تیری چاہت ناول قسط آخری

 تیری چاہت

 

 

 

ناول

ناول

پروین

قسط12آخری

روحی کا اب پورا دن بے چینی سے گزرا تھا حسن کے جانے کے بعد وو پھوٹ پھوٹ کر روئی تھی... زندگی میں لگی چوٹیں انسان کبھی بھولتا تو نہیں لیکن وقت کے ساتھ ساتھ زخم دھند لے ضرور ہوجاتے ہیں روحی کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا تھا یوں اچانک  آج اسے وو گھاؤ پھر سے محسوس ہونے لگا تھا لیکن اب درد کی شدت اتنی نہ تھی جو کے پہلے وو سہ چکی تھی کیوں کے اس لمحے اسنے وصی جیسا بہت اچھا دوست گنوا دیا تھا لیکن اب خدا نے وہ اسے ہمسفر کی صورت میں نوازا تھا اگر وو نہ ہوتا تو شاید روحی بھی نہ ہوتی وو اب وصی کے ہر ایک احسان کو یاد کرنے لگی تھی

 نکاح کے دن سے لیکر اب تک میرا رویہ وصی کے ساتھ بہت برا رہا ہے لیکن اسنے ان سبکے با وجوو بھی مجھے اپنی آنکھوں پے بیٹھاے رکھا.. اسنے کوئی گناہ نہیں کیا تھا لیکن پھر بھی سزا کی صورت میں مجھے دل سے اپنایا وو چاہتا تو  بڑی آسانی سے وہاں سے نکل جاتا....  میری اتنی بے رخی اور بد تمیزی کے بعد تو اسے پورا حق تھا کے وو بھی بے رخی دکھاتا مجھے کبھی نہ اپناتا  .. لیکن اسنے پھر بھی میرا ساتھ نہ چھوڑا وو بولتا رہا کے اسنے میرے ساتھ کوئی دھوکہ نہیں کیا لیکن میں نے اسکا کوئی اعتبار نہ کیا... حسن نے میرا اعتبار نہ کیا اور میں اسے کوستی رہی.. لیکن  میں نے بھی تو وصی کے ساتھ وہی کیا نہ جو سبنے میرے ساتھ کیا مجہپے یقین نہ کر کے..   پر پھر بھی وو چپ چاپ سہتا رہا...وو اتنا اچھا ہے اور میں بہت بری ہوں پھر بھی وو میرے حصے میں آیا.. خدایا ضرور تیری نظر میں میری کوئی ایسی نیکی مقبول ہے جو مجھے وصی جیسا جیوں ساتھی دیا...  یا اللّه میں کس طرح تیرا شکر ادا کروں..  مجھے توفیق دے دے کے میں وصی کے ان احسانات کا بدلہ پیار سے چکا سکون میرے مولا میرے وجود کو اسے ہمیشہ کے لیے جوڑ دے میرے دل میں صرف اور صرف وصی کی محبت بھردے...

وو ہاتھ اٹھاۓ گڑ گڑا رہی تھی اسکے لیے اب وصی کا وجود کسی نعمت سے کم نہ تھا وو اللّه کے حضور جتنے سجدے کرتی کم تھا.. وو مصلے پے بیٹھی اللّه کے شکرانے ادا کر رہی تھی تبھی وصی آفیس سے واپس آیا

کیا بات ہے  خدا سے فرمائشیں بڑھ گئی ہیں یا پھر میری  شکایتیں لگائی جا رہی ہیں...

نہیں میں کوئی شکایت نہیں لگا رہی کسی کی بس اپنے گناہوں کی معافی مانگ رہی ہوں..

وو مصلے سے اٹھ کر اسے سمیٹنے لگی..

