں کوئی توقع نہیں ہوتی اور اسے حالات میں ہم سواۓ صبر کے اور کچھ نہیں کر سکتے..

وسیم نے اسکے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھتے ہوے کہا..

لیکن پاپا یہ سراسر نہ انصافی اور جبر ہے آپ تو کم سے کم میرا ساتھ دیتے اور سب کے سامنے میری حمایت  میں بولتے لیکن آپ بھی خاموشی  سے سب کا آخری فیصلہ سن کر آگئے...

وصی اگر یہ بات میں کسی اور کے زبان سے سنتا تو اسکی زبان کھینچ لیتا اور دوبارہ ایسا بولنے نہ دیتا لیکن سب نے اپنی آنکھوں سے جو  دیکھا اسے بھی تو کوئی جھٹلا نہیں سکتا..  اور ہر ایک کی نظر اور سوچ الگ الگ ہوتی ہے میں کس کس کو صفائی دوں اور چپ کراوں؟

وسیم نے اسے سوالیہ انداز سے دیکھتے ہوے بے بسی سے کہا..

 میں یہ نکاح کسی بھی صورت نہیں کرسکتا بھلا میں روحی کے ساتھ کیسے..

وو بولتے ہوے کچھ چپ سا ہوگیا پھر ٹھہر کے بولا..

روحی کا چہرہ ہر بار میری آنکھوں کے سامنے اتا ہے اور وو ہر بار حسن بھائی کے لیے منتظر رہی ہے ہم دونوں  کبھی بھی خود کو اس رشتے سے منسلک  نہیں کر سکتے میں روحی سے نظریں نہیں ملا پاؤنگا میں جانتا ہوں یہ اسکے لیے بہت بڑی سزا ہوگی وو ٹوٹ جاۓگی بکھر جاۓگی اور اور مجھسے یہ  بلکل برداشت نہیں ہو پایگا میں نہیں کر سکتا..

وصی نے وہاں سے اٹھتے ہوے اپنا فیصلہ بتایا

تو کیا یہ برداشت کرلوگے کے اسکی شادی کسی لولے لنگڑے سی کی جاۓ یا پھر ایسے آدمی سے جو کے اسکی باپ کی عمر کا ہو؟

وسیم کی بات سن کر وو ششدر ہوگیا منہ جیسے پھٹا کا پھٹا رہ گیا وو جو اٹھنے لگا تھا لیکن اب وہیں جم کے بیٹھ گیا..

یہ آپ کیا که رہے ہیں..؟

وصی چاہے تمہارا من راضی ہو یا نہ ہو لیکن یہ یاد رکھنا اس وقت روحی کے لیے سب سے مضبوط سہارا تم ہو، تم مرد ہو تم کہیں بھی جا سکتے ہو اپنی دنیا الگ بسا سکتے ہو اس فیصلے سے بھاگ سکتے ہو لیکن اگر تم اس رشتے سے انکار کر کے چلے گئے تو روحی آگے بہت بڑی مشکل میں پھنس سکتی ہے وو ٹوٹ کے بکھر جاۓ گی اسکی شادی زبردستی کہیں نہ کہیں کی جاۓگی اور یہ سزا شاید اسکے لیے بہت سخت ہوگی.. لیکن میں چاہتا ہوں تم اسکی ہمت اور سہارا بنو اسے اپنالو وصی اسکی آنے والی زندگی جہنم ہونے سے تم ہی بچا سکتے ہو تم اسکے لیے سزا نہیں بلکے ایک مضبوط سہارا بنو میری بات مان لو وصی اسے اپنالو..

وسیم اسکا ہاتھ پکڑ کر گڑ گڑانے لگا تھا وصی نے اسکے ہاتھ چوم کر اپنی آنکھوں سے لگا لیے وو بہت ہی فرمانبردار اور نیک تھا ہر کسی کو خوش کرتا رہتا اور سب کی خوشی کی فکر رہتی تھی..

