تبدیلی کیسے ممکن ہے

تبدیلی  کیسے ممکن ہے  اسماء طارق گجرات

عمران خان

تبدیلی

 

آج کل لوگوں پر تبدیلی کا کچھ ایسا نشا چرا ہو ہے کہ ان سے کچھ بھی بات کریں تو وہ صرف یہی جواب دیتے ہیں تبدیلی آ گئی ہے، ابھی کچھ دن پہلے کی بات ہے کہ جنریٹر بہت گندا ہو رہا تو میں نے آنکل سے کہا کہ اس کے اوپر والا کور لے آئیے گا تو وہ کہنے لگے، عمران آ گیا ہے سب ٹھیک کر دے گا ۔ اب جنریٹر کی ضرورت نہیں پڑے گی  یہ سب سن کر میرا سر پکڑ نے کو دل چاہ رہا تھا کہ عمران خان کے پاس کوئی جادو کی چھڑی ہے جو وہ آتے ہی سب ٹھیک کر دے گا کہ وہ چھڑی گھماے گا اور پورے پاکستان نیا بن جائے گا اور سب کچھ بدل جائے گا  مگر لوگوں کی باتیں سن کر  تو یہی لگتا ہے ۔ جس سے بات کی جائے تو وہ یہی کہتا ہے تبدلی آ گئی ہے یا کیا ہو گیا ہے نیا پاکستان ہے عمران خان سب ٹھیک کر دے گا ۔

بھئی صحیح ہے کہ عمران خان آگیا ہے اور وہ کچھ کرنا بهی چاہتا ہے  اور اس کے لیے وہ پر عزم بهی ہے مگر پہلے اسے حکومت تو بنا لینے دیں اور دوسرا آپ ٹھنڈے دماغ کے ساتھ سوچیے کہ وہ مسائل جن کو پروان چڑھے ہوئے عرصہ لگا  ہو وہ چٹکیوں میں کیسے  ٹھیک ہو سکتے ہیں اس میں وقت لگے گا  اور کافی وقت لگے گا۔ ایک مشہور کہاوت بهی ہے  کہ چیزیں بگاڑنے میں تو پل لگتا اور صحیح کرنے میں عرصہ چاہیے ہوتا ۔ جن خرابیوں تو پھلنے پھولنے میں سالوں لگے ہوں وہ فوراً کیسے صحیح ہو سکتی ہیں  ،اس کے لیے وقت چاہیے اور وقت کے ساتھ ساتھ ہمارا تعاون بهی چاہیے .ہم عجیب لوگ ہیں چاہتے ہیں کہ ہمارے حکمران دیانت دار ہو مگر خود ہیرپھیر کرنے سے بعض نہیں آتے ، چاہتے کہ ہمارے حکمران کرپشن سے پاک ہوں اور خود ٹیکس ادا نہیں کرتے۔ چاہتے ہیں کہ ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہو اور خود اپنا کام پورا نہیں کرتے ہیں ۔چاہتے ہیں کہ کہیں ٹریفک جام نہ ہو مگر خود ٹریفک قوانین کا پالن نہیں کرتے ۔

چاہتے ہیں کہ  ملک میں سب کو مساوی حقوق ملیں مگر خود جہاں موقع ملتا ہے تفریق کے عمل سے بعض نہیں آتے. چاہتے ہیں کہ ملک ساتھ ستھرا ہو امریکہ اور یورپ کی طرح، مگر خود اپنے گھر کا باہر گلیوں اور سڑکوں پر پھینکتے ہیں .سب سے پہلے یہ کہ ہم یہ تو چاہتے ہیں کہ ملک میں قانون نافذ ہو مگر خود کسی قانون  پر عمل نہیں  کرتے ،حکومتیں  چاہے جتنی مرضی بدل جائے اگر عوام  نہ اپنا رویہ بدلے کچھ نہیں بدلتا ہے اور حکومت چاہے کتنی ایمانداری سے کام کرے مگر اگر عوام  اپنی  ذمہ داری پوری نہیں کرتی تو حکومت کچھ نہیں کر سکتی ہے۔اچھی بات ہے کہ عوام تبدیلی چاہتی ہے  مگر عوام کو یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ یہ تبدیلی وقت لے سکتی ہے اور یہ  تبدیلی ہمارے تعاون کے بغیر ممکن نہیں ، کچھ لوگ تو یہ تک کہتے ہیں کہ اگر عمران خان نے کچھ نہ کیا تو اسے چھوڑیں گے نہیں، انہیں اس بات کو مدنظر رکھنا ہوگا کہ اگر عمران تندہی سے کام کرے بھی تو ، سو فیصد تبدیلی نہیں آ سکتی ہے ہو  سکتا ہے کہ چیزیں پانچ دس فیصد ٹھیک ہو جائیں مگر سو  فیصد ممکن نہیں ہیں اس لیے سب کچھ تبدیلی کے ہاتھ مت چھوڑیں اپنی ذمہ داری خود سمجھیں اور اس کو پورا کرنے کی کوشش کریں  ۔