اچھا تو پھر مجھسے ڈائریکٹ معافی مانگو نہ خدا بھی معاف کردیگا

وو اپنے موزے اترارتے ہوے بولا اور واشروم چلا گیا وو ساکت کھڑی اسکی بات

بات کو سوچنے لگی

بول تو وو ٹھیک رہا ہے معافی تو مجھے اس سے بھی مانگنی چاہیے آخر اسے بہت برا بھلا بولتی جو آئی ھوں...

کیا بات ہے گم سم کیوں ہو خیریت تو ہے نہ؟

وصی نے اسکے سامنے ہاتھ ہلاتے ہوے بولا..

وصی آج حسن آیا تھا..

حسن بھائی یہاں آے تھے؟

وصی نے حیرت سے سانس روکی..

ہاں وو ہمیں لینے آے تھے

تم سچ بول رہی ہو؟ کیا کہا انہوں نے؟   ضرور مما نے بھیجا ہوگا میں نے کہا تھا نہ وو زیادہ دن غصہ نہیں رہ سکتی مجھسے.. اور بھائی کو بھی احساس ہوگیا ہوگا نہ کے میرا اور تمہارا کوئی قصور نہ تھا یہ سب ایک حادثہ تھا..

وصی کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ رہا تھا وو بوکھلا تے ہوے بول رہا تھا..

ہان انھیں یہ معلوم ہوچکا ہے کے اسدن ہم دونوں کی کوئی غلطی نہ تھی اور وو یہ بھی جان گئے ہیں کے سارا کھیل تائی نے رچایا ہے..

روحی نے اسے اگاہ کرتے ہوے بولا..

تم  پھر سے شروع ہوگئی...روحی خدا کے واسطے تم کب مما کی جان چھوڑوگی

وصی کا لہجہ بدلنے  لگا..

تم اب بھی میری بات کا یقین نہیں کر رہے حالانکے حسن نے خود یہاں اکر بولا ہے

نہیں میں نہیں مانتا اور آئیندہ تم بھی میری مما کے بارے میں کچھ نہیں بولوگی ورنہ مجھسے برا کوئی نہیں ہوگا سمجھی تم..

وو سخت لہجے میں بولتا ہوا باہر کو جانے لگا..

کہاں جا رہے ہو؟

روحی نے پیچھے سے آواز دی

 گھر جا رہا ہوں..حسن بھائی سے بات کرنے..

وو تیزی سے جاتے ہوے بغیر مڑے اسے جواب دیکر گاڑی کی طرف روانہ ہوا..

اور وو بے بسی کے ساتھ اسے جاتا ہوا دیکھنے لگی..

شام کا وقت تھا جیسے ہی وو گھر پر پہنچا تو باہر سناٹا چھایا تھا، ادھر ادھر دیکھتے ہوے کوئی نظر نہ آیا لیکن وہیں اسکے کانوں پے ایک شور سا بجنے لگا جو کے حسن اور سائرہ کی آواز تھی وو آہستہ آہستہ قدم لیتا ہوا دروازے تک پہنچا جہاں  دونوں آپس میں کسی بات پے بحث جاری تھی.. حسن بہت جذباتی لہجے میں بات کر رہا تھا اس سے پہلے وصی نے کبھی اس طرح حسن کو مما کے ساتھ بات کرتے نہ دیکھا تھا..

آخر کیا ملا مما یہ سب کر کے سب کچھ تو ہار گئی ہیں آپ گناہ کا ارادہ کرنا اور پھر اس میں مبتلا ہونا بہت آسان ہوتا ہے لیکن اسکے بعد اسکا انجام بہت برا ہوتا ہے.. آپ نے روحی کے ساتھ یہ کھیل رچانے سے پہلے ایک بار بھی نہ سوچا کے آپ خود بھی ایک بیٹی کی ماں ہیں خدا نہ خواستہ اگر کوئی ہماری حرا کے ساتھ ایسا کرتا تو کیا آپ برداشت کر پاتیں.. پھر کیوں اپنےاس کے ساتھ...