وسیم بھائی آپ سے بات کرنی تھی

مریم کی آواز سن کر دونوں تھوڑا نارمل ہوکر بیٹھ گئے..

جی بھابی آئے..

وسیم فوری طور پر اسکی طرف متوجہ ہوا اور وصی اٹھ کر باہر روانہ ہوا..

سائرہ کہاں ہے نظر نہیں آرہی..

مریم نے ادھر ادھر دیکھ کر پوچھا حقیقت میں وو بھی یہی چاہتی تھی کے سائرہ وہاں پر موجود نہ ہو اسلیے بات کرنے سے پہلے اطمینان کے لیے اسکا پوچھ لیا

وو شاید امان کے کمرے میں ہوگی اس وقت آپ کو کیا بات کرنی ہے؟

وسیم نے اسکے چہرے کو دیکھتے ہوے پوچھا مریم کی پریشانی چہرے سے خوب جھلک رہی تھی..

روحی نے نیند کی گولیاں کھاکر خودکشی کرنے کی کوشش کی ہے.. وو تو اچھا ہوا میں نے فورن اسے دیکھ لیا اور وو گولیاں اس سے چھین لیں..

مریم کا لہجہ دھیما سا ہوتا گیا اسکی باتوں سے لگ رہا تھا وو بہت خوفزدہ ہے

 اسکی بات سن کر وسیم کے ہوش حواس اڑ گئے جیسے اسکے سر پے کسی نے نئی مصیبت لا کر رکھ دی ہو..

اب آپ ہی بتایں پہلے کم دکھ تھے جو یہ لڑکی مجھے جیتے جی مارنا چاہتی ہے پتا نہیں یہ دن دیکھنے کے لیے میں زندہ ہی کیوں ہوں

مریم خود پر ضبط نہ پا سکی بات کرتے وقت وو پھوٹ کر رونے لگی تھی..

اب آپنے اسے اکیلا کیوں چھوڑا ہے اگر اسنے...وو پھر سے نہ خود کو کچھ کر بیٹھے

وسیم کے چہرے پے اب اسکی پرواہ عیاں ہو رہی تھی وو پریشانی کے عالم میں بولا..

نہیں وو اکیلی نہیں ہے اس وقت حرا کو اسکے پاس بیٹھا کر آئی ہوں..

****

حرا اسکا دل بہلانے کی کوشش کر رہی تھی لیکن روحی کا من جیسے کسی تنہائی کے ویرانے  میں اپنی جگہ تلاش کر رہا تھا...

روحی باجی اتنا پھیکا پھیکا رنگ کیوں پہنا ہے کچھ اچھے کپڑے پہنے نہ جیسے آپ ہمیشہ پہنتی تھی اور خوبصورت بھی لگتی تھی..

تب میری زندگی بھی رنگین ہوا کرتی تھی اور ہر رنگ جچتا تھا  اب کوئی رنگ نہیں چڑھ  سکتا مجھ پر... یہ پھیکا پن تو عمر بھر جھیلنا ہے.. مجھے رنگوں سے کیا لینا دینا..

اسنے اداسی سے نظرین جھکاتے ہوے کہا...

کوئی بھی وقت ہمیشہ کے لیے نہیں ٹھہرتا یہ وقت بھی گزر جایگا

وصی کی آواز سن کر اسنے فورن نظریں اٹھائی اس حادثے کے بعد یہ پہلی بار دونوں آمنے سامنے ہوے تھے

وصی جاؤ یہاں سے کوئی تمہیں دیکھ لیگا..

اسنے نظریں پھیرتے ہوے بولا..

توکیا ہوجاۓگا اب کس سے ڈر رہی ہو روحی کس کی لاج رکھ رہی ہو؟  ان لوگوں کو جو سمجنا تھا اور جو جو الزام لگانے تھے وو تو لگا لیے اب اس ملاقات پے بھی اگر کوئی فتویٰ لگنا ہے تو لگنے دو..

وصی نے اسکے سامنے کھڑے ہوکر بے باکی سے بولا..

