"بہترین افسانہ "شاہین

شاہین

ندیم ملک

ناول کیا ہے؟

افسانہ

یہ نومبر کی ایک صبح کا واقعہ ھے۔صبح سویرے سکول ٹائم کے وقت میں اپنی بیٹی کو موٹر سائیکل پر ساتھ بیٹھا کر سکول چھوڑنے جا رھا تھا۔رستے میں ایک آٹھہ دس سالہ بچہ کوڑے کی ایک روڑی سے کندھے پر تھیلہ لٹکاۓ اپنے کام کی چیزیں تلاش کر رھا تھا کہ اسے روڑی سے ایک شاھین (کھلونا)ملا جس کے اندر تھوڑی سی ھوا باقی تھی جو اس کے لئے آکسیجن کا کام کررھی تھی۔بچے نے اس شاھین کے ساتھ کھیلنا شروع کر دیا کبھی ھوا کو اس کے پیٹ کے اوپر لے آۓ اور اس کی گردن کو دباۓ پھر کبھی اس کے بازوٶں کو دباۓ۔اب تھوڑی سی ھوا اس کو زندہ کیسے رکھے۔اس کی گردن دبانے سے پیٹ ابھر آۓ اور گردن باقی نظر نہ آۓ۔پیٹ دباۓ تو بازوٶں میں ھوا بھر جاۓ۔۔بچہ اس کے اوپر سوار ھو کے مختلف انداز سے اس کو دباۓ کے شائد یہ زندہ ھو جاۓ اور میرے کھیلنے کا سامان پیدا ھو جاۓ۔مگر اس کے اندر سے تو ھوا ایسے نکل گئ تھی جیسے مردے کے جسم سے روح نکل جاتی ھے۔پھر وہ بچہ کوڑے والا توڑا اپنے کندھے پر لٹکاۓ سکول جاتے بچوں کو دیکھ کر آھستہ آھستہ چلنے لگا۔کسی نئ روڑی کی تلاش میں۔۔۔

دوستوں سے شیئر کریں

تبصرہ کریں