تیری چاہت ناول قسط نمبر 2

تیری چاہت

 

 

 

اردوناول

ناول

 

 مصنف پروین

قسط نمبر 2

السلام علیکم...

وو سلام کرتے ہوے ٹیبل کے قریب پہنچا.. اور کرسی نکال کر بیٹھنے لگا..

نیند پوری ہوگئی جناب کی..سائرہ نے پراٹھا پلیٹ میں رکھتے ہوے پوچھا..

جی

وصی نے آنکھیں مسلتے  ہوے جواب دیا..

بھابی والوں کے یہاں سب خیریت تھی سب ٹھیک تھے..؟

وسیم احمد ناشتے کی ٹیبل سے دور سوفی پے بیٹھا اخبار پڑھ رہا تھا کسی کالم پے نظر اب بھی ٹکی ہوئی تھی..چونکے  رات کو وصی وہاں سے ہو کر آیا تھا تو اس سے خیریت پوچھ رہا تھا...

جی پاپا سب خیریت تھی..وو بھی پوچھ رہی تھ آپکا

وصی  وسیم کا سوال سن کر مڑا جواب دیا اور پھر سے چاۓ پینے میں لگ گیا..

اور سائرہ وسیم کو گھور کر دیکھنے لگی جو کے اخبار پڑھنے میں مصروف تھا..

ویسے وصی آج پورا دن کچھ نہیں کھاۓ گا.. تائی کے یہاں سے خوب کھا کر آیا ہے..

حسن نے اسکے آگے سے ٹوسٹ اٹھاکر اپنی طرف کیا..

کھلایا تو بہت کچھ... ہاے کیا پکوڑے بناتی ہے روحی قسم سے منہ میں پانی اگیا اب بھی..

وصی اب جان بوجھ کر خوب لذتی  انداز سے تعریف کرنے لگا تھا.. روحی کا نام سن کر حسن کی نظر ایک جگہ ٹک سی گئی..

تو پھر کچھ دن رہ لیتے وہاں پے یہاں کیوں آگئے..؟

حسن نے اسے گھور کے ٹوکتے ہوے بولا..

وہاں رہنے کی کیا ضرورت ہے آپ کی شادی کے بعد تو وو یہاں آ ہی جاۓگی..پھر تو سب کچھ بنوا لونگا..

وصی کی یہ بات سن کر وسیم احمد کے کان کھڑے ہوگئے اور وو اخبار سے دھیان ہٹا کر حسن کا جواب سننا چاہ رہا تھا..

لیکن حسن خاموش ہوگیا جیسے اس ٹوپک کو مزید اگے نہ سننا چاہتا ہو

ویسے روحی پوچھ رہی تھ اکیلے آے ہو حسن جی کو ساتھ میں نہیں لاۓ میں نے کہا نہیں وو بس بارات کے ساتھ ہی آئینگے..

وصی نے پھر سے اسے چھیڑا تھا

حسن نے غصے سے وصی کو گھورا اور وو فورن وہاں سے اٹھ کر پرے ہوگیا کیوں کے وو جانتا تھا حسن ضرور  اسے پنچ کریگا.. وسیم دیکھ کر مسکرانے  لگا تھا اور پھر سے اپنی اخبار میں مصروف ہوگیا..

حسن وصی سے صرف ایک یا 2 سال بڑا تھا وصی اسے احترامن بھائی بلاتا لیکن  دونوں ہمیشہ دوستوں کی طرح رہتے.. وصی کی طبیعت خوش مزاج اور ہنس مکھ سی ہے اور حسن زیادہ تر سنجیدہ رہنے والا..

****

 تمہیں پتا ہے ارم مجھے پاگل بولتی ہے اور کہتی ہے میں بہت بڑے وہم میں مبتلا ہوں کے میں ایک دن تمہاری دلہن بنوں گی.. یہ ایک ایسی خواہش جسکی تکمیل ہر حال میں ہونی ہے میں جانتی ہوں یہ میرا وہم گمان نہیں ہے حقیقت ہے.. پہلی بار جب مجھے پتا چلا کے میرا رشتہ بچپن میں ہی تمسے طے کیا گیا تھا تو بہت برا لگا بہت روئی تھی میں.. لیکن وقت کے ساتھ کب اور کیسے سب بدل گیا پتا ہی نہیں لگا.. پہلے اپنی منگنی کا سوچ کر خود کو ختم کرنے کو دل کرتا تھا اور اب... اب یہ بات میری ذات کی سب سے حسین بات بن گئی ہے اب مجھے ہر اس چیز سے لگاؤ ہوگیا ہے جو تمسے جڑی ہے میں سچ میں تمسے بہت محبت کرتی ہوں..  میں جانتی ہوں میری طرح اب تم بھی صرف مجھے ہی سوچتے ہوگے.. وصی جس طرح مجھے  چڑاتا ہے تمہارے ساتھ بھی میرا ذکر چھیڑ دیتا ہوگا اور میرا نام سن کر تمہارے ہونٹوں پے مسکان بکھر جاتی ہوتی.. بلکل ایسا ہی میرے ساتھ بھی ہوتا ہے..