روحی وقت کسی کے لیے نہیں ٹھہرتا زندگی ہر موڑ پر ہمیں کچھ سبق دیتی ہے.. ہمیں اس سے نڈر ہوکے لڑنا ہے،  زندگی کی مثال پانی میں چلتی کشتی کی طرح ہوتی ہے جسے پانی میں اتارتے وقت پورا اختیار اپنے ہاتھ میں ہوتا ہے لیکن جیسے ہی منزل کی طرف روانہ ہو جاییں تو لہریں اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہیں ایسی کبھی موجیں  زیادہ تو کبھی کم اور کبھی کبھی تو طوفان ایک جھٹکے  سے نیّا ڈوبو دیتا ہے..  اور ایسے میں وہاں سے بھاگ نے کی کوشش کرنا یا چھلانگ مارنا بے وقوفی ہوتی ہے لیکن یہاں پے ان موجوں کا مقابلہ سمجھداری اور صبر سے کرنا چاہیے تاکے ہم اپنی ناؤ ڈوبنے  سے بچا لیں اور کنارے پے لا سکیں...

لیکن میری ناؤ ڈوب چکی ہے وصی..

وصی کی بات سن کر اسنے حسرت بھرے لہجے میں بولا اور ساتھ ہی آنکھوں سے آنسو کا سمندر برس پڑا..

نہیں روحی میں تمہاری ناؤ ڈوبنے نہیں دونگا قسمت نے جو ہمارے ساتھ کیا ہے ہم مل کر اسکا مقابلہ کرینگے کیا فایدہ اپنی بے گناہی کے لیے ایک ایک کے پاس جاکر گڑ گڑانے کا جب کسی کو کوئی اعتبار ہی نہیں.. اور جو چیز مقدر میں لکھی نہ ہو وو کسی بھی صورت آپ حاصل نہیں کر سکتے..

وصی نے نام نہیں لیا تھا لیکن اسکا اشارہ حسن کی طرف تھا

لیکن روحی اسکا اشارہ سمج چکی تھی کے وو حسن کی بات کر رہا ہے جس حسن کا نام لیکر اسکا چہرہ کھل اٹھتا تھا آج اسکا خیال انے سے مرجھایا ہوا چہرہ اور بھی افسردہ ہوگیا..

دیکھو روحی اس نکاح سے نہ تم خوش ہو اور نہ میں.. میں چاہتا تو یہاں سے دور چلا جاتا اگر مجھے تمہاری فکر نہ ہوتی تو میں کبھی اس کے لیے راضی نہ ہوتا..

وو کچھ ٹھہر کے بولا...

 ہم دونوں کا رشتہ وہی ہوگا جو پہلے تھا بس اس نکاح کے بعد تم پر سے پابندی ہٹ جاۓگی تم آزاد ہوجاؤگی تم پر کوئی زبردستی یا جبر نہیں ہوگا تم تائی امی کے ساتھ شہر چلی جانا اور جیسے رہ رہے تھے ویسے اپنی  زندگی دوبارہ شروع کرنا بس پلیز اب یہ دوبارہ بچوں والی حرکت نہ کرنا.. خود کو ختم کرنے سے پہلے کم سے کم ان لوگوں کے بارے میں ضرور سوچنا جو تمہاری فکر کرتے ہیں...

وصی اسے سمجھاتے ہوے باہر چلا گیا اور روحی کو جیسے اسکی باتوں میں امید دکھائی دینے لگی..

ویسے تو وصی روحی سے آنکہ ملانے سے بھی کترا رہا تھا لیکن جیسے ہی اسنے دروازے پے کھڑے.. مریم کے منہ سے روحی کی خودکشی کرنے کی کوشش کا سنا تو اس سے رہا نہ گیا اور فورن اس کے کمرے تک آ پہنچا وو اسکے لیے واقعی فکر مند تھا