کیوں آپنے یہ شرمناک  حرکت کرکے روحی کو بدنام کیا..

حسن کا لہجہ تیز تھا..

وصی اسکی بات سن کر دروازے پر رک گیا اور اندر جانے کی ہمت نہ کی..

 ہاں میں مانتی هوں میں نے جو کیا وو غلط ہے لیکن میں کیا کرتی مجھسے وو روحی بلکل برداشت نہیں ہو رہی تھی میرے اندر مریم سے انتقام کی آگ لگی ہوئی تھی جس وجہ سے میں کبھی اسکی بیٹی کو بہو تسلیم کرنے کو تیار نا تھی..پہلے میں اس خوش فہمی میں تھی کے تم اسے کبھی اپنانے کو راضی نا ہوگے..لیکن جب تمنے اچانک اسے شادی کے لیے ہاں کردی تو نہ جانے میرے اندر کیسی آگ لگ گئی اور میں نے اسکا کردار مشکوک بنانے کو یہ سب کر ڈالا پر مجھے نہیں پتا تھا کے میرا وصی اس سب میں بری طرح پھنس جاۓگا

سائرہ  نظریں ادھر ادھر پھیرتے ہوے ندامت  سے بولی..

تو کیا فائدہ ہوا آپکو بہو تو وو اب بھی آپکی ہی بن  گئی ہے اور دیکھنا ایک دن وو اسی گھر میں آکر رہیگی...  آپ نے بہت کوشش کی اس نکاح کو روکنے کی، دونوں کو ایک دوسرے کے خلاف بہت بد ظن کیا، روحی کو ہر طرح سے وصی کے خلاف دل برداشتہ کیا لیکن کیا ہوا جیت تو پھر بھی روحی کی ہوئی نہ؟    آپ بری طرح سے ہار گئی ہیں مما آ پ کو اپنے بچوں کی خوشی اور عزت سے زیادہ اپنا یہ گھر اور اپنی انا  پیاری ہے تو پھر رہیے شوق سے یہاں پر.. لیکن میں اب آپکے ساتھ نہیں رہ سکتا

حسن بیگ اٹھاۓ باہر کی جانب بڑھنے لگا سائرہ اسے روکنے کو ہاتھ جوڑتے ہوے پیچھے پیچھے آئی تھی تبھی دونوں کے قدم رک سے گئے جب دروازے پے بت بنا وصی کو کھڑا دیکھا اسکی آنکھوں سے مسلسل آنسو ٹپک رہے تھے

آپ نے مما؟  یہ سب آپنے کیا؟ اسکا مطلب روحی سچ بول رہی تھی..

وو  کانپتے لبوں سے سوال کرنے لگا تھا اور حسرت سے ماں کو دیکھنے لگا غصے سے انکھیں لال ہوچکی تھی یقینن اگر ماں کی جگہ کوئی اور ہوتا تو وصی اب تک اسکا سر پھاڑ چکا ہوتا لیکن وو وہیں کھڑے تیز سانسیں لینے لگا جیسے اسکا غصہ اب آسمان کو چڑھ چکا تھا لیکن اسے باہر نکال نہ سکا اور وہی قدم واپس موڑتے  ہوے باہر کی جانب پلٹا اور تیزی سے گھر سے نکلنے لگا..

وصی رکو میری بات سنو وصی..

سائرہ نے پیچھے سے آواز  لگائی لیکن اسنے کوئی جواب نہ دیا..

حسن اسکے پیچھے بھاگتا ہوا چلا روکنے کو کیوں کے وو جانتا تھا وصی بہت جذباتی ہے وو کچھ کر نہ بیٹھے لیکن وصی نے پیچھے سے آتی ہوئی کسی بھی آواز کا جواب نہ دیا اور گاڑی کو سٹارٹ کرکے تیزی سے روانہ ہوا...

*****

رات ہوچکی تھی لیکن وو گھر واپس نہ آیا تھا روحی اسکے انتظار میں پریشان حال بیٹھی تھی اور بار بار نظرین دروازے کا رخ کر رہی تھی تبھی اسکے موبائل پے بیل بجی جسے رسیو کرتے ہی اسکے ہوش خطا ہوگئے اور فون ہاتھ سے گر گیا..

_______

وصی کا اکسیڈنٹ ہوا تھا اور وو  شدید زخمی ہوا تھا حسن اسے بر وقت ہوسپٹل لے گیا تھا جہاں سب گھروالے پہنچ چکے تھے پوری رات اسے ہوش نہ آیا  اسکا آپریشن چل رہا تھا ڈاکٹر نے اسکی حالت بہت سیریس بتائی تھی صبح تک کچھ بھی ہوسکتا تھا... جہاں سارے گھروالے پریشان اور بے حال تھے وہیں سائرہ بھی روتے ہوے اللّه سے اپنے بیٹے کی زندگی مانگ رہی تھی سب ایک دوسرے کو حوصلہ دے رہے تھے لیکن سائرہ اب دور کونے میں بے بسی کے ساتھ اکیلے یہ درد سہ رہی تھی حرا اور وسیم نے بھی سچائی جاننے  کے بعد اس سے منہ موڑ لیا تھا..

صبح کو اسے ہوش آیا تھا اور سبکی جان میں جان آئی وصی کی ہڈیوں میں کافی جگہ فریکچر ہوا تھا وو ٹھیک سے ہل نہیں پارہا تھا لیکن اب وو سبکی بات کا جواب سر ہلاتے ہوے ضرور دے رہا تھا... سائرہ بہت دیر سے باہر بیٹھی اداسی سے لوگوں کو آتا جاتا دیکھ رہی تھی آخر ہممت جتا کر وو اسکے کمرے میں داخل ہوئی جیسے ہی وصی نے اسکی طرف دیکھا حقارت سے چہرہ دوسری طرف موڑ دیا.. سائرہ کو اس سے یہی توقع تھی کے وصی اسے ناراض ہے ضرور بات نہیں کریگا لیکن پھر بھی وو اسے دیکھنے کے لیے رک گئی..وصی کی حالت خراب ہونے لگی جس کی وجہ سے اسکی ہرٹ بیٹ بڑھنے لگی اور وو تیز سانسیں لینے لگا روحی نے اسے ہاتھ سے پکڑ لیا اور چلانے لگی

 وصی کیا ہورہا ہے تمہیں وصی...

اسکی حالت دیکھ کر جیسے ہی حسن پیچھے دروازے کی جانب مڑا تو سائرہ وہاں کھڑی تھی اور اسے سمج آنے لگا کے وصی کی حالت ضرور اس وجہ سے خراب ہوئی ہے..

آپ چلیں مما پلیز باہر جایں دیکھیں آپکی وجہ سے اسے تکلیف ہورہی ہے..

حسن نے اسے باہر نکالتے ہوے بولا...

حسن میں ماں ہوں اسکی اور تم مجھے جانے کو بول رہے ہو...

سائرہ نے سوالیہ نگاہوں سے اسے دہائی دیتے ہوے بولا..

حسن اسکی بات کا جواب نہ دیتے ہوے باہر کی طرف دوڑ پڑا ڈاکٹر کو بلانے..

نہیں ہو تم کسی کی بھی ماں، تمہارا کوئی تعلق نہیں میرے بچوں سے.. تمہاری موجودگی سے وصی کو بے چینی ہورہی ہے، اور میں اپنے بچوں کو تکلیف میں نہیں دیکھنا چاہتا نکلو یہاں سے ورنہ میں تمہیں دھکے دیکر باہر نکالوں...وسیم نے سخت لہجے میں چلاتے ہوے بولا تھا

یہ کیا کر رہے ہیں آپ ایک تو مریض کی حالت اتنی نازک ہے اور آپ لوگوں نے جنگ خانہ بنا رکھا ہے پلیز آپ لوگ یہ بحث مباحثے گھر جا کر کیجیے

ڈاکٹر نے وصی کے پاس جاتے ہوے تنبیہ کے ساتھ بولا اور وسیم خاموش ہوگیا جب کے سائرہ باہر اکر بیٹھ گئی

وصی اب کچھ دن کے بعد صحتیاب ہو کر گھر کو اگیا تھا جتنے دن وو ہسپتال  میں تھا سائرہ سے ایک دفعہ بھی بات نہ کی تھی جب بھی وو کمرے میں آتی وصی سختی سے حسن کو بول دیتا کے وو اسے باہر لے جاۓ اس طرح سائرہ سے سبنے قطع تعلق کر دیا تھا وو گھر میں اکیلی رہ گئی تھی وسیم حرا کو لیکر وصی کے ساتھ اسکے بنگلو پے رہنے اگیا تھا حسن بھی اسی کے ساتھ رہ رہا تھا

حسن اور روحی اسکا خوش دلی سے ہر طرح سے خیال رکھ رہے تھے گھر کے کام کاج حرا اور مریم نے سنبھال رکھے تھے... وو آہستہ آہستہ پوری طرح سے ٹھیک ہوگیا تھا چل پھر رہا تھا لیکن اب ہر وقت غمزدہ اور بے رونق  سا رہنے لگا تھا اسکے چہرے پے کوئی خوشی اور کوئی ہنسی نہ تھی..

وو گم سم سا ٹی وی پے نظر ٹکاے جانے کن خیالات میں گم تھا

وصی تمہارا فون بج رہا ہے اٹھا کیوں نہیں رہے..

کافی دیر سے اسکی بیل سننے کے بعد روحی نے واشروم سے باہر اکر بولا..

ہاں دیکھو ذرا کس کا ہے..

وصی جیسے اچانک ہوش میں آتے ہوے بولا....

روحی نے اسکی بے دھیانی پے گھورا اور فون ہاتھ میں لیکر دیکھنے لگی

کوئی نیا نمبر ہے اٹینڈ کرکے دیکھو..

روحی نے فون آگے کرتے ہوے بولا..

ہیلو... کون ؟

وصی میں مما بات کر رہی هوں کیسے ہو میرا بچہ..

اگلی لائن سے سائرہ بات کر رہی تھی جو کے اب درد بھرے انداز میں پوچھنے لگی..

وصی اسکی آواز سن کر ہی کسی کرب میں چلا گیا اور فون صوفے  پے رکھ دیا..

روحی آیندہ کوئی بھی رانگ نمبر آئے تو فون مجھے مت دیا کرو..

وو بے رخی کے ساتھ بولتے ہوے ٹی وی کو دیکھنے لگا لیکن دل میں اب بھی کرب سا اٹھ گیا تھا اور روحی نے بڑھ کر موبائل اٹھایا جو کے کال ڈسکونیکٹ نہ تھی.. وصی کی بات سائرہ نے سن لی تھی اور وو فون رکھ کر پھوٹ پھوٹ کے رونے لگی اور اپنی بے بسی پے اکیلے ہی ماتم کرنے لگی کیوں کے اسکے گھر میں وو اب اکیلی ہی رہ گئی تھی...

****

 شام کے وقت سب لوگ ڈرائنگ روم میں آرام سے چاۓ پی رہے تھے تبھی وسیم وہاں پریشانی میں اکر کھڑا ہوا..

 گاؤں میں کوئی ایمر جنسی ہوگئی ہے ہمیں وہاں چلنا ہوگا..

خیریت تو ہے پاپا کیا ہوا ہے اماں تو ٹھیک ہے نہ ؟.حسن نے اٹھ کر اسکے قریب جاتے پوچھا..

ہان وو ٹھیک ہیں لیکن ہم سب کو وہاں بلایا ہے وسیم نے ایک نظر روحی اور وصی کو دیکھ کر بولا.

ٹھیک ہے آپ لوگ ہو آئیں..

وصی نے چاۓ کا کپ نیچے رکھتے ہوے بولا..

کیا مطلب ہو آ ئیں تم نہیں چل رہے کیا..؟

میں کیسے چل سکتا ہوں پاپا آپ بھول گئے ہیں کیا روحی اور میں خاندان سے لا تعلق کے گئے تھے اور اب ہم کسی بھی ایونٹ پر شامل نہیں ہو سکتے...وصی نے نم آنکھوں سے اسے یاد دہانی کرائی..

ہان مجھ اچھی طرح سے یاد ہے لیکن اس بار اماں نے تم لوگوں کو خاص طور پر آنے کو بولا ہے..

اسکی بات سن کر روحی اور وصی ایک دوسرے کو حیرت سے دیکھنے لگے...

****

وہاں جاکر علم ہوا کے سائرہ نے سبکے سامنے اپنی غلطی مان کر امان سے وصی کی ناراضگی دور کرنے کی درخواست کی ہے..

دیکھو میرے بچوں میں جانتی ہوں غلطی ہر کسی سے ہوجاتی ہے زندگی کے کسی نہ کسی موڑ پر وو گمراہ ضرور ہوجاتا ہے  اور انسان کی یہی فطرت ہے اور ایسے میں اگر اسے اپنی غلطی کا احساس ہوجاۓ تو  ہمارا فرض بنتا ہے ہم اسے ایک موقع ضرور دیں.. سائرہ نے غلطی نہیں بلکے گناہ کیا ہے اور اسنے بھری محفل میں یہ گناہ قبول کرتے ہوے اپنے لیے سزا کا مطالبہ کیا ہے لیکن میں چاہتی ہوں اس بار اسکا فیصلہ میں نہیں بلکے وو کرے جسکی سائرہ گناہگار ہے..

اماں نے روحی کی طرف اشارہ کرتے ہوے بولا...

تمہارے ساتھ بہت زیادتی ہوئی تھی روحی اگر اس وقت وصی بڑھ کر تمہارا ہاتھ نہ  تھامتا تو نہ جانے تم آج کس مصیبت میں ہوتی اور پھر میں خود کو کبھی معاف نہ کر پاتی..

اماں نے احساس ندامت کے ساتھ یہ بولا تھا...

سب لوگ خاموشی سے اسکی بات سن رہے تھے اور ایک نظر سائرہ کو دیکھ رہے تھے جس کی حالت سے پتا چل رہا تھا وو بہت دنوں سے بے چین ہے جیسے اسکا سب کچھ لٹ چکا ہو اور وو واقعی میں شرمندہ لگ رہی تھی..

سائرہ نے بڑھ کر روحی کے آگے ہاتھ جوڑے تھے اور سر جھکاۓ سواۓ آنسو بہانے کے کچھ بول نہ پائی تھی..

پلیز آپ یہ سب نہ کریں

روحی نے اسکے ہاتھ تھام لیے اسکی حالت پے سبکو ترس آنے لگا اماں نے بڑھ کر وصی کا ہاتھ تھام کر اسکے قریب کیا اور اسے معاف کرنے کی التجا کی وسیم نے بھی

وصی کو ماں کی غلطی معاف کرنے کی حمایت کی اور وصی جو اب تک ماں سے بلکل بھی لا تعلق ہوچکا تھا اسکے جوڑے ہوے ہاتھوں کو  تھامتے ہوے گلے لگ گیا.. سائرہ کے کلیجے کو جیسے ٹھنڈک  پڑ گئی اور وو آہیں بھرتی ہوئی رونے لگی تھی...اسوقت ہر کسی کی آنکہ نم ہوگئی تھی اور ایسے موقے پے اماں نے انکا دھیان اپنی طرف کرتے ہوے اعلان کیا...

اچھا اب یہ رونا دھونا چھوڑو اور تیاری پکڑ لو سب..

کیسی تیاری ؟

سب ایک دوسرے کو حیرت سے دیکھنے لگے..

ارے بھائی سائرہ کی خواہش ہے کے جب روحی اور وصی اسکے ساتھ ناراضگی ختم کرلیں تو وو اسے ایسے گھر نہیں لے جاۓگی بلکے دھام دھوم کے ساتھ اور با قاعدہ شادی کی رسومات کرتے ہوے وو روحی کو اپنی بہو بنا کر گھر میں لے جاۓگی

اسکی یہ بات سن سبکے ہونٹوں پے مسکان سج گئی وصی نے چمکتی  آنکھوں کے ساتھ جب روحی کو دیکھا تو وو سر جھکاۓ مسکرا رہی تھی اور وو اسے دیکھتا رہ گیا...

*****

لال لہنگے میں ملبوس دلہن بنے وو صوفہ پر بیٹھی کمرے کو ادھر ادھر دیکھ رہی تھی وصی کے اتے ہی اسنے نظریں جھکا دی..

 یہ کیا تم یہاں کیا کر رہی ہو؟

وصی نے چونکتے ہوے پوچھا اور اسکے پاس بیٹھ گیا

آج بھی کیا تم صوفہ پے سونے والی ہو..

وصی نے ٹیک لگاتے ہوے پوچھا..

ہاں کیوں اس میں حیرانی کی کیا بات ہے ہمیشہ تو صوفہ پر ہی سوتی آئی ہوں..

روحی نے  چوڑیوں کو گھماتے ہوے ہونٹ دباتے  بولا..

ہاں میڈم لیکن آج آپ کے بغیر میں اکیلے نہیں سونے والا..

روز تو تم سوتے ہو..

روز کی بات الگ ہے آج کے بعد تمہارے پاس پاس ہی رہونگا..

وصی نے اسکا ہاتھ پکڑتے ہوے اپنی طرف کھینچا..

وصی کیا کر رہے ہو..

وو سٹ پٹائی

ویسے تم واقعی میں اتنی خوبصورت ہو کیا؟ آج تم اتنی اچھی کیوں لگ رہی ہو مجھے؟

وصی نے اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر پوچھا..

کیوں کے تمنے پہلے کبھی مجھے بیوی کی نظر سے نہیں دیکھا..

اسنے شرماتے ہوے گردن جھکاتے بولا...

وصی نے اسکے ہاتھوں پے اپنی گرفت مضبوط کی

کیا کر رہے ہو وصی ٹوٹ جاینگی

روحی نے ہاتھ جھٹکتے ہوے خفگی کے ساتھ بولا اور اٹھ کھڑی ہوئی..

تو کیا ہوجاۓ گا یار نئی دلادونگا تم موڈ خراب مت کرو...

وصی بولتے ہی تھوڑا سا خاموش ہوگیا اور اٹھ کر روحی کو اپنی طرف کھینچا جو کے بے دھیانی کے ساتھ پوری اسکی طرف کھنچ گئی وصی نے اسے کمر سے پکڑتے ہوے اپنے قریبکرنے لگا اب روحی نے کوئی مخالفت نہیں کی تھی وو اس کے رنگ میں بلکل رنگ چکی تھی وصی کو اپنے اتنا قریب محسوس کرتے ہوے اسکی سانسیں تیز ہونے لگی تھی اور یہی حال وصی کا بھی تھا.. دیکھتے ہی دیکھتے اسنے روحی کو اپنے سینے سے لگا لیا اور روحی بھی اسکی آغوش میں لپٹ کر دنیا کو بھول چکی اور یہ رات  دونوں کو ایک یادگار رات بن گئی..

ختم شد

دوستوں سے شیئر کریں

تبصرہ کریں