تیری چاھت ناول قسط نمبر 1

تیری چاہت

 

 

 

اردوناول

ناول

 

 

 

 

 

 

 

 

 مصنف پروین ✍️

قسط نمبر  1

سنو۔۔ اوپر چلو چھت پی چلتے ہیں۔ ۔۔

اسنے کان میں سرگوشی کرتے ہے کہا۔ ۔۔

وو تھوڑا شرمائی۔۔ اور حسن سے دور جاکر بیٹھ گئی۔ ۔۔

شادی کا ماحول تھا پورا ھال مہمانون سے بھرا تھا کچھ عورتیں کچن میں تو کچھ کپڑے سیٹ کرنے میں لگی تھیں۔ ۔۔

چلور اب یہ شرمانا بند  کرو مجہے تمسے بات کرنی ہے ابھی۔۔ حسن پھر سے اسکے قریب اکر بیٹھ گیا اور اس بار ہاتھ پکڑ لیا

تم چل رہی ھو یا میں اٹھا کر لے چلوں۔۔ حسن نے شرارت بھرے لہجے میں بولا

نہیں نہیں آپ پاگل ہوگے ہیں کیا۔۔ وو بوکھلا کر بولی

تو پھر چلو  شوہر کا احترام کرنا سیکھو اور چلو پلیز وو مسکراتے ہوے بولا

لیکن ای سی کیا بات ہے جو یہاں نہیں ہوسکتی اور کیا ابھی ضروری ہے،آپ دیکھ نہیں رہے  آپا  کی شادی ہے بہت سارا کام پڑا  ہے

میں فا رغ  ہوکر آ جاؤنگی نہ اسنے معزر ت کرتے ہے کہا

حسن نے بغیر  وقت ضا یع کے اس کا ہاتھ پکڑا اور  اسے اپنے باہون مین اٹھا لیا اور کسی کی پرواہ نا کرتے ہوے اسے گود میں اٹھا ئے سیڑھیوں کی طرف اپنے کمرے کی جانب بڑھنے لگا

روحی.. روحی..

اچانک سے اسکے کانوں میں آواز گونجنے  لگی اور وو بیدار ہوگئی..

اہ امی ابھی ابھی تو سوئی تھی پھر سے نیند خراب کردی اپ نے..

وو بکھرے بال سمیٹ تے ہوے خفغی سے بولی تھی..

اچھا میڈم کل رات سے سو ہوئی تھیں آپ اور کب سے تمہارا فون بج رہا ہے یونیورسٹی نہیں جانا کیا..

مریم نے چادر سمیٹ تے ہوے اسپے ٹوکا..

ہاں لیکن کم سے کم کچھ دیر تو نہ جگاتی.. 5 منٹ بعد میں اٹھانے آ جاتی ابھی تو خواب شروع ہی ہوا تھا دیکھ تو لیتی وو کیا بولتا..

وو اٹھی اور دوپٹہ گلے میں ڈالتے ہوے بڑ بڑاتے بولی..

بھئی ایسا کونسا حسین خواب تھا جو میں نے پورا نہیں ہونے دیا..

مریم اسے دیکھتے ہوے بولی..

اور روحی ایک پل کو خواب یاد کرکے شرما سی گئی..

آپ چلیے ناشتہ لگایں میں آ رہی ہوں جلدی.. وو خود کو سنبھالتے ہوے واشروم کی طرف روانہ ہوئی...

*****

تم زندہ تو ہو نہ یا ہوگئی اللّه کو پیاری..

ارم نے اسے جھنجھوڑتے ہوے کہا جب وو ایک ہی طرف کافی دیر سے نظر جماے بیٹھی تھی..

اللّه نہ کرے اور وو بھی اس عمر میں..

روحی نے ارم کو جواب دے کر اپنی کتاب پھر سے کھولی..

کیوں اس عمر میں کوئی اللّه کو پیارا ہوکر اسکے پاس نہیں جاسکتا اور زندگی کا کیا بھروسہ کبھی بھی ساتھ چھوڑ دے..

ارم نے پھر سے بات جاری کی..

نہیں یار ارم کم سے کم میرے سامنے تو ایسی باتیں مت کرو.. مجھے ابھی نہیں مرنا میں نے تو کھل کر زندگی کا مزہ بھی نہیں لیا..ابھی تو مجھے بہت کچھ کرنا ہے

روحی سنجیدگی سے بولنے لگی..

اچھا ویسے کیا کیاخواب دیکھ رکھے ہیں کیا مقاصد ہیں جناب اعلی کے..

ارم اب اپنے ہاتھ گال پے لگاۓ اسے تک رہی تھی..

خواب... کا لفظ سن کر اسے نیند میں دیکھا ہوا خواب یاد اگیا اور وو شرم سے پانی ہونے لگی.. من ہی من وو یاد کرتے ہونٹ بھینچ لیتی اور مسکرا لیتی..

اف اللّه پھر سے کہاں پے کھوگئی... ارم نے اسکے آگے ہاتھ ہلاتے ہوے بولا..

سنو ارم ہم خواب کیوں دیکھتے ہیں؟

روحی نے سوچتے ہوے انداز سے پوچھا..

آئ ڈونٹ نو یار.. ہم دونوں میتھ میں ماسٹرس کر رہی ہیں اب بیچ میں برین ایکٹیویٹی کہاں سے آگئی..

ارم نے اسکے اچانک سوال پوچھنے پر مذاق اڑایا..

میں نے سنا ہے جب کوئی ایک دوسرے کے بارے میں زیادہ سوچتا ہے تو ایک دوسرے کو خواب میں بھی وہی نظر آتا ہے..

روحی پھر سے کسی گہری سوچ میں جاکر ایسا بولنے لگی تھی..

کیا وو بھی میرے بارے میں سوچتا ہوگا..

روحی حسرت سے کہنے لگی اور دل ہی دل میں خود کو مطمئن کرنے لگی تھی..

ارے تو یہ بولو جناب نے حسن کو خواب میں دیکھا ہے..

ارم کا اندازہ سہی لگا اور روحی مسکرا کر شرمانے  لگی..

توکیا خواب میں پرپوز  کیا اسنے یا پھر تمنے ؟

نہیں پرپوز تو نہیں کیا.. روحی نظر جھکا کر بولی..

تو اسکا مطلب تمنے خواب میں اپنی اور حسن کی شادی  ہوتے ہوے دیکھ لی..

ارم اندازے لگا رہی تھی اور روحی تردید کرتی جاتی..

ارے تو پھر جلدی بتاؤ نہ آخر خواب میں دیکھا کیا؟

ارم نے آنکھیں ٹکا کر اس سے پوچھا..

______

چھوڑو بھی یار اب یہ بات ضروری تو نہیں جسے لیکر تم بیٹھ گئی ہو چلو اب کافی دیر ہوگئی ہے..

اسنے کتابیں اٹھائی اور پرس زپ کرتے ہوے اٹھ کھڑی ہوئی..

*****

واہ مزہ اگیا... ساری میری پسند کی چیزیں بنی ہیں.. زباں ترس گئی تھیں آپکے ہاتھ کا بنا کھانا کھانے کو..

اسنے انگلی چاٹ تے ہوے  بولا..

بہت مس کیا ہوگا نہ وہاں پے یہ سب..

سائرہ نے اسے پیار بھری نظروں سے دیکھتے ہوے کسی حسرت سے بولا..

رئیلی مما اپ سب کو بہت یاد کیا میں نے.. وصی نے ماں کا ہاتھ چومتے ہوے بولا..

دیکھا وقت کیسے گزر گیا پتا ہی نہیں چلا ابھی جیسے کل کی بات ہے جب تم کینیڈا جارہے تھے اور آج ماشاء اللّه سے اپنی ڈگری مکمل بھی کرلی..

وسیم احمد نے اسکے پیٹھ پر فخریہ انداز سے ہاتھ پھیرتے کہا..

اور وصی نے خوش اخلاقی سے سر جھکاتے ھوۓ تعظیم کی..

اچھا بتاؤ رات کو کھانے میں کیا کھاؤگے تم..

سائرہ نے وصی سے پوچھا..

مما آج تو آپکو وصی کے سوا کچھ نظر ہی نہیں آرہا.. بھئی ہم بھی یہاں موجود ہیں کوئی ہمسے تو مخاطب ہی نہیں ہوتا بس اب لاڈلا بیٹا اگیا اور ہم آوؤٹ ہوگئے کل سے  اسی اسی کی پسندیدہ چیزیں بن رہی ہیں بڑا سایا چڑھ گیا ہے مما پے.. اب تو مجھسے چا ے پانی  کا بھی نہیں پوچھا جارہا..

حسن نے سب کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہوے مسکراتے ھوۓ کہا...اور ساتھ ہی گلاس میں جوس لینے لگا

ارے حسن بھائی اتنے سالوں سے تو مما کا لاڈ پیار لیتے آے ہیں اب اگر میرے حصّے کا مجھے مل رہا ہے تو آپ کو جلن ہو رہی ہے..ویسے آپ کو پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے اگر یہاں پے کوئی کمی بیشی  ہوجاۓ تو چلے جایں نہ تائی امی کے گھر وہاں خوب خدمت چاکر ی ہوگی آپکی..

وصی نے شرارتی انداز میں کہتے ہوے اسے چھیڑا تھا..

حسن نے ایک نگاہ سے اسے دیکھا اور کوئی جواب نہ دیا..

اچھا ویسے مما رات کا کھانا آپ نہ بناۓ گا آج شام میں تائی امی کے گھر جا رہا ہوں ڈنر وہیں پے کر لونگا..

وصی کی بات سن کر سب گھروالے ایک دوسرے کو دیکھنے لگے جیسے سب کو یہ بات کھٹکنے  لگی تھی..

کیوں وہاں کوئی فنکشن  ہے یا پھر تمہارے لیے خاص دعوت کا اہتمام  کیا گیا ہے..؟

سائرہ نے طنزیہ  بولا..

ارے نہیں مما کوئی دعوت نہیں ہے میں نے خود ہی ڈ سا ئید کر لیا ہے وہاں جاکر مل لوں آخر انھیں بھی تو سالوں بعد دیکھونگا اب ظاہر ہے کھانا کھا ے بغیر وو مجھے جانے تو نہیں دینگے نا...

وصی کی آنکھوں میں چمک آگئی تھی...

اگر اتنی ہی فکر ہوتی تو وو تمسے ملنے ضرور آتی 4 سال بعد واپس آے ہو تم..

سائرہ کے لہجے میں طنز بھرا تھا جیسے اسے یہ بات گنوارہ نہ تھی کے وصی اس طرح تائی کے گھر جائے..

ہاں وصی اگر کوئی تمہیں واقعی میں یاد کر رہا ہوگا یا پھر تمہیں دیکھنے کی چاہ ہوتی تو ملنے کے لیے یہاں ضرور آجاتے اسلیے تمہیں کہیں جانے کی ضرورت نہیں ہے..

حسن نے ماں کی بات کو لقمہ دیا تھا اور اسکا اشارہ بھی اپنی تائی کی طرف ہی تھا وو سنجیدگی سے بول رہا تھا..

ارے یار اب اگر وو صرف میری تائی ہوتی تو بات کچھ اور تھی لیکن وو تو آپکا سسرال  بھی ہے اب انسے اس طرح کا بھید بھاؤ کم سے کم آپ تو نہ رکھیں آفٹر آل وو آپکی ہونے والی ساس جو ٹھہریں..

وصی نے دھیمے لہجے میں بول کر شانے اچکاتے ہوے اسے چھیڑا تھا..

شٹ اپ وصی کوئی سسرال نہیں ہے میرا اور میری کوئی ساس واس نہیں ہے.. تمہیں جہاں جانا ہے جاؤ لیکن  کسی سے میری نسبت  بنانے کی کوئی ضرورت نہی ہے.. سمجھے.. حسن نے اسے انگلی دکھاتے ہوے دھیمے لہجے میں ڈانٹا تھا...

ہاں ہاں پتا ہے چھپ کے سے وہاں ملنے بھی جاتے ہوگے اور اب میرے سامنے شریف بننے کی اداکاری ہورہی ہے...

وصی کو جیسے حسن کی ڈانٹ کاکچھ اثر نہ ہوا ہو وو پھر سے دھیمے لہجے میں شرارت سے چھیڑ  کھانی کرنے لگا اور حسن کا مزاج زیادہ تر سنجیدہ ہوتا گیا وو وہاں سے اٹھ کر چلا گیا...  دونوں کی گفتگو پاس بیٹھی سائرہ تو سن سکتی تھی لیکن وسیم کے کانوں کو خبر نہ ہونے دی..

*****

روحی بیٹا ذرا یہاں آوو دیکھو گرینڈر کیوں نہیں چل رہا آکر سیٹ کر لو..

مریم نے کچن سے کھڑے ہوکر آواز لگائی..

جی امی آ رہی ہوں..

روحی نے آتے ہوے آواز دی..

میں سیٹ کر دوں تائی امی..

وو گراانڈر جار کو کھولنے میں الجھی ہوئی تھی تبھی کانوں میں ایک آواز گونجی  اور فورن سر اٹھا کر سامنے دیکھا تو کوئی اور نہیں بلکے بھوری رنگت سیاہ  آنکھوں اور دراز قد والا  وصی بلیک سلوار قمیض میں ملبوس کھڑا تھا..

اسکے پیچھے روحی بھی کچن میں پہنچ گئی تھی چہرا مریم کی طرف ہونے کے بائث وو بھی وہی سے گھور رہی تھی اور اب اس سوچ میں تھی آخر یہ کون ہے جو سیدھا کچن میں آگیا اسکی سوالوں کا جواب ملنے میں دیر نہ لگی تھی جب مریم نے وصی کو گلے لگاتے ہوے ہی اسے پکارا ارے میرا بچا وصی آیا ہے..  ماشاء اللّه... کافی دن بعد آے ہو کیسے ہو اور کب آے تم..بتایا بھی نہیں

مریم اسے دیکھ کر خوش ہوئی تھی..

چلو آو بیٹھو تو سہی مریم نے اگے کی طرف چلنے کا اشارہ کرتے ہوے کہا جیسے ہی وو پیچھے کی طرف مڑا تو سامنے روحی کھڑی تھی..

السلام علیکم

روحی نے اسے خوش اخلاقی سے سلام کیا..

وعلیکم السلام.. کیسی ہو روحی..

وو بھی مسکرا کر مخاطب ہوا

میں بلکل ٹھیک تم کیسے ہو اور تم اچانک پاکستان آگۓ،؟

روحی نے حیرت سے پوچھا

کیا مطلب اچانک آگیا اپنی پڑھائی مکمل کرکے آیا ہوں میڈم..

ماشاءاللّه .. اللّه تمہیں ہر طرح سے کامیابی نصیب کرے..

مریم نے پیار کرتے ہوے بولا وو تینوں اب باتیں کرتے ہوے لاؤنج  میں بیٹھ گئے تھے..

اچھا وصی تم دونو باتیں کرو میں ذرا ملازمہ  کو کھانے کا کام سمجھا کر آتی ہوں..

مریم وہاں سے اٹھ کر کچن کی طرف روانہ ہوئی ..

اور سناؤ روحی تمہاری پڑھائی ابھی کہاں تک پہنچی..

وصی نے گفتگو بڑھاتے ہوے کہا..

ماسٹرس چل رہی ہے میری اپلائید میتھ میں..

ہمم گوڈ..

وصی نے سر ہلاتے ہوے سراہا..

گھر پے سب کیسے ہیں..؟

روحی یہ سوال پوچھتے وقت تھوڑا ہچکچائی  تھی.. وصی خوب سمجھ چکا تھا اسکے اس ہچکچاہٹ کے پیچھے چھپی وجہ...

واقعی میں سب کا پوچھنا ہے یا پھر کسی ایک کا بتاوں..

وصی نے آنکھ ٹکا کر شرارتی  انداز سے پوچھا..

کیا مطلب ایک کا.. میں سبھی کا پوچھ رہی ہوں..

وو گھبراہٹ سے بولنے لگی..

ارے ہاں ہاں سب ٹھیک ہیں..

 وو بول کر خا موش ہوگیا..  ویسے حسن بھائی بھی ٹھیک ہیں

کچھ پل ٹھہر کے بولا اور دھیمے سے بولا جیسے وو روحی ک جذبات سے خوب واقف تھا..

حسن کا نام سن کر روحی کے چہرے پے چمک سی آگئی ہونٹوں پے مسکان بکھرنے  لگی اور وو سر جھکا گئی

دوستوں سے شیئر کریں

تبصرہ کریں