_______

نکاح کے لیے گواہ اور قاضی کا بندوبست کر دیا گیا تھا  حویلی کی بیٹھک  میں بلکل سادگی  سے یہ رسم ادا ہونی تھی کوئی تیاری کوئی خریداری نہیں کی گئی، دولہا دلہن نے کوئی قیمتی  لباس نہیں پہنا تھا اور نہ ہی کسی قسم کی سجاوٹ کی گئی تھی.. وصی زیادہ تر جینس اور شرٹ پہنتا تھا اور اسی دن بھی یہی لباس پہن رکھا تھا روحی نے بھی سادہ سا جوڑا  پہنا تھا جو کہیں سے بھی دلہن نہیں لگ رہی تھی کانوں میں بوندی اور ہاتہ میں ایک انگوٹھی  تھی جو وو ہمیشہ پہنا کرتی تھی اس کے علاوہ کوئی زیور تن نہیں کیا تھا.. اسکے خوبصورت بال جو کے کسی بھی فنکش میں کھول کر لیئر بناتی تو اسکی خوبصورتی کو چار چند لگ جاتے تھے لیکن اب وو بھی بلکل کس کے باندھ  لیے تھے دونوں کا نکاح گھر کے چند لوگوں کی موجودگی میں آخر پڑھا دیا گیا پاکیزہ اور عظیم سنت کو ادا کرتے ہوے  وو دونوں ازدواج  کے رشتے میں مجبوری سے ہی سہی لیکن با قاعدہ طور پر ایک دوسرے سے بندہ گئے..  کسی نے وہاں پے رکھی مٹھائی کی پلیٹ اٹھائی اور سب کا منہ میٹھا کروایا روحی کے منہ میں بھی مٹھائی ڈالی گئی جو کہنے کو تو مٹھائی تھی لیکن اس وقت اسے سب سے کڑوی چیز لگی تھی... اسنے ایک بار بھی نظر اٹھا کر کسی کو نہ دیکھا تھا آنکھیں رو رو کر بلکل خشک ہو چکی تھیں.. اور وصی سامنے بیٹھا مسلسل اسے دیکھ رہا تھا اور من ہی من خود کو کوس رہا تھا کے وو روحی کو اسکی محبت نہ دلا سکا..

نکاح ہوچکا  تھا اب جیسے سب کی جان چھوٹی تھی سب اپنے اپنے کام میں لگ گئے تھے  سائرہ کو بہت غصّہ چڑھا  ہوا تھا وواس نکاح سے بلکل خوش نہ تھی، غصے سے لال باہر ٹہل رہی تھی تبھی ایک لڑکا اسکے پاس اکر کھڑا ہوا..

میڈم آپ نے ابھی تک میری پیمنٹ نہیں کی حلانکے میں نے سارا کام آپکی پلاننگ کے مطابق کیا تھا میں نے روحی کے کولڈرنک  میں نشے کی گولیاں ملائی اور بعد میں اسکے کپڑوں پے سالن بھی گرایا تاکے وو حویلی کی طرف روانہ ہوجاۓ اور ٹھیک وہی ہوا جو اپنے مجھسے کرنے کو کہا تھا  اور حال میں بھی جب روحی کو سب  منگنی کی رسم کے لیےبلا رہے تھے تب بھی میں نے آکر سب سے کہا تھا کے میں نے اسکو  کسی لڑکے کے ساتھ حویلی جاتے دیکھا..

لڑکا بنا رکے اسے اپنی بات یاد کروا رہا تھا..

ہاں ہاں معلوم ہے مجھے اب یہ سب بول کر سر کیوں کھا رہے ہو؟

آپ اپنے مقصد میں کامیاب بھی ہوگئیں  ہیں اب تو مجھے بھی حساب کتاب دے دیں آخر محنت لگی تھی مجھے بھی یہ سب کرنے مین..

لڑکا ہاتھ کو رگڑ کر بولنے لگا..

یہ لو پیسے اور آیندہ اپنا منہ بند رکھو اور دوبارہ  یہاں آکر کوئی بکواس مت کرنا

سائرہ نے اسکے ہاتھ پے پیسے رکھتے ہوے بولا..

وو دونوں باہر کھڑے باتیں کر رہے تھے لیکن اس وقت روحی نے نہ جانے کہاں سے اور کیسے سن لیا یہ سب  اسکے پیروں کے نیچے سے تو زمیں کھنچ گئی اورجیسے کسی نے آسمان گرا دیا ہو.. وو خود پے مشکل سے قابو پاتے ہوے وہاں سے بھاگتی ہوئی ایک کونے میں بیٹھ گئی اور زارو قطار رونے لگی..

یہ کیا بس اتنے سے پیسے آپنے کہا تھا منہ مانگی رقم دینگی..

سائرہ اور وو لڑکا اب بھی وہیں کھڑے تھے..

میں نے تمسے کہا تھا اپنا آدمی بھیجنا وہاں روحی کے پیچھے لیکن تمہاری کوتاہی کی وجہ سے میرا بیٹا وصی پھنس گیا.. اور اب تمہیں منہ مانگی رقم کی پڑی ہے..

سائرہ نے اسے غصے سے گھور کر کہا..

میڈم میرا آدمی وہاں جانے لگا تھا لیکن اسکے جانے سے پہلے ہی وصی اندر جا چکا تھا اب ایسے میں اگر میرا لڑکا وہاں جاتا تو ہم سب پکڑے جاتے نہ...

لڑکے نے پیسے چیک کرتے وقت اپنی صفائی دی..

اب دفع ہو یہاں سے..

سائرہ نے اسے گیٹ کی جانب اشارہ کرتے ہوے کہا..

فلحال ان پیسوں سے کام چل جایگا لیکن کچھ دن بعد پھر ملونگا  آپسے میڈم چلتا ہوں..

وو گیٹ سے باہر چلتا ہوا بول کے گیا اور سائرہ ہونٹ بھنچتی ہوئی اندر کو چل دی..

سائرہ اندر آئی تو روحی آنکھوں میں آنسو لیے اسکے کمرے کے باہر کھڑی تھی..

 ایسی کیا دشمنی تھی آپکی تائی..  جو میری عزت کا یوں جنازہ نکالا آپنے؟ اور وو  وصی..اس نے بھی اس گھنااونے کام میں  آپکا ساتھ دے دیا کیوں میری زندگی تباہ کردی اپ لوگوں نے ایسی کیا غلطی سر زد ہوگئی مجھسے جو مجھے پورے جگ میں رسوا کردیا...

وو روتے ہوے تائی کو دہائی دینے لگی..

سائرہ نے کچھ پل اسے گھورا اور اندازہ کرنے لگی کے شاید روہی نے انکی باتیں سن لی ہیں اور وو یہی سمجھ رہی ہے کے وصی بھی سائرہ کی پلاننگ میں شامل تھا.. اس سے اب سائرہ کو کچھ سکوں سا مل گیا کیوں کے اب وو اپنی ہاری ہوئی بازی پھر سے جیت سکتی تھی...

میں تمہیں یا تمہاری ماں کوایک پل کے لیے بھی کسی صورت برداشت نہیں کر سکتیتو تمہیں اپنے گھر میں بہو کے روپ میں کیسے برداشت کرلوں، تمہارے اور حسن کے رشتے سے میں بلکل خوش نہیں ہوں میں نے یہ واضع طور پر کہا تھا مریم کو بھی لیکن پھر بھی وو ہر بار اپنی سازشوں  سے سب کو اپنی مٹھی میں کر لیتی ہے پہلے جب میں اپنی بہن کو اپنی دیورانی بنا نا چاہتی تھی تب بھی اس مریم نے میری بہن کی جگا اپنی بہن کا رشتہ کروا دیا اور اب جب مین تمہاری شکل نہیں دیکھنا چاہتی تب وو تمہیں میری بہو بنا کر میرے گھر پے حکمرانی کرانا چاہتی ہے لیکن یہ خواب اب کبھی پورا نہیں ہو پایگا میرے گھر میں تو کیا اب تم کسی بھی گھر کی بہو نہیں بن پاؤگی.. حسن سے تو تمہاری شادی نہیں ہونے دی میں نے.. اور وصی نے صرف اور صرف نکاح کیا ہے اور وو نہ تمہیں خود اپنایگا اور نہ ہی تمہیں طلاق دیگا اب تم سڑ تی رہو ساری عمر اپنی ماں کے گھر میں تم اور مریم اب میرا کچھ نہیں بگاڑ پاؤگی...