وو آج حد سے زیادہ حسن کے لیے بے چینی محسوس کر رہی تھی یہ اسکی عادت ہوتی حسن کی تصویر ہاتھ میں لیے اس سے اپنے جذبات کا اظہار کرتی.. خود ہی بات کرتی اور شرما جاتی... کیوں کے کبھی اسکے  رو برو وو کچھ بول نہ پاتی...

****

وصی کی پڑھائی پوری ہوگئی تھی اور حسن بھی اپنا کاروبار سیٹ کر چکا تھا اس خوشی میں وسیم کے گھر میں ڈنر پے سب کو انوائٹ کیا گیا تھا..قریبی دوست اور رشتےداروں کی آمد کا سلسلہ جاری تھا....

دونوں بھائیوں نے ایک جیسا گرے تھیم  کا لباس زیر تن کیا ہوا تھا جو کے انکو سب کے بیچ نمایاں کر رہا تھا.. سارے لوگ آ چکے تھے وصی ادھر ادھر نظریں پھیرتا جیسے کسی کا انتظار کر رہا ہو..

کیا ہوا تمہاری گرل فرینڈ آنی ہے کوئی ؟

حسن نے اسے اس طرح منتظر کھڑا دیکھ کر چھیڑ دیا..

ارے نہیں یار میرے ایسے نصیب کہاں جو اتنی آسانی سے آپکی طرح لڑکی مل جاۓ.... وصی کو بھی جواب خوب اتا تھا..

ویسے اس طرح منتظر تو آپکو ہونا چاہے تھا لیکن آپ پے یہ احسان میں کر رہا ہوں..

وصی نے شانے اچکاۓ..

کیا مطلب ؟

حسن نے بات نہ سمجھتے ہوے پوچھا..

ارے بھائی روحی کو بھی انوائٹ کیا تھا ابھی تک نہیں ائی.. وو بول ہی رہا تھا کے اسی دوران روحی بھی آگئی.. گرین کلر کا فراک جس پی پنک کلر کا گوٹا ورک کیا ہوا تھا لیئر  میں کٹے بال..ہائی ھیل پہنے ہوے وو سامنے سے آتی دکھائی دی اور دونوں بھائی ٹک ٹکی باندھے اسے ہی دیکھنے لگے... وو واقعی ہمیشہ کی طرح بہت اچھی لگ رہی تھی..

اتنی دیر کیوں لگادی..

وصی نے فورن اسکے آتے ہی پوچھ لیا..

وو.. بس... تیار ہونے میں ٹائم کچھ زیادہ لگ گیا.. روحی نے ہچکچاتے  ہوے بولا اور حسن کو دیکھنے لگی..

زیادہ تیار ہونے کو کس نے کہا تھا ویسے بھی مجھے پتا ہے تمہارے پاس اچھے کپڑے اور میک اپ کا سامان ہے سب دکھانے کو اتنا ٹائم لگانے کی کوئی ضرورت نہیں تھی..

وصی نے اسے ٹوکتے ہوے کہا..

تو میں تمہارے لیے تیار بھی نہی ہوئی ہوں..

روحی نے فورن اسکا منہ توڑ جواب دیا اور ادھر ادھر دیکھنے لگی..

حسن وہاں سے جا چکا تھا..

اچھا اچھا میں تو بھول ہی گیا یہاں پے کوئی خاص لوگ اور بھی ہیں جن کے لیے روحی صاحبہ کو تیار ہونے میں اتنا ٹائم لگ گیا...

وصی پلیز اب سب کے سامنے ایسا کچھ مت بولنا ورنہ میں سچی گھر واپس چلی جا اونگی  ابھی..

روحی اسکی چھیڑ کھانی کی عادت سے خوب واقف تھی اسلیے اسے سختی سے بولا..

روحی اور وصی ھم عمر تھے دونوں بچپن سے ہی ایک دوسرے کے دوست رہے ہیں اور دونوں ایک دوسرے سے بے تکلفانہ تھے...

__________

کیسی ہو روحی بیٹا

میں بلکل ٹھیک ہوں تایا ابو آپ کیسے ہیں

میں بھی اچھا ہی ہوں..بہت اچھا کیا جو تم آئی..

وسیم نے اسکے سر پے شفقت کا ہاتھ رکھا..

میں نہیں آرہی تھی امی نے زبردستی بھیج دیا کے وصی ناراض ہوجاۓگا..

اچھا وصی کی فکر ہے مطلب اپنے تایا کی یاد نہیں آتی اب؟

وسیم نے شکایت کرتے ہوے کہا..

یاد آتی ہے بہت لیکن دور سے یاد کر لینا ٹھیک ہی ہے..اپ تو جانتے ہیں سب..

روحی نے سوالیہ نظروں سے دیکھتے ہوے کہا..

بہت جلد سب ٹھیک ہوجاۓگا دیکھنا تم..

وو روحی کے گال کو تھپکتے  ہوے بولا..

ڈنر لگ گیا تھا سب لوگ کھانے کے ساتھ ساتھ باتیں کرنے میں بھی مصروف تھے..

روحی نے بھی ایک ٹیبل پے پرس رکھا اور بیٹھ گئی تبھی وصی اسکے پاس اگیا..

کھانا شروع کیوں نہیں کیا تمنے ابھی تک چلو پلیٹ میں ڈالو..وصی نے اسے پلیٹ تھمادی..

ارے خضرا خالہ یہاں آ ئیے ساتھ میں بیٹھ کر کھاتے ہیں..حسن بھائی آپ بھی آئیں..

تم لوگ کھاؤ مجھے بوکھ نہیں ہے فلحال..

وصی کے بلاوے  پر خضرا تو اسکی طرف چل پڑی لیکن حسن نے معذرت کر لی اور دوسرے رخ کی جانب بڑھنے لگا.. تبھی وصی نے فورن جاکر بازو سے پکڑا اور گھسیٹ  تا ہوا ٹیبل کی طرف لے آیا جہاں اسکے لیے ایک ہی کرسی موجود تھی جو کے روحی کے بلکل پاس میں تھی.. وو بیٹھتے ہوے روحی کو دیکھنے لگا.. روحی نے بھی ایک نظر اسکی طرف دیکھا..

روحی کیا حال ہے بھئی کہاں ہوتی ہو آج کل دکھائی ہی نہیں دیتی کہیں پے

خضرا نے کھانا نکالتے وقت سوال کیا..

میں بس آج کل پڑھائی میں مصروف ہوں باقی تو کوئی خاص کام نہیں ہوتا گھر پے ہی ہوتی ہوں.. آپ سنائیں علینا کیسی ہے..

وو بلکل ٹھیک ہے..

دونوں اپس میں باتیں کرنے لگی تھی تب اچانک روحی کو بے اختیار  کھانسی  شروع ہوئی..

حسن نے بنا دیر کیے جگ سے پانی نکالا  اور گلاس بھر کے روحی کو تھمایا..

روحی نے پانی پیا اور جیسے ہی کھانسی رکی تو حسن کا شکریہ ادا کیا..

کھانا کھاتے وقت اتنی باتیں کروگی تو ظاہر ہے ایسا تو ہوگا ہی..

حسن نے اسکی پرواہ کرتے ہوے ٹوکا تھا لیکن نظرین اپنی پلیٹ میں ہی تھیں..

لیکن اسطرح  خاموش رہنے سے کھانے کا لطف نہیں آتا..

روحی نے بھی اسکی طرف بغیر دیکھے بولا تھا..جوکے حسن کو ٹوک رہی تھی کیونکے سب لوگ باتیں کر رہے تھے کافی دیر سے حسن ہی خاموش بیٹھا تھا..

****

وصی کیا ضرورت تھی روحی کو انوائٹ کرنے کی

سائرہ نے اسے غصے سے گھورتے ہوے بولا..

مما کیا ہوگیا ہے آپکو

وو ہماری کزن ہے اور اس گھر کی ہونے والی بہو بھی..

وصی نے بھی بدلتے لہجے میں بولا تھا..

کزن تک کی بات تو ٹھیک تھی یہ بہو کا بھوت کیوں سوار ہے تم پے کوئی بہو نہیں بن رہی میری وو.. اور یہ ہر وقت اس بات کی رٹ لگاۓ رہنا بند کرو.. وو لوگ اپنے گھر میں خوش ہیں اور ہم اپنے میں یہی کافی ہے مجھے مزید اپنے گھر میں کوئی جھمیلا  نہیں چاہیے..

سائرہ کا غصّہ مزید بڑھ گیا تھا

مما آپ اتنی خود غرض کیوں ہوتی جا رہی ہیں اور تائی امی کے دل میں تو آپ کے لیے کوئی میل نہیں دیکھا میں نے پھر آپ بھلا کیوں نہیں دیتی پرانی باتوں کو ہر گھر میں جھگڑے  ہوتے رہتے ہیں کسی غلط فہمی کی بنیاد پر آپ تو نہ جانے کہاں سے کہاں پہنچ گئیں ہیں.. ویسے بھی روحی اور حسن بھائی کا رشتہ بڑے ابا کی خواھش تھی جو کے ہم سب بھی اس خواہش کو پورا کرنے کے خواہاں  ہیں اسلیے آپ اپنی انا اور غصے کو اس سب میں نہ لائیں تو اچھا ہوگا..