ہمیں پاکستان تو نیا چاہیے مگر اگر رویے وہی پرانے رہے تو  کچھ بھی نہیں نیا  ہو گا ۔ بخثیت قوم ہمیں اپنے رویوں کو بدلنے کی ضرورت ہے ہمیں اپنے معاملات صحیح کرنے کی ضرورت ہے اور یہ کام کسی حکومت نے نہیں کرنا، ہم نے کرنا ہے۔ اگر ہمیں  کرپشن کا صفایا کرنا ہے تو انٹی کرپشن  کی گھٹی ہم   سب کو  پینی ہوگی ، ہمیں اپنے معاملات کو صاف شفاف کرنا ہوگا جب تک ہر فرد اپنے حصے کا کردار ادا نہیں کرے گا بہتری ممکن نہیں .ہم سب ملک سے تو ہر طرح کی کرپشن اور ہیرا پھیری  کا خاتمہ کرنا چاہتے ہیں مگر ہم خود چاہے دودھ سبزی یا سودا سلف بیچنے والے ہوں یا مشینری کا کاروبار کرنے والے یا وکیل ڈاکٹر ہوں ہم ہیرا پھیری سے بعض نہیں آتے ، ہم  کو جہاں موقع ملتا ہے ہم اس سے فائدہ ضرور اٹهاتے ہیں ، جب تک ہم اپنی اس عادت کو نہیں بدلتے ، تبدیلی نہیں ا سکتی ہے۔

 ہم چاہتے ہیں کہ ملک میں قانون نافذ ہو  مگر جو قانون بنے ہوئے ان پر ہم عمل پیرا نہیں ہوتے ، ٹریفک کے قانون پر تو ہم کبھی نہیں عمل  کرتے شاید ہی ہم میں سے کوئی ہو جو ٹریفک قوانین کو نہ توڑتا ہو ، جس سے آئے دن حادثے ہوتے رہتے ہیں اور ٹریفک بھی عموماً جام رہتا ہے ، ہر کوئی آگے نکلنے کی دھن میں ہوتا ہے ،  بےوجہ ہارن بجانا تو ہمارے پسندیدہ مشغلہ ہے اور ذرا سی بات پر ہم گالی گلوچ  اور لڑائی جھگڑے پر  اتر آتے ہیں  ، ہم کتنے بھی مہذب بننے کی کوشش کیوں نہ کرتے ہو یہاں ہمارا مہزب پن جواب دے جاتا ہے.

ایک  طرف تو ہم پاکستان کو صاف ستھرا بنانا چاہتے ہیں اور دوسری طرف جگہ جگہ کچرا پھیلا کر مزید گندا کرتے ہیں ، ہم کار میں ہو یا رکشے میں،  یا سائیکل میں اگر ہم ہمارے ہاتھ میں کوئی کاغذ  یا ریپر ہے تو ہم  اسے ضرور نیچے پھینکیں گے ، ہمارے تعلیمی ادارے اور ہسپتال سب سے زیادہ گندے ہوتے ہیں جنہیں سب سے زیادہ صاف ہونا چاہئے ، ہمارے پڑھا لکھا طبقہ بھی ان سرگرمیوں میں خاصا خاص شامل ہے ، ہم پارک میں جائیں یا کسی اور جگہ ہم گند ضرور ڈالتے ہیں  حالانکہ تھوڑے  فاصلے پر کچرادان رکها ہوتا ہے مگر ہم اس تک جانے کی زحمت نہیں کرتے اور وہی کها پی کر ریپر پھینک دیتے ہیں اور یہاں تک جگہ جگہ تهوکنے کا عمل بھی کثرت سے کرتے ہیں یہ جانتے ہوئے بھی کہ اس سے کتنے جراثیم پھیل سکتے ہیں اب چاہے وہ تعلیم یافتہ طبقہ ہو یا غیر تعلیم یافتہ

 باخثیت قوم ہم بہت  سی اختلاقی  برائیوں کا شکار ہیں جو ہماری سالمیت کے لئے خطرناک ہیں  اور ہماری پستی کا سبب بن سکتی ہیں ، جہاں ہم  ایوانوں میں اعلیٰ شخصیات کو دیکھنا چاہتے ہیں وہی ہمیں ایوانوں سے باہر اعلیٰ کرداروں کو پروان چڑھانا ہو گا تب ہی بہتری ممکن وگرنہ وہ دن دور نہیں جب ہمارے پاس اپنی حالت پر ماتم کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہو گا۔ آخر کیا وجہ ہے کہ جب ہم باہر کے ممالک میں جاتے ہیں تو قوانین کا پالن کرتے نہیں ہچکچاتے کیوں کہ وہاں ہمیں جرمانے کا ڈر ہوتا ہے مگر جیسے اپنے وطن میں واپس آتے ہیں تو وہی دو نمبری شروع ، کیا ہم صرف ڈنڈے کی زبان سمجھتے ہیں ؟

ذرا سوچئے!

دوستوں سے شیئر کریں

تبصرہ کریں