سائرہ اسے کھری کھری سنا کر کمرے میں چل دی اور روحی اپنا سارا ضبط کھو کر لڑ کھڑاتی ہوئی چلنے لگی..

کسے شکایت کرے اب کس پے یقین کرے وو ٹوٹ تو پہلے ہی چکی تھی لیکن اب پوری طرح بکھر گئی تھی ایسی بکھری تھی کے شاید اب کبھی نا سمیٹ پاے..

کیوں کیا تمنے وصی ایسا کیون.... وو باہر آکر بینچ پے بیٹھی  زارو قطار رونے لگی تھی اک طرف اسکی آنکھوں سے ٹپکتے  قطرے تو دوسری طرف آسمان سے طوفانی بارش اسکے چہرے اور جسم کو پوری طرح  بھیگوۓ ہوے تھا سخت سردی میں بھی اس پر کوئی اثر نہیں ہو رہا تھا شاید اسکے ساتھ جو بیت چکا تھا وو اس کے لیے زیادہ اذیت ناک تھا..

روحی اتنی سردی میں تم یہاں بارش میں کیوں بھیگ رہی ہو اندر چلو

وصی اسکی طرف آتے ہوے بولا..

دور رہو وصی میرے پاس آنے کی کوشش مت کرو

روحی نے اسے اشارے سے دور رہنے کو بولا..

پاگل ہوگئی ہو کیا چلو یہاں سے بیمار ہوجاؤگی

بیمار ہوں یا مر جاؤں مجھے تمہاری ہمدردی کی کوئی ضرورت نہیں ہے گھٹیا قسم کے آدمی ہو تم مجھے تمسے کوئی بات نہیں کرنی دور ہٹو مجھسے..

روحی نے اسے  زور سے دھکا دیتے ہوے دانت بھینچ کر بولا تھا مشکل سے خود کو گرنے سے بچا پایا تھا اور وو اسکے اس رویے سے بلکل بھی ششدر رہ گیا

روحی تم ہوش میں تو ہو یہ کیا بد تمیز ی پے اتر آئی ہو؟

وصی نے ناراضگی ظاہر کرتے ہوے بولا..

تمیز سے انسے پیش آیا جاتا ہے جو اسکے لایق ہوں تم جیسے گھٹیا لوگوں سے تو اس سے بھی بد تر سلوک کرنا چاہیے..

گھٹیا پن تم کر رہی ہو یا میں؟  آخر بات کیا ہے کیوں اتنا غصہ ہو مجھسے دیکھو اب تم بلا وجہ میری شرافت  کا فائدہ اٹھا رہی ہو..

میں نہیں تم گھٹیا اور گئے گزرے ہو اور میں تمہاری طرح پیٹھ پیچھے وار نہیں کرتی دوست بنا کر دشمنی نہیں نکالتی..

وو پھر سے جذباتی ہوتے ہوے پھوٹ کر رونے لگی تبھی مریم اسے باہر بھیگتا  دیکھ کر فورن آگئی اور روحی کو  سنبھالنے لگی...

روحی کیا ہوا ہے تم یہاں اس طرح کیوں رو رہی ہو

مریم اسے گلے لگاتے ہوے وصی کو بھی دیکھنے لگی..

امی آپ پلیز اسے کہیں یہاں سے جائے مجھے اسکی شکل نہیں دیکھنی اسے کہو جاۓ یہاں سے..

وو رو رو کر بول رہی تھی اس سے پہلے کے مریم  کچھ بولتی وصی روحی کو غصے  سے گھورتے ہوے وہاں سے چل دیا..

دوستوں سے شیئر کریں

تبصرہ کریں