وصی جذباتی ہوگیا تھا ایک ہی سانس میں سب بول اٹھا..

اور ہاں آپکی ناراضگی یا غصہ تائی امی کے ساتھ ہوگا لیکن اس میں روحی اور حسن بھائی کے رشتے پے کوئی اثر نہ ڈالیں بھلے ہی آپ کو وو اچھی لگے یا نہ لگے.. شادی ان دونوں کی ہونی ہے اور ہوکر رہیگی پاپا کی بھی یہی خواہش ہے....

وصی نے جیسے ہی بات ختم کی تو دروازے پے حسن کو کھڑا دیکھا جو کے انکی باتیں سن رہا تھا..

اوراگر میں کہوں کے میں ایسی کوئی خواہش نہیں رکھتا تو؟

حسن نے آخر بیچ میں بولا اور ایسا بولا جس کی توقع وصی کو بلکل بھی نہ تھی..

آپ کہنا کیا چاہتے ہیں؟

وصی نے چونکتے انداز میں پوچھا..

یہی کے میں روحی سے شادی نہیں کرونگا..

حسن نے اسکے دونو کاندھو پے ہاتھ رکھتے ہوے جواب دیا.. اور یہ میری اپنی زندگی ہے میں اپنی مرضی سے جینا چاہتا ہوں..

لیکن بھائی وو آپکی منگیتر ہے..

وصی کسی حسرت سے بول رہا تھا جیسے اسے حسن کی بات سن کر بہت بڑا جھٹکا لگ گیا تھا..

وصی آخر تم کیوں اس بات کو لیکر بیٹھ گئے ہو حسن نہیں چاہتا تو بس بات ختم نا؟ تم بھی ختم کرو اسے اب..

ایسے کیسے مما آپلوگ بات ختم کر رہے ہیں اتنے سالوں سے روحی کا نام حسن بھائی سے جڑا ہوا ہے سب لوگ جانتے ہیں اس بارے میں اور تائی امی بھی اسی انتظار میں ہیں کے کب آپ انکے گھر جاکر روحی کی شادی طے کرینگی.. روحی کے آنکھوں میں اور دل میں صرف بھائی بس چکے ہیں اور آپ کہ رہی ہیں بات ختم  ہوگئی عجیب لوگ ہو یار..

وصی غصے سے لال ہوچکا تھا اور تیز قدم لیتے ہوے کمرے سے باہر نکل گیا جبکے حسن اور سائرہ ایک دوسرے کو دیکھتے اسپے من ہی من شکوہ کرنے لگے..

****

امی تائی امی نے ایک بار بھی مجھسے بات نہیں کی حلانکے میں اتنے دن بعد وہاں گئی تھی..

روحی ماں کی گود میں سر رکھ کر اسے وہاں پے گزرے ایونٹ کا احوال دے رہی تھی..

تو وو کام میں مصروف ہونگی بیٹا اب تم کونسا دور کی مہمان تھی تمہارا تو اپنا ہی گھر ہے..

سائرہ کی ناراضگی اور غصہ بھی دیکھنا ایک دن ختم ہوجایگا جب حسن اور تمہاری شادی کا وقت ایگا...

مریم نے اسکے بال سہلاتے ہوے کہا..

لیکن امی مجھے تو ایسا لگتا ہے آنٹی مجھے پسند ہی نہیں کرتیں اور وو مجھے  کبھی اپنی بہو تسلیم نہیں کرینگی..

روحی کے چہرے پے مایوسی چھا گئی تھی..

مان لیگی ایک دن اور ویسے بھی شادی تمہاری حسن سے ہونی ہے سائرہ تائی سے تھوڑی.. اچھا مجھے یہ بتاؤ حسن کا رویہ کیسا تھا تمہارے ساتھ..

مریم اسے سمجھاتے ہوے حسن کا بھی پوچھ بیٹھی

وو تو بہت اچھے ہیں..

روحی نے فورن جواب دیا...حسن کا نام سن کر وو کسی گہری سوچ میں ڈوب گئی اب چہرے پے چمک سی آگئی اور وو اسکے ساتھ گزرے لمحے اور اسکے ہاتھ سے لیکر پانی کا گلاس یاد کر کے من ہی من اترانے لگی۔

دوستوں سے شیئر کریں

تبصرہ